عمران خان نجم سیٹھی اور کرکٹ

SHOPPING

عمران خان نجم سیٹھی اور کرکٹ
بلال حسن بھٹی
عمران خان صاحب پاکستان بلکہ دنیا کے بہترین اور نامور کرکٹرز میں سے ایک ہیں جنہیں دنیا لیجنڈ مانتی ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک فضول بحث ہے کہ عمران خان اپنے کن کن ہم عصر کھلاڑیوں سے کم تر یا برتر تھے۔ وہ اس لیے کہ میں نے عمران کے ہم عصروں کو اسے عزت دیتے اور اسکی اہمیت کو مانتے اور تعریف کرتے سنا ہے۔ بانوے کے ورلڈکپ کے بعد عمران خان شہرت کی بلندیوں کو چھونے لگے تھے۔ اپنی ماں کے نام پر بناۓ جانے والے شوکت خانم کینسر ہاسپٹل یا نمل یونیورسٹی کی وجہ سے انکو ہمیشہ احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ میرے لیے ایک انسانی جان کو بچانا پوری انسانیت کو بچانے جیسا ہے۔ اس لیے میں شوکت خانم پر لگاۓ جانے والے الزامات کی بحث میں نہیں پڑوں گا کہ اس کے حق اور مخالفت میں دلائل دیے جا سکتے ہیں۔ نہ ہی نمل ینیورسٹی کی مہنگی فیسوں پر بات کروں گا کہ پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں اتنی ہی فیسیں لی جاتی ہیں۔
لیکن میں عمران خان کی دوہزارہ گیارہ کے بعد والی سیاسی اننگز پر بات کرنا چاہوں گا۔ عمران خان بھرپور طریقے سے سیاست میں کودے یا دھکیلے گۓ اس پر بات ہو سکتی ہے لیکن وہ سیاسی شہرت کی جس بلندیوں پر دو ہزارہ تیرہ تک پہنچ چکے تھے۔ اس نے تمام حلقوں کو چونکا دیا تھا۔
اب عوام کو چور کرپٹ اور مافیہ سے نجات ملتی نظر آئ تو سیاستدان اور عوام جوق در جوق بنی گالہ کی طرف مارچ کرتے نظر آۓ۔ جب انتخاب ہوۓ تو عمران خان کی پارٹی کو قومی اسمبلی میں واضح اکثریت نہ مل سکی۔ اس پر انہوں نے دھاندلی ہونے کا شور مچایا اور انکی الزام کی زد میں سب سے اوپر پنجاب کے نگران وزیر اعلٰی نجم سیٹھی صاحب تھے۔ نجم سیٹھی سے بہت سے معاملات میں اختلافات کیے جا سکتے ہیں۔ ان پر شدید قسم کے الزامات آۓ دن لگاۓ گۓ۔ ”پنتیس پنکچر“ تیرہ سے لے کر سولہ تک پاکستان کی سیاست میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والے دو لفظ تھے۔ لیکن افسوس کہ عمران خان اور شاھد مسعود صاحب وہ ٹیپ پیش عدالت میں پیش نہ کر سکے جس کا ذکر انہوں نے اکثر کیا۔ اب سیٹھی صاحب پر لگاۓ گۓ الزامات کو میں اسی طرح اہمیت نہیں دوں گا۔ جیسے عمران خان صاحب پر فنڈنگ کے حوالے سے لگاۓ گۓ الزامات کو اہمیت نہیں دی کیونکہ دونوں الزامات کوئ بھی فریق عدالت میں اب تک ثابت نہیں کر سکا۔ جب ثابت ہوا تو پھر اس پر بات ہو سکتی ہے۔
اب آتے ہیں نجم سیٹھی کو پی سی بی میں دیے جانے والے عہدے کی طرف جس پر خان صاحب کی طرف سے ہمیشہ شدید تنقید کی گئ ہے۔ مجھے اس بات سے مکمل اتفاق ہے کہ عمران خان ایک بہترین کرکٹر ہیں اور انکا کرکٹ کے بارے میں تجزیہ پوری دنیا میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ لیکن جب جب وہ نجم سیٹھی پر بولے انکا تعصب ہمیشہ انکی مہارت اور قابلیت کے آڑے آیا۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے فرمایا کہ پی سی بی چیئرمین کو کرکٹ میں نچلی سطح سے آنا چاہیے نہ کہ اسکو وزیر اعظم مقرر کرے۔ اس بات سے مجھے مکمل اتفاق ہے لیکن خود خان صاحب اس بارے اتنے سنجیدہ ہیں کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی بڑی جماعت ہونے کے باوجود اس قانون کو تبدیل کرنے پر کبھی کوئ بل پیش نہیں کیا گیا۔ خود تو وہ اسمبلی میں جانا خود کی توہین سمجھتے ہیں۔ اس لیے کسی اور ممبر اسمبلی کے ذمے یہ کام لگایا جا سکتا تھا۔لیکن لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
ایک انٹرویو میں خان صاحب سوال اُٹھاتے ہیں کہ نجم سیٹھی کی کیا قابلیت کہ وہ کرکٹ چیئرمین بن جاۓ جناب عرض یہ ہے کہ آپ اگر پی سی بی کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو 1948 کے مختار حسین ممدوٹ سے لے کر آج تک آپکو دس چیئرمین بھی ایسے نہیں ملیں گے جو کہ انٹرنیشنل کرکٹ میں پاکستانیوں کی نمائندگی کر چکے ہوں۔ چیئرمین کا کام انتظامی امور کو سنبھالنا ہوتا ہے اور اگر دیکھا جاۓ تو جس عہد میں آپ نے کرکٹ کھیلی اور ورلڈکپ جیتا اُس وقت ایک فوجی چیئرمین کے عہدے پر فائز تھا۔ کیا کبھی آپ نے اس پر اعتراض کیا یا اپنی کامیابی اور ناکامی کا الزام اسکو دیا؟ نہیں نا تو پھر نجم سیٹھی پر الزام کیوں؟ اگر پاکستان ہار جاتا ہے چاہے وہ پندرہ کا ورکڈکپ ہو یا سترہ میں انڈیا والا میچ تو آپ نجم سیٹھی پر تنقید کرتے ہیں اور اپنے فالورز کو بھی شہہ دیتے ہیں۔ لیکن وہی چار میچ بعد چیمپین ٹرافی جیتتی ہے تو آپ کہتے ہیں اس میں نجم سیٹھی کا کوئ کمال نہیں۔ جناب آپ خود ہی اپنی اداوں پر غور کریں ہم کچھ کہیں تو پھر پٹواری یا جیالے ہونے کا الزام لگتا ہے۔ طعنے دیے جاتے ہیں کہ کیا تم کو عمران خان سے زیادہ کرکٹ کی سمجھ ہے۔

SHOPPING

ایک انٹرویو میں آپ یہ کہتے پاۓ گۓ کہ کرکٹ بورڈ کا چیئرمین احسان مانی جیسا شخص ہو، جو آئ سی سی میں سرو کر چکا ہو۔ اس پر عرض یہ کرنی تھی کہ جناب مانی صاحب تعلیم اور پیشے کے حوالے سے چارٹڈ اکاونٹنٹ تھے۔ پہلے دس سے زیادہ سال پی سی بی کے اندر مختلف عہدوں پر رہے ہیں۔ وہ بھی آپکے کرئیر میں اور پھر جا کر کہیں دو ہزار تین میں آئ سی سی کے چیئرمین بنے تھے۔ اب اگر نجم سیٹھی دو ہزار پندرہ میں آئ سی سی کا چیئرمین بن جاتا تو شاید پھر اسکے پی سی بی چیئرمین بننے پر بھی آپکو کوئ اعتراض نہ ہوتا۔ مگر افسوس آپکے رویے کو دیکھتے ایسا ہوتا نظر نہیں آ رہا تھا۔ آپ مانیں یا نہ مانیں یہ ٹیلینٹ جس کی وجہ سے ہم میچ جیتے ہمیں پی ایس ایل سے ہی ملا ہے جو کہ سیٹھی کے بغیر ہونا نا ممکن تھا۔ اب آپ کہیں گے کہ یہ لوگ پہلے بھی کھیلتے تھے اور قائد اعظم ٹرافی کی وجہ سے انکا انتخاب کیا گیا۔ تو جناب عرض یہ ہے کہ پی ایس ایل صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے دیگر ممالک میں بھی دیکھی جا رہی تھی۔۔ یہاں بہترین کھیل پیش کرنے والا شرجیل خان ہو یا بابر اعظم، شاداب خان حسن علی ہو یا فخر زمان جنہوں نے بھی یہاں پرفام کیا انہیں قومی ٹیم میں جگہ بننانے کا موقع ملا بلکہ دینا پڑا۔ اس لیے اپنی نفرت کے ہاتھوں مجبور آپ اگر نجم سیٹھی کی تعریف نہیں کر سکتے تو کم ازکم اسکے کام کو تسلیم تو کر لیں۔
یہ آپکی تربیت اور نجم سیٹھی کے خلاف بے جا تنقید اور نفرت کا ہی نتیجہ تھا کہ فائنل میں جب ساری قوم بھگڑے ڈال اور خوشیاں منا رہی تھی۔ آپکے چند من چلے برطانیہ میں چلے نجم سیٹھی اور جگنو محسن کو گالیاں اور دھکے دیتے پاۓ گئے۔ ان کو پولیس منگوا کر وہاں سے نکلنا پڑا۔ اس کو بھی نظر انداز کیا جا سکتا تھا لیکن پی ٹی آئی آفیشل نے اس ویڈیو کو فخریہ پوسٹ کرنا اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ جو آپ ہماری نسل میں بو رہے ہیں۔ اس پر نہ آپ اور نہ آپکے من چلے ٹائیگر شرمندہ ہیں بلکہ کہہ رہے ہیں کہ وہ اس لائک تھے۔ تو جناب من آپ بھی پھر اپنی باری کا انتظار کریں۔
میرے انصافی بھائیوں سے جب بھی اس بات کی شکایت کی کہ عمران خان صاحب قوم میں موجود نفرتوں کو مزید گہرا کر رہے ہیں۔ تو شاید انکو لگتا ہے کہ ہم نواز شریف یا زرداری کی تعریف کر رہے ہیں۔ اسی لیے وہ جھٹ سے تاریخ کے جھروکوں سے نواز شریف کی نوے کی پھیلائ ہوئ غلاظت یا اس سے بھی پرانے واقعات نکال لاتے ہیں۔ لیکن یہ لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے کہ عمران خان ہمارے لیے ایک امید کی کرن تھی۔ وہ روایتی سیات سے ہٹ کر کچھ کرنے کا شور مچاتے رہے ہیں۔ انکی غلطیوں کی نشاندہی انکے مہاتما جیسے بت کو گھرانے کیلئے نہیں کرتے بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ وہ بت اسی طرح قائم رہے، لیکن افسوس کہ میرے انصافی بھائ لوگ اس بات کو سمجھنے کو ہرگز تیار نہیں شاید اس لیے کہ وہ جس معاشرے میں رہتے چلے آۓ ہیں، وہاں اپنی برتری ثابت کرنے کا واحد ذریعہ مخالف کے خلاف اونچی آواز اور پوری شدت سے جھوٹ بولنا ہے۔ آپ اپنی صفوں میں موجود غلطیوں کی نشادہی خود کر کے اس پر بولنا نہیں سیکھیں گے تو کسی پٹواری یا جیالے سے خود کو کیسے بہتر کہہ سکتے ہیں۔ باقی دوبارہ عرض کروں گا کہ عمران خان عظیم کرکٹر ہیں لیکن پی سی بی چیئرمین پر تنقید کرتے ہوۓ وہ شدید تعصب کا شکار ہو جاتے ہیں۔

SHOPPING

Avatar
بلال حسن بھٹی
ایک طالب علم جو ہمیشہ کچھ نیا سیکھنے کی جستجو میں رہتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *