کیوبا کا سیاسی نظام۔۔۔۔ثوبان احمد

SHOPPING
SHOPPING

آج تک دنیا میں جتنے بھی سوشلسٹ ماڈل اپنائے گئے ہیں اُن میں کیوبا میرا سب سے پسندیدہ ماڈل ہے اور اُس کی وجوہات بہت ساری ہیں جن کو تفصیلاً بیان کرنے کے لیے الگ پوسٹ درکار ہوگی- ان وجوہات میں سرفہرست محدود وسائل میں رہتے ہوئے کیوبن سوشلزم کے حاصلات ہیں اور کیوبن جمہوریت بھی زبردست ہے- مین سٹریم میڈیا اور اکیڈیمیا تو کیوبا میں جمہوریت کی موجودگی سے ہی انکار کرتے ہیں اور اس کی وجہ اُن کے مفادات ہوتے ہیں- آپ اگر غور کریں تو مین سٹریم میڈیا میں الفاظ کا چناؤ بھی بڑی عیاری سے کیا جاتا ہے مثلاً “عالمی برادری” جس بھی ملک کے خلاف ہوتی ہے اُس کے بارے میں گورنمنٹ کا لفظ نہیں بلکہ “رجیم” کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے، خواہ وہ حکومت کتنی بھی جمہوری کیوں نہ ہو، مثلاً ونیزویلا میں مڈورو “رجیم”، چلی میں الاندے “رجیم” اور کسی زمانے میں سربیا میں میلوسووچ “رجیم” ہوا کرتی تھی، گورنمنٹ صرف امریکہ اور اُس کے اتحادی ممالک میں ہی ہوتی ہے خواہ وہ سعودیہ ہی کیوں نہ ہو- بہرحال اس پوسٹ میں کیوبن سیاسی نظام کو بیان کروں گا اور پھر یہ فیصلہ پڑھنے والوں پر چھوڑ دوں گا کہ کیوبا میں جمہوریت ہے یا نہیں-

کیوبا میں آٹھ سیاسی جماعتیں ہیں، تین اسمبلیاں ہیں ، قومی اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور میونسپل اسمبلی- کیوبا میں ایک سو اُنہتر میونسپل، سولہ صوبائی اور ایک قومی اسمبلی ہے- براہ راست انتخابات میونسپل اسمبلیوں کے ہوتے ہیں، میونسپل اسمبلیوں کے اراکین صوبائی اسمبلیوں کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں اور صوبائی اسمبلیوں کے اراکین، قومی اسمبلی کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں اور قومی اسمبلی کے اراکین صدر اور وزراء کو منتخب کرتے ہیں- میونسپل اسمبلیوں کی مدت  اڑھائی سال ہوتی ہے اور قومی اور صوبائی اسمبلیاں پانچ سال کے لیے منتخب ہوتی ہیں- سولہ سال کی عمر کا ہر شہری ووٹ ڈال سکتا ہے اور اٹھارہ سال کی عمر کا ہر شہری الیکشن میں حصہ لے سکتا ہے- الیکشن سیکریٹ بیلٹ کے ذریعے ہوتا ہے اور ووٹوں کی گنتی عوام کے سامنے ہوتی ہے- کیوبا میں ووٹ ڈالنا قانوناً لازمی نہیں ہے اور ایوریج ٹرن آؤٹ نوے فیصد سے زائد ہوتا ہے- انتخابات غیر جماعتی بنیاد پر ہوتے ہیں اور انتخابات میں کھڑے ہونے کے لیے کیوبن کمیونسٹ پارٹی کا ممبر ہونا لازمی نہیں، بلکہ کمیونسٹ ہونا بھی لازمی نہیں ہے- کوئی بھی سیاسی جماعت اپنے اُمیدوار میدان میں نہیں اُتارتی اور کسی بھی سیاسی جماعت کو کسی بھی اُمیدوار کی حمایت کرنے کی اجازت نہیں ہے لہٰذا انتخابی ٹکٹ دینے اور ٹکٹ لینے کے لیے جو جو جتن کیے جاتے ہیں، جو خوش آمدیں وغیرہ کی جاتی ہیں سرمایہ دارانہ جمہوریت کی یہ قباحت کیوبا میں موجود ہی نہیں ہے-

تو پھر اُمیدوار آتے کہاں سے ہیں؟

میونسپل اسمبلیوں کے تمام اُمیدوار علاقے کے لوگ اپنی میٹنگ میں نامزد کرتے ہیں- کیوبا میں خود سے کوئی شخص الیکشن کے لیے کھڑا نہیں ہوتا بلکہ ہر علاقے میں ایک میٹنگ ہوتی ہے مثلاً ناظم آباد کی میونسپلٹی آبادی کے لحاظ سے وارڈز میں تقسیم ہوگی اُن وارڈز میں موجود محلوں کے علاقہ مکینوں کی میٹنگ ہوگی اور وارڈ نمبر ایک کے لوگ کہیں گے کہ ہمارے علاقے میں غفار بھائی کافی سرگرم ہیں وہ ہمارے کام آتے ہیں اور سادہ زندگی گزارتے ہیں ہمیں اُن کی دیانتداری پر بھی شبہ نہیں لہٰذا ہم غفار بھائی کو میونسپل اسمبلی کے لیے نامزد کرنا چاہتے ہیں، اگر غفار بھائی نامزدگی قبول کریں گے اور محلے دار بھی غفار بھائی کے حق میں ہوں گے تو غفار بھائی وارڈ نمبر ایک سے ناظم آباد کے حلقے کے لیے میونسپل اسمبلی کے اُمیدوار نامزد ہو جائیں گے- دوسرے وارڈ کے لوگ خالہ جمیلہ کو میونسپل اسمبلی کا امیدوار نامزد کریں گے اس طرح کرتے کرتے کم سے کم دو اور زیادہ سے زیادہ آٹھ اُمیدوار ناظم آباد کے حلقے سے میونسپل اسمبلی کے الیکشن کے لیے کھڑے ہو جائیں گے- کیوبا میں انتخابی جلسوں اور الیکشن میں پیسہ خرچ کرنے کا کوئی تصور ہی نہیں ہے- انتخابی مہم فقط یہ ہوتی ہے کہ اُمیدوار علاقے کے لوگوں سے جتنا مل سکتا ہے اور بات کر سکتا ہے کر لے، علاقے میں کئی جگہوں پر نوٹس بورڈ لگے ہوتے ہیں وہاں جا کر اُمیدوار اپنے اپنے حق میں ایک پرچہ چسپاں کر دیتے ہیں جس میں اُن کے بارے میں لکھا ہوتا ہے کہ وہ کون ہیں کیا کرتے ہیں اور علاقے کے لوگوں کو اُن کے لیے کیوں ووٹ دینا چاہیے- اس سسٹم میں تمام اُمیدوار ایک ہی سطح پر ہوتے ہیں اور اپنی پارٹی یا پیسے کی بدولت کسی اُمیدوار کو کسی دوسرے اُمیدوار پر کسی بھی طرح برتری حاصل نہیں ہوتی- جو اُمیدوار بھی کامیاب ہوگا وہ اپنی ذاتی خصوصیات اور علاقے کے لوگوں میں اپنی ریپوٹیشن کی بدولت منتخب ہوگا- ہر اُمیدوار کے لیے پچاس فیصد سے زائد ووٹ لینا لازمی ہے اگر کسی میونسپلٹی میں چار اُمیدوار ہوں اور جیتنے والا اُمیدوار پینتیس فیصد ووٹ سے جیت رہا ہو جیسا کہ پاکستان میں ہوتا ہے تو اس صورت میں ایک اور راؤنڈ ہوگا اور پہلے اور دوسرے نمبر کے اُمیدوار میں مقابلہ ہوگا- اُن دونوں میں جو پچاس فیصد سے زائد ووٹ لے گا وہ میونسپل اسمبلی میں جائے گا-

پولنگ سٹیشن میں سکول کا عملہ اور طالب علم الیکشن ڈیوٹی دیتے ہیں اور بیلٹ باکس کی حفاظت سکول کے بچے کرتے ہیں- ووٹ کی گنتی کے وقت حلقے کے ہر شہری کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ گنتی کے وقت وہاں موجود رہ سکتا ہے- پاکستان کی طرح نہیں جہاں بند کمروں میں ووٹوں کی گنتی ہوتی ہے اور جو اُمیدوار دس بیس ہزار سے لیڈ کر رہا ہوتا ہے الیکشن کا نتیجہ آنے پر وہ دو چار ہزار ووٹوں سے ہار چکا ہوتا ہے-

میونسپل اسمبلی کے اراکین منتخب ہونے کے بعد پہلے سیشن میں اپنی اسمبلی کا صدر نائب صدر اور سیکریٹری منتخب کرتے ہیں- یہ اراکین عوام کے درمیان ہی رہتے ہیں اور عوام ان کو ذاتی سطح پر جانتے ہیں اس لیے یہ عوام کے لیے ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں- ہر چھے ماہ بعد ان اراکینِ میونسپل اسمبلی کی اپنے حلقے کے لوگوں کے ساتھ میٹنگ ہوتی ہے اور اگر ان کے حلقے کے لوگ ان کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوں تو اِن کو اسمبلی سے واپس بھی بلایا جا سکتا ہے-

صوبائی اسمبلی کے پچاس فیصد اراکین میونسپل اسمبلیوں سے نامزد ہوتے ہیں اور پچاس فیصد کو کیوبن مزدوروں کی ٹریڈ یونینز، طلباء کی یونینز، کسانوں کی یونینز اور دیگر عوامی تنظیمیں نامزد کرتی ہیں- انتخابات یہاں بھی سیکریٹ بیلٹ کے ذریعے ہوتے ہیں اور ان کو بھی جیتنے کے لیے پچاس فیصد ووٹ لینا پڑتا ہے-

اسی طرح کیوبن قومی اسمبلی کے الیکشن میں بھی پچاس فیصد اُمیدار درج بالا تنظیمیں نامزد کرتی ہیں اور پچاس فیصد کو صوبائی اسمبلیاں نامزد کرتی ہیں- قومی اسمبلی کے اراکین کونسل آف سٹیٹ کے اراکین کو منتخب کرتے ہیں اور وہ کیوبن صدر، نائب صدر اور وزراء کو منتخب کرتے ہیں- کیوبا میں بھی صدر کا عہدہ زیادہ با اختیار نہیں ہوتا اور حکومت کو کونسل آف سٹیٹ کا سربراہ چلاتا ہے- ایسا بھی ممکن ہے کہ ایک ہی شخص صدر اور کونسل آف سٹیٹ کا سربراہ دونوں ہو- کسی بھی منتخب نمائندے کو کوئی خصوصی تنخواہ یا پروٹوکول نہیں ملتا- کیوبا میں تریپن فیصد اراکینِ قومی اسمبلی خواتین ہیں-

کیوبا میں قانون سازی قومی اسمبلی کرتی ہے اور بڑے معاملات پر عوام سے ریفرینڈم کے ذریعے رائے لی جاتی ہے- مثلاً کیوبا کے آئین کا ڈرافٹ عوامی ریفرینڈم سے تیار کیا گیا اور عوام اس میں براہ راست شریک تھے- ہزاروں میٹنگز اور سولہ ہزار ترامیم کے بعد یہ ڈرافٹ منظور ہوا تھا- دوسری جانب پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی “جمہوری” ملک میں آئین سازی میں عوام شریک ہوتے ہی نہیں ہیں- آپ جس کو ووٹ دے کر اسمبلی میں بھیجیں اُس کی مرضی وہ کسی بھی قسم کا آئین بنا آئے- نہ آپ اُسے واپس بلا سکتے ہیں اور نہ ہی اس بارے میں کچھ کر سکتے ہیں-

کیوبا کے برعکس امریکہ اور پاکستان سمیت بیشتر ممالک میں اول تو عام شہری الیکشن کے جھنجٹ افورڈ ہی نہیں کر سکتے لوگوں کے پاس نہ تو پیسہ ہوتا ہے اور نہ ہی نوکری کے بعد اتنا ٹائم ہوتا ہے کہ وہ سیاست کا شوق پورا کر سکیں- بالفرض کوئی عام شہری جبران ناصر کی طرح اپنی نوکری سے استعفیٰ دے کر پچاس ہزار یا ایک دو لاکھ کے بجٹ سے الیکشن لڑنے کی کوشش کرے بھی تو اُس نے کسی بھی صورت نہیں جیتنا کیوں کہ آزاد اُمیدوار کو پہلے ہی پارٹی کے اُمیدواروں کے مقابلے میں ڈس ایڈوانٹیج ہوتا ہے وہ نہ تو بڑے جلسے کر سکتے ہیں نہ ہی اپنا پیغام اُس طرح سے ووٹروں تک پہنچا سکتے ہیں جیسے کہ پارٹیوں کے ‘پروفیشنل’ سیاستدان پہنچا سکتے ہیں- امریکہ میں بھی ایسا ہی ہے، وہاں بھی پیشہ ور سیاستدان ہوتے ہیں اور سیاست وہاں بھی کیمپین ڈونیشنز کے بل بوتے پر ہوتی ہے- آزاد اُمیدوار وہاں بھی کچھ نہیں کر سکتا- صدارتی الیکشن جیتنے کے لیے بھی پارٹی کا ٹکٹ ضروری ہے اور برنی سینڈرز جیسا کوئی اُمیدوار ہو تو اُسے پارٹیاں ٹکٹ بھی نہیں دیتیں وہ ہیلری کو ٹکٹ دے کر ہارنا گوارا کر لیتے ہیں مگر کسی ایسے اُمیدوار کو ٹکٹ نہیں دیتے جو تھوڑی سی بھی ریڈیکل گفتگو کرتا ہو- امریکہ پاکستان سمیت دنیا کے کسی بھی سرمایہ دار ملک میں سیاست عوامی ہے ہی نہیں وہاں پر سیاست میں اجارہ داری ہے اور اُن ہی کی اجارہ داری ہے جن کے پاس پیسہ ہے- عوام کی اس میں شمولیت صرف ووٹ ڈالنے کی حد تک ہوتی ہے، نہ تو وہ اپنے نمائندے خود نامزد کر سکتے ہیں نہ خود کھڑے ہو سکتے ہیں بلکہ جو محدود “چوائس” اُن کو بیلٹ پیپر پر دی جاتی ہے وہ اُسی میں سے کسی ایک کو منتخب کر سکتے ہیں- یہی وجہ ہے جو آخری الیکشن میں امریکہ میں ساٹھ فیصد اور پاکستان میں پچپن فیصد ووٹر ٹرن آوٹ تھا کیونکہ عوام کی ایک بڑی تعداد ووٹنگ سے بھی لاتعلق بیٹھی ہے- جب کہ کیوبا میں سیاست حقیقی معنوں میں عوام کا کام ہے نہ کہ پیشہ ور سیاستدانوں کا-

اب یہاں ایک سوال پیدا ہوگا کہ اگر کیوبا میں اتنی ہی جمہوریت ہے تو فیدیل کاسترو اتنا لمبا عرصہ صدر کیسے رہا؟ اُس کی وجہ سمجھنے کے لیے پہلے کیوبن سیاست اور جدید کیوبا میں فیدیل کاسترو کی حیثیت کو سمجھنا ہوگا- فیدیل کاسترو، چے گیوارا، راؤل کاسترو اور کامیلیو سنفیوگو کو کیوبا میں وہی مقام حاصل تھا جو انڈیا میں نہرو گاندھی کو، پاکستان میں جناح اور فاطمہ جناح کو حاصل تھا- جن لوگوں کا کسی ملک کے قیام اور آزادی میں لیڈنگ کردار ہوتا ہے وہاں وہ نہ صرف قومی ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں بلکہ کسی بھی الیکشن میں اُن کا ہارنا زیادہ اچھنبے کی بات ہوتی ہے بنسبت اُن کے جیتنے کے- آخر کیا وجہ ہے جو پاکستان میں فاطمہ جناح کے ایوب خان سے الیکشن ہارنے کو دھاندلی کہا جاتا ہے؟ کیونکہ فاطمہ جناح کا جو پاکستان میں مقام تھا اُن کا ہارنا زیادہ ناقابلِ یقین بات تھی اور اُن کا جیتنا یقینی تھا- انڈیا میں نہرو انڈیا کی آزادی کے بعد جب تک زندہ رہا وزیرِ اعظم رہا- کیا انڈیا میں نہرو کی آمریت تھی یا پھر نہرو کا انڈین سیاست میں مقام و مرتبہ ہی ایسا تھا کہ لوگ اُسے انڈیا کو آزاد کرانے والا سمجھتے تھے- وہ سترہ سال زندہ رہا اور سترہ سال ہی وزیرِ اعظم رہا اگر مزید زندہ رہتا تو زیادہ عرصہ وزیرِ اعظم رہتا- کاسترو اور راؤل کاسترو تاحیات کیوبا کے صدور رہ سکتے تھے مگر دونوں نے اپنی مرضی سے صدارت چھوڑی اور کیوبا کا موجودہ صدر اور کاونسل آف سٹیٹ کا سربراہ میگیل ڈیاز کنیل ہے-

جمہوریت ایک آئیڈیل ہے، کسی ملک میں زیادہ جمہوریت ہوتی ہے اور کسی میں کم اور اِس کو جانچنے کا پیمانہ یہ ہے کہ وہاں کی عملی سیاست میں عوام کی کتنی شمولیت اور نمائندگی ہے؟ جمہوریت کو جانچنے کا پیمانہ سیاسی جماعتوں کی تعداد، اسمبلی کی مدت، ووٹر کی ایج لمٹ یا پھر دوسری جُزیات نہیں ہیں-

SHOPPING

کیوبا کتنا جمہوری ہے؟ اس کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے-

SHOPPING

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *