کشمیر۔۔۔۔کیا پاکستان نے جارحیت کی تھی؟

اب آئیے اس الزام کی طرف کہ یہ پاکستان تھا جس نے ’ سٹینڈ سٹل‘ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کشمیر میں پہلے مسلح قبائل بھیجے اور پھر فوج اتار دی اور اس کانتیجہ یہ نکلا کہ مہاراجہ نے بھارت سے الحاق کر لیا۔ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کی آڑ میں مسلمانوں کا جو قتل عام کیا گیا اس پر ٹائمز آف لندن ، سنیڈن کرسٹوفر ، وید بھیسن اور لُو پوری وغیرہ کی گواہیاں آپ گذشتہ کالم میں پڑھ چکے۔اب آگے کی سنیے۔ مہاراجہ نے صرف آر ایس ایس اور اکالی دل کے جتھوں کے ذریعے مسلمانوں کا قتل عام نہیں کیا بلکہ اس نے سٹینڈ سٹل معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے ریاست پٹیالہ سے بھی فوجی دستے منگوا لیے تا کہ وسیع تر آبادی کا قتل عام کیا جائے یا وہ بھاگ کر پاکستان چلی جائے۔ اس کا اعتراف میجر جنرل ڈی کے پلٹ اپنی کتاب ’’ ہسٹری آف جموں کشمیر رائفلز ‘‘میں کر چکے ہیں۔ خود بھارتی حکومت کے وائٹ پیپر میں بھی اس کا ذکر ہے اور رابرٹ ورسنگ کی کتاب ’’ انڈیا ، پاکستان اینڈ دی کشمیر ڈسپیوٹ‘‘ میں اور لیفٹیننٹ جنرل ایل پی سین کی کتاب ’’ کشمیر کنفرنٹیشن ‘‘ میں بھی یہ اعتراف حقیقت موجود ہے۔ جموں اور سری نگر میں 17 اکتوبر کو پٹیالہ کے فوجی دستے پہنچ چکے تھے۔ پاکستان سے قبائل دستے 20 اکتوبر کو کشمیر پہنچے، یعنی چار دن بعد۔ خانہ جنگی کی کیفیت میں پٹیالہ سے فوجی امداد لے کر مہاراجہ نے انٹر نیشنل لاء کی بھی خلاف ورزی کی۔قبائل اس کے رد عمل میں گھسے ۔

یہ ایک فطری اور منطقی رد عمل تھا۔ یہ اقدام اضطراری طور پر بغیر تیاری کے اٹھایا گیا اور یہ سیلف ڈیفنس کی ایک مثالی صورت حال تھی۔ اب سوال یہ ہے کیا قبائل کو پاکستان نے کشمیر بھیجا ؟ اس کا جواب نفی میں ہے۔قبائل پٹیالہ کے فوجی دستے آنے کے چوتھے دن کشمیر میں گھسے۔ واقعاتی شہادت کے اصول پر پرکھیں تو یہ ایک فطری رد عمل ہے۔لیکن واقعاتی شہادتوں کے ساتھ کچھ اور شواہد بھی موجود ہیں کہ پاکستان نے قبائل کو نہیں بھیجا تھا۔ لارڈ برڈووڈ جیسا پاکستان کا ناقدبھی اپنی کتاب ’’ انڈیا اینڈ پاکستان: اے کانٹیننٹ ڈی سائڈز‘‘ کے صفحہ 55 پر یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوا کہ’’ قبائل کو کشمیر بھیجنا نہ تو پاکستان کا منصوبہ تھا نہ ہی پاکستان کا ان پر کنٹرول تھا ،ہاں پاکستان کے علم میں ضرور تھا‘‘۔ خود مہاراجہ پاکستان پر یہ الزام عائد نہیں کر سکا کہ اس نے قبائل کو کشمیر میں بھیجا۔ مہاراجہ نے بھارت کے گورنر جنرل کو لکھے خط میں صرف یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کو قبائل کی لشکر کشی کا ’’ علم ‘‘ تھا۔کشمیر کے ڈپٹی وزیر اعظم آر ایل بٹرا نے بھی یہی کہا کہ قبائل پر پاکستان کا کنٹرول نہ تھا وہ پاکستان کے قابو سے باہر ہو چکے تھے۔ اب سوال یہ ہے پاکستان نے ان قبائل کو نہیں بھیجا تو وہ انہیں روک تو سکتا تھا؟ اس نے انہیں روکنے کی کوشش کیوں نہیں کی؟ یہاں لارڈ برڈ ووڈ ہی کی گواہی موجود ہے کہ پاکستان کو جب علم ہوا کہ 900 محسود لاریوں میں بیٹھ کر ٹانک سے چل پڑے ہیں تو پشاور ڈویژن کے کمانڈر جنرل راس مک کے کو گورنر نے حکم دیا کہ انہیں اٹک پل پر روک دیا جائے لیکن جنرل کے پاس اس وقت نفری نہیں تھی وہ ایسا نہ کر سکا۔ اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن سر ولیم بارٹن نے گویا دریا کو ، کوزے میں بند کر دیا ہے ۔ ولیم بارٹن سلطنت ہندوستان میں Knight Commander رہ چکے تھے اور برصغیر کی ریاستوں وغیرہ کے معاملات پر ان کی غیر معمولی گرفت تھی۔ ’’ پاکستانز کلیم ٹو کشمیر ‘‘ میں وہ لکھتے ہیں ’’ اگر پاکستان نے قبائل کوروکنے کی کوشش کی ہوتی تو چترال سے کوئٹہ تک کا علاقہ آگ میں جل جاتا۔ پاکستانی افواج ابھی منظم نہیں ہوئی تھیں ۔بھارت نے تقسیم کے بعد پاکستان کے حصے میں آنے والے اسلحہ بھی روک رکھا تھا ۔پاکستان کی افواج کے پاس مناسب سازو سامان بھی نہ تھا ۔وہ انہیںکیسے روکتی۔ اگر کوئی تصادم ہوتا تو یہ خطرہ بھی تھا کہ افغانستان پاکستان پر حملہ کر دیتا اور دریائے سندھ تک قبضہ کی کوشش کرتا کیونکہ ان علاقوں پر وہ دعوی کر رہا تھا۔ اس صورت میں پاکستان کی بقاء خطرے میں پڑ جاتی‘‘۔ بھارت کے الزامات کی نفی میں نیویارک ہیرالڈ ٹریبیون کی پارگریٹ پارٹن کی گواہی بہت اہم ہے۔ وہ اس علاقے میں رہیں ، مشاہدہ کیا اور لکھا کہ’’ اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ پاکستان ان قبائل کی مدد کر رہا تھا۔چھ سو میل کے طویل اس سفر میں ہم نے نہ کوئی ٹریننگ کیمپ دیکھا ، نہ ان حملہ آوروں کا کوئی بیس کیمپ ہمیں ملا،نہ اسلحہ ایمونیشن کا کوئی ذخیرہ ہم نے دیکھا اور نہ ہی ہم نے جنگجو کشمیر جاتے دیکھے۔حتی کہ غیر جانبدار مبصرین جن میں برطانوی افسران اور سویلین بھی شامل تھے بھارت کے اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں کہ پاکستان کشمیر میں جنگجوئوں کی مدد کر رہا ہے‘‘۔ کچھ لوگ انفرادی حیثیت سے بروئے کار آئے ہوں تو یہ الگ بات ہے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس حقیقت کو ذہن میں رکھیے کہ قبائل اسلحے کے لیے ایک ایسی ریاست کی طرف دیکھنے کے محتاج نہ تھے جس کے حصے کا اسلحہ بھارت دبا کے بیٹھا تھا۔ قبائل اسلحہ سازی میں خود کفیل تھے اور وہاں اسلحہ کی بہت بڑی صنعت تھی۔ یہ بھی مد نظر رکھنا ہو گا کہ پاکستان اس پوزیشن میں نہیں تھا کہ رد عمل کی اس لہر کے آگے کھڑا ہو جاتا اور اپنے ملک کو خانہ جنگی کا شکار کر کے اس میں آگ لگا لیتا۔قائد اعظم ؒ کے ہاں تو ایفائے عہد کے اہتمام کا یہ عالم تھا کہ جب گوریلا مزاحمت منظم کر کے سردار ابراہیم خان نے قائد اعظم سے ملاقات کی کوشش کی تو قائد اعظم نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ اس سے کشمیر میں مداخلت کا تاثر ملے گا۔ اب آئیے اس نکتے کی طرف کہ پاکستان نے اپنی فوجیں کشمیر میں کیوں اتاریں؟ یہ بھی ایک دلچسپ حقیقت ہے ۔کالم کی تنگنائے میں آج اس پر بات نہیں ہو سکتی۔ اس پر اگلے کالم میں بات کرتے ہیں

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *