کارکن تو صرف تالی بجانے کے لیے ہی ہیں نا۔۔سید عارف مصطفٰی

  ایسے خوش گمان لوگوں کو ایک بڑا ا دھچکا اور لگا  کہ  جن کا یہ خیال تھا کہ عمران خان کسی سے نہیں ڈرتا اور دبتا۔۔۔ اور جن کی خوش گمانیوں کو عمران کی ان اداؤں نے کئی بار مجروح کیا ہے   یعنی کبھی تو وہ جہانگیر ترین اور علیم خان کے پیسے کے آگے پارٹی آئین اور سب اصولوں کو بالائے طاق رکھتا دکھائی دیا اور انہیں نکالنے کا فیصلہ کردینے والے جسٹس وجیہہ ہی کو چلتا کرتا دکھائی دیا تو کبھی کسی بھی قیمت پہ سیٹیں جیتنے کی خاطر جانے مانے گندے مندے الیکٹیبلز کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا ۔۔۔ ایسے لوگوں کو لے دے بس یہ امید رہ گئی تھی کہ کم ازکم عامر لیاقت جیسے منافق اور بدزبان کے آگے تو عمران خان ضرور ہی ڈٹ جائے گا اور عامر لیاقت کو صاف ٹھینگا دکھائے گا کیونکہ اس وقت تو عامر لیاقرت کی بلیک میلنگ کی انتہا ہی ہوگئی تھی کہ جب اس نے پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہ ملنے پہ بدترین بلیل میلنگ پہ مبنی  ٹوئیٹ کیا تھا ” بلا چھوڑ پتنگ تھام ! عوام نے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین کے  سیاسی مستقبل کے حوالے سے خواب دیکھ لیا” یعنی وہ پی ٹی آئی جسے چند ہفتے قبل وہ مر کے ہی چھوڑنے کا عہد کر رہے تھے  وہ محض ٹکٹ نہ ملنے کی بناء پہ یکدم اس قدر گھناؤنی ہوگئی تھی کہ  انہیں اسے چھوڑ کے واپس تھوک کے چاٹنے اور ایم کیوایم میں جابیٹھنے سے بھی کوئی عار نہ رہا تھا-

یہ بھی واضح رہے اسی عامر لیاقت نے 4 روز پہلے بذریعہ ٹوئیٹ یہ اعلان کیا تھا کہ انہیں اب پی ٹی آئی کا ٹکٹ نہیں چاہیے ۔۔۔ لیکن کیا کیجیئے وہ عامر لیاقت ہی کیا جو کبھی اپنی بات پہ قائم رہ پائے کیونکہ انہی موصوف نے تو ڈیڑھ برس قبل ٹی وی پہ برسرعام سیاست سے ہی دستبرداری کا اعلان  کردیا تھا  اور اس سے پہلے وہ دو بار بول چھوڑنے اور اسکی  سکرین پہ کبھی بھی نہ پلٹنے کا واضح اعلان بھی کرچکے تھے لیکن وہ اب پھر بہت دھڑلے سے واپس اپنا تھوکا ہوا چاٹ کے اسی بول پہ اپنی منڈلی سجائے بیٹھے ہیں لیکن اسکی بابت بات ہم بعد میں کریں گے ۔

پہلے تو اس بات کا تجزیہ کرلیں کہ آخر فردوس نقوی نے عامر لیاقت کو ٹکٹ نہ دینے کا فیصلہ کیوں کیا تھا ۔۔۔ جناب اندر کی اور سچ بات دراصل یہ ہے کہ عامر لیاقت کی پشت پہ لدی بدنامیوں کی بہت بڑی گٹھری کے سبب انکی پی ٹی آئی میں شمولیت کو پارٹی کے کارکنان کی بہت بڑی اکثریت نے دل سے قبول ہی نہیں کیا ہے اور کئیوں نے تو گھر بیٹھنے کو ہی ترجیح دیدی ہے   اور ایسے میں انہیں ضرورت سے زیادہ سر چڑھانے پہ بہت سے لوگ مایوس و مضطرب تھے اور ہیں ۔اس ضمن میں سبھی واقفان حال جانتے ہیں کارکنوں کی جانب سے فردوس نقوی پہ بڑا شدید دباؤ تھا کہ  وہ پرانے کارکنوں کو ناراض کرکے ایسے مفاد پرستوں اور بدبودار ماضی رکھنے والوں کو ترجیح نہ دیں۔۔۔

مزید یہ کہ اپنے ٹی وی پروگرام میں فرقہ وارانہ تنازعات کو ابھارنے اور ڈاکٹر ذاکر نائیک کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے پہ بھی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد عامر لیاقت کے خلاف بہت مشتعل تھی اور انکی جانب سے شدید احتجاج ہی عامر لیاقت کو ٹکٹ دینے سے معذرت کا سبب بنا تھا ۔ لیکن عمران خان نے یہاں بھی اپنے مفاد کی خاطر یعنی میڈیا میں اپنا آدمی ہونے کے  لالچ کو ہی پیش نظر رکھا اور وہ انکی بدزبانی کی صلاحیت سے بھی سخت خائف معلوم ہوتے تھے لہٰذا خان نے کارکنوں کے غم و غصے کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عامر لیاقت کو ٹکٹ جاری کردیا ۔

اب مایوس کارکنان اپنی قربانیوں کی داستانوں سمیت جائیں بھاڑ میں اور عامر لیاقت انکی گردنوں پہ چڑھ کے اسمبلی میں پہنچنے کی پھر تیاری کریں ۔۔۔ لیکن  خان سے محبت کرنے والے کارکنان بیچارے جائیں تو جائیں کہاں ، وہ تو کئی برسوں سے ان کا دامن پکڑے بیٹھے ہیں اور اب پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ دیکھنے پہ مجبور ہیں کہ ابھی پچھلے ماہ تک عمران خان کی تیسری شادی عدت سے قبل ہونے کا مذاق اڑانے والا اور انہیں کراچی پہ قبضے کا خواب دیکھنے کا طعنہ مارنے والا انکی پارٹی ٹکٹ سنبھالے بیٹھا ہے اور وہ بیچارے انصافین اپنے اسی پرانے کام پہ لگائے جارہے ہیں اور وہ یہ ہے کہ انکا کام بس قیادت کی ہاں میں ہاں ملانا ہے اور اسکی ہر ادا پہ تالیاں ہی بجانا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *