سفر آہستہ آہستہ ، سحر آہستہ آہستہ ۔۔۔۔سلیم فاروقی

اگر کرکٹ کی زبان میں کہا جائے تو پاکستان میں جمہوریت کی موجودہ اننگ میں چوتھے عام انتخابات اپنے وقت پر منعقد ہونے جارہے ہیں۔ خوشی کی بات یہ کہ اس تسلسل سے تین پارلیمان کی کسی بھی طرح طبعی عمر مکمل ہونے کے بعد یہ چوتھے انتخابات ہیں۔ اس وقت گزشتہ تین پارلیمان کی کارگزاریاں اور ان پر تجزیہ ہمارا موضوع نہیں ہے۔ کیونکہ جو کچھ ہوا عوام خود اس کے شاہد ہیں اور خود مناسب فیصلہ کر سکتے ہیں ملک کی بہتری اور بقا کے لیے کس پارلیمان کی کارکردگی کیسی رہی۔ ہمیں تو خوشی اس بات کی ہے کہ جمہوریت کی گاڑی اپنے سفر پر روانہ ہوچکی ہے۔ اس سفر کے تسلسل میں جمہوری قوتوں کا کتنا کردار ہے اور غیر جمہوری قوتوں کا کتنا؟ یہ بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ ہم اگرچہ غیر جمہوری قوتوں کی کارِمملکت میں دخل اندازی کے سخت ترین ناقدین میں شامل ہیں، لیکن بہرحال ان کی اس “رعایت” کو سر آنکھوں پر رکھتے ہیں کہ انہوں نے خواہ اپنے کسی پوشیدہ مقصد کے لیے ہی سہی جمہوریت کے نام نہاد سفر کو جاری رکھنے کی اجازت دی۔ اور بقول مصطفیٰ زیدی ہمیں یقین ہے کہ: چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ، ہمیں یقین ہے کہ اگر یہ سفر اسی طرح جاری رہا یا رہنے دیا گیا تو وہ سحر جس کی آرزو میں پاکستانی قوم کی نیندیں اڑی ہوئی ہیں وہ سحر ہماری قوم کا مقدر ضرور بنے گی۔

یہاں سوال یہ ہے کہ وہ سحر کب آئے گی؟ تو ہمارا ذاتی خیال ہے ابھی تو سفر کی ابتداء ہے ابھی فوری طور پر تو اس منزل کا امکان ہرگز نہیں ہے۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ابھی ہم نے ایک پھل دار پودا لگایا ہے، ابھی سے پھل کی توقع کرنا نادانی اور سادگی ہی ہوگی۔ عموماً پھل دار پودوں کو تین سے سات سال تک اور بعض پودوں کو تو اس سے بھی طویل عرصہ دیکھ بھال اور پرورش و پرداخت کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بعد ہی ان سے پھل آنا شروع ہوتے ہیں۔ اتنے طویل انتظار سے گھبرا کر ہم پھل کے پودے لگانا چھوڑ تو نہیں دیتے۔ کچھ ایسا ہی جمہوریت کے پودے کو سمجھ لیجیے کہ اس پر پھول اور پھل آنے میں کم از کم سات سے دس سال لگتے ہیں۔

لیکن یہاں ذہن سے اس غلط فہمی کو رفع کرلینا ضروری ہے کہ اس کا ایک سال تین سو پینسٹھ دن کا ہوگا۔ بلکہ اس کا ایک سال صحیح معنوں میں ایک پارلیمان کی ایک مدت کو سمجھنا چاہیے۔ یوں ابھی اس پودے کو صرف تین سال ہی ہوئے ابھی مزید تین سے چار سال اور اس پودے کی پرداخت کرنی پڑے گی تب ہی اس میں پھول اور پھل آنے کا وقت آئے گا۔ اگر خدانخواستہ کہیں گھبرا کر اس سے پہلے اس پودے میں کوئی قطع برید کی گئی تو یہ سفر پھر سے پہلے سال سے شروع کرنا پڑے گا، گزشتہ تمام مدت منفی ہو جائے گی۔ اگر یہ سفر جاری بھی رہتا ہے تو ہمیں یقین ہے اس کا پھل شاید  ہماری  نسل کی زندگی میں تو نہ ملے لیکن ہماری آئندہ نسلیں یقیناً اس سے بہرہ ور ہوں گی۔ اس لیے ہمیں اس سفر سے ہر حال میں جڑے رہنا ہوگا۔ کسی بھی صورت میں گھبرا کر اس سفر کو ادھورا چھوڑ کر کسی بھی قسم کے نئے تجربے سے بچنا ہوگا۔ یوں بھی پھلدار درختوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا پودا دادا لگاتا ہے اور پوتے پھل کھاتے ہیں۔

آخر میں ہم صرف اتنا ہی کہیں گے کہ موجودہ انتخابات میں ہمیں نہ تو کوئی سیاسی جماعت اور نہ ہی کوئی سیاسی امیدوار اس قابل نظر آرہا ہے جس سے کوئی خیر یا بہتری کی امید رکھی جاسکے۔ لیکن اس کے باوجود ہمارا فرض ہے کہ ہمیں یہ سفر ہر حال میں جاری رکھنا ہوگا اور موجودہ دستیاب جماعتوں اور افراد میں سے ہی کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا، خواہ چھوٹی برائی ہی سمجھیں لیکن ووٹ ضرور ڈالنا ہوگا۔ ورنہ ہماری نا امیدی اس ملک اور قوم کے مستقبل کو نا امید کردے گی۔ ہم اپنے اس کالم کا اختتام بھی مصطفیٰ زیدی کی اسی غزل کے اشعار سے کرنا چاہیں گے جس کا مصرعہ اوپر لکھا ہے:

چلے تو کٹ ہی جائے گا سفر آہستہ آہستہ،

ہم اس کے پاس جاتے ہیں مگر آہستہ آہستہ

ابھی تاروں سے کھیلو چاند کی کرنوں سے اٹھلاؤ

ملے گی اس کے چہرے کی سحر آہستہ آہستہ!

سلیم فاروقی
سلیم فاروقی
کالم نگار، کہانی نگار، بچوں کی کہانی نگار، صد لفظی کہانی نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *