بھائی۔۔۔۔رمشا تبسم

کچھ دن قبل ایک  ویڈیو دیکھی کہ حافظ آباد میں بھائیوں نے ایک  بہن نائلہ کو بیس سال قید میں رکھا۔اس معاملے کے دو مختلف پہلو یا دو مختلف رائے منظر عام پر آئیں ۔اور دونوں پہلوؤں پر بات کرنا ضروری ہے۔
پہلے گروہ کی رائے یہ  ہے کہ  یہ سراسر ظلم و ستم ہے،کہ انسانی جان کو اتنی اذیت اور گندگی میں رکھا جائے۔۔۔پہلے اس پر بات کرتے ہیں۔۔قید کی گئی  نائلہ کو کھانا  لفافے  میں ڈال کر دیا جاتا تھا۔کھایا یا نہ کھایا دونوں صورتوں میں  لفافہ باہر نہیں آتا تھا۔کمرے میں روشنی کا ذریعہ نہیں تھا۔خاتون کے ناخن انتہائی لمبے, بالوں اور جسم میں کیڑے پڑ چکے تھے۔کمرے میں حشرات کثیر تعداد میں تھے۔چوہوں کا راج تھا، کمرہ کھلا تو اتنی بدبو تھی کہ اہل علاقہ کو اپنے گھروں کے کمروں تک بدبو محسوس ہو رہی تھی۔ شاید قبر بھی اتنی اذیت ناک نہیں ہوگی۔

خاتون کو پچیس سال کی عمر میں قید میں ڈالا گیا۔وہ عمر جب ہر لڑکی زندگی کے سنہرے خواب دیکھتی ہے۔زندگی کو محبت اور سکون سے گزارنے کے خواب بنُتی لڑکی تنہائیوں میں مسکراتی ہے، سرِ عام شرماتی ہے۔یہ وہ عمر ہوتی ہے کہ انسان کچھ کر دکھانے کی جدو جہد میں ہوتا ہے۔اور ایسی عمر میں ایک صنفِ نازک کو قیدِ تنہائی کا عذاب دینے والے کوئی اور نہیں اسکے بھائی تھے۔

بھائی سے اینکر نے سوال کیا کہ “تمہیں شرم نہیں آئی ایسا ظلم کرتے ہوئے”؟ تو وہ اچھے لباس میں خوش شکل نوجوان چیخ کر بولا
“آواز نیچی کر کے بات کریں،ہمارا گھریلو مسئلہ ہے”۔کسی کی اونچی آواز برداشت نہ کرنے والا یہ نام کا مرد نُما بھائی، ایک صنفِ نازک کو چند روپے کی جائیداد کے لئے اسکے خوابوں سمیت اندھیروں میں قید کر چکا تھا۔بہن کی زندگی کی بیس بہاریں چھین کر بھی وہ سر اٹھا کر سینہ تان کر کھڑا تھا۔

خاتون اب مکمل ہوش میں نہیں تھی۔ دو دہائیاں اندھیروں میں گزار چکا انسان اچانک روشنی دیکھ لے تو بھی برداشت نہیں کر سکتا۔اور پھر ایک اذیت خانے کے اندھیرے میں ایک ایسی زندگی گزار لینا کہ جہاں ہر لمحے لیے جانے والے سانس خود تڑپ کر اپنے ختم ہونے کی دعا مانگتے ہوں گے، کس قدر کٹھن اور درناک عرصہ ہو گا۔کیا پھر بھی کوئی انسان ہوش میں رہ سکتا ہے؟ یقیناًنہیں۔۔

میں نے سوچا کہ جب اس لڑکی کو بیس سال پہلے قید کیا ہو گا تو اسکے کیا خیالات ہونگے؟۔۔یقیناً اس نے شروع کے دنوں میں سوچا ہو گا کہ بھائیوں کا غصہ ختم ہو گا تو کچھ دن میں مجھے آزاد کر دیں گے۔وہ ڈرتی بھی ہو گی۔چیختی بھی ہو گی۔پھر دھیرے دھیرے اسکو یقین آتا گیا ہو گا کہ اب کبھی وہ آزاد نہیں ہو پائے گی ،تو اس کی چیخ اس کے حلق میں پھنس جاتی ہو گی۔کئی بار اس نے اپنی موت کی دعا بھی مانگی ہو گی۔اور کئی بار خدا سے اپنے بھائیوں کے اس ظلم پر انکی معافی کی طلب گار بھی رہی ہو گی کیونکہ وہ بہن تھی وہ پھر بھی ہر صورت اپنے بھائیوں کو تکلیف سے پچانا چاہتی ہو گی۔جب اسکو مکمل یقین ہو گیا ہو گا کہ اب وہ یہاں ہی جیے اور مرے گی تو آخری بار بجھتے دیئے کی طرح بہت شدت سے پھڑپھڑائی ہو گی اور پھر گُم سُم اپنے عذاب کو جھیلتی گئی ہو گی۔انسان جب ایک کیفیت میں مسلسل رہتا ہے تو وہ اس کیفیت کو جینے لگتا ہے۔اس خاتون نے بھی تنہائی کو جینا شروع کر دیا ہو گا۔ لہذا جب وہ باہر آئی تو اس کو اپنے اوپر گزرے بیس سالوں کا عذاب اب یاد بھی نہیں رہا اور اسکے لبوں پر ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔

مسکراہٹ بھی کیا عجیب چیز ہے کہ  تکلیف سہتے انسان پر نازل ہو جاتی ہے۔۔مجھے اس بات کا کامل یقین ہے کہ اگر یہ عورت اب بھی ہوش میں آ جائے اور اسکی ذہنی کیفیت بہتر ہو جائے تو یہ فوراً اپنے بھائیوں کو معاف کر دے گی کیونکہ اسکی اپنی اذیت پر بھائیوں کی محبت غالب آ جائے گی۔اہل خانہ, رشتہ داروں اور دوستوں کسی کو اس سسکتی ذندگی کی تڑپ کا نہ علم ہوا نہ احساس۔کوئی ایک شخص ہی انسان جان کر اسکی فکر کر لیتا،مگر نہیں۔۔
مختلف انسان زمانے میں خدا بنے پھرتے ہیں
میں  نجانے کیوں، کسی کی مخلوق نہیں ہوں؟

یہاں معاشرے کا کردار دیکھیں۔ ایک جیتی جاگتی انسان بیس سال سے قید میں رہی اور محلے داروں کو علم نہیں ہوا۔محلے دار جو کسی کی بیٹی کو رکشے سے اترتے ہوئے ہنس کر پیسے دیتے دیکھ لیں تو بدچلن کا الزام لگا  دیتے ہیں۔محلے دار جو کسی کی بیٹی کو چھت پر کھڑا دیکھ لیں تو آس پاس کی چھتوں کا فوراً معائنہ کرتے ہیں کہ کہاں کس چھت پر لڑکا ہے اور کہاں چکر چلا رہی ہے ۔وہ محلے دار جن کو کسی کی چاردیواری میں موجود انکی لڑکیوں کے کردار اور ذات کی بہت فکر رہتی ہے۔اور اس طرح کے معاملات میں محلے داروں کی آنکھیں دوربین اور کان انتہائی لمبے پائے جاتے ہیں۔مگر اسی چار دیواری میں ایک جان بیس سال تڑپتی رہی اور کسی کو علم نہ ہوا۔کسی رشتہ دار کو تشویش نہ ہوئی نہ کسی محلے دار کی دور بین والی آنکھوں کو اسکی اذیت دکھائی دی اور نہ ہی لمبے کانوں والےمحلے داروں کو اسکی چیخیں سنائی دیں۔بیس سال کا عرصہ سوچ کر ہی روح کانپ جاتی ہے کہ  کس قدر ظالم بھائی اور کس قدر بے حس اور لاپرواہ ہمارا معاشرا ہے۔
“ہم سا وحشی کوئی جنگل کے درندوں میں نہیں”

بھائیوں کا یہ روپ کچھ نیا نہیں ہے ہم نے اس سے قبل بھی بھائیوں کو بہنوں کا قتل کرتے دیکھا ہے ان کو زندہ درگو کرتے دیکھا ہے۔اسکو غیرت کے نام پر عبرت کا نشانہ بناتے دیکھا ہے۔
مجھے “باغی” ڈرامے میں صبا قمر کا ایک ڈائیلاگ یاد ہے۔جس میں صبا قمر نے کہا تھا “بھائی اگر ایسے ہوتے ہیں تو خدا ہر عورت کو بانجھ کر دے”۔اور یہ واقعہ دیکھ کر دل میں بار بار یہی الفاظ آئے کہ واقعی اگر مرد ذات ایسی ہونی ہے تو خدا عورت کو بانجھ نہ سہی مگر ایسے مرد پیدا کرنے کی صلاحیت بھی نہ دے۔

اب دوسری رائے یا دوسرا پہلو یہ بھی منظر عام پر آ رہا ہے جو بہت کم لوگوں کہہ رہے ہیں کہ یہ بہن قید نہیں تھی بس بیمار تھی جسکا بہت خیال رکھا جاتا تھا۔اب یہ بات کرنے والے صرف چند حضرات ہیں لہذا ان کی بات پر سوچنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔اب اگر یہ لوگ کہتے ہیں کہ نائلہ کے بھائی نے بہن کا علاج پاکستان کے بہت سے ہسپتالوں سے کروایا اور وہ خاتون قید نہیں تھی بس لا علاج مرض تھا لہذا کمرے میں رکھا گیا تھا۔جبکہ ویڈیو دیکھ کر کچھ اور ہی کہانی نظر آ رہی تھی۔اگر کوئی بہن کا اتنا ہمدرد تھا تو بہن کے لمبے ناخن , کمرے میں موجود کوڑا , رینگتے حشرات اور خاتون کے جسم میں پڑے کیڑوں کا کیا مطلب ہے؟۔لہذا خاتون کی ابتر حالت کی داسنان سنانے کو خاتون کا کمرہ کافی تھا۔اور ایسا خیال رکھنے والے بھائی کے بیمار بہن کا علاج کروانے کا دعویٰ بھی کرتے ہوں اور بہن کو کوڑہ کرکٹ میں رکھ کر اسکے جسم میں پڑتے کیڑوں کی پرواہ بھی نہ کرتے ہوں ایسے ہمدرد بھائی خدا کسی بہن کو نہ دے۔۔لہذا نائلہ پر ہوئے ظلم و ستم پر لوگ پردہ ڈالنے کی کوشش کر سکتے ہیں مگر انسانی آنکھ نے جو منظر دیکھا وہ افسوس ناک تھا اور نائلہ کی اذیت کی داستان سنانے کو کافی تھا

یہ خبر سُن کر، دیکھ کر میں نے ساتھ بیٹھے اپنے بھائی کا چہرا دیکھا۔جس کے چہرے پر اتنا ہی دکھ اور اذیت تھی، جتنی میرے چہرے پر۔میں نے کئی لمحے اپنے بھائی کا چہرہ دیکھا ،مجھے وہ ان سفاک بھائیوں کے مقابلے میں کسی فرشتے کی مانند محسوس ہو رہا تھا۔جس کو ہر لمحہ میری ذات کی فکر رہتی ہے۔جو پیسہ  اور محبت ہر طرح سے مجھ پر قربان کرتارہتا ہے ۔جن کو فوراً میرے چہرے پر بدلتے رنگ اور اداسی کی فکر ہونے لگتی ہے۔جو کبھی میرا موڈ اچھا کرنے کو شرارتیں کرتے ہیں تو کبھی گول گپے جیسی معمولی چیزیں لا کر میرا دل بہلاتے ہیں۔کبھی مجھ سے پوچھتے ہیں کچھ کھا کر موڈ صحیح ہو گا یا پھر کچھ چیز چاہیے۔میرے بھائی میری بات کے آگے اپنی ہر خواہش ہر حسرت کو مار سکتے ہیں۔ان کو میری خوشی کی خاطر اپنی سانسیں بھی دینی پڑیں تو پیچھے نہیں ہوں گے۔ پھر جب ہم میں سے بہت سی لڑکیاں ایسے خوبصورت بھائی رکھتی ہیں کہ  جو بہنوں کا مان ہیں جو بہنوں کا غرور ہیں ،جو بہنوں کی شان ہیں اور بہنوں کی زندگی ہیں، تو یقین جانیے مرد ذات کے روپ میں موجود ایسے بھائیوں کی ہستی سے عشق ہونے لگتا ہے۔

اس ظالم واقعے کے بعد میں واقعی تہہِ دل سے اللہ کی پاک ذات کا شکر ادا کرتی ہوں کہ ہم میں بہت سی لڑکیاں ایسے ہی خوبصورت اور محبت کرنے والے بھائی رکھتی ہیں۔اور میں ان جیسے بہنوں کا مان رکھنے والے  اور بہنوں سے محبت کرنے والے ہر بھائی کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں کہ جو بہنوں کو ایک جانور نہیں، نہ ہی کمزور شخصیت جانتے ہیں بلکہ انکو ایک جیتا جاگتا انسان مانتے ہوئے انکی شخصیت کو نکھارتے ہیں، ان کواپنی محبت کے حصار میں رکھتے ہوئے کُھلی فضاؤں میں جینے کی آزادی دیتے ہیں۔اور جو اپنی بہنوں کی مسکراہٹ دیکھ کر جیتے ہیں۔

اور شاید ایسے ظالم واقعات ہمیں یہ یاد دلانے کے لئے رونما ہوتے ہیں کہ ہم کس قدر خوش قسمت ہیں اور کس قدر قدرت کی رحمتوں سے مالا مال ہیں کہ ہمارے پاس کتنے  خوبصورت رشتے ہیں۔بیشک بھائی بہت پیارے ہیں اور اس واقعے کے بعد تو مجھے اپنے بھائیوں سے مزید محبت ہو گئی اور یقیناً ہر بہن اپنے بھائی سے مزید محبت کرنے لگ گئی ہوگی۔

ہمیں بحیثیت معاشرہ کسی رشتے سے نفرت نہیں بلکہ ظلم اور ظالم سے نفرت کرنی چاہیے اور ہر لمحہ اپنے آس پاس نظر رکھنی چاہیے کہیں سسکتی تڑپتی زندگی محسوس ہو تو انسانیت کے ناطے اسکی مدد کرنی چاہیے۔بیشک اللہ کا وعدہ ہے وہ حقوق اللہ معاف کرنے پر قادر ہے مگر حقوق العباد کی پکڑ بہت سخت ہے۔اپنا اور اپنے آس پاس موجود لوگوں کا خیال رکھیے۔انکی خبر رکھیے اس لئے نہیں کہ طنز کیا جا سکے یا الزام لگایا جا سکے بلکہ اس لئے کہ کسی پل پل مرتی زندگی کے لئے آسانی پیدا کی جا سکے۔
اللہ ہم سب پر رحم فرمائے ۔اور ظالموں کو انکے ظلم سمیت غرق کرے۔آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *