• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • ٹرمپ-عمران پریس کانفرنس کہی ان کہی باتیں۔۔۔نیّر نیاز خان

ٹرمپ-عمران پریس کانفرنس کہی ان کہی باتیں۔۔۔نیّر نیاز خان

SHOPPING

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارت کا عہدہ سنبھالنے کے ایک سال بعد سٹیٹ آف دی یونین ایڈریس میں افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کو چند بنیادی مسائل کا ذمہ دار قرار دیا تھا۔ اور ساتھ ہی اتحادی فنڈ کی مد میں دئیے جانے والے امدادی پیکج کو یہ کہہ کر روکنے کا اعلان کیا تھا کہ یہ پیسے جس مقصد کے لیے پاکستان کو دئیے جاتے رہے ہیں، پاکستان ان مقاصد کے حصول کے لیے امریکہ کے ساتھ تعاون نہیں کر رہا۔ 2001 میں شروع ہونے والی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بعد شاید یہ دوسرا موقع تھا جب کسی امریکی صدر نے سفارتی آداب کی نزاکتوں کا خیال رکھے بغیر پاکستان پر دباو بڑھانے کی کوشش کی تھی۔ پہلی بار نو  گیارہ کے حملوں کے بعد اس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے پرویز مشرف سے کہا تھا کہ افغانستان اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان اگر ہمارے ساتھ کھڑا نہ ہوا تو ہم سمجھیں گے کہ وہ امریکہ کے دشمنوں کے ساتھ ہے۔ عمران خان جب تک اپوزیشن میں رہے تسلسل کے ساتھ افغان جنگ کی مخالفت کرتے رہے اور اسے امریکہ کی جنگ کہتے رہے جس میں بقول ان کے پاکستان کی معیشت بری طرح متاثر ہوئی اور پاکستانی سرزمین پر دہشت گردی کا جواز مہیا ہوا۔ ڈرون حملوں پر بھی عمران خان ایک مستقل ردعمل دیتے رہے اور ان حملوں کے خلاف ایک مارچ بھی کیا۔ 22 جولائی کو اپنے مخصوص انداز سے جانے والے دونوں حضرات نے اوول آفس میں مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ جو تھی تو مشترکہ لیکن زیادہ سوالات کو ٹرمپ نے اکیلے ہینڈل کرنے کا فیصلہ کیا جس پر عمران خان نے کئی مواقعوں پر مداخلت کرتے کرتے اپنے کرب پر قابو رکھنے کو ترجیح دی۔ اس کے برعکس صدر ٹرمپ شاید پہلی بار کسی پریس کانفرنس میں پُرسکون اور مطمئن دکھائی دئیے جہاں صحافیوں کو جعلی اور زرد صحافت کا طعنہ سننے کو نہیں  ملا۔ شکیل آفریدی کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے قیدی کے بجائے مغوی کا لفظ استعمال کیا اور یہاں تک کہہ دیا کہ مغویوں پر بھی ہم بات کریں گے بشمول اس شخص کے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شکیل آفریدی کو تو صدر ٹرمپ نے قیدی کے بجائے مغوی کہہ دیا لیکن اَن کہے لفظوں میں باقی مغوی کون ہیں؟ کیا صدر ٹرمپ بھارت کی طرف داری کرتے ہوئے کلبھوشن یادیو کی بات کر رہے تھے یا یہ صرف عمومی بات تھی؟ اس ان کہی بات کا آنے والے دنوں میں جواب مل جائے گا۔ عافیہ صدیقی کے سوال پر دونوں اطراف سے کوئی خاطر خواہ جواب نہ آیا۔

کشمیر کے حوالے سے صدر ٹرمپ نے بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی سے اپنی ملاقات اور مودی کی طرف سے ثالثی کی درخواست کا ذکر کر کے سفارتی حلقوں میں ایک نئی بحث چھیڑ دی۔ گو کہ بھارت کے سیکریٹری خارجہ نے چند منٹوں میں ہی اس طرح کی کسی بھی درخواست کی تردید کر دی۔ لیکن امریکہ کا صدر پریس کانفرنس میں اتنے وثوق کے ساتھ کوئی بھی بات اپنی طرف سے نہیں کر سکتا۔ بھارت اور پاکستان کے تعلقات کے سوال پر وزیراعظم عمران خان کے اندر بسنے والا حقیقی انسان بول اٹھا۔ الفاظ شاید وزیراعظم عمران خان کا ساتھ نہیں دے رہے تھے۔ لیکن باڈی لینگوئج نے بہت کچھ کہہ دیا۔ پھر بھی ہمت کر کے وزیراعظم عمران خان نے اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا کہ “میں دنیا کے سب سے طاقت ور ملک کے صدر سے کہتا ہوں کہ آپ کی مدد کے بغیر برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا” یہ الفاظ کہتے ہوئے عمران خان کے چہرے سے خلوص ٹپک رہا تھا۔ اور ساتھ ہی بحیثیت وزیراعظم پاکستان کچھ معاملات میں ان کی بے بسی صاف نظر آ رہی تھی۔

پوتریکو (جو امریکہ کے زیر انتظام ہے لیکن امریکہ کا باقاعدہ حصہ نہیں) کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر ٹرمپ نے اصل ڈونلڈ ٹرمپ کا روپ دھارتے ہوئے وہاں کے گورنر پر کُھلی تنقید کی اور سیلاب کے بعد دی جانے والی امداد میں کرپشن کا ذکر کیا۔ اسی جواب میں عمران خان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پاکستان کو دی جانے والی 3۔1 ارب ڈالر امداد کا ذکر بھی کر ڈالا اور اپنا موقف بھی دہرا دیا کہ وہ امداد ہمارے خلاف استعمال ہو رہی تھی اسی لیے میں نے بند کر دی۔ اس موقع پر عمران خان کچھ کہتے کہتے رہ گئے عمران خان کی باڈی لینگوئج صاف کہہ رہی تھی وہ امداد آپ نے غلط لوگوں کو غلط بات کے لیے دی تھی۔ بقول فیض صاحب کہ

ان سے جو کہنے گئے تھے فیض جاں صدقہ کیے

اَن کہی ہی رہ گئی وہ بات سب باتوں کے بعد

افغانستان کے معاملے پر صدر ٹرمپ نے امن مذاکرات اور معاہدے پر زور دیا اور پاکستان کو اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے یہاں تک کہہ دیا کہ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے میرے پاس ایک اور راستہ بھی ہے اور عمران خان وہ راستہ جانتا ہے  کہ میں ایک ہفتے میں اس مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہوں۔ لیکن اس کے لیے مجھے دس ملین لوگ مارنے پڑیں گے اور افغانستان کا وجود کرہ ارض سے مٹ جائے گا اور میں نہیں چاہتا کہ اتنی تعداد میں لوگوں کو ماروں اس لیے امید ہے کہ امن کی تلاش میں پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا۔

بلوچستان میں بھارت کی مداخلت اور پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کے سوال کا جواب بھی صدر ٹرمپ نے خود ہی دینا مناسب سمجھا اور کہا کہ مداخلت اور عدم استحکام کی باتیں دونوں اطراف سے ہو رہی ہیں۔ یہ وہ معاملات ہیں جہاں امریکی ثالثی کی گنجائش موجود ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ برصغیر کی ان معاملات کو حل کرنے میں معاونت کی جائے۔

عمران خان اگرچہ مشترکہ پریس کانفرنس میں صرف چند مواقعوں پر کچھ کہہ پائے۔ لیکن تاثرات سے صاف لگ رہا تھا کہ وہ بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ لیکن کچھ ہدایات اور عہدوپیماں کا لحاظ کرتے ہوئے خاموشی کو ہی ترجیح دے رہے ہیں۔ پریس کانفرنس میں ان کہی باتوں کا ذکر بہت حد تک ممکن ہے کہ عمران خان نے اکیلے میں صدر ٹرمپ سے کر دیا ہو یا بعد میں سیکریٹری خارجہ مائیک پامپیو سے کر دیں۔ عمومی تاثر یہی مل رہا تھا کہ خارجہ اور علاقائی امور پر بات کرنے میں عمران خان ایک حد سے آگے نہیں جانا چاہتے یا انہیں ایسا کرنے کے لیے کہا گیا ہو۔ پاکستان میں صحافت کی آزادی پر سوال کے جواب میں عمران خان نے پورے اعتماد کے ساتھ کہا کہ جتنی صحافت پاکستان میں آج آزاد ہے شاید ہی کسی دور میں رہی ہو ۔ لیکن خان صاحب آپ کے گیارہ ماہ کا ٹریک ریکارڈ آپ کے جواب کی ضد ہے ۔ ہاں اگر پاکستان میں صحافت کی آزادی سے مراد صرف ایک بیانیہ اور اے آر وائی نیوز کی آزادی ہے تو آپ اپنے بیانیے میں درست ہیں ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں صحافت کچھ بھی ہو سکتی ہے لیکن آزاد نہیں۔۔

صرف ایک ہی موقع  پر عمران خان کے چہرے کے تاثرات ان کے من اور الفاظ میں مکمل تال میل تھا اور وہ تھا برصغیر میں امن کے لیے صدر ٹرمپ سے یہ کہنا کہ ڈیڑھ ارب انسانوں کی دعا تمہیں مل جائے گی۔ اگر دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور سیاسی طاقت انہیں پرامن ماحول قائم کرنے میں مدد گار ثابت ہو۔

SHOPPING

خواہش بھی ہے اور امید بھی کہ بھارت اور پاکستان ماضی کی تلخیوں کو بھلا کر نئے دور کا آغاز کریں اور افغانستان میں امن کی بحالی کے لیے مشترکہ کوششیں کریں تاکہ صدر ٹرمپ کو دس ملین لوگ نہ مارنا پڑیں۔ خدا کرے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے صدر ٹرمپ سے کہا ہو اور دونوں ممالک جموں کشمیر کے عوام کو آزادی اور امن سے جینے اور بلا خوف ترقی کرنے کا موقع دینے پر راضی ہو جائیں جس کا فائدہ پورے خطے کے عوام کو مشترکہ طور پر ہو گا۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *