پہلے فیصلہ تو کرلیجیے۔۔۔اظہر کمال

ہمارے قوم پرستوں، لبرلوں، کانگریسیوں اور جمعیت علمائے گاندھی کے پیروکار دانشوروں نے ہمیشہ تاریخ کو بحیثیت مجموعی دیکھنے اور اس کے ارتقاء سے پیدا ہونے والے حالات کو تسلیم کرنے کے بجائے انفرادی واقعات اور شخصیات سے نتائج نکالنے کا جو گورکھ دھندہ پھیلا رکھا ہے، اس سے سوائے کنفیوژن کے کچھ برآمد نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ اور حقیقتاً ان کا مقصد بھی سوائے کنفیوژن پیدا کرنے کے اور کچھ نہیں۔

مثال کے طور پر اٹھارہویں صدی کے ہندوستان کو ہی لیجیے۔ پختون قوم پرستوں کے نزدیک اس دور کا ہیرو احمد شاہ ابدالی ہے جس سے لبرلز اور کانگریسیوں کو شدید چڑ ہے۔ ہندو قوم پرستوں کے نزدیک اس دور کے ہیرو مراٹھا چھترپتی شیواجی کے وارثین یعنی پیشوا نانا صاحب اور اس کی اولاد ہے۔ تیسری جانب مشرقی ہندوستان خصوصاً بنگال و بہار کے علاقوں کے مسلمانوں کے نزدیک ہیرو مرشد قلی خان اور اس کے وارثین بشمول نواب سراج الدولہ ہیں جبکہ ان کے ولن انگریز یعنی ایسٹ انڈیا کمپنی ہے۔ چوتھی جانب جنوبی ہندوستان میں ٹیپو سلطان کی شہادت کے بعد دکن کے نظام ہی باقی رہ جاتے ہیں جنہیں کوئی ہیرو اور کوئی ولن سمجھ سکتا ہے۔ اس صدی کی دلچسپ صورتحال شمالی ہندوستان میں ہے جہاں دم توڑتی ہوئی مغل سلطنت پر ایک سے بڑھ کر ایک نا اہل بادشاہ حکومت کر رہا ہے اور اس کے ہمسائے میں رام پور، بریلی، مراد آباد اور پیلی بھیت جیسے علاقوں پر مشتمل روہیل کھنڈ کی ریاست ہے جس پر سادات اور خالص پشتون قبائیلیوں کی حکومت ہے جو روہیلہ کہلاتے تھے۔ ان کے پڑوسی اودھ کے نواب ہیں جو نسلی طوری نیشاپوری ایرانی ہیں۔ پنجاب کے مغربی علاقوں پر احمد شاہ ابدالی کا قبضہ ہے، شمال مشرق میں جاٹ حکمران ہیں، مشرقی حصے پر مغلوں کا رہا سہا قبضہ ہے جبکہ جنوب مشرقی پنجاب سے لے کر راجستھان تک مراٹھا سلطنت کے زیر نگین ہیں۔ اسی دور میں پنجاب کے سکھ بھی آہستہ آہستہ مجتمع ہو کر اپنی حکومت تشکیل دینے کے قریب ہیں۔ اس طرح ہندوستان پر تین بڑے مذاہب کا قبضہ ہے ۔۔۔۔۔ مراٹھا جو ہندو ہیں، ایسٹ انڈیا کمپنی جو عیسائی ہے جبکہ درانی سلطنت، مغل، نوابینِ روہیل کھنڈ، اودھ، بنگال اور دکن کے نظام مسلمان ہیں۔ مسلمان ریاستوں میں مذہبی حوالے سے دلچسپ صورتحال ہے ۔۔۔۔۔۔ درانی سلطنت سنی مسلمانوں کی اکثریت پر مشتمل ہے جبکہ روہیل کھنڈ جو موجودہ یوپی کے کچھ علاقوں پر مشتمل ہے اور اودھ شیعہ مسلمان ریاستیں ہیں۔ بنگال میں بھی شیعہ اور سنی دونوں موجود ہیں جبکہ یہی صورتحال دکن کے علاوہ مغل سلطنت میں بھی ہے۔
اب جب بھی اس دور کے متعلق دانشوروں کی گفتگو سنیں گے تو آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس دانشور کا ذہن کس فریکوینسی پر آسیلیٹ کر رہا ہے۔ پختون قوم پرست احمد شاہ ابدالی کو گلوریفائی تو کرے گا لیکن یہ نہیں بتائے گا کہ اس کے اتحادی روہیلے اور نوابین اودھ شیعہ تھے۔ شیعہ دانشور ابدالی کی برائیاں بیان کرتے ہوئے اسے حملہ آور غیر ملکی قرار دے گا البتہ یہ نہیں بتائے گا کہ اس کا ساتھ دینے والا سب سے بڑا نام نواب اودھ شجاع الدولہ کا ہے جو شیعہ تھا۔ قوم پرست پنجابی ابدالی کو حملہ آور غیر ملکی تو قرار دے گا لیکن یہ نہیں بتائے گا کہ مراٹھوں کے ظلم سے تنگ آئے پنجابی جاٹوں اور سکھوں نے ابدالی کے خلاف مراٹھوں کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا تھا۔ متحدہ ہندوستان کا حامی مراٹھوں کے گن گائے گا لیکن دلی، اودھ، پنجاب اور بنگال میں ان کی لوٹ مار کا ذکر گول کر جائے گا۔ جبکہ جدیدیت کا حامی دانشور انگریزوں کی بر صغیر آمد کو باعث رحمت قرار دیتے ہوئے یہ فراموش کر دے گا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بر صغیر کو کس ظالمانہ طریقے سے لوٹ کر کنگال کیا تھا۔
آخری بات ۔۔۔۔۔۔ بادشاہ، سب برے ہوتے ہیں، بس اتنا سا فرق ہے کہ کوئی کم برا ہوتا ہے اور کوئی زیادہ برا ہوتا ہے ۔۔۔۔۔ اچھا کوئی نہیں ہوتا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *