بلوچستان سے کچھ تشنہ سوال۔۔۔۔یعقوب بگٹی

کیا دن تھے جب نظر میں خزاں بھی بہار تھی
یوں اپنا گھر بہار میں ویراں نہ تھا کبھی

بلوچستان پاکستان کا شاید وہ واحد صوبہ ہے جو ہزاروں نعمتیں ہونے کے باوجود بھی احساسِ محرومی کا شکار ہے۔ کہیں بے روزگاری کی وجہ سے لوگ خود کشی کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں تو کہیں ظالم کالے سیاہ روڈ خون کے پیاسے بن چکے ہیں۔ کہیں لا اینڈ آرڈر خراب ہے تو کہیں ذاتی جنگیں چھڑ گئی ہیں۔ بلوچستان میں یہ مسئلے نئے نہیں ہیں۔ اور نہ ان کا حل پیچیدہ یا ناممکن ہے۔

اگر گڈ طالبان اور بیڈ طالبان سے مذاکرات کیے جا سکتے ہیں تو پھر بلوچستان کے احساسِ محرومی پر کیوں بات نہیں کی جا سکتی؟۔ اگر افغانستان میں دیرپا امن، مضبوط پاکستان کی ضرورت ہے تو ہنستا مسکراتا بلوچستان کیوں مستحکم پاکستان کی ضمانت نہیں بن سکتا؟۔

کیا فوج کو وزیرستان, بلوچستان اور سوات سے نکل جانا چاہیے؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی
کل جس وقت بھوربن مری میں افغانستان سے آئے ہوئے مختلف سیاستی عہدے داروں سے مذاکرات اور امن حاصل کرنے کی بات چیت جاری تھی، اس وقت بلوچستان کی ایک بیٹی نیشنل اسمبلی آف پاکستان میں بلوچستان کی محرومی کا ذکر کر رہی تھی۔

کل جب فارن منسٹر آف پاکستان دشمن عناصر اور پروپیگنڈا کرنے والوں کو امن کی طرف راغب کرنے کی ترکیب بتا رہے تھے اسی وقت بلوچستان کی بیٹی روبینہ عرفان سوئی سے نکلنے والے گیس کی 18 گھنٹے بندش کی بات کر رہی تھی۔ کل جب منسٹر صاحب کہہ رہے تھے کہ افغانستان میں امن حاصل کرنے کا واحد طریقہ سیاسی ہے نہ کہ فوج کشی۔ عین اس وقت ایک بلوچ بہن ریکوڈک سیندک کے منرلز پر ڈاکہ ڈالنے کے بات کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ ایم ڈی سیندک پروجیکٹ سے جب یہ سوال کیا گیا کہ یہ سونا یورنیم اور کاپر کہاں گئے تو ایم ڈی صاحب نے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا۔

آپ ہی اپنی اداوں پہ ذرا غور کریں
ہم اگر عرض کریں گے تو شکایت ہوگی

سلگتے بلوچستان کا ہمدرد کون؟۔۔۔۔کاظم بلوچ

بلوچستان کے بیٹی نے کئی سوالات چھوڑے۔ کیا ان کے جواب مل سکتے ہیں یا یہ ہمیشہ ایک سوال رہے گا!!

گوادر بلوچستان کی شہہ رگ ہے، پاکستان کے ماتھے کا جھومر ہے لیکن وہاں کے لوگ صاف پانی کو ترستے ہیں۔ کیا اس سوال کا جواب مل سکتا ہے؟۔

وفاقی بجٹ جو کہ سو کالڈ عوامی بجٹ ہے، اس میں بلوچستان کے لیے صرف 4 سڑکیں، کیا بلوچستان کے احساسِ محرومی کو کم کر سکتے ہیں؟۔

زخمی بلوچستان۔۔۔ڈاکٹر ناظر محمود/انگریزی سے ترجمہ: فرید مینگل

سوئی ریکوڈک سیندک سے تو کچھ نہیں ملا، کیا سی پیک سے بلوچستان کو کچھ مل سکتا ہے؟۔

روبینہ عرفان کو 10 ماہ بعد پہلی بار بولنے کا موقع دیا گیا تھا۔ اور اسی موقع پر انہوں ایک بلوچ ماں بہن اور بلوچستان کی بیٹی ہونے کے ناطے کئی سوال پاکستان کے سب سے بڑے ایوان میں رکھے۔ یہ سوال اب تک تشنہ جواب ہیں۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *