گلگت بلتستان میں ٹیکس مخالف تحریک۔۔ کیا کھویا اور کیا پایا؟

لنین ایک  سوشلسٹ رہنما تھے آج بھی دنیا میں اُن کا نام  انقلابی  رہنماؤں  میں  سرفہرست لیا جاتا ہے۔ اُن کے نظریے  کے چند نکات جو آج بھی کمزور اور منتشر معاشروں کیلئے مشعل راہ  ہیں ۔ انقلاب روس کے دوران اُنہوں نے تین نعرے لگائے جس میں سب سے پہلا نعرہ عوام کیلئے حقیقی سیاسی آزادی حاصل کرنا اور دوسرا مزدور،کسانوں اور سپاہیوں کے نمائندوں کی سویتیوں کی شکل میں نئی ممکنہ انقلابی طاقت کی تخلیق اور عوام کا اپنے اوپر طاقت استعمال کرنے والوں کے خلاف طاقت کا استعمال۔ ان تین نعروں کی بنیاد پر لنین نے کس قسم کے مسائل اور سازشوں اور بہتان کا سامنا کیا یہ ایک طویل بحث ہے لیکن مجھے لنین کے  نظریے  کے کچھ عوامل ہمیشہ سے گلگت بلتستان میں نظر آتے ہیں ۔ جب ہم قیام پاکستان سے پہلے کی بات کرتے ہیں تو پاکستان بنانے والے قائدین سلطنت برطانیہ کے ماتحت رہ کر اُن سے تمام قسم کے مالی معاشی فوائد حاصل کرکے   بھی  پاکستان کا خواب دیکھتے رہے لیکن پاکستان کے  قیام کیلئے کوششیں کرنے والوں کو کسی انگریز نے یہ کہہ کر جیل میں نہیں ڈالا کہ ہم نے تمھیں ہر قسم کی سہولیات دے رکھی  ہیں  پھر بھی یہ بغاوت کی باتیں، یہ حقوق کے نعرے، ہمیں اچھے  نہیں لگتے۔ بلکہ اُن کے ساتھ مذاکرات کیلئے دلیل مانگی  اور نتیجے میں دنیا کے نقشے پر ایک اسلامی مملکت وجود میں آئی ۔

محترم قارئین! تاریخ کے اوراق سے چند باتوں کا ذکر  کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پرُامن جدوجہد دنیا کے کسی بھی ملک مذہب اور معاشرے میں وہاں کے باسیوں کا قانونی حق ہے، جسے چھیننے کی کوشش کرنے والوں کو دنیا  ،  چاہے وہ  وردی کی شکل میں ہو  یا جمہوریت کے لبادے میں’ آمریت کے نام سے پُکارتے ہیں۔ لیکن جب ہم گلگت بلتستان کی بات کریں تو ہمارے معاشرے میں ہر کام اُلٹا ہوتا ہے کیونکہ ہماری سوچ میں منفی رویہ  شامل  ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان شاید دنیا کا واحد خطہ ہے جہاں پُرامن احتجاج کرنے والوں پر غداری کے مقدمات بنا کر انہیں  سلاخوں کے پیچھے دھکیل دیا جاتا ہے  لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔

یہ بات تو طے ہے اور مملکت پاکستان سمیت مسئلہ کشمیر کے تمام فریق اس بات پر متفق ہیں کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ خطہ ہے اس خطے کے  مستقبل کا فیصلہ کرنے کیلئے مسئلہ کشمیر پراقوام عالم میں مملکت پاکستان کا موقف سب سے بڑی رکاوٹ ہے اس رکاٹ کو دور کرنے کیلئے مسئلہ کشمیر کو گلگت بلتستان پر قربان کرنا پڑے گا جوکہ یقیناً ہم میں سے کسی کی خواہش نہیں بلکہ ہم چاہتے ہیں کہ بھلے ہی اس خطے کو ایسے رکھیں لیکن پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر کسی بھی قسم کے مسائل  کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اس عظیم ملک کو ویسے بھی کرپٹ اور چور حکمرانوں نے دنیا میں بہت زیادہ بدنام کیا ہوا ہے ۔ لیکن اسی تناظر میں بحیثیت انسان اس خطے میں بسنے والے بیس لاکھ سے زائد عوام کے کچھ بنیادی مسائل ہیں جسے حل کرنے کیلئے وفاق پاکستان نے انتظامی طور پر ایک سیٹ اپ دیا ہوا ہے جو صوبائی طرز کے نظام سے جانا  جاتا  ہے ، لیکن بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ مملکت پاکستان نے جس نظام کے تحت جن افراد کو اس خطے کے عوام  کے  مسائل حل کرنے کیلئے اہم قسم کی  مراعات اور سہولیات فراہم کی ہوئی  ہیں  وہ لوگ گلگت بلتستان کے عوامی مسائل حل کرنے میں ماضی سے لیکر آج تک بُری طرح ناکام نظر آتے  ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ یہاں معمولی نوعیت کے مطالبے کیلئے بھی عوام کو سڑکوں پر نکلنا پڑتا ہے۔ زیادہ دور جائے بغیر ہم اگر 2013گندم سبسڈی تحریک سے بات شروع کریں تو گلگت بلتستان کے عوام کو یہ باور کرایا کہ یہاں کے عوام چونکہ پاکستان کے دیگر شہروں کی  نسبت گندم انتہائی قلیل قیمت پر حاصل کرتے ہیں اس ضمن میں وفاق پاکستان گندم سبسڈی کی  مد میں سالانہ کروڑوں روپے ادائیگی کرتا  ہے  جو ایک طرح سے وفاق پر معاشی بوجھ ہے جسے اب عوام کو بھی برداشت کرنے کی ضرورت ہے۔لیکن تاریخ کے اوراق اگر پلٹیں تو معلو م ہوتا ہے کہ 1972میں اقوام متحدہ کمیشن برائے متنازعہ علاقہ جات جو UNCIP Resolution کے نام سے مشہور ہیں کے تحت متنازعہ علاقوں کے عوام کو گندم،نمک،چینی اور مٹی کے تیل سمیت دیگر کئی اشیاء پر سبسڈی دی  گئی اور سبسڈی کی ذمہ داری منتظم کوسونپ دی  گئی ، جس کے تحت گلگت بلتستان میں پہلی بار بھٹو کے دور میں مقامی راجگیری نظام ختم کرکے راشن کارڈ کے  ذریعے فی کس 20کلو گندم،5کلو چینی اور 5کلونمک اور مٹی کا تیل دینا شروع کیا جسے ہمارے عوام نے بھٹو کا تحفہ سمجھا اور اسی لیے وہاں کے لوگ اج بھی بھٹو کو اپنا مسیحا   سمجھتے ہیں۔

یاد رہے اُس سے پہلے ڈوگرہ حکومت کے  خاتمے کے بعد بھی اندھیر نگری قانون کے تحت مقامی راجے غریب عوام سے لگان کی صورت میں ٹیکس وصول کرتے تھے۔لیکن گلگت بلتستان کے عوام سے آہستہ آہستہ تمام قسم کے سبسڈی کو چھین کر اب صرف گندم سبسڈی باقی ہے یہی وجہ ہے کہ 2013 پیپلزپارٹی کے دور میں گندم کی قیمت بڑھانے کی حکومتی کوششوں پر عوام آپے سے باہر ہوگئے اور مسلسل کئی ہفتوں تک شٹرڈاون ہڑتال اور شدید عوامی احتجاج کے بعد عوام نے حکومت کو گٹھنے ٹیکنے پر مجبور کیا اور گندم کی قیمت بڑھانے کا معاملہ ختم ہوگیا اس احتجاج کیلئے عوامی ایکشن کمیٹی کے نام سے ایک کمیٹی بنائی جس میں موجودہ مسلم لیگ نون کے رہنماؤں  سمیت تمام سیاسی اور مذہبی پارٹیوں کے نمائندے شامل تھے اس کمیٹی کے رہنماؤں  نے عوام کو جو ماضی میں سازشوں کے تحت فرقہ وارانہ سوچ کے مطابق ایک دوسرے سے ہاتھ ملانے کیلئے بھی تیار نہیں تھے ایک پلیٹ فارم پر لاکر متحد کیا اور گلگت بلتستان میں اتحاد بین المسالک کے حوالے سے تاریخی کامیابی ملی جو آج بھی برقرار ہے اور اب سی پیک کے تناظر میں قوی امید ہے کہ گلگت بلتستان میں مزید فرقہ واریت کو پروان نہیں چڑھایا جائے گا۔

اُس وقت کی  حکومت میں چونکہ جمہوری تربیت کے تحت سیاست میں آنے والے لوگ موجود تھے یہی وجہ تھی  کہ نہ کسی کو غدار کہا نہ کسی پر کسی ملک کے آلہ کار ہونے کا الزام لگایا بلکہ ایک کوشش کی،جس کے  ناکام ہونے پر خاموش ہوگئے۔ لیکن جب حالیہ ٹیکس مخالف تحریک کے حوالے سے حکومتی رویے اور اس حوالے  سے اہم حکومتی ذمہ داران کی جانب سے پرُامن عوامی جدوجہد کرنے والوں کے خلاف جو بہتان بازیاں سامنے آئیں  اور اس تحریک کو سبوتاژ کرنے کیلئے  مختلف قسم کے حربے استعمال کئے لیکن عوام  نے ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور  تمام  حکومتی سازشوں کو دریا برد کردیا۔ اور وہ حکومت کو کل تک ٹیکس کے بارے میں مذاکرات تو دور کی بات بلکہ ٹیکس کے خلاف کسی قسم کی بات کرنے والوں کو سی پیک مخالف اور گلگت بلتستان کی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ قرار دے رہا تھا وہ گھٹنوں کے بل ٹیبل پر آنے کیلئے مجبور ہوئے۔ مگر الزامات کا سلسلہ جاری وساری ہے  اور تازہ ترین اطلاعات کے مطابق عوامی مظاہرے میں عوام کو متحرک کرنے والے چالیس افرادپر شیڈ ول فور لگایا جائے گا جس کا مقصد بقول مقامی وزیر قانون کے سی پیک کے تناظر میں اُن پر نظر رکھنا ہے۔

وزیر قانون کے مطابق سی پیک کے تناظر میں گلگت بلتستان کی اہمیت پہلے سے کہیں  زیادہ بڑھ گئی ہے اور مقامی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس سلسلے میں  اُن افراد پر کڑی نظر رکھی  جائے۔ یعنی گلگت بلتستان میں بطور انسان بنیادی حقوق کیلئے احتجاج کرنا بھی اس وقت سی پیک مخالف شق میں ڈال دیا گیا ہے جس پر سوائے ماتم کرنے کے کچھ کہنا بھی شاید راء ایجنٹ ہوجانے کے مترادف ہے۔خیر اللہ اللہ کرکے عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے چارٹرڈ آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کے مطالبے سے تین نکاتی ایجنڈے پر متفق اور اُس تین نکات میں سے ایک نکات کی منظوری تک کے سفر میں عوام نے کیا کھویا اور کیا پایا یہی   ہمارا اصل  موضوع  ہے   ۔حالیہ عوامی تحریک میں حکومتی رویہ اور اُن کی سیاسی سوجھ بوجھ  کھل کر سامنے آئی  اور یہ بات واضح ہوگئی  کہ آج اکیسویں صدی میں بھی ہمارے حکمران تہمت اور الزامات کی سیاست سے باہر نہیں آپائے او ر مسلم لیگ نون کی حکومت نے گلگت بلتستان میں بلواسطہ اور بلاواسطہ مسلکی جنگ چھیڑنے کی ناکام کوشش کی لیکن عوام نے بُری طرح مسترد کردیا اور یہ بات بھی واضح ہوگئی  کہ وزیر اعلیٰ مخالفین کے خلاف کسی بھی حد  تک غیرجمہوری  رویہ استعمال کرتے ہوئے آگے جاسکتے ہیں  ۔ مگر عوام اور مقتدر حلقوں کے آگے وہ بے بس ہوئے۔

ایک اور اہم پہلو یہ سامنے آیا کہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت پر بات کرنا   ایک طرح سے جرم بنتا جارہا تھا لیکن عوام نے ٹیکس نہ دینے کیلئے گلگت بلتستان کے گاؤں گاؤں قریہ قریہ گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے حوالے سے وال چاکینگ کرکے اور بینرز لگا کر نئی نسل تک یہ پیغام پہنچایا، یہ خطہ آج بھی قانونی اور آئینی طور پر کسی ملک کا حصہ نہیں بلکہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان کے زیر انتظام ہے  اور اس خطے کی قسمت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی نگرانی میں رائے شماری کے ذریعے ہونا باقی ہے ۔اس کے علاوہ تمام قسم کے وعدے اور سیاسی نعرے فقط عوام کو گمراہ کرنے والی باتیں ہیں۔حالیہ تحریک کے دوران سرتاج عزیز کمیٹی کے فیصلے نے مظاہرین کے شکوک  و شبہات کو مزید مستحکم کیا جو اس سے پہلے آئینی صوبے کے  نعرے کے ساتھ عوام  کو کچھ حد تک کنفیوز کر رہے  تھے۔حالیہ عوامی تحریک کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ دنیا بھر میں مقیم گلگت بلتستان کے باشندے بھی متحرک ہوگئے جو کہ سوشل میڈیا کی مرہون منت ہے اور اس وجہ سے حکومت کی بہتان بازیاں کچھ  زیادہ نظرآئیں ۔

اس کے علاوہ گلگت بلتستان کے عوام نے یہ ثابت کردیا کہ اگر قیادت مخلص ہو تو مسلک اور علاقہ عوام کا مسئلہ نہیں یوں اتحاد بین المسالک کی بہترین مثال دنیا کے سامنے پیش کرکے ماضی میں گلگت بلتستان کے مظلوم عوام کو پتھروں اور گولیوں سے چھلنی کرنے والوں کو واضح پیغام دیا کہ گلگت بلتستان میں بھلے ہی ضیاء الحق سیاسی جانشینوں کی حکومت ہے مگر عوام متحد ہیں اور ماضی میں عوام کو مسلکی جنگ میں دھکیلنے والے بُری طرح بے نقاب ہوگئے ہیں ۔ جو اب طاقت اور حکومت کے نشے میں دھت ہوکر عوام اور عوامی قیادت پر راء کے  ایجنٹ ہونے  جیسے الزامات لگاتے نظر آتے ہیں ۔

اب اگر منفی پہلو کی بات کریں تو عوامی ایکشن کمیٹی چارٹرڈ کے مطابق مطالبات منوانے کیلئے عوام کا بھرپور ساتھ ہونے کے باجود ناکام رہی اور ایک اہم موقع گنوا دیا جب گلگت بلتستان کے عوام کو متازعہ حیثیت کی بنیاد پر حقوق دلانے کے نعروں کے باجود اس حوالے سے متذلل نظر آیا۔ اسی طرح عوامی ایکشن کمیٹی کے جلسوں میں گلگت بلتستان کے مختلف جیلوں میں بند سیاسی قیدیوں کی رہائی یا عدالت کے ذریعے سزا دینے کے حوالے سے مسلسل عوامی مطالبات کے باجود ایک لفط نہیں بولا گیا بلکہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چیرمین سے جب اس حوالے سے سوال کیا تو اُنہوں نے جواب دینا بھی مناسب نہیں سمجھا۔ اسی طرح اپوزیشن لیڈر سمیت عوامی ایکشن کمیٹی کا نعرہ تھا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صور ت میں سٹیٹ سبجیکٹ رول کی خلاف ورزی کو ختم کرنے کیلئے وفاقی سطح پر احتجاج کرنے کا نعرہ بھی دم توڑ چکا ہے  اور گلگت بلتستان کو اس خطے کی متنازعہ حیثیت کے مطابق آزاد کشمیر طرز کے سیٹ اپ کیلئے عوامی مطالبات کے باوجود کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ لیکن امید قوی  ہے کہ ابھی مسئلہ ختم نہیں ہوا بلکہ مسائل کا حل   نکلنے کا یہ سلسلہ جاری رہے گا اور عوام اس اُمید سے ہیں کہ آنے والے وقتوں میں ایکشن کمیٹی پہلے سے کہیں زیادہ عوامی طاقت بن کر اُبھرے گی  اور عوامی مسائل کے حل کیلئے گلگت بلتستان کی متنازعہ حیثیت کے مطابق جدوجہد کا سلسلہ جاری رہے گا۔

شیر علی انجم
شیر علی انجم
شیرعلی انجم کا تعلق گلگت بلتستان کے بلتستان ریجن سے ہے اور گلگت بلتستان کے سیاسی،سماجی اور معاشرتی مسائل کے حوالے سے ایک زود نویس لکھاری ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *