• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کیا فوج کو وزیرستان, بلوچستان اور سوات سے نکل جانا چاہیے؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی

کیا فوج کو وزیرستان, بلوچستان اور سوات سے نکل جانا چاہیے؟۔۔۔غیور شاہ ترمذی

میرے جمہوریت پسند دوست کہتے ہیں کہ فوج کو اب قبائلی علاقوں سے نکل جانا چاہیے- اصولی جواب تو یہ ہے کہ جی ضرور, فوج کو یقیناً تمام شہری علاقوں سے نکل جانا چاہیے- مگر اس جواب سے پہلے ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا فوج کے نکل جانے کے بعد ان علاقوں میں بمشکل قائم ہونے والا امن باقی رہ سکے گا یا نہیں- سچی بات تو یہ ہے کہ جمہوریت کا ڈائی ہارڈ پیروکار اور پرستار ہونے کے باوجود بھی مجھے خوف ہے کہ جیسے ہی فوج سوات, بلوچستان اور قبائلی علاقوں سے باہر نکلی تو ایک دفعہ پھر یہ علاقے وہی منظر پیش کریں گے جو بیت اللہ محسود, حکیم اللہ محسود اور ملا فضل اللہ وغیرہ نے آج سے صرف کچھ سال پہلے ہی قائم کر رکھا تھا-

وزیرستان کیا پورے قبائلی علاقوں میں بیت اللہ محسود وغیرہ کا دور دورہ تھا اور انہیں سوات میں صوفی محمد اور اس کے داماد ملا ریڈیو (فضل اللہ) کی پوری حمایت حاصل تھی- بقول بیت اللہ محسود اور ملا فضل اللہ کے، “فوج کبھی بھی ان علاقوں میں نہیں آ سکتی”-  سارے علاقوں میں پاکستان بھر سے سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی جیسی کالعدم تنظیموں کے دہشت گرد اور مفرور ان علاقوں کے طالبان کی حمایت میں اکٹھے تھے- صاف لکھا جا سکتا ہے کہ سوات, وزیرستان اور دوسرے قبائلی علاقے ان    درندہ صفت  طالبان کے مضبوط مرکز بن چکے تھے۔

پھر ایک خطرناک دور شروع ہوا، شریعت کے نام پر طالبان نے مختلف علاقوں میں اپنے امیر بٹھا دیے ، سکولوں کو بند کر کے اسلحہ ساز کارخانوں میں تبدیل کر دیا گیا۔ تعلیم حاصل کرنا جرم کرنے کے برابر ٹھہرا- اسلام کا نام استعمال کر کے مخالفین کو ذبح کرنا معمول بن گیا تھا۔ دہشت گرد زبردستی لوگوں کی بیٹیوں سے نکاح کرتے– یاد رہے کہ طالبان کو رشتہ دینے سے انکار کرنے کی سزا موت تھی۔

طالبان کے خلاف جب نفرت بڑھی  تو اسے دبانے کے لئے ایک خوفناک طریقہ اپنایا گیا۔ دہشت گرد جسے چاہتے گولی مار کر لاش سڑک پر پھینک دیتے، بازاروں میں لٹکتی لاشیں اب معمول بن چکی تھیں۔ غضب کی بات یہ تھی کہ اب لاشوں کے ساتھ ایک چٹ بھی لکھی جاتی جس پر علاقے کے امیر کا حکم درج ہوتا کہ یہ لاش چار دن یا پانج دن بعد سڑک سے اٹھائی جائے۔ جو مقررہ دن سے پہلے لاش اٹھاتا, اگلے دن اس کی لاش بھی پڑی ہوتی۔

اس دور میں سوات کا گرین چوک لاشوں کے حوالے سے بہت مشہور ہوا، جسے لوگ بعد میں خونی چوک کہنے لگے۔ دہشت گردوں کی ایک مخصوص گاڑی ہوتی تھی جو جس کو ایک دفعہ اٹھا لیتی پھر اس کی لاش گرین چوک میں ہی لٹکتی ملتی۔ آپ ذر ا  ایک لمحے کے لئے تصور کیجیے  آپ سوات کے گرین چوک پر کھڑے ہیں اور آپ کے گھر کے کسی فرد کی لاش آپ کے سامنے لٹک رہی ہے اور لاش کے ساتھ چپکی چٹ پر لکھا ہے کہ اس کافر کی لاش کو پانچ دن تک ہاتھ تک نہ لگایا جائے- سوچ کر جھرجھری آ جاتی ہے کہ اس وقت کیسے وہاں کے لوگ اس درد سے گزرتے ہوں گے- وہ باپ, وہ بیٹے, وہ بھائی, وہ بہنیں اور وہ بیوہ عورتیں کتنی مجبور اور لاچار ہوتی ہوں گی جو اپنے پیارے کی چوک میں لٹکتی لاش دیکھ کر سکتے میں آتے ہوئے پھٹی آنکھوں سے دیکھتی ہوں گی مگر اسے اتارنے اور دفنانے کی جرأت نہیں کر سکتی ہوں گی- بلکہ ان لاشوں کو دیکھ کر رونے کی جرأت بھی تو نہیں کرتی ہوں گی- ذرا تصور کیجیے  کہ کتنا دردناک لمحہ ہوتا ہے جب آپ کا اپنا بے گناہ مارا گیا ہو اور  آپ خوف کے مارے اس کی لاش کو بھی نہیں گھر لے جا سکتے ہوں-

ذرا سوچیے  کہ یہ کیسی شریعت تھی جس میں لوگوں کی بیٹیوں کو گھروں سے اٹھا لانا جائز تھا- وہ کتنے مجبور والدین ہوتے ہوں گے جنہیں اپنی نابالغ بچیوں کو طالبان کے بڈھے اور عیاش کمانڈروں کے نکاح میں دینا پڑتا ہو گا- وہ کتنی بےبسی سے اپنی معصوم بچیوں کی ان زبردستی کی شادی کے نام پر لٹی عصمتوں کا تماشا  دیکھتے ہوں گے-

طالبان کی یہ دہشت گردی پورے پاکستان میں پھیل چکی تھی۔ مسجدوں, امام بارگاہوں, سرکاری عمارتوں پر دھماکے معمول تھے۔ خیبر پختون خوا  اور بلوچستان تو مکمل طور پر پاکستان کے ہاتھ سے نکل چکے تھے۔ پاکستان کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی دہشت گردی ملک کے وجود پر سوالیہ نشان کھڑا کر رہی تھی۔

پھر حالات بدلے- فوج کے بہادر سپاہیوں نے اپنے کچھ سابقہ جرنیلوں (جنرل ضیاء, جنرل حمید گل, جنرل اختر عبدالرحمن, جنرل عزیز, جنرل اسلم بیگ, جنرل مشرف وغیرہ) کے پیدا کیے  اور پالے ہوئے ان دہشت گردوں کے خلاف لڑنے کے لئے میدان میں آنے کا فیصلہ کیا۔ فوج نے اپنے پندرہ ہزار جوانوں کی قربانی دی۔ ہزاروں فوجی عمر بھر کے لئے معذور ہوئے۔ پاک فوج کے جوانوں کو اغواء کیا جاتا تھا۔ ان کی لائیو ویڈیو اس طرح بنائی جاتی کہ ایک جوان کو سب باندھے ہوئے جوانوں کے سامنے چھری سے اللہ اکبر کہہ کر ذبح کیا جاتا۔ وہ ذبح کیے  ہوئے  جانور کی طرح خراٹے مارتا۔ اس کا سر تن سے جدا کیا جاتا اور پھر ناچتے ہوئے  اس کے سر سے فٹ بال کھیلا جاتا۔ ذرا اپنے آپ کو ان جوانوں کی جگہ رکھ کر سوچیں- کیا ایسے میں ان کو بیوی بچوں کی یاد نہیں آئی ہو گی۔ وہ جنگ جسے جیتنا محض خواب تھا، فوج نے وہ جنگ اپنی جانیں قربان کر کے جیتی- یہ مگر وہ جنگ تھی جسے ان دہشت گردوں نے شروع کیا تھا جنہیں خود فوج کے سابق جرنیلوں نے پال پوس کر تزاویراتی گہرائیوں کے حصول کے لئے افغانستان کے  میدان میں اتارا تھا- یہ تزاویراتی سرمائے افغانستان میں تو گہرائیاں نہیں حاصل کر سکے مگر آج پورا پاکستان ان کے لئے میدان جنگ بنا ہوا ہے یا ایسا ہو سکنے کے شدید خطرے سے دوچار ہے-

اب بھی اگر ہماری مقتدرہ کو سمجھ نہیں آئی تو وہ جان لے کہ جب تک پاکستان بھر میں تمام کالعدم تنظیموں کے خلاف سخت ترین اور اصلی کریک ڈاؤن نہیں ہو گا تب تک ہم پاکستان کو لاحق اصلی خطرات سے نہیں نمٹ سکیں گے- افغانستان میں تزاویراتی  گہرائیوں کا حصول بھول جائیے, اب اپنے ملک میں دشمنوں کی تزاویراتی گہرائیوں کے حصول کو محدود کرنے کی کوشش کیجیے- اس کریک ڈاؤن سے پہلے تو میں کبھی بھی خود کو آمادہ نہیں کر پاتا کہ فوج کے وزیرستان, بلوچستان اور سوات سے نکل جانے کی حمایت کر سکوں- سوری جناب, اپنی ساری جمہوریت پسندی کے باوجود یہ میرے لئے فی الحال ممکن نہیں ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *