انصاف ، میرٹ کا قتل عام اور وطن عزیز

ہمارے ملک میں عوام کو اس نظام سے سب سے بڑا گلہ کیا ہے؟ کون سا شکوہ ایسا ہے جو ہر خاص و عام کی زبان پر ہے؟ یہی کہ ’’اجی اس ملک میں ٹیلنٹ کی کوئی قدر نہیں، میرٹ کو کوئی پوچھتا نہیں، اور سفارش کے بغیر تو کوئی کام ہو ہی نہیں سکتا‘‘۔ یہ راگ اس قدر تواتر سے الاپا جاتا ہے کہ اب اس ملک کا تقریباً ہر شہری اس غیر شعوری احساس کو ساتھ لئے پیدا ہوتا ہے کہ اس ملک میں سفارش اور رشوت کے بغیر کچھ ہو ہی نہیں سکتا! کیا واقعی صورتحال اتنی ہی خراب ہے جیسی نظر آتی ہے یا بیان کی جاتی ہے؟ کیا واقعی اس ملک میں کوئی شخص ترقی کر کے اپنی سماجی حیثیت میں اضافہ نہیں کرپاتا؟ کیا دنیا کے دیگر ممالک میں بس آپ کے ہاتھ میں موجود ڈگری دیکھ کر آپ کو کامیابی کے پروانے تھمادیئے جاتے ہیں کہ جاؤ بیٹااب عمر بھر عیاشی کرو۔ کیا امریکہ میں بیس بال، باسکٹ بال کھیلنے والا ہر بچہ براہ راست قومی ٹیم چانس کا حقدار بن جاتا ہے؟ کیا سوئٹزرلینڈ میں ہر ٹینس کھیلنے والا راجر فیڈر ر بن جاتا ہے؟
دنیا میں اسکینڈینیوین ممالک کے علاوہ شاید ہی کسی ملک کے سماجی نظام کو پرفیکٹ کہا جاسکے۔انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے مواصلاتی انقلاب کے بعد تو سات سمندر پار کے حالات سےآگہی حاصل کرنا کچھ دشوار نہیں رہا۔ فیس بک اور ٹوئیٹر پر وقت کے ضیاع سے ہٹ کر اگر جائزہ لیا جائے تو امریکہ میں ایک کثیر تعداد ایسے لوگوں کی ملے گی جو اپنے اس نظام سے نالاں نظر آئیں گے جس کو ہمارے یہاں مثالی قرار دیا جاتا ہے۔ وجہ کیا ہے؟ وجہ ہے تسلسل کے ساتھ بڑھتی ہوئی مسابقت ۔ یہ ایک ایسا عنصر ہے جو انسان سے اپنی صلاحیتوں میں پیہم اضافے کا متقاضی ہے۔ سو جو لوگ اس دوڑ میں اپنے اندر امتیازی خصوصیات پیدا کر لیتے ہیں وہ آگے نکل جاتے ہیں، جبکہ پیچھے رہ جانے والے میرٹ کی دھجیاں اڑنے کی دہائیاں دیتے رہ جاتے ہیں۔ ہمیشہ کی طرح میں سب اچھا ہونے کا دعویٰ نہیں کرتا، خامیاں یقیناً ہر جگہ موجود ہیں مگر ان کو اپنی ناکامیوں کا ایک حد تک ہی ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات میں ہر ذی روح کا رزق اور رزق میں اضافہ رکھا ہے، مگر اس کو کوشش سے مشروط کیا ہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ نے جہاں رزق دینے کا ذمہ اپنی ذات پر لیاہے وہیں قرآن پاک کی سورہ جمعہ کی آخری آیات میں زمین پر پھیل کر اس کا فضل ’’تلاش‘‘ کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔
ہم اپنی تمام تر مذہبیت کے باوجود معاش اور فکر معاش کے معاملے میں نہایت غیر مذہبی واقع ہوئے ہیں۔ کہنے کو تو ہر کوئی یہی کہتا ملے کہ اللہ کارساز ہے، مگر کسی ایک جگہ اگر حصول معاش میں ناکامی ہو تو اگلے ہی لمحے ’’میرٹ کے قتل عام‘‘ کو اس کا ذمہ دار ٹھہرانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتا۔ دوسرے کی کامیابی کو آسانی سےہضم نہ کرنا جبلی طور پر انسان کے مزاج کا حصہ ہے، اور شاید اسی لئے ہمارا دین ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ رزق کے معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں، ہمارا کام فقط اپنا حصہ تلاش کرنا ہے ۔ ایک جگہ سے نہیں ملا تو کہیں اور سے ضرور ملے گا، بشرطیکہ کوشش ترک نہ کی جائے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں جدید معاشیات کی واجبی سے بھی سوجھ بوجھ نہیں، اسی لئے ہمیں بڑھتی آبادی میں مسابقت سے پیدا ہونے والے چیلنجز کا نہ درست طور پر ادراک ہو پاتا ہے نہ ہی ان سے نمٹنے کے لیے کوئی حکمت عملی سمجھ آتی ہے۔ اکثر مڈل کلاس اور لوئر مڈل کلاس لوگوں کا حتمی مقصد سرکاری نوکری کا حصول ہوتا ہے، اور میرٹ کے اس مبینہ قتل عام کی سب سے زیادہ دہائی بھی ان لوگوں کی جانب سے دی جاتی ہے جو کبھی نہ کبھی کسی سرکاری نوکری کے حصول میں ناکام رہے ہوں۔ آخر ہمارے لوگ سرکاری نوکری کے اس قدر دیوانے ہیں کیوں؟
کرپشن کے مواقع ایک طرف رکھ کر بھی اگر دیکھا جائے تو سرکاری نوکری پیسے کمانے کا ایک آسان ترین دھندہ بن کر رہ گئی ہے۔ کیوں؟ کیونکہ ہمارے سرکاری محکمہ جات آج بھی 19ویں صدی میں جی رہے ہیں، جہاں پرفارمنس کلچر اب تک پروان نہیں چڑھ سکا ہے۔ ہرسال ایک مخصوص انکریمنٹ اور ایک مخصوص مدت کے بعد اگلے گریڈ میں ترقی کم و بیش یقینی ہوتی ہے جو کہ کارکردگی سے قطعاً مشروط نہیں۔ اسی لئے آپ اکثر اخباروں میں اس قسم کی خبریں پڑھتے ہیں کہ ’’فلانے محکمے میں جونیئر افسر کو بڑی پوسٹ پر تعینات کر دیا گیا، سنیئر افسران میں تشویش کی لہر دوڑ گئی‘‘، یا ’’پروموشن میں سینیارٹی کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ نے فیصلہ کالعدم قرار دے دیا‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ اس کا سیدھا سیدھا مطلب یہ ہے کہ فرض کریں پولیس کا ایک اے ایس پی، اکیڈمی سے فراغت کے بعد اپنی نوکری کے پہلے سال میں ہی اپنے علاقے میں جرائم کی سطح 50 فیصد کم کردیتا ہے، جبکہ اس سے ملحقہ تھانے کی حدود میں جرائم کی شرح میں اضافہ ہوجاتا ہے مگر وہاں کا تھانیدار سینئر ہے تو سالانہ ترقیوں کے وقت ترجیح اسے حاصل ہوگی۔
اگر جونیئر افسر کو آؤٹ آف ٹرن ترقی دے بھی دی گئی تو دیگر افسران عدالت پہنچ کر اسے کالعدم کروا دیں گے۔ مزید یہ کہ ایک بار سرکاری نوکری اگر ہاتھ لگ جائے تو گستاخی معاف کسی کا باپ بھی آپ کو خراب کارکردگی پر نوکری سے برخواست نہیں کروا سکتا ، کیونکہ ابھی تک ہمارے سرکاری اداروں میں کارکردگی پر مبنی اپریزل سسٹم رائج ہی نہیں ہو سکاہے، جو ملازمین کو سال کے آخر میں اپنی کارکردگی پر جوابدہ بنا سکے۔ نتیجتاً عوام کی ایک کثیر تعداد سرکاری ملازمت کی متلاشی رہتی ہے تاکہ اپنی سہل پسندی کی پردہ داری کرکے ہر ماہ ایک معقول رقم حاصل کرتی رہے۔ وگرنہ مقصود اگر اپنی ’’صلاحیتوں‘‘ کا بھرپور معاوضہ تلاش کرنا ہے تو پرائیویٹ سیکٹر میں اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بہتر مواقع دستیاب ہیں۔ مگر وہاں ایک دوسرا رونا رویا جاتا ہے کہ جاب سیکیورٹی نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ وہاں کیونکہ پیسہ کام کے عوض ملتا ہے اس لئے وہاں سلیکشن کے معیارات بھی سخت ہیں۔
پرائیویٹ سیکٹر میں جگہ بنانے کے لئے نہ صرف سخت محنت درکار ہوتی ہے بلکہ کچھ اضافی صلاحیتیں بھی چاہیئے ہوتی ہیں جنہیں عرف عام میں ’’سافٹ اسکلز‘‘ کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں میں انہیں کا سب سے زیادہ فقدان پایا جاتا ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر تشویشناک بات یہ ہے کہ ان کے حصول کی طرف نہ تو رجحان ہے نہ ہی ان کی اہمیت کا درست اندازہ ۔ اس کے علاوہ اپنی فیلڈ سے ہٹ کر دیگر شعبہ جات کی بنیادی معلومات بھی آج کل کی پروفیشنل دنیا میں آگے بڑھنے کے لیے نہایت ضروری ہیں مگر اس طرف بھی اچھے اچھوں کا دھیان نہیں جاتا۔ آخر میں جب انٹرویوز میں کوئی دوسرا کامیاب ہوجاتا ہے تو ہمیں ہمیشہ اس کے پیچھے سفارش، اقربا پروری، پیسہ اور میرٹ کا قتل عام نظر آنے لگتا ہے۔
بات ہو رہی تھی کہ کیا وطن عزیز میں انفرادی ترقی کے راستے بالکل مسدود ہوچکے ہیں؟ کم از کم میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پر دانشور بنے بیٹھے ہر شخص کو خود اپنے ماضی کا اپنے حال سے موازنہ کر کے دیکھنا چاہیئے۔ اگر آپ کی سماجی حیثیت میں کوئی بہتری نہیں آئی ہوئی تو آج آپ اپنے سمارٹ فون سے بیٹھے میرٹ کے قتل عام پر لیکچر نہیں دے رہے ہوتے ، بلکہ بندہ مزدور کی تلخی اوقات کی کڑواہٹ اپنے منہ میں محسوس کر رہے ہوتے۔ کیا آپ کے بچوں کا بچپن ان سے بہتر حالات میں نہیں گزر رہا جن میں آپ کا گزرا تھا؟ آپ اپنے بچپن تو کیا لڑکپن اور جوانی کے اوائل میں بھی سمارٹ فون ، لیپ ٹاپ جیسی نعمتوں کا تصور نہیں کرسکتے تھے جو آج آپ کے بچوں کو پیدائشی طور پر حاصل ہوتی ہیں۔ اس سے ایک درجہ نیچے آجائیں تو گھریلو ملازمین کو دیکھ لیں۔ 25-20 سال قبل ان لوگوں کے لئے تعلیم حاصل کرنے کا تصور تک محال تھا، آج کئی لوگوں کے بچے گلی محلے ہی کے سہی، اسکولوں میں تعلیم تو حاصل کر رہے ہیں۔ ایسا کس طرح ممکن ہوا؟ وجہ یہ ہے کہ ترقی کا زینہ چڑھنے کے لئے ہر نسل کا پچھلی نسل کی کاوشوں کو آگے بڑھانا کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ آپ کے والدین نے اپنا خون پسینا ایک کرکے آپ کو اپنی استطاعت سے بڑھ کر اچھی تعلیم دلوائی، اور اچھی تربیت فراہم کی تو اس کا صلہ آپ کے نسبتاً بہتر معیار زندگی کی صورت ملا۔ اب اگر آپ ان بنیادوں پر اپنی کاوشوں کی عمارت تعمیر کریں گے تو یقیناً کل آپ کے بچوں معیار زندگی آج سے بہتر ہوگا۔ یہ سائیکل اس وقت تک چلتا رہتا ہے جب تک کہ آنے والی نسلیں اگلوں کے کام کو بہتر بنائیں،یعنی تعلیم کے ساتھ تربیت پر برابر توجہ دیں۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب پیسے کی ذرا سی بھی فراوانی ہوتی ہے تو تعلیم تو اسکول کے سپرد رہ جاتی ہے، تربیت کا ذمہ کوئی نہیں اٹھاتا ۔ یقین کریں وطن عزیز میں ان گئے گزرے حالات میں بھی ترقی کے نہ صرف مواقع ہیں، بلکہ کئی لوگ اسی نظام میں میرٹ پر ترقی کر بھی رہے ہیں۔ اپنے ارد گرد ، تمام تعصبات سے بالاتر ہو کر دیکھیں! آپ کو اپنے حلقہ احباب میں ہی بظاہر معمولی پس منظر رکھنے والے ایسے کئی لوگ مل جائیں گے جو آج کامیاب اور خوشحال زندگی گزار رہے ہیں۔
میں اپنی ا ور اپنے کئی دوستوں اور جاننے والوں کی مثال دے سکتا ہوں جنہوں نے اللہ کے فضل و کرم سے بغیر کسی سفارش کے پروفیشنل دنیا میں اپنا مقام بنایا ہے۔ میرا ایک دوست تو سرکاری اسکول سے پڑھا ہوا ہے، اس کے باوجود اس نے کئی سال پاکستان کی سب سے بڑی ملٹی نیشنل کمپنی میں صرف اپنی قابلیت کے بل پر اچھے عہدے پر کام کیا۔ میرے اپنے بھائی نے بنا کسی سفارش انجینئرنگ کے بعد سرکاری نوکری محض میرٹ کی بنیاد پر حاصل کی اور وہاں اپنا لوہا منوایا اور4 سال کامیابی سے گزارنے کے بعد پرائیویٹ سیکٹر میں بھی کامیابی سے قدم جمائے۔ میں اپنی بات کروں تو آج اللہ کے فضل و کرم سے وہ کچھ حاصل ہے جس کا 15سال قبل سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ وجہ صرف یہ ہے کہ والدین نے اپنے محدود ترین وسائل میں بھی تعلیم و تربیت کا فریضہ بخوبی سرانجام دیا۔
انسان فطری طور پر اپنا کل اپنے آج سے بہتر بنانا چاہتا ہے، مگر اس کی تن آسانی ہے کہ جاتی نہیں۔ منفیت پر مبنی تبصروں پر دھیان دینے کے بجائے اپنے اردگرد پھیلی بے شمار کامیابی کی مثبت داستانوں سے سبق حاصل کریں اور خود کو موٹیویٹ کرنا سیکھیں۔ اپنا ایمان مضبوط رکھیں کہ اللہ نے رزق کا وعدہ کیا ہے جو مل کر رہے گا جب تک کہ کوشش کی جاتی رہے۔ ایک جگہ سے مایوسی ہوتی ہے تو سسٹم کو کوسنے کے بجائے کسی اور جگہ قسمت آزمائی کریں۔ بدلتے حالات میں اپنی پرفیشنل ڈیویلپمنٹ پر بھرپور توجہ دیں۔ اس مسابقتی ماحول میں دوسروں سے خود کو ممتاز کرنے کے لیے آپ میں کوئی نہ کوئی ’’ایکس فیکٹر ‘‘ ہونا ضروری ہے۔ جدید معاشیات سے آگہی حاصل کریں اور مسابقت کو سمجھیں۔
اگر اچھی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں مل سکا تو کسی ہنر میں مہارت حاصل کریں۔ اپنے رجحان کو دیکھتے ہوئے اپنے کیرئیر کی سمت کا تعین کریں۔ جاب مارکیٹ کے ٹرینڈز کو فالو کریں، کون سی فیلڈ سیچوریٹ ہو رہی ہے اور کس میں ابھی مواقع ہیں۔ کرکٹ ہی کی مثال لے لیں۔ یہ ایسی فیلڈ ہے جہاں اگر 100 فیصد میرٹ نافذ ہو تب بھی یہ ہمیشہ سیچوریٹڈ ہی رہے گی کیونکہ کچھ بھی ہو، آخر میں پاکستانی ٹیم میں تو 11 آسامیاں ہی ہیں۔ مطلب یہ کہ یہاں سپلائی ڈیمانڈ سے زیادہ ہے اس لئے ہمیشہ کمپٹیشن زیادہ ہوگا اور کامیابی اسی کو ملے گی جو ٹیلنٹڈ سے بھی زیادہ ٹیلنٹڈ ہوگا۔ اس فیلڈ میں قسمت آزمائی میں رسک زیادہ ہے سو بہت سوچ سمجھ کر قسمت آزمائی کا فیصلہ کرنا چاہیئے۔ یہی اصول ہر فیلڈ پر لاگو ہوتا ہے۔ ایسے میں ناکامی کی صورت میں میرٹ کے قتل عام کی دہائیاں دینے کے بجائے کامیابی کے حصول کے لئے کوئی دوسرا لائحہ عمل تشکیل دینا چاہیئے۔ بقول آتشؔ
سفر ہے شرط، مسافر نواز بہتیرے
ہزار ہا شجر سایہ دار راہ میں ہیں

محمد احسن سمیع
محمد احسن سمیع
جانتے تو ہو تم احسنؔ کو، مگر۔۔۔۔یارو راحلؔ کی کہانی اور ہے! https://facebook.com/dayaarerahil

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *