جہاں عشق، وہیں کربلا

جان تم پر نثار کرتا ہوں

میں نہیں جانتا دعا کیا ہے

دعا کی فضیلت سے اہلِ علم بخوبی واقف ہیں. یہ نہ صرف عبادات کا جزو ہے بلکہ اسے عبادت کا مغز قرار دیا گیا ہے. دعا مانگنا ثواب ہے دعا دینا ثواب ہے. غرضکہ یہ ایسا پسندیدہ عمل ہے کہ “آم کے آم گٹھلیوں کے دام” کا مصداق ہے. انسان جب کسی سے خوش ہو یا بہت زیادہ خوش ہو تو شکریہ کے طور پر اس کے حق میں دعا کردیتا ہے. یہ بہرحال ایک خوبصورت عمل ہے. لیکن غالب کی نظر سے دیکھا جائے تو صرف قولی عمل ہے. کہ انسان اپنے آپ کو کسی معاملے میں بے بس پا کر اللہ سے دعا کردیتا ہے کہ “اللہ تمہارا بھلا کرے یا جزائے خیر دے” وغیرہ وغیرہ…

ایک عام انسان کی نظر میں یہ بھی ایک بہترین عمل ہے. شریعت کی رو سے بھی یہ ایک بہترین عمل ہے. لیکن غالب کی نظر میں یہ کم ہمتی کا اظہار ہے. بلند پایہ لوگوں کے معیار اور نگاہ بھی بلند ہوتی ہے. ان کے عمل بھی ان کے مقام کے شایانِ شان ہوتے ہیں. اس بات کو سمجھنے کیلئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سیرت سے مدد لینی پڑتی ہے. انہیں قربانی کا ڈائریکٹ حکم نہیں دیا گیا تھا. انہوں نے صرف خواب میں خود کو قربانی کرتے دیکھا. اور اپنی عزیز ترین چیز قربان کرنے کو تیار ہوگئے.

یہ بات آپ سب نے لاکھوں بار پڑھ اور سن رکھی ہے. اپنا کمسن بیٹا قربان کرنے پرتیار ہوجانا بھی آپ کو بہت بڑی بات لگتی ہوگی. لیکن آپ “عزیز ترین چیز کی قربانی” والی بات کی اہمیت تب تک محسوس نہیں کر سکتے جب تک آپ یہ نہیں جانتے کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام صرف اپنی والدہ کی اکلوتی نرینہ اولاد ہی نہ تھے. بلکہ حضرت ابراہیم کی بڑھاپے کی اولاد تھے. اندازہ کیجیے کہ کسی کو عمر کی نوے دہائیاں گزارنے اور دن رات دعائیں مانگنے پہ اللہ تعالیٰ ایک بیٹے سے نوازے, جس سے اس کی نسل آگے چلنے والی ہو. اور وہ فقط ایک اشارے (خواب) پر اسے دلی رضا کے ساتھ قربان کرنے پر نہ صرف تیار ہو جائے بلکہ اس پہ عمل بھی کر گزرے.

عشق و عاشقی کی تاریخ پڑھ لیں. عشق کے جن قصوں میں محبوب عالی مرتبہ اور عالی نسب ہو ان قصوں میں عاشق کی شیفتگی بھی انتہا کو پہنچی ہوتی ہے. یہ شیفتگی ہی عشق کا وہ عنصر ہے جو عاشق کو نفع نقصان , حساب کتاب کے جھمیلوں سے آزاد کردیتی ہے. عشق کی ہی کیا بات صرف دوستی ہی کی مثال لے لیں کہ آپ جب بھی اپنے کسی عالی مرتبہ یا عالی نسب دوست کو تحفہ دیں گے تو اس کے مرتبے کے مطابق (اپنی حیثیت میں رہتے ہوئے) کسی بہترین تحفے کا انتخاب کریں گے, یا صرف اتنا ہی نوٹ ہی کر لیں کہ خاندانی اور وضع دار لوگ کسی کے گھر جائیں تو خالی ہاتھ جانا ناک کٹنے کے برابر سمجھتے ہیں. یعنی جتنا کسی کو اپنی خاندانیت یا وضع داری کا خیال ہوگا. جتنا اپنی دوستی کی اہمیت یا جتنا اپنے محبوب کی اہمیت کا خیال ہوگا وہ اس سے اسی کے شایانِ شان سلوک کرنے کا دھیان رکھے گا.

ماضی میں دو بھائیوں کے درمیان تنازع ہوا. قابیل کو بھی اقلیما پسند ہے ہابیل بھی اسی کا دعویدار ہے. ثالثی کیلئے اللہ کی عدالت میں معاملہ پہنچا. اللہ نے فرمایا کہ دونوں خدا کے حضور کچھ قربانی پیش کریں. جس کی قربانی قبول ہو گئی اقلیما اس کی ہوگی. دونوں بھائی نبی زادے تھے اور اچھی طرح جانتے تھے کہ یہ سب اللہ کا ہی دیا ہوا ہے پس اللہ کو اپنے ہی دئیے ہوئے میں سے تھوڑی بہت قربانی کی کوئی ذاتی ضرورت نہیں. یہ بس ایک امتحان ہے. جس کی قربانی قبول ہوئی اک آگ آکر اسے جلا دے گی.

قابیل نے سوچا ہوگا کہ قبول ہوئی تو جل ہی جائے گی. پس وہ اپنے کھیتوں کی پیداوار میں سے کچھ فالتو سی اجناس لے آیا.

ہابیل سچا تھا. اسےبھی معلوم تھا کہ اللہ کے پاس یا استعمال میں تو کچھ نہیں جانا. مگر اس کا اخلاص تھا کہ اللہ کے حضور پیش کرنے کیلئے میری قربانی کم ازکم انسانی معیار کے مطابق تو اعلیٰ درجے کی ہو. پس اسنے اپنے گلے کی سب سے خوبصورت اور ہٹی کٹی بھیڑ/ بکری منتخب کرکے ذبح کی اور گوشت کا سب سے اچھا حصہ قربانی کیلئے پیش کیا.

تاریخی روایات گواہ ہیں کہ قربانی ہابیل کی ہی قبول ہوئی.

عرض کیا تھا محبوب یا مقصد جس قدر عالی ہو عاشقوں کی شیفتگی بھی اسی حساب سے ناقابلِ تفہیم ہوتی ہے.

اسی لیے ہر بات میں اپنا نفع نقصان دیکھنے والے اس بات کو تیرہ سو سال بعد بھی نہیں سمجھ پاتے کہ کوئی کوفیوں کے خطوط پر کیسے وطن چھوڑ کر دین کے نام پر جان دینے چل پڑا. یہ قابیلی سمجھ ہی نہیں سکتے کہ جس کے نانا تمام عالموں کیلئے رحمت کا وسیلہ ہوں. اور نانا کو نواسہ اتنا پیارا ہو کہ فرمائیں “الحسینُ مِنی و انا من الحسین” (حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں) جس کے والد کو “من کُنتُ مولا فعلی مولا” کا سرٹیفیکیٹ ملا ہو. جس کی مطہرہ والدہ ماجدہ کے سر خواتینِ جنت کی سرداری کا تاج ہو, اور خود جس کے سر پر جوانانِ جنت کی سرداری کا تاج رکھا ہو. وہ بغیر کسی لالچ کے صرف نانا کے دین کے نام پر جان دینے آن پہنچا. یہ جس قدر بلند مقصد و عالی قربانی تھی اسے وہی لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو کم از کم خاندانی ہوں.

بھلے ہی غالب نے یہ شعر سیدالشہدا کو سوچ کر نہ لکھا ہوگا. لیکن اس شعر میں جس عالی مقصدی اور عالی شیفتگی کا اظہار ہے اس کی حقیقی مثال صرف سیدالشہدا ہی ہیں.

فرض کیجیے کہ موجودہ زمانے کے یہ تمام “دین کے ٹھیکیدار” اس وقت موجود ہوتے. اور کوفی ان سارے ٹھیکیداروں کق خط لکھ لکھ کر بلارہے ہوتے کہ آؤ علمِ انبیاء اور شریعت کے وارثو دین بچاؤ تو یہ کیا کرتے.؟؟

کچھ وہیں مصلہ بچھا کر بیٹھ جاتے اور کہتے ہمارے بس میں دعا کرنا ہے وہ ہم کر رہے ہیں. نیز دعا کی فضیلت پر لمبے چوڑے خطبے بھی دیتے رہتے. کچھ فوراً حکومت و اہلِ حکومت سے لاتعلقی کا اعلان کرکے اپنے تئیں ذمہ داری سے بری ہوجاتے.

کچھ مارے باندھے زیادہ زیادہ سے فتویٰ جاری کردیتے. اور کچھ “ذہین” علماء چندے کی مہم چلا کر اور غریبوں کی اولاد کو جہاد پر اکساتے اور حوروں کی منظر کشی کر دین بچانے کی کوشش کرتے. اور باقی ماندہ کا حال قارئین مجھ سے بھی بہتر جانتے ہیں.

لیکن تاریخ جانتی ہے کہ کوئی ایسا عالی نسب اور عالی مقصد عالی شیفتہ بھی تھا جس نے دعا کی بجائے جان تک لڑا دی.

ایک لطیفہ یہ بھی ہے کہ برہان وانی کی شہادت کو تحریکِ آزادی زندہ کرنے کا باعث کہنے والے پوچھ رہے ہوتے ہیں کہ قتلِ حسین کس طرح مرگِ یزید ہے؟ اسلام کیسے ہر کربلا کے بعد زندہ ہوتا ہے.؟ یہ گفتار کے غازی کیا جانیں کہ مقصد کی راہ میں جان دینا کیا ہے. جب وہ یہ سادہ سی بات نہیں سمجھ پاتے تو وہ غالب کا یہ شعر اور جوگی کی تشریح کیسے سمجھیں گے. یہ صرف اہل دل اور میرے جیسے سرپھرے ہی سمجھ سکتے ہیں.

جہاں عشق ہو وہیں کربلا

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *