گردش افلاک و نفاق انجم ۔۔۔۔ عائشہ اذان

آپ نے بہت سے لوگوں کو پریشانی میں یہ جملہ ادا کرتے سنا ہوگا، “میرے ستارے گردش میں ہیں آج کل۔” کیا یہ جملہ محض ایک محاورے کے طور پر بولا جاتا ہے یا واقعی ستاروں کا ہماری زندگی میں کوئ عمل دخل ہے؟ علم نجوم یا ستاروں کا علم ۔۔۔ اس پر بہت سے  مختلف نقطہ ہائے نظر ہیں۔ کچھ لوگوں کے خیال میں اس کے بارے میں بات کرنا بھی کفر ہے   تاہم اس “کفر” کا ذکر تاریخ اسلام میں بھی موجود ہے۔ اب یہ آپ پر منحصر ہے کہ آپ اس پر یقین کریں یا نہ کریں، بہرحال یہ ایک علم ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے۔ غیب کا علم بلا شبہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہی کو ہے، کوئی شخص اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن انسانی علم ، فکر اور سائنس کی بنیاد پر کیے جانے والے تجزیے ، اندازے اور پیش گوئیاں اگرچہ حتمی اور یقینی نہیں ہوتیں لیکن انسانی دلچسپی کے حوالے سے بہرحال اپنی اہمیت رکھتی ہیں۔

کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی
ان کا سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے
کب تک رہے محکومی انجم میں مری خاک
یا میں نہیں ، یا گردش افلاک نہیں ہے
علم فلکیات پر جہاں آپ کو بہت سی کتابیں پڑھنے کو ملتی ہیں، وہیں آن لائن کافی ایسٹرالوجر بھی موجود ہیں جو آپ کے ذائچے کی مدد سے آپ کے آنے والے کل کے بارے میں پیشین گوئیاں کرتے ہیں۔ آپ کو ان پریقین نہ بھی ہو تو آپ اس پر ایک نظر ڈالنا چاہتے ہیں، فقط یہ معلوم کرنےکے لئے کہ اس علم میں کتنی صداقت ہے- پچھلے دنوں ناسا کی طرف سے ایک خبر دیکھنے کو ملی جس میں سورج کی بدلتی گردش کے پیش نظر ستاروں کی گردش بھی تبدیل ہو گئ ہے اور ہمارے پیدائش کے ستارے بھی بدل دئیے گئے ہیں یعنی  اگر پہلے آپ کا ستارہ سنبلہ تھا تو اب آپ ستارہ اسد میں شامل ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ آپ کی پیدائش کس تاریخ کو ہوئ آپ اپنا نام کس طریقے سے لکھتے ہیں؟ یہ اور ان جیسے تمام سوالات ماہرین علوم نجوم بھی زائچہ بنانے سے قبل آپ سے ضرور پوچھتے ہیں۔

علمِ نجوم کی بُنیاد جن قوانین پر رکھی گئی ہے ان کے مطابق چونکہ تمام بُرج سورج کے راستے میں ہیں، اور سورج کی چال تمام ستاروں سے مختلف ہے تو سورج کا گُزر ان بُروج سے ہوتا ہے۔ لہٰذا تقریباً ایک ایک مہینے تک سورج ہر برج میں رہتا ہے۔ ایک سے نکلتا ہے تو دوسرے میں داخل ہو جاتا ہے۔ یہ دورانیہ ہر بُرج کے ساتھ لکھا ہوا ملتا ہے، جس سے اس بات کا تعین کیا جاتا ہے کہ کس دورانیہ میں پیدا ہونے والا بچہ کس بُرج سے تعلق رکھے گا۔ جیسے ہم نے جب پیدا ہونے کی جسارت کی تو سورج، حوت کے علاقے میں پایا جاتا تھا۔

سورج، چاند اور مُختلف سیاروں کو مشاہدوں کے بعد الگ الگ خواص دے دیئے گئے ہیں۔ جیسے کوئی سیارہ نحس اکبر کہلایا تو کوئی نحس اصغر۔ چاند اور مختلف سیاروں کا راستہ بھی چونکہ وہی ہے سو وہ بھی ان بروج میں سے گُزرتے رہتے ہیں اور اپنی گردش کے حساب سے مُختلف دورانیوں تک ان میں رہتے ہیں۔ اس حساب سے کہ کونسا ستارہ اب کہاں ہے اور کس برج میں کونسا سیارہ یا چاند یا سورج  (زبردستی) گھُسا ہوا ہے، یہ سب جان کر پیشن گوئی کرنے کے لیے یہ جاننا بھی ضروری ہوتا ہے کہ کس سن میں کس دن کونسا ستارہ کہاں ہوگا۔ اب یہ کوئی آسان کام تو ہے نہیں۔ سو اس کے لیئے جنتریاں اور زائچے بنائے گئے جو دراصل عام سے ریاضیاتی فارمولے ہیں۔

یہ ایک ایسا علم ہے جو بہت وسیع بھی ہے اور قدیم بھی۔ اس کی موجودگی سے انکار کرنا ایسے ہی ہے جیسے آپ انگریزی کو نہ پڑھنا چاہ رہے ہوں اور پھر بھی اس کو سن کر آپ اس کے زیر اثر آ جائیں۔ ستاروں کی گردش ہماری زندگیوں پہ اثرانداز ہوتی ہے یا نہیں، اس  کا فیصلہ خود آپ سے بہتر کوئ نہیں کر سکتا لیکن محض اس بات کو سرے سے جھٹلا دینا اس علم کے ساتھ سراسر نا انصافی ہوگی۔ اس علم پہ اعتبار ہو یا نہ ہو، میں ہمیشہ سے اس پرسرار گردش کے بارے میں سوچتی ضرور ہوں اور جاننا چاہتی ہوں کہ ستارے گردش میں ہوتے ہیں یا انسان؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گردش افلاک و نفاق انجم ۔۔۔۔ عائشہ اذان

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *