روپیہ ہے بھائی، ایک روپیہ

وہ ایک بھکارن تھی، ہوش وحواس سے بیگانہ، ایک پاگل بھکارن۔ علاقے کے لوگ اسے ‘روپے والی’ کے نام سے پکارتے تھے۔ وہ ہمارے علاقے کا ایسا کردار تھی جس کا ہماری زندگیوں پر کوئی اثر تو نہیں تھا لیکن پھر بھی اس کا تذکرہ چھوٹوں اور بڑوں کی زبانوں سے اکثر سننے کو ملتا رہتا۔1993 میں جب ہم اس علاقے میں شفٹ ہوئے تو میں صرف پانچ برس کا تھا۔ وہ تقریبا ً ہر روز ہی سکول سے آتے جاتے یا مارکیٹ اور بازار میں چلتے پھرتے دکھائی دیتی ۔ اگر کبھی اس پر نگاہ نہ پڑتی تو ایک مانوس سی آواز آتی جو ہمیں   احساس دلاتی کہ وہ  ہمارے اردگرد   موجود ہے ، وہ آواز تھی ”روپیہ ہے بھائی، ایک روپیہ”۔ میں نے غالباً  اسے پہلی دفعہ مارکیٹ میں دیکھا تھا، میں اسے دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا اور اپنی والدہ کے ساتھ لگ کے چلنے لگا، وہ ‘ روپیہ ہے بھائی، ایک روپیہ’ کی گردان دہراتی خراماں خراماں چلتی کافی آگے چلی گئی اور میں گردن گھما گھما کے بار بار اسے دیکھتا رہا۔

پھر تو ایسا روز ہونے لگا، وہ ہر روز کہیں نہ کہیں دکھائی دیتی اور اسی طرح ‘روپیہ ہے بھائی، ایک روپیہ’ بولتی دہراتی گزر جاتی۔ اگر کہیں کھڑی ہوتی تو بھی مسلسل ورد کی طرح یہی دہراتی رہتی۔ کوئی روپیہ دے دیتا تو ٹھیک ورنہ کسی کے پیچھے پڑ کے اسے مانگتے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ شروع شروع میں میں اسے دیکھ کے خوفزدہ ہوتا لیکن پھر آہستہ آہستہ خوف دور ہوتا گیا اور پھر اسے دیکھ کر کبھی دائیں بائیں نہیں ہوا بلکہ اعتماد کے ساتھ اس کے پاس سے گزر جاتا اور کبھی کبھی ایک روپیہ بھی اسے دے دیتا، ان دنوں ابھی ایک روپے کے نوٹ چلا کرتے تھے۔وہ عام بھکارنوں سے مختلف تھی، اور عام پاگلوں سے بھی۔

بازاروں میں چلتے پاگلوں کی طرح وہ کسی کو بھی اپنی حرکتوں سے خوفزدہ نہ کرتی اور نہ ہی اور بھکاریوں کی طرح پیسے لینے کے لیے ترلے منتیں کرتی۔ اس کے مانگنے میں ایک عجیب بے نیازی ہوتی۔ اس کو اگر کوئی پانچ دس روپے، جو آج کے سو پچاس کے برابر تو ہوں گے، پکڑاتے تو وہ ان کے کہے بغیر بھی ایک روپیہ رکھ کے باقی پیسے واپس کر دیتی۔ کوئی اگر ایسا کہتا بھی کہ بی بی رکھ لو تب بھی وہ ایک روپے سے زیادہ نہ رکھتی اور بقایا پیسے واپس کر دیتی۔ یوں محسوس ہوتا تھا کہ وہ کسی کا احسان نہیں لینا چاہتی۔۔

اس کی صرف یہی باتیں اسے عام پاگلوں اور بھکاریوں سے مختلف نہ کرتی تھی بلکہ اس کا حلیہ بھی اس کو دوسروں سے الگ کرتا تھا۔ شروع میں تو کندھوں تک کٹے ہوئے بال کسی حد تک سلیقے سے ترتیب میں ہوتے، دوپٹہ بھی ایک کندھے پر ہوتا اور سامنے سے دوسری طرف سلیقے سے لٹکتا ہوا نیچے تک جاتا، سردی کے موسم میں گرم شال سلیقے سے لپیٹی ہوتی، ایک پرس بھی اس کے ہاتھ میں یا کندھے پر ضرور ہوتا جس میں وہ پیسے رکھتی اور زائد پیسے ملنے پر اس پرس میں سے پیسے نکال کر گن کر واپس کر دیتی۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے بال گرد سے اٹتے اٹتے جڑ گئے اور عجیب رسیاں سی بن گئے۔ میل کی موٹی موٹی تہیں اس کے ہاتھوں اور پاؤں پر جمتی گئیں جو طویل عرصہ تک اس کے نہ نہانے کی چغلی کھاتیں لیکن اس سب کے بعد بھی اس کے حلیے اور سٹائل میں تبدیلی نہ آئی۔ وقت کا پہیہ گھومنے کے ساتھ مہنگائی بڑھتی گئی۔ سبزی، پھل، گوشت اور دالوں سے لے کر کپڑوں اور جوتوں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگیں لیکن وہ ‘روپے والی’ بڑی ہی مستقل مزاج بھکارن تھی، اس کا ایک روپیہ اپنی جگہ قائم رہا اور مہنگائی کے باوجود بھی وہ ایک روپیہ ہی مانگتی البتہ اس کے ساتھ کے بھکاری اور بھکارنیں دس روپے پکڑانے پر بھی اب نہیں پکڑتے تھے۔

‘روپے والی’ کے ساتھ کئی کہانیاں بھی سفر کرتی رہیں۔ کوئی کہتا کہ اس کا شوہر کرنل تھا، بھائی ڈاکٹر تھا جو قتل ہو گیا اور بھائی کے قتل کے صدمے نے اس کے دماغ پہ گہرا اثر کیا اور وہ پاگل ہو گئی جس پر اس کے شوہر نے اسے گھر سے نکال دیا۔ کوئی کہتا کہ وہ خود ایک ڈاکٹر تھی، اس کے خاوند نے  اسے طلاق دے دی اور وہ پاگل ہو گئی اور سڑکوں کی خاک چھاننے پر مجبور ہو گئی تو کوئی دور کی کوڑی لاتا اور کہتا کہ یہ پاگل واگل نہیں ہے بلکہ دشمن کی کوئی جاسوس ہے (میری رہائش حساس علاقے میں ہے) اور اسے کینٹ کے علاقے میں جاسوسی کے لیے بھیجا گیا ہے، اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لیے ساتھ یہ بھی کہتے کہ دیکھتے نہیں اس کا بنک اکاؤنٹ بھی ہے اور وہ جو پیسے مانگ کر اکٹھے کرتی ہے وہ اپنے اکاؤنٹ میں جا کے جمع کرواتی ہے، اب بھلا کسی پاگل کا اکاؤنٹ بھی ہو سکتا ہے!

غرض جتنے منہ اتنی باتیں۔۔۔ البتہ ایک بات جو ہر کہانی میں مشترک تھی وہ اس خاتون کا کسی نوبل بیک گراؤنڈ سے تعلق تھا۔ اس کا حلیہ اور سلیقہ بھی اس کے پڑھے لکھے ہونے اور خوشحال ماضی کا پتہ دیتا تھا۔ کئی بار وہ کچھ عرصے کے لیے  غائب بھی ہو جاتی اور پھر اچانک کسی دن کسی مارکیٹ یا بس سٹاپ پر ایک بار پھر ‘روپیہ ہے بھائی’ کی آواز کے ساتھ   چلتی پھرتی نظر آنے لگتی۔
پچھلے کافی لمبے عرصے سے وہ منظر سے غائب تھی اور اس کی لمبی غیر موجودگی نے اس کی یاد بھی محو کر دی تھی کہ چند روز قبل اچانک فیس بک پر ایک دوست کی پوسٹ دیکھی جس میں اس مشہور ‘روپے والی’ کی وفات اور جنازے کا اعلان درج تھا۔ اس پوسٹ کو دیکھ کر یہ ساری یادیں ایک بار پھر ذہن میں تازہ ہو گئیں۔ ویسے تو وہ ہوش وحواس سے بیگانہ تھی اور ہوش وحواس سے بیگانہ شخص شرعی احکامات اور فرائض سے مبرا ہوتا ہے، پھر بھی وہ پیدائشی مجنون تو نہیں تھی۔ عجیب بے نیاز سی بھکارن تھی، خدا اس کی مغفرت کرے۔ (آمین)

ہارون الرشید
ہارون الرشید
میں جو محسوس کرتا ہوں، وہی تحریر کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *