ہوئے تم دوست جس کے۔۔ اسماء مغل

ہمارے ہاں لڑکے کے جوان ہونے پرا یک ماں سب سے زیادہ جس بات کے لیے اُتاولی ہوئی جاتی ہے،وہ ہے ساس بننے کی کوشش۔۔۔اب ہوتا کچھ یوں ہے کہ دن رات لگا کر،گلی گلی خاک چھان کر،پہلے سے ہی گِھسے ہوئے جوتے دَر دَر گِھسا کر ایک گوہرِ نایاب دریافت کیا جاتا ہے۔یہ الگ بات کہ بیٹا لڑکی کے پاؤں کے ناخن جیسا بھی نہیں ہوتا۔
خیر چٹ منگنی پٹ بیاہ کے بعد چند روز تو دلہن بیگم کے خوب ناز نخرے اٹھائے جاتے ہیں،لیکن پھر آہستہ آہستہ ساسو ماں کو بہو بیگم کے کاموں میں کیڑے نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں،اور کیڑے بھی وہ کہ جنہیں مارے بِنا کوئی چارہ نہیں۔
اب ہمارے ہاں جو ایک نظام چلتا ہے (اگرچہ اب حالات اس سے بالکل اُلٹ ہیں)کہ اپنی ہی پسند سے لائی گئی بہو سے جب طبعیت میل نہ کھائے تو پھر گھریلو سیاست کی بساط پر اپنی مرضی کی چال چلتے ہوئے بہو کو منظر سے ہٹا کر ایک نیا روبوٹ ا پنے لیے پسند کرلیا جاتا ہے۔
بہو کے پاس البتہ ایسا آپشن استعمال کرنے کا موقع کم ہی ہاتھ آتاہے،کہ گہری ناپسندیدگی کے باوجود ساس صاحبہ کی خدمت گزاری میں کوئی کمی نہیں آنے دی جاتی۔

کچھ ایسا ہی حال ہماری سیاست کا ہے،کہ جب سے عمران خان صاحب وزیراعظم  بنے ہیں،توکسی نا کسی بہو،میرا مطلب ہے کسی نا کسی وزیر مشیر کی شامت آئی ہی رہتی ہے۔
عموماً مصلحت پسند ساسیں بہوؤں کے عیبوں پر پردہ ڈال کر انہیں شوہروں کے عتاب سے بچاتی ہیں،لیکن یہاں جہانگیر ترین ایک ایسی بہو بن کر سامنے آئے جس نے ساس کے ہر عیب اور کوتاہی پر ماں کی طرح پردہ ڈالا۔۔پھر وہ ن لیگ کیخلاف عدالتوں میں فائلوں کا پیٹ بھرنا ہو،کون “ناآسودہ “رہے گا،اور کون “فارغ “ہوگا،اس بات کا فیصلہ یا ازدواجی زندگی بارے مشورے۔۔ترین،عمران خان کے ہاتھ کا چھالہ بنے رہے،لیکن درد ہو یا نہ ہو،چھالے کو ہاتھ پر کب تک سجایا جاسکتا ہے؟سو جہانگیر ترین کو بھی تحریک ِانصاف کے بلکہ دوستی کے عہدے سے ہی برطرف کردیاگیا۔

اس کے بعد باری آئی میدانِ سیاست کی ایسی ہر دلعزیز شخصیت کی،جو پارٹی پارٹی رُسوا ہونے  کے بعد تحریک انصاف میں شامل ہوئیں،لیکن انتخاب کی چھلنی میں سے اُنہیں ہی چھان دیا گیا۔
یوں تو عاشقوں کے جنازے ہم نے دھوم سے نکلتے ہی دیکھے ہیں،لیکن اس بار کچھ زیادہ ہی ہوگیا کہ اس عاشقی میں عزتِ فردوس بھی گئی۔
اور اب محترمہ کی جگہ ایک فرشتہ تعینات کردیا گیا ہے،کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جو بَدی کے فرشتے کا بھی اتنا ہی احترام کرتے ہیں،لیکن انہیں نیکی کا فرشتہ کہنا ہماری مجبوری ٹھہری کہ مبادا داعی ء اجل کا بلاوا ہی نہ آن پہنچے۔۔

اب مولانا کی ہی مثال لیجیے کہ حاکمِ وقت کے لیے صبح شام اتنی دعائیں کیں کہ اپنی ہی عزت کا ختم پڑھوا بیٹھے۔حالانکہ مولانا وہ شخصیت ہیں کہ جن سے نہ کسی دوسرے مسلک والے کو اختلاف رہا نہ دوسرے مذہب والے کو،آپ کی دعاؤں میں ہمیشہ “اُمت”کی گونج سنائی دی،نواز دور میں بھی لوگوں نے آپ کو ویسے ہی سر آنکھوں پر بٹھائے رکھا،لیکن کیا ہوا کہ اب دورِ عمرانی میں “محمل جو گیا،عزت بھی گئی”۔

میں نے حساب لگایا ہے کہ ہمارے خان صاحب وہ عظیم ہستی ہیں کہ جسے بھی خود سے ذرا قریب کرتے ہیں،اُس کے ستارے گردش میں آجاتے ہیں،بس ایک شیرو ہی ہے جس پر اب تک کسی نحوست کا اثر نہیں ہوپایا ہے،جو اِن سے جُڑتا ہے اِن کے زیادہ زیرِ عتاب آجاتا ہے،حیرانی تو اس بات پر ہے کہ فرشتوں کو ان سے کیونکر اتنی اُنسیت ہے،کہ خود بھی ان کے دائرہ نحوست میں کود پڑے ہیں۔میرے منہ میں خاک،لیکن برسوں سے کمائی عزت نیلام ہونے کا وقت ہوا چاہتا  ہے کیا؟۔
ہمارا ایک مشورہ ہے (ویسے تو کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ)کہ شاہ سے دوری ہی بھلی،دوستی میں ظرف بڑا رکھنا پڑے گا اور دشمنی میں دل۔۔سو، فاصلہ رکھیے،ورنہ بے عزتی ہوجائے گی۔

خان صاحب کے ساتھ چلنے والوں کے لیے۔۔
تاعمر وہی کارِ زیاں عشق رہا یاد
حالانکہ یہ معلوم تھا اُجرت نہ ملے گی!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *