• صفحہ اول
  • /
  • مشق سخن
  • /
  • صیام میں پیدا ہونے والے برداشت کے مادے سے سال بھر مزہ لیں۔۔۔۔محمد ہاشم چوہدری

صیام میں پیدا ہونے والے برداشت کے مادے سے سال بھر مزہ لیں۔۔۔۔محمد ہاشم چوہدری

صیام جیسے مشقتی دور میں جو برداشت کا مادہ پیدا ہوتا ہے وہ حاصل صیام ہے ،یہ پیدا کیسے ہوتا ہے یہ ایک درد بھری داستان محبت ہے، جو چیز محبت کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے وہ مزید محبت پر اکساتی ہے

میاں بیوی کا چولی دامن کا ساتھ ہوتا ہے اور دونوں کی زندگی بھر کوشش ہوتی ہے چولی اور دامن پہ داغ نہ لگے اور اس کےلئے وہ خوب محنت کرتے ہیں صیام میں وہ محتاط رہتے ہیں کہ محنت ضائع نہ ہو۔۔۔

سحر و افطار میں جس طرح انتظار کی گھڑیاں گزرتی ہیں خدا جانتا ہے یا میاں بیوی۔۔ خدا خدا کر کے  ایک وقت کا کفر ٹوٹتا ہے تو ایک اور دریا کا سامنا کھڑا ہوتا ہے سحری کے لئے رات بھر زوجہ کے سرہانے کھڑا ہو کے انتظار کرنا پڑتا ہے کہیں ٹرین چھوٹ نہ جائے اور چپڑی ہوئی اور دو دو سے بندہ محروم نہ ہو جائے۔

پھر زوجہ ماجدہ کو سحری کےلئے بیدار کرنا ایک فن ہے، بےوقوف شخص کو اگر جگانے کا     طریقہ نہ ہو تو وہ برداشت کے مادے سے محروم ہو سکتاہے، لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلمان ہونا اور رمضان سے گزرنا۔

بیگم صاحبہ پڑھی لکھی ہوں  اور میاں لکیر کا فقیر ہو تو برداشت کا مادہ پیدا کرنا بیگم کے بائیں ہاتھ کو چھوڑیں ابرو اور انگلی کا اشارہ ہی کافی ہے، افطاری کے سامان کے لئے وہ شاہی نوکر عرف خاوند اعلی کا انتخاب کرتیں ہیں تاکہ بعدمیں یہ ساز خوب بجے۔

زوجہ ہمیشہ  زبانی اشیا کی فہرست جاری کرکے   سفر سامان افطار پہ روانہ کرتی ہیں دعاؤں کا علم نہیں بس جاتے  ہوئے کمزور بصارت سے ہونٹ ہلتے ہوئے ضرور دیکھتا ہوں اور جاتے ہوئے وہ موبائل لے کر بچوں کو دے دیتی ہیں تا کہ وہ مصروف رہیں اور بیگم صاحبہ کو کسی قسم کی مشقت سے دوچار نہ کریں ۔

اب لکیر کا فقیر کہاں اس قابل کہ  زبانی کلامی سب  یاد رکھ سکے، سو کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ہو جاتی ہے اور اس کے نتیجے میں جو سامان آتا ہے اس پہ ساز کا بجنا برداشت کے مادے کی پیداوار میں توقع سے زیادہ اضافہ کرتا ہے، مقصد سال بھر کےلئے معمولات میں توازن رکھنا ہی ہو سکتا ہے اور اس کے بعد افطاری میں ہونے والی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر یقین  کر لیں زوجہ کو صرف آپکی تربیت ہی مقصود ہے اور اسی کی آپ میں کمی ہے۔

دن کے وقت بیگم جی تلاوت کرتی ہیں شام کو تراوت کرتی ہیں ہم بھی مجبوراً عزت سادات بچانے کی ناکام کوشش کرتے ہیں، ہم سورہ نسا بلند آواز میں پڑھنے کی کوشش کرتے ہیں مگر آواز بلند ہوتی نہیں وہ مگر سورہ منافقون سناتی ہیں اور خوب خوب سناتی ہیں یوں چار شادیوں والی آیت ہم پڑھے بغیر ہی کہیں نکل جاتے ہیں کہ برداشت کا مادہ کسی مناسب جگہ پہ رکھ چھوڑیں اور بوقت ضرورت استعمال کر کے  جان بخشی کروا لیں گے۔

سنا تھا بچہ   بِلکے تو ماں دودھ دیتی ہے مگر آپ کو بتاتا چلوں خاوند اعلی  بلکے تو بچوں کی ماں چائے دیتی ہے۔۔۔

اسلام کا بنیادی مرکزی خیال ہے کہ رمضان اور اسکے دیگر کزن مہینوں میں بھی اقربا پروری کی جائے ہمارے ہاں اقربا پروری گالی بن گئی ہے اقربا پروری کا جذبہ پیدا کرنے کے لئے اپنے محبوب سیاست دان اور لاڈلی زوجہ سے یہ فن بخوبی سیکھا جا سکتا ہے مگر چراغ تلے ہمیشہ اندھیرا ہی رہا اس معاملے میں سارا ثواب بھی یہ دونوں خاتون و حضرت لے جاتے ہیں ۔

یہ سارا کچھ اپنی آنکھوں سے برداشت کر کے  جو برداشت کا مادہ کاشت کیا جاتا ہے اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ چھپا کر رکھے عیدی کے پیسوں سے خاوند اعلی کے ہاتھ بچوں کی طرح پکڑ کر دھلوا دیے جاتے ہیں کہ کہیں ریڈ بُل پی کر برداشت کا مادہ ختم نہ کر لے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *