لفظوں کا تحریری سراپا۔۔۔۔حافظ صفوان محمد

لفظوں کا تحریری سراپا…

.
یونیورسٹی کے زمانے کی بات ہے، ایک بار پروفیسر اینماری شمل سے ملاقات کا موقع بن گیا۔ ان سے چند منٹ کے لیے ملے اور آٹو گراف لیا۔ تصویر سے اس زمانے میں سخت پرہیز تھا اگرچہ غیر مسلم خاتون سے ملاقات سے نہ صرف یہ کہ پرہیز نہ تھا بلکہ خاصا اشتیاق بھی تھا۔ اشتیاق تو خیر سے مصافحے کا بھی بہت تھا کیونکہ استادِ محترم مرحوم مولانا عبد القادر آزاد صاحب انہی دنوں لیڈی ڈیانا سے مصافحہ فرماکر اہلِ اسلام کے لیے اپنے فعل سے اس عمل کو جائز قرار دے چکے تھے۔ الحمدللہ اس سعادت سے بھی محرومی نہ ہوئی ورنہ آج تک اے بسا آرزو کہ خاک شدہ کہتے پائے جاتے۔ یہ نصیب اللہ اکبر۔۔۔

پروفیسر شمل کے پاس بیٹھے تھے کہ میرے عزیز دوست مرحوم حکیم محمد خالد (ملتان) کے ہاتھ سے ایک پمفلٹ زمین پر گر گیا جس پر ایک طرف اردو اور دوسری طرف انگریزی جلی حروف میں علامہ محمد اقبال لکھا ہوا تھا۔ خالد نے پمفلٹ فوراً اٹھایا اور ہاتھ سے صاف کرتے ہوئے چوم لیا۔ پروفیسر شمل نے پوچھا کہ آپ لوگ اقبال سے اتنی عقیدت رکھتے ہیں کہ اس کا نام چومتے ہیں۔ عرض کیا کہ اقبال کا نام نہیں چوما بلکہ لفظِ محمد کو چوما ہے کہ ہمارے نبی کا نام ہے۔ پوچھا کہ آپ کے کارڈ کو اردو والی طرف سے چوما ہے، انگریزی والی طرف سے کیوں نہیں؟ ان سے جو عرض کیا اس کا مفہوم یہی تھا کہ عربی میں لکھے ہوئے اسمِ محمد کا احترام کرنا چاہیے، انگریزی میں لکھا نام اتنا مقدس نہیں ہوتا۔ اس پر وہ مسکرائیں، حیران ہوئیں اور کہا کہ اگر جرمن حروف میں محمد نام لکھا ہو تو آپ لوگ اس کا احترام نہیں کریں گے؟ طالب علموں کو انھوں نے مزید نہ الجھایا اور یہ بات ایک اچھے موڑ پر آکر ختم ہوئی۔ میں نے آٹو گراف لیا اور ملاقات ختم۔

اس زمانے میں یہ بات عام تھی اور اس پر کسی نے اس مضمون کا فتویٰ بھی دے رکھا تھا کہ عربی میں لکھی آیت اور الفاظ کی حرمت زیادہ ہے جب کہ وہی چیز اگر انگریزی حروف میں لکھی ہو تو کوئی بات نہیں۔ انگریزی اخبار میں اگر سیرت کا مضمون بھی لکھا اور وہ تنور والے نانبائی کے ہاں زمین پر پڑا ہے تو کوئی نہیں پوچھتا، عربی اخبار میں اگر فلم فیسٹیول کی رپورٹ لگی ہے تو وہ صفحہ البتہ متبرک ہے۔ ایک تقریر میں سنا کہ انگریزی حروف چونکہ الگ الگ لکھے جاتے ہیں اس لیے ان میں لکھا اسمِ محمد بھی ٹوٹا ٹوٹا ہوتا ہے جو اس مقدس نام کی ناقدری ہے، یعنی Muhammad لکھنا اسمِ محمد کی ناقدری ہے۔ اس قسم کی الل ٹپ توجیہات سن کر بہت افسوس ہوتا تھا۔ ایسی بے سر و پا باتوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے ہمیشہ جاری رہتا ہے۔

سوشل میڈیا پر کچھ عرصے کے بعد “اِن شاء اللہ” یا “انشاء اللہ” لکھنے کی بحث میں گھمسان کا رن پڑ جاتا ہے۔ ہر مرتبہ بیسیوں لوگ انباکس اور وھاٹس ایپ پر اس کے بارے میں وضاحت مانگتے ہیں۔ ہر بار سوچتا ہوں کہ اس بارے میں ایک مضمون لکھ دوں لیکن رک جاتا ہوں۔ آج سوچا کہ یہ کام کر دیا جائے۔ لیجیے پہلے یہ میسج پڑھ لیجیے، بعد میں اس کا جواب دیتا ہوں۔

“انشاءاللہ” لکھنا غلط ہے۔ درست ان شاء اللہ ہے۔
لفظ “انشاء” جس کا مطلب ہے “تخلیق کیا گیا” لیکن اگر “انشاءاللہ” کا مطلب دیکھا جائے تو “اللہ تخلیق کیا گیا۔” (نعوذ باللہ) تو اس بات سے صاف ظاہر ہے کہ لفظ “انشاء” کو لفظ “اللہ” کے ساتھ لکھنا بالکل غلط ہے۔ اس کے لیے قرآن کی کچھ آیات لکھی جاتی ہیں جن میں لفظ “انشاء” اکیلا استعمال ہوا ہے:
1۔ ﻭَﻫﻮَ ﺍﻟَّﺬِﯼ ﺃَﻧْﺸَﺄَ ﻟَﮑُﻢُ ﺍﻟﺴَّﻤْﻊَ ﻭَﺍﻟْﺄَﺑْﺼَﺎﺭَ ﻭَﺍﻟْﺄَﻓْﺌِﺪَۃَ ﻗَﻠِﯿﻠًﺎ ﻣَﺎ ﺗَﺸْﮑُﺮُﻭﻥَ۔ (المومن۔ 78)
2۔ ﻗُﻞْ ﺳِﯿﺮُﻭﺍ ﻓِﯽ ﺍﻟْﺄَﺭْﺽِ ﻓَﺎﻧْﻈُﺮُﻭﺍ ﮐَﯿْﻒَ ﺑَﺪَﺃَ ﺍﻟْﺨَﻠْﻖَ ﺛُﻢَّ ﺍﻟﻠَّﻪ ﯾُﻨْﺸِﺊُ ﺍﻟﻨَّﺸْﺄَۃَ ﺍﻟْﺂَﺧِﺮَۃَ ﺇِﻥَّ ﺍﻟﻠَّﮧَ ﻋَﻠَﯽ ﮐُﻞِّ ﺷَﯽْﺀ ٍ ﻗَﺪِﯾﺮ۔ (العنکبوت۔ 20)
3۔ ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧْﺸَﺄْﻧَﺎﻫﻦَّ ﺇِﻧْﺸَﺎﺀ۔ (الواقعہ۔ 35)
ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ “انشاء” کے ساتھ کہیں “اللہ” نہیں لکھا گیا کیونکہ یہ لفظ الگ معنی رکھتا ہے۔ لفظ “ان شاءاللہ” جس کا مطلب ہے “اگر اللہ نے چاہا۔” “ان” کا معنی ہے “اگر”، “شاء” کا معنی ہے “چاہا”، “اللہ کا مطلب “اللہ نے”۔ تو لفظ “ان شاءاللہ” ہی درست ہے جیسا کہ کچھ آیات میں بھی واضح ہے۔

1۔ ﻭَﺇِﻧَّﺎ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀَ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻟَﻤُﮩْﺘَﺪُﻭﻥَ۔ (البقرہ۔ 70)
2۔ ﻭَﻗَﺎﻝَ ﺍﺩْﺧُﻠُﻮﺍ ﻣِﺼْﺮَ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀ َ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺁَﻣِﻨِﯿﻦَ۔ (یوسف۔ 99)
3۔ ﻗَﺎﻝَ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀَ ﺍﻟﻠَّﻪ ﺻَﺎﺑِﺮًﺍ ﻭَﻟَﺎ ﺃَﻋْﺼِﯽ ﻟَﮏَ ﺃَﻣْﺮًﺍ۔ (الکہف۔ 69)
4۔ ﺳَﺘَﺠِﺪُﻧِﯽ ﺇِﻥْ ﺷَﺎﺀَ ﺍﻟﻠَّﻪ ﻣِﻦَ ﺍﻟﺼَّﺎﻟِﺤِﯿﻦَ۔ (القصص۔ 27)
ان آیات سے ثابت ہے کہ لفظ “ان شاءاللہ” کا مطلب ہے “اگر اللہ نے چاہا”۔ تو ایسے لکھنا بالکل درست ہے۔
انگریزی میں یوں لکھا جاسکتا ہے..
“In Sha Allah”
——

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ تحریر جس کی بھی ہے اسے صرف و نحو (سمجھنے کے لیے گرامر کہہ لیجیے) کی مبتدیات کا علم نہیں ہے اور وہ فقرے کو باصرار لفظ لکھ رہا ہے۔

عرض ہے کہ اس قسم کی مثالیں لانا (واضح رہے کہ ان میں سے کچھ مثالیں بالکل غیر متعلق ہیں جو صرف طوالتِ کلام کے لیے لائی گئی ہیں) اور مذہبی جذبات انگیخت کرتے ہوئے ان پر فتوے لگانا ہمارے بیشتر لوگوں کا قومی مزاج سا بن گیا ہے۔ زبان بولنے برتنے کی چیز ہے۔ لفظوں کی اصل پر جائیں اور درست تلفظ بولنا لکھنا قانونًا لازم ہوجائے تو ہماری بائیس کروڑ آبادی میں سے بمشکل ایک ہزار لوگوں کے علاوہ سب جاہل ٹھہریں گے۔

زبان کے بارے میں تحقیق یہ ہے کہ لوگ آسانی کی طرف چلتے ہیں اور لفظوں کا مشکل تلفظ بولنے میں آسان تر ہوتا جاتا ہے۔ مثال لیجیے کہ عربی کا لفظ قال اصل میں قول ہے (ق، و، ل، تینوں پر زبر)۔ تینوں حروف پر الگ الگ زبر بولنا زبان کے لیے مشکل ہے چنانچہ و کی جگہ الف آ گیا اور یہ لفظ قول کی بجائے قال بن گیا (بروزن آلہ)۔ عربی میں حروفِ علت کی اس طرح کی تبدیلیوں کو تعلیلات کہتے ہیں۔ جب قرآن میں خدا نے اصل لفظ (قَوَلَ) کے بجائے سیکڑوں بار وہ لفظ بولا ہے جو عوام بول رہی ہے (قال) تو ہم اسے غلط کیسے کہہ سکتے ہیں؟ عزت مآب کاتبینِ وحی نے اس لفظ کو خدا کے نبی کی موجودگی میں قَوَلَ کے بجائے قال لکھا تو ہم کاتبینِ وحی کے فہمِ عربی پر کوئی حکم کس طرح لگا سکتے ہیں؟

واضح رہے کہ قرآن میں ایسے بہت سے لفظ ہیں جو اصل املائی صورت سے ہٹ کر لکھے گئے ہیں اور نبی کریم کے سامنے اور ان کی اجازت ہی سے لکھے گئے ہیں۔ یہاں بطور مثال صرف ایک لفظ پیش کیا گیا ہے تاکہ مضمون طویل ہوکر ان مثالوں سے بوجھل نہ ہو۔ اہلِ علم ان الفاظ سے خوب واقف ہیں۔ جسے تحقیق کی ضرورت محسوس ہو تو کسی سے پوچھ لے۔

خوب سمجھنے کی بات ہے کہ قرآنِ حکیم تحریری صورت میں نازل نہیں ہوا تھا اور وحی کو تحریر کرنے میں وہی رسم الخط استعمال کیا گیا تھا جو عرب جاہلیت میں رائج تھا۔ چنانچہ عربی کا وہ روپ جو ہم آج دیکھ رہے ہیں، اس لکھاوٹ سے بہت مختلف ہے جو قدیم عربی لکھاوٹ کا تھا۔ وحی عربی میں اتری اور اسے جس رسم الخط میں لکھا گیا اس کا نام ہی رسم المصحف ہے نہ کہ عربی۔ رسم الخط میں عہد بعہد بہتری اور بدلاؤ آتا ہے۔ یہ بدلاؤ رسم المصحف میں بھی نظر آتا ہے۔ عربی رسم الخط میں بعضے حروف پر نقطے لگنا رسم الخط میں آنے والی بڑی تبدیلی تھی۔ اس تبدیلی کا اظہار رسم المصحف میں بھی ہوا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ اچھی ہی کہی گئی نہ کہ اسے توہینِ مصحف کہا گیا۔ آج بغیر نقطوں والی عربی کا تصور ہی محال ہے حالانکہ یہ وہ متبرک رسم الخط ہے جس میں قرآن غالبًا سب سے پہلے لکھا گیا۔ نیز اسی طرح کوئی قدیم خطی نسخہ دیکھ لیجیے، اس میں مثلًا “واللیل اذا یغشیٰ” لکھا ہوگا۔ آج چھپنے والے نسخوں میں “والیل” لکھا ہوتا ہے۔ یہ وقت گزرنے کے ساتھ لکھاوٹ میں آنے والی آسانیاں ہیں جو ہر زبان والوں نے اختیار کی ہیں ورنہ اصل املائی صورت (تت سم) میں لکھنے اور پڑھنے سے بہت اجنبیت ہو جاتی ہے۔

القصہ عربی اپنی کاروباری کم مائیگی کے باوجود مذہبًا ضرور تقدیس رکھتی ہے اور رسم المصحف اس سے کہیں زیادہ تقدیس کا حامل ہے، لیکن تقدیس کا مطلب قدیم سے جڑاؤ نہیں ہے اور وقت کے ساتھ ان میں بدلاؤ اور بہتری آتی رہتی ہے جسے قبولِ عام ملتا رہتا ہے۔

جب ہم عربی فقرہ انشاءاللہ لکھتے ہیں تو اسے عربی میں لکھتے ہیں نہ کہ رسم المصحف میں، اور یہ سوچ کر لکھتے ہیں کہ ہم قرآن نہیں لکھ رہے بلکہ زبان لکھ رہے ہیں اور اردو زبان لکھ رہے ہیں، اس لیے اس فقرے پر عربی زبان یا رسم المصحف کے اصول نہیں لگیں گے۔

المختصر ان شاءاللہ کو انشاءاللہ لکھنے میں کوئی غلطی یا حرج نہیں ہے۔ لفظوں کو جوڑ کر لکھنا عربی و فارسی اور اردو میں عام ہے۔ ہم لوگ اردو میں بلکہ کو بل کہ نہیں لکھتے اور نہ خوشبو کو خوش بو لکھتے ہیں۔ عربی کے علیحدہ کو علیٰ حدہ نہیں لکھا جاتا (جو کہ اس کے اصل ہجے ہیں)۔ یہ چلن کی بات ہے کہ کس لفظ کو کیسے لکھا جا رہا ہے۔ چنانچہ انشاءاللہ اور ان شاءاللہ میں کوئی فرق نہیں ہے اور اس سے کوئی کفر لازم نہیں آتا۔ نیز رومن حروف میں اسے Inshallah لکھنا چاہیے، In Sha Allah، Insha Allah یا InshaAllah وغیرہ لکھنا صرف تکلف اور اپنا مذاق بنوانا ہے۔ خدا سمجھ دے۔
۔

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *