جماعت اسلامی اور رعایت اللہ فاروقی۔۔۔۔ شمس الدین امجد

(محترم شمس الدین امجد ڈائریکٹر سوشل میڈیا، جماعت اسلامی ہیں۔ محترم رعایت اللہ فاروقی کے “مکالمہ” پر چھپنے والے مضمون کے جواب میں انھوں نے ایک طویل مضمون تحریر کیا۔ “مکالمہ” اپنے قارئین کیلیے یہ مضمون پیش کر رہا ہے۔) 

برادر رعایت اللہ فاروقی نے جماعت کے امرا کے بارے میں مکالمہ پر تحریر لکھی ہے۔ ہر فرد کی طرح انھیں رائے رکھنے اور اس کے اظہار کا حق حاصل ہے اور اس کا استعمال کرنے میں وہ خاصے جری ہیں۔ گو ٹھیٹھ دیوبندی ہیں مگر نشتر زنی سے حلقہ دیوبند بھی محفوظ نہیں ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ انھوں نے جماعت کے باب میں روایتی بغض سے کام لیا ہے، مولانا مودودی کی عظمت کا اعتراف اس کا بین ثبوت ہے۔

دوسرے امرا کے معاملے میں شاید ان کے قلم سے وہی حرکت سرزد ہوئی ہے جو روایتی طبقے سے مولانا مودودی کے حوالے سے ہوئی۔ ویسے معلومات کی عدم موجودگی بذات خود معصومیت کی دلیل اور صرف نظر کرنے کا تگڑا جواز ہے، مگر دو وجوہ سے جواب ضروری ہے، ایک تو یہی کہ ان کی طرح دوسرے افراد کو بھی رائے رکھنے اور بیان کرنے کا حق ہے۔ دوسرے فیس بک پر ان کا وسیع حلقہ ہے، اس لیے دوسری رائے بھی سامنے رہنی چاہیے۔

میاں طفیل محمد کا دور امارت

میاں طفیل محمد صاحب علیہ الرحمہ کے حوالے سے ان کے انکشافات خاصے کی چیز ہیں یعنی مساجد پر قبضے اور تعلیمی اداروں میں تشدد۔ سچی بات یہ ہے کہ فاروقی صاحب نے جماعت پر تنقید کا ایک نیا زاویہ سامنے رکھا ہے جس سے اہل علم اور خود جماعت کے حقیقی ناقدین بھی اب تک بےخبر رہے ہیں۔ تنقیدی کتب میں میاں صاحب پر بعض دوسرے حوالوں سے تو تنقید سننے کو ملتی ہے، مگر مساجد پر قبضہ تو فرقہ وارانہ ذہنیت کے حاملین کرتے ہیں، بات مقاتلے اور عدالتوں تک جا پہنچتی ہے، عوام الناس میں اہل مذہب کا یہ رویہ معروف اور باعث نفرت ہے، البتہ جماعت اسلامی اس سے کوسوں دور رہی ہے اور اس باب میں اس کے مذیبی و سیاسی مخالفین بھی یہ الزام عائد نہیں کر سکے۔ ہاں اس کے الٹ ضرور ہوا ہے، کہ جماعت کی مساجد پر قبضہ کیا گیا ہے، اور اس میں تمام مکاتب شامل ہیں، بڑے شہروں کی معروف مساجد اس میں شامل ہیں۔ میاں صاحب مرنجاں مرنج قسم کی شخصیت تھے، ان کے دور میں یہ کام یعنی مسجدوں کی حوالگی، نسبتا زیادہ ہوا۔

میاں صاحب پر دوسرا الزام کلاشنکوف کلچر متعارف کروانے کا لگایا گیا۔ یہ الزام تو پہلے سے بھی ذرا زیادہ ہو گیا کہ میاں صاحب ”صوفیانہ” مزاج کے حامل تھے، سید علی ہجویریؒ کی معروف کتاب کشف المحجوب کا انھوں نے ترجمہ کیا اور اسے دستیاب تراجم میں سب سے بہترین سمجھا جاتا ہے۔ میاں صاحبؒ تو مارکٹائی کے روادار نہ تھے کجا کہ کلاشنکوف۔ جمعیت کے حوالے سے البتہ یہ الزام لگایا جاتا ہے جسے انھوں نے میاں صاحب کے کھاتے میں ڈال دیا ہے۔ اس میں دو باتیں سامنے رہنی چاہییں۔ کلاشنکوف کلچر کالجز اور یونیورسٹیوں میں مسلط ہوا مگر اس کی تمام ذمہ داری جمعیت پر ڈال دی جاتی ہے حالانکہ دوسری طلبہ زیادہ نہیں تو کم بھی ذمہ دار نہیں ہیں۔ جمعیت کے کارکنان کے قتل کی فہرست دوسری تنظیموں کے مجموعی نمبر سے زیادہ ہے۔ آغاز اس کا میاں طفیل محمدؒ کے دور سے پہلے ڈھاکہ یونیورسٹی میں عبدالمالک شہید سے ہوا۔ دوسرا یہ کہ جمعیت کو بالعموم جماعت کی ذیلی تنظیم سمجھا جاتا ہے اور کسی حد تک ہے بھی مگر دوسری جماعتوں کے ونگز کے طرح کا ونگ نہیں ہے۔ اس کا نظم خود مختار ہے اور اپنی شوری کا پابند ہے۔ جمعیت کے بنیادی فیصلے اس کی مرکزی شوری کرتی ہے۔ جماعت یا اس کے نظم کا عمل دخل اس میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

ان انکشافات کو جو نتیجہ نکالا گیا، وہ خود ان انکشافات سے زیادہ حیران کن ہے۔ یعنی سنجیدہ جماعتیے بھی میاں صاحب علیہ الرحمہ ذکر کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایسے سنجیدہ جماعتیوں سے ابھی تک میری واقفیت نہیں ہو سکی ہے۔ فاروقی صاحب اور دیگر جماعت سے باہر کے احباب کےلیے گزارش ہے کہ میاں طفیل محمد کو جماعت میں احترام کے حوالے سے نمبر دو کا درجہ حاصل تھا اور ہے، جماعتی حلقوں میں ان کے دور کو سید مودودیؒ کے دور کے تسلسل کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ جماعتی حلقے میں میاں صاحب کی حیثیت ایک ”ولی” کی سی ہے۔ فاروقی صاحب کے شاید علم میں ہو کہ میاں صاحب کو سید مودودیؒ کا مشورہ ایک اور ولی سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے دیا تھا۔

جماعت اسلامی کی تنظیم کی مضبوطی اور انفرادیت مسلمہ ہے، اپنے پرائے سب اس کے معترف ہیں، مثال دیتے ہیں، مگر بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ اس کے اصل معمار میاں طفیل محمد ؒ تھے۔  وہ 1944ء میں جماعت کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے تھے، اور بہت تھوڑے عرصے میں اس کی تنظیم برصغیر کے طول و عرض میں پھیلا دی۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ قیام پاکستان کے فوری اسلامی دستور کے مطالبے اور ملک گیر احتجاج کے پیچھے میاں طفیل محمدؒ کا دماغ اور منصوبہ بندی تھی۔ بطور سیکرٹری جنرل انھں نے پیچھے رہتے ہوئے قرارداد مقاصد کی منظوری، دستور سازی اور ملک کی اسلامی شناخت کے حوالے سے اہم کردار ادا کیا۔ بہت کم لوگوں کے علم میں ہوگا کہ مولوی تمیزالدین کو دستور ساز اسمبلی کے توڑے جانے اور گورنرجنرل کے اقدام کے خلاف کیس لڑنے پر آمادہ اور اس کی فیس فراہم کرنے والے میاں طفیل محمد تھے۔ گورنرجنرل غلام محمد کے سامنے کم ہی کسی کو بولنے کی جرات ہوتی تھی، اس آئین شکن اقدام پر بھی ہر طرف سناٹا تھا، میاں طفیل محمد پہلے لیڈر تھے جنھوں نے اس کے خلاف بیان دیا اور پھر آگے بڑھ کر عملی طور پر اس کا مقدمہ لڑا۔

ایوبی آمریت کے خلاف جدوجہد میں میاں طفیل محمدؒ نمایاں نام ہے۔ مادر ملت فاطمہ جناح کی ایوب خان کے خلاف صدارتی مہم میں ان کا کردار کلیدی تھا۔ بھٹو دور میں بھی وہ جیل میں رہے، تب وہ امیر جماعت تھے مگر عملا ” درویش ” ہی رہے اور صبر سے اس جبر کا مقابلہ کیا۔ رعایت اللہ فاروقی صاحب نے ان پر تشدد اور کلاشنکوف کلچر پروان چڑھانے کا الزام لگایا، اگر میاں صاحب کی طبعیت ایسی ہوتی تو یہ اس کےلیے ”سنہری” دور ہو سکتا تھا مگر اس دور میں بھی وہ قانون پسند ” ولی ” ہی رہے۔

قاضی حسین احمد علیہ الرحمہ کا دور امارت

جماعت اسلامی کے تیسرے امیر قاضی حسین احمد ؒ کم و بیش 22 سال تک امارت پر فائز رہے۔ ان سے اتنی ‘ رعایت’ تو فاروقی صاحب نے کی کہ اس بات کا کھلے دل سے اعتراف کیا کہ وہ ایک بڑے لیڈر تھے اور اپنے اور غیر، سبھی ان کا احترام کرتے تھے۔ فاروقی صاحب نے ان کی امارت کو دو حصوں میں تقسیم کیا ہے۔ مگر اس میں تضاد ہے، پہلے حصے پر اس وجہ سے تنقید ہے کہ سید مودودیؒ کی جماعت کو قاضی صاحب نے اس کی اصل شناخت سے محروم کر دیا اور دوسرے حصے میں اس پر تعریف ہے کہ سید مودودیؒ کی متنازع عبارات سے جان چھڑوا لی۔ فیا للعجب۔

جماعت اسلامی کی شناخت سے محرومی کی مثال انھوں نے ”درس قرآن” کلچر کے خاتمے سے دی ہے۔ فاروقی صاحب سے معذرت کے ساتھ یہ بات ہاتھی کے بارے میں اندھوں کی رائے جیسی ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اپنے کارکنان کی تربیت کےلیے اجتماع کارکنان، اجتماع ارکان اور دروس قرآن و دروس حدیث کی محافل جماعتی کلچر کا خاصا رہی ہیں مگر اسے ادارہ جاتی شکل قاضی صاحب علیہ الرحمہ کے دور میں ملی اور انھوں نے صرف سیاست کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ دینی حوالے سے بھی عوامی بنانے کی کوشش کی۔ عوامی طور پر فہم قرآن کلاسز کا کلچر انھی کے دور میں شروع اور توانا ہوا، اور حاضری اس کے ہزاروں میں ہوتی رہی۔ خیبرپختونخوا میں مولانا محمد اسماعیل کی کلاسز میں حاضری 50 ہزار سے ایک لاکھ کے درمیان بھی پہنچی۔ پروفیسر عرفان جس کلاس کا آغاز چند جماعتی کارکنان کے سامنے کرتے، ہفتے میں وہ تعداد ہزاروں تک جا پہنچتی۔

 اندرون سندھ سمیت انھوں نے کئی ایسا مقامات پر اس کا انعقاد کیا جہاں ناکامی کے خطرے کے پیش نظر خود جماعتی احباب تیار نہیں تھے۔ درس قرآن اب بھی جماعت کے ہر پروگرام کا لازمی حصہ ہے۔

قاضی صاحب علیہ الرحمہ پر ایک تنقید پاسبان کے حوالے سے کی جاتی ہے۔ اسے فاروقی صاحب نے اقتدار کےلیے بےقراری سے تعبیر کیا ہے۔ اصلا تو یہ ”بےقراری” معیوب نہیں ہونی چاہیے۔ اس لیے کہ سیاسی میدان میں کسی بھی جماعت یا قیادت کی موجودگی اقتدار حاصل کرنے کےلیے ہی ہے، پاکستان میں کون ہے جو اس بےقراری سے مبرا قرار دیا جا سکتا ہو۔ اسلامک فرنٹ کا قیام اور پاسبان کا ظہور اصلا قاضی صاحب علیہ الرحمہ کی دوراندیشی کی علامت ہے۔ اخوان المسلمون سمیت معاصر اسلامی تحریکوں نے جو تجربہ دو دہائیوں کے بعد کیا، قاضی حسین احمدؒ نے اس کی اہمیت کا اندازہ دو دہائیاں پہلے کر لیا تھا۔ اسلامی تحریکوں کی تنظیمی شناخت اور تحریکیت ان کے سیاسی ہونے یا سیاسی میدان میں آگے بڑھنے میں ایک رکاوٹ کے طور پر سامنے آئی ہے، عوامی حمایت کے حصول یا اقتدار تک کے مروجہ اصولوں کے پیش نظر اس میں موزونیت کم ہے۔ البتہ یہ اعتراف کرنے میں کوئی قباحت نہیں کہ اسلامک فرنٹ کو وقت سے پہلے انتخابی اکھاڑے میں اتار دیا گیا جو کہ حکمت عملی کے اعتبار سے درست نہیں تھا۔ مناسب ہوتا کہ اس وقت فرنٹ کو الیکشن کے اکھاڑے میں نہ اتارا جاتا مگر فرنٹ نے الیکشن لڑا اور شکست ہوئی، اس کے فوری بعد ایک اور غلطی یہ ہوئی کہ اسلامک فرنٹ کی بساط لپیٹ دی گئی۔ موجودہ سیاسی ماحول کو دیکھتے ہوئے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ فرنٹ کو جاری رکھا جاتا تو وہ زیادہ مفید ہو سکتا تھا اور اس سیاسی خلا کو پر کر سکتا تھا جو بعد میں دوسری جماعتوں کے ذریعے پر ہوا۔ کسی بھی حکمت عملی دو رائے ہو سکتی ہیں، اس حوالے سے بھی ہیں مگر میرے خیال میں اسلامک فرنٹ قاضی صاحب کی دوراندیشی و دوربینی کی ایک مثال ہے۔ اسی سے جماعت کا ایک اور امتیازی وصف بھی نمایاں ہوتا ہے کہ اس میں کسی کو ”ویٹو” کی حیثیت حاصل نہیں ہے، امیر جماعت کو بھی نہیں، مرکزی مجلس شوری دیگر جماعتوں کی طرح علامتی اور ٹھپہ لگوانے کا ادارہ نہیں ہے بلکہ اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ قاضی صاحب علیہ الرحمہ نے اپنی رائے کے برخلاف اسلامک فرنٹ کے خاتمے کا فیصلہ قبول کیا۔

قاضی حسین احمد علیہ الرحمہ کے دور امارت کے آخری نصف کی فاروقی صاحب نے تعریف کی اور اس بات کا کریڈٹ دیا کہ انھوں نے مذہبی اکائیوں کا اتنا قریب کر دیا کہ اب شاید ہی انھیں آپس میں لڑایا جا سکے۔ اسے انھوں نے ایک بڑے کام سے تعبیر کیا ہے جو کہ درست ہے۔ مولانا مودودی کی متنازعہ عبارات سے جان چھڑوانے کو انھوں نے ان کے دوسرے بڑے کارنامے سے تعبیر کیا ہے، مگر یہ ایسا کارنامہ ہے جو وقوع پذیر ہی نہیں ہوا۔ مولانا مودودیؒ کی حیات میں ان کی کتب کے کئی ایڈیشن شائع ہوئے، جو بھی ترمیم ہوئی ان کے دور میں ان کی اجازت سے ہوئی، ان کے بعد ایسا ہوا ہے نہ کسی کو یہ حق حاصل تھا کہ عبارات میں حذف و ترمیم کرے۔ بعض عبارات سے رجوع یا ان میں حذف و ترمیم اصلا سید مودودیؒ کا ہی کارنامہ ہے، اس کا کریڈٹ بھی انھی کو ملنا چاہیے اور انھیں ان کی عظمت سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔ یہ بات البتہ درست ہے کہ قاضی صاحب علیہ الرحمہ کو قربت کےلیے یہ پیشکش کی جاتی رہی مگر انھوں نے اتحاد امت اور دلوں کو قریب کرنے کا کام جاری رکھا اور بالاخر اس میں کامیابی حاصل کی جس کا فاروقی صاحب نے اعتراف کیا ہے۔

سید منورحسن صاحب کو فاروقی صاحب نے ایسے بوڑھے شخص سے تعبیر کیا جو دور طالب علمی کے سحر سے نہ نکل سکا۔ یہ اعتراف تو کیا کہ وہ پرشکوہ خطیب تھے مگر ان کے خیال میں خطیب اچھے لیڈر نہیں ہوتے۔ اپنا تجزیہ ہو سکتا ہے مگر خطابت اور قیادت تو لازم و ملزوم ہیں، عصر حاضر میں طیب اردگان کی مثال لی جا سکتی ہے، ترک احباب نے بتایا کہ مقبولیت کی ایک وجہ خطابت بھی ہے۔ پاکستان کے تناظر میں شیخ مجیب اور بھٹو کی مثال دی جا سکتی ہے۔ آج کے دور میں مولانا فضل الرحمن کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے۔ لوگ انھیں سیاسی بساط کا ماہر سمجھتے ہیں مگر خطابت اور اپنے کمزور مئوقف کو بھی دلیل کے ساتھ پیش کرنے اور بات منوانے میں انھیں خاص ملکہ حاصل ہے۔ خطابت و سیاست کا چولی دامن کا ساتھ ہے، کامیابی و ناکامی کا معیار ذرا الگ ہے، اسے پیمانہ بنانا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اسی تناظر میں یہ ذکر کرنا مفید ہوگا کہ سید صاحب نے 77 کے الیکشن میں اس کے باوجود کہ بہت دھاندلی ہوئی، پورے پاکستان میں سب سے زیادہ ووٹ لیے تھے، احباب بتاتے ہیں کہ اس کی ایک بڑی وجہ بطور خطیب و مقرر مقبول اور شہر کی سیاست میں ان کا متحرک ہونا تھا۔

ان کی شخصیت کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ قاعدے و ضابطے کے پابند تھے، اور ہیں، سیاسی میدان میں جسے ایک خامی سمجھا جاتا ہے۔ صرف وقت کی پابندی سے ہی مثال لے لیں کہ آج بھی مقررہ وقت پر ان کی آمد کو دیکھ کر آپ اپنی گھڑیاں درست کر سکتے ہیں۔ سیاست میں ان کے پیچھے جانے کی ایک وجہ ان کا قیم ہونا تھا۔ جماعت کے سیکرٹری جنرل ہونے کے بعد انھوں نے خود کو تنظیمی امور کےلیے وقف کر دیا اور امیر بننے تک اس پر قائم رہے۔ میاں طفیل محمدؒ سے آج تک سیکرٹری جنرل کی بنیادی ذمہ داری تنظیم چلانا اور اسے مضبوط بنانا ہے، آج تک یہ روایت چلی آتی ہے۔ سید صاحب کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ وہ اس باب میں منفرد اور فنا فی التنظیم یا فنا فی التحریک تھے۔

سید منور حسن کا دور امارت:

دور طالب علمی کی دو خصوصیات ان میں موجود رہیں، وہ تھی وسیع الظرفی اور تحریکیت۔ تحریکیت ایک خاص اصطلاح ہے جو پرانے زمانے کے جماعتی بزرگوں اور جمعیت کے اولین دور کے ناظمین اور قیادت کے بارے میں پڑھنے اور سننے کو ملتی ہے، یہ روایت اب بھی کسی نہ کسی طریقے سے موجود ہے مگر مرور زمانہ سے کیفیت میں کمی آئی ہے۔ تحریکیت کیا ہے؟ مثال اگرچہ ذاتی ہے مگر دیے بنا چارہ نہیں، امید ہے کہ اس سے درست طور پر تفہیم ہو سکے گی۔ منصورہ میں راقم الحروف کی آمد قاضی حسین احمد علیہ الرحمہ کے پرسنل میڈیا اسسٹنٹ کے طور پر ہوئی تھی اور اس حیثیت میں 4 سال ان کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ دو لائنیں لکھ لینا انھی کا فیض اور صحبت کا نتیجہ ہے۔ وہ امارت سے الگ ہوئے تو بعض احباب نے از راہ مذاق کہا کہ اب آپ بھی از خود ہی چھٹی لے لیں۔

سید صاحب امیر جماعت بنے تو ‘ انفرادی’ ملاقات کےلیے بلایا، یہ ملاقات جماعت کے ساتھ وابستگی کے اعتبار سے ٹرننگ پوائنٹ تھا، اس اعتبار سے کہ انھی دنوں بعض میڈیا ہائوسز میں جانے کے مواقع اور آفر اس کی وجہ سے چھوڑ دیں، اور اس حوالے سے یکسوئی آج تک برقرار ہے۔ سید صاحب نے ملاقات کے لیے بلایا اور ذاتی, تعلیمی اور معاشی حوالوں سے سوالات کیے۔ جماعتی بزرگوں کی یہ خاصیت پڑھی اور سنی تھی مگر پہلی دفعہ خود پر اسے بیتتے دیکھا، اور بعد کے 5 سالوں میں لمحہ لمحہ احساس ہوا کہ یہ شفقت اس ملاقات کا اثر ہے۔ دوسرے دن پھر ملاقات کےلیے بلایا اور فرمایا کہ آپ ذمہ داری اور کام حسب معمول جاری رکھیں۔

سید منور حسن نے خود تحریک کو اپنا کیرئیر بنایا اور اللہ سے کاروبار کیا، اور کیا ہی خوب کاروبار کیا۔ سید صاحب قیم جماعت تھے اور زوجہ حلقہ خواتین کی قیمہ، دونوں دین اور تحریک کےلیے وقف۔ بیٹی کا نکاح ہوا، ڈھیروں تحائف ملے۔ بعد میں بیٹی سے ملے اور فرمایا کہ یہ تحائف امیر جماعت کی بیٹی ہونے کی وجہ سے تمہیں ملے ہیں، اس لیے ان پر ہمارا نہیں، جماعت کا حق بنتا ہے، فرمانبردار بیٹی نے سرتسلیم خم کیا اور تحائف بیت المال میں جمع کروا دیے گئے۔

سید صاحب کے بارے میں ایک تاثر یہ تھا کہ نسبتا سخت مزاج ہیں اور تنقید برداشت نہیں کرتے، مگر جو کارکن کام کرتا ہے، اسے تنقید و رائے دینے کی پوری آزادی تھی۔ راقم کی ذاتی تنقید کو سید صاحب نے خندہ پیشانی سے برداشت کیا۔ سید صاحب کا ذریعہ آمدن نہایت محدود تھا، مگر انفاق کے معاملے میں بھی ان کا کاروبار مثالی رہا۔میرے جیسے کئی کارکنان کی خوشی غمی سے باخبر رہتے اور ایسے تمام مواقع کےلیے ان کی دراز میں حسب موقع لفافہ اور تحائف موجود رہتے۔

سید منورحسن جماعت اسلامی کے لٹریچر اور تنظیم و تحریک کے حوالے سے اپنی مثال آپ ہیں۔ سیاست کے حوالے سے ان کی ناکامی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، مگر اس تناظر میں تو جماعت کبھی کامیاب نہیں رہی، خود سید مودودی کے دور میں بھی نہیں۔ جماعت اصلا نظریاتی دائرے میں رہی ہے اور اس میں اس کی کامیابی مسلمہ ہے۔ میری رائے میں سید صاحب کا مختصر دور جماعت کی تنظیم و تحریک اور سیاست کے لیے ضروری تھا جیسے اللہ تعالی نے بس اسی کے لیے انھیں یہ پانچ سال عطا کیے تھے۔ انھوں نے تنظیم اور سیاست دونوں میں ضرورت و حالات کے مطابق بنیادی نوعیت کے فیصلے کیے۔ تنظیمی معاملہ اپنی جگہ مگر سیاست میں انھوں نے اتحادی سیاست کو خیرباد کہا، اور چار دہائیوں کے بعد جماعت کے اپنے پرچم اور نشان پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کیا۔ دیگر کئی حوالوں سے بھی ان کے دور میں سیاست کے حوالے سے پایا جانے والا تاثر درست ہوا۔ اللہ کو اتنا ہی کام لینا مقصود تھا، اور ان کے بعد سراج الحق صاحب کی آمد تنظیم و تحریک اور سیاست میں آگے بڑھنے کےلیے مشیت ایزدی کا درست فیصلہ تھا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *