مسافر اور بسکٹ کا اشتہار۔۔سعید چیمہ

SHOPPING
SHOPPING

مدعا بیان کرنے سے پہلے ایک واقعہ سن لیجیے،ایک آدمی صحرا میں کھو گیا،وہ تین دن تک تندور کے کوئلوں ایسی گرم ریت پر چلتا رہا،سورج کی کرنیں پڑنے پر ریت کے چمکتے ہوئے ذرات پانی کا تالاب نظر آتے ہیں،اس نے بھی کچھ دفعہ تالاب کی طر ف قصد کیا مگر نتیجہ وہی کہ تالاب کی جگہ پہنچ کر نظر آتا کہ تالاب تھوڑا آگے ہے، بالآخر اس نے سمجھ لیا کہ پانی ملے گا تو صحرا عبور کر کے ہی ملے گا،پھر اس نے ایک متعین سمت کی طرف چلنا شروع کر دیا باوجود اس کے کہ وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ وہ درست سمت میں جا رہا ہے یا نہیں، “وہ اپنے بندوں کی محنت کب ضائع کرتا ہے” اور وہ شخص تین دن کا جوکھم بھرا سفر طے کر کے ایک نخلستان میں پہنچ گیا،نخلستان پہنچ کر اس نے دیکھا کہ کرسی آگے رکھی ہوئی میز پر شفاف شیشے کا گلاس پانی سے بھرا ہوا ہے، گلاس ایسا صاف اور شفاف ہے کہ نظر آر پار ہو جائے،وہ آدمی کرسی پر بیٹھ کر میز سے پانی کا گلاس اٹھانے ہی لگا تھا کہ کسی اجنبی کی آواز سنائی دی کہ یہ پانی مت پینا کیوں کہ اس میں جرثومے ہیں، اب وہ آدمی تین دن سے پیاسا ہے، پیاس کی وجہ سے جس کے ہونٹ پھٹ رہے ہیں،سانس اکھڑا ہوا ہے، اس آدمی کے پاس کوئی وجہ نہیں کہ وہ اجنبی کا یقین کرتے ہوئے اس پانی کے گلاس سے اپنی پیاس نہ بجھائے،مختصراً  یہ کہ اس آدمی نے پانی کے گلاس کو غٹا غٹ اپنے اندر انڈیل لیا، لیکن اس آدمی پر جرثومات کوئی بھی اثر نہ دکھا سکے، اب یا تو اس پانی کے گلاس میں جرثومے تھے ہی نہیں یا پھر وہ اجنبی جھوٹ بول رہا تھا کہ پانی میں جراثیم ہیں۔

پچھلے دنوں ٹی وی چینلز پر ایک بسکٹ کا اشتہار چلا، جس میں کراچی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ جو کہ سید پرویز مشرف کے لیے دردِ  دل بھی رکھتی ہیں نے رقص کرتے ہوئے لوگوں کو بسکٹ کھانے کی ترغیب دی، سلام کے مورچہ بند سپاہیوں نے  انصار عباسی کی سپہ سالاری میں اشتہار، اداکارہ اور میڈیا پر بھرپور حملہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اشتہاروں سے ہماری ثقافت اور اسلامی اقدار کو خطرہ ہے، راقم الخروف اپنی عقلِ کُل کو بروئے لانے کے باوجود بھی نہیں سمجھ سکا کہ ہمارے نزدیک ثقافت اور اسلامی اقدار کی تعریف کیا ہے، پیمرا نے بھی گرم لوہے پر ہتھوڑ ا مارتے  ہوئے اشتہار پر پابندی لگا دی جیسے وہ کوئی شجرِ ممنوعہ کا پھلا تھا،  انصار عباسی اور اوریا مقبول جان ایسے دوسرے اسلام پسندوں (یہ نہ سمجھا جائے کہ راقم الخروف اسلام پسند نہیں ہے) کا ایک مسئلہ ہے، وہ یہ چاہتے ہیں کہ ایک نشوونما پایا ہوا درخت ملے  اور اس کو زمین میں لگاتے ہی اس کی ٹہنیوں پر ثمر اور چھاؤں میں لوگ بیٹھ سکیں، مگر یہ قانونِ قدرت نہیں لیکن پھر بھی نہ جانے لوگ سمجھتے کیوں نہیں، درخت کو ثمر آور کرنے اور اس کی چھاؤں میں سستانے کے لیے پہلے ایک عدد بیج چاہیئے ہوتا ہے، پھر زرخیز زمین اور کم از کم ایک عشرے تک اس پیڑ کو چھتنارے دار درخت بنانے کے لیے رکھوالی کرنا پڑتی ہے،  وہ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ یکمشت اخلاقی  برائیوں کو چھوڑتے ہوئے اسلام کی عمارت میں داخل ہو جائیں، خاتم النبینﷺ کا اسوہ ہمارے سامنے ہے کہ کس طرح انہوں نے بتدریج اخلاقی برائیوں کا خاتمہ کیا، ام المومنین سیدہ عائشہ کہتی ہیں کہ اگر حضور ایک ہی بار میں شراب، جوا اور سود خوری ایسی اخلاقی برائیوں سے روک دیتے تو لوگ آپ سے متنفر ہو جاتے(عورت معمارِ انسانیت)، دعوت کا میدان چھوڑ کر وعظ و نصیحت کا میدانِ کارزار گرم کر لیا گیا، انسان کی فطرت ہے کہ وہ ہمیشہ دعوت پر لبیک کہے گا جلد یا بدیر مگر دعوت کے بغیر وعظ و نصیحت اس پر اثر نہیں کرے گی،  چودہ سو سال پہلے اس عظیم ہستی نے پہلے دعوت دی اور پھر وعظ و نصیحت، مگر آج کے اسلامی سپہ سالاروں کو یہ بات کون سمجھائے، لوگوں کا درخت کی ٹہنی کی طرح اپنے خدا سے رشتہ کٹتا جا رہا ہے، آپ نے اخلاقی برائیوں کا ڈھنڈورا پیٹنے کی بجائے لوگوں کا خدا سے رشتہ مضبوط کرنے کی کوشش کرنی ہے، ایک دفعہ اگر رشتہ مضوط ہو گیا تو اخلاقی برائیاں خود بخود بتدریج چھوٹتی چلی جائیں گی، لیکن اگر پہلے ہی آپ مدعو کے سامنے یہی کہتے چلے جائیں گے کہ آپ میں یہ بھی اخلاقی برائی ہے اور وہ بھی تو آپ کی کوششیں بیکار جائیں گی، ہو سکتا ہے کہ اخلاقی برائیوں کی نشاندہی ایسا کارِ خیر جو آپ سر انجام دے رہے ہیں وہ الٹا آپ کی گرفت کا سبب بن جائے، غلط سمت میں دوڑنے کا نتیجہ ہمیشہ ناکامی ہوتا ہے، اسلام پسند داعی کی محنت آج رنگ نہیں لا رہی بلکہ کچھ عشروں سے ایسا ہی ہے تو سوچنا چاہیئے کہ وہ غلطی کہاں کھا رہے ہیں، لوگ آج بھی مولانا مودودی سے متاثر ہیں، کسی نے سوچا ہے کہ کیوں؟ کیوں کہ انہوں نے دعوت کے میدان میں اپنی توانائیوں کو استعمال کیا، وہ بھی اگر وعظ و نصیحت کرتے رہتے تو دوسرے علما کی طرح وہ بھی آج تاریخ کی گرد تلے دب جاتے،  اسلامی دانشوروں سے یہی گزارش ہے کہ حضور وعظ و نصیحت کو چھوڑئیے اور دعوت کے میدان میں آئیے۔۔

SHOPPING

کالم کا جگر: اس اجنبی کی طرح جس نے صحرا میں تین دن تک بھٹکنے والے مسافر سے کہا تھا کہ اس پانی کے گلاس میں جراثیم ہیں لیکن اس آدمی نے یقین نہ کرتے ہوئے پھر بھی پانی پی لیا تھا، اسی طرح انصار عباسی ایسے لوگوں کی یہ بات اس اشتہار میں اخلاقی برائی ہے کا یقین نہیں کیا جا رہا ،کیوں کہ عام لوگوں پر اخلاقی برائیوں کے جرثومے اثر انداز نہیں ہو رہے۔

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *