فوج مقدس گائے نہیں ، لیکن ۔۔۔۔۔۔۔ محمود فیاض

“اتوار کی صبح پاک فوج کے کیپٹن قاسم اور کیپٹن دانیال کی گاڑی کو تیز رفتاری پرپشاور تا پنڈی جی ٹی روڈ نہال پورہ موٹروے کے قریب روکا گیا جس پر کیپٹن نے گاڑی سے نکل پر اپنی نائن ایم ایم پسٹل ایس آئی عاطف شہزاد پر تان لی۔ گاڑی کے حوالے سے ٹیم کو وائرلیس پر خبر دی گئی تھی۔

عاطف شہزاد کے ساتھ موجود ایس آئی محسن اور حوالدار جلال شاہ نے بھی اپنی بندوقیں نکال لیں کہ شاید گاڑی سےکوئی دہشت گرد نکلا ہے۔ کیپٹن نے اس پر شور مچا دیا کہ وہ فوج کا اہلکار ہے ۔ موٹروے اہلکاروں نے کہا کہ ان کے خلاف اب قانونی چارہ جوئی ہو گی جس پر کیپٹن نے چھاؤنی سے فون کر کے مزید فوجیوں کو بلایا جن کی سربراہی میجر زعفران کر رہے تھے۔ فوجی تینوں موٹروے اہلکاروں کو اپنے ساتھ لے گئے۔ کچھ گھنٹوں بعد آئی جی موٹروے کی کوشش سے تینوں اہلکاروں کو بازیاب کرایا گیا ۔ تاہم تینوں شدید زخمی ہوئے”

یہ ہے اس خبر کی تفصیل جو میڈیا پر گردش کر رہی ہے۔ کچھ دیر پہلے میں نے فوج کے ترجمان فیس بک کے پیج پر ان فوجی افسران کے خلاف محکمانہ کاروائی کا بھی پڑھا ہے، جسکے مطابق مناسب کاروائی کے بعد اس معاملے میں انصاف کرنے کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ کوئی اپنی نوعیت کا انوکھا واقعہ ہے۔ فوج پاکستان کا طاقتور ترین ادارہ ہے (آئینی لحاظ سے نہیں زمینی حقائق کی نظر سے) اور پاکستان کی تاریخ میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں جن میں اس طاقتور ادارے کے افراد نے اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے اختیارات کو اپنی انا کے سہلانے کے لیے سول اداروں کے خلاف استعمال کیا ہے۔

میں مارشل لاز کی بات نہیں کر رہا، اس میں تو پوری فوج کو بحیثیت ادارہ ہی استعمال کرلیا جاتا ہے، اور اسکے مضمرات کا ہم سب کو بحیثیت قوم اچھی طرح ادراک ہے۔ میں ان واقعات کی بات کر رہا ہوں، جن میں فوجی افسران اپنے ادارے سے باہر بھی اپنے لیے وہی ماحول کی توقع کرتے ہیں، جو انکو فوج کے اندر حاصل ہوتا ہے۔ اور جب ایسا نہیں ہو پاتا تو وہ اپنے ادارے کے اندر اپنی حیثیت کے مطابق حمائیت حاصل کر کے سویلین اداروں کو سبق سکھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

میڈیا اور سوشل میڈیا کا اس خبر پر غصہ اپنی جگہ درست ہے۔ کسی بھی جمہوری ریاست میں انصاف اور قانون سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ اور ہر قسم کی مقدس گائے کو عیدالضحیٰ پر قربان کر دینا چاہیے۔ کسی بھی ادارے کے افراد کو ، چاہے وہ فوج سے ہوں، پولیس سے، یا پارلیمان سے، قانون کے ساتھ کھیلنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔

البتہ یہ الگ بحث ہے کہ اس وقت پاکستان میں قانون و انصاف کا نظام کس طرح طاقتور کے ہاتھ کی تسبیح بنا ہوا ہے۔ حقیقت یہی ہے کہ ہمارے ہاں قانون صرف کمزور کے لیے ہے، طاقتور چاہے کسی طبقے، کسی درجے کا ہو، قانون کو نچانا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ حتیٰ کہ کل کا کمزور جیسے ہی کسی طرح کی طاقت پر رسائی پاتا ہے تو سب سے پہلے وہی کرتا ہے جس پر کبھی غصہ کرتا تھا۔ ایک غریب ہاری کا بیٹا بھی ایل ایل بی کر کے ایک کھٹارہ سی سوزوکی لینے کے لائق ہوتا ہے تو سب سے پہلے اسکی نمبر پلیٹ پر “ایڈووکیٹ ہائی کورٹ” لکھواتا ہے۔ کسی ٹھیلے والے کا بیٹا اے ایس آئی بھرتی ہوتا ہے، تو گھر کی تختی پر پولیس کا رنگ چڑھ جاتا ہے۔ بغیر نمبر کی موٹر سائیکل پر تین تین کانسٹیبل بیٹھے تو آپ نے بھی دیکھے ہونگے۔ ۔ کسی کی نمبر پلیٹ پر حکومتی جماعت کے جانور کی تصویر ہوتی ہے تو کسی کے کاروباری کارڈ پر “بادشاہ وقت” کا ٹھپہ۔

جن کا بس حکومتی طاقت پر نہیں چلتا، وہ گروہی طاقت کے بل پر آکڑخان بنے پھرتے ہیں۔ کوئی چھپن مسجدوں کے امام اپنے ہونے کا دعوی کر کے اہل علاقہ اور تھانے کچہری میں اپنا دبدبہ دکھاتا ہے، تو کوئی ہزاروں پیروکاروں کی دھونس کو اپنا تمغہ بنا کر پھرتا ہے۔ کوئی کسی “سپاہ” کا کارکن ہوتا ہے تو کوئی کسی برادری کا بندہ۔ غرضیکہ، جس کا جتنا بس چلتا ہے، وہ اپنا چالان کروانے کی بجائے کانسٹیبل کو مکا مارنا اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔

اب اس تناظر میں واپس آجائیے فوج کر طرف۔ ایک ایسے ملک میں جہاں وہ سب ہورہا ہو، جو آپ نے اوپر ملاحظہ کیا ہے، وہاں ایک ایسےادارے،جس کی طاقت اور اختیارات بے پناہ ہوں، کے ملازمین کا وقتاً فوقتاً آپے سے باہر ہوجانا بعید از قیاس بات کیونکر ہو سکتی ہے۔ کسی حالیہ سیانے کا قول ہے کہ “طاقت تباہی لاتی ہے، اور مکمل طاقت مکمل تباہی لاتی ہے”۔ کوئی بھی ایسا ادارہ جس کے ملازمین کو امن و امان اور عوامی کنٹرول کے اختیارات دیے گئے ہوں، ان میں سے چند ایک کے ، ان اختیارات کو ناجائز استعمال کرنے کو اتنا بڑا سانحہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

امریکہ میں پچھلے کچھ عرصے سے ایسے واقعات تواتر سے ہو رہے ہیں جس میں انکی پولیس کے کئی افسران اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے پائے گئے ہیں۔ کئی ایک ایسے واقعات میں تو قتل تک کی واردات ہیں۔ جن میں کسی پولیس والے نے ایک نہتے شہری کو ناجائز طور پر گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ اگرچہ ان واقعات پر محکمانہ کاروائیاں بھی معمول کا حصہ ہیں، مگر زہن میں رکھنے والی بات یہ ہے کہ ایسے اداروں کے ملازمین میں ایسے افراد ہونا کوئی انہونی بات نہیں۔

ایک بات جومیں فوج کی تربیت کے حوالے سے کہنا چاہوں گا کیونکہ میرے خاندان اور دوستوں میں کئی فوجی شامل ہیں۔ اسلیے اپنے ذاتی تجربہ کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ پاکستان کی فوج ایک ایسا ادارہ ہے جو اپنے اندر شامل ہونے والے ہر فرد کی بہترین تربیت کرتا ہے۔ اور اسکو ایک “بلڈی سویلین” سے ایک کارآمد اور مفید فوجی افسر و جوان بناتا ہے۔ مگر ایسا کرتے کرتے بسا اوقات وہ “بلڈی سویلینز” سے بہت دور چلا جاتا ہے، اور اپنے آپ کو انکا سابقہ حصہ ماننے سے بھی انکا ر کر دیتا ہے۔ میرے خیال میں یہی ایک ایسی پخ ہے جس پر میں کہہ سکتا ہوں کہ فوج کو اپنے تربیتی کورس میں زور دینا پڑے گا۔

آخر میں ان تمام اصحاب کو، جو سوشل میڈیا پر فوج کو بدنام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، میں یہ کہنا چاہوں گا، کہ ابھی بھی آپ کے ملک میں واحد فوج ہی ایسا ادارہ ہے، جس سے آپ یہ امید رکھ سکتے ہوکہ محکمانہ کاروائی کر کے وہ اپنے اندر موجود مجرموں کو سزا دے سکتے ہیں۔ اور فوج ہی وہ واحد ادارہ باقی رہ گیا ہے، جہاں آج بھی گجرات کے گاؤں سے پیدل چل کر امتحان دینے والا ، بغیر کسی سفارش کے افسر بھرتی ہو سکتا ہے۔ اور میرٹ کی کوئی باقیات اگر نجی کاروباری شعبے کے علاوہ کہیں پائی جاتی ہیں تو وہ بھی فوج ہی ہے۔

آپ بھلے باقی تمام اداروں کی طرح فوج کو بھی مقدس گائے مت بننے دیں، مگر واپڈا اور فوج کی زمہ داریوں میں فرق کو بھی ملحوظ خاطر رکھا کریں۔ آپ کے ملک میں دہشت گردی سے لے کر کرپشن پر کریک ڈاؤن پر اگر آپ کو فوج کے علاوہ کوئی نظر نہیں آتا تو انکے اکا دکا افسران کی حماقت پر ادارے پر چڑھائی زیادتی ہو گی۔

(ادارہ “مکالمہ” فوج کو حاصل طاقت کی وجہ سے اسے اتنا ہی قابل احتساب بھی سمجھتا ہے۔ فوج کو اپنے ان چند افسران کے خلاف کاروائی کر کے یہ واضح پیغام دینا چاہیے کہ بطور ادارہ وہ خود کو قانون سے بالا نہیں سمجھتی۔ایڈیٹر)

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *