سیاست اور نئی نسل ….لائبہ خان

دنیا میں وہی قومیں ترقی کررہی ہیں جہاں تعلیم کا حصول اولین ترجیحات میں سے ہوں ۔ اور وہی ممالک آج دنیا پہ راج بھی کر رہے ہیں ۔اگر کچھ دیر کے لئے آپ غور کریں تو دنیا کے امیر ممالک کی فہرست میں آپ کو اکثر ملک مسلمانوں کے نظر آئینگے لیکن ترقی اور طاقت کے لحاظ سے عالمی درجہ بندی میں ان کا کوئی اہم مقام نہیں ہے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ ترقی کے لئے تعلیم ضروری ہے نہ کہ پیسہ ۔

اس حوالے سے ہم پاکستان کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان میں تعلیمی شعبہ پہلے کی بنسبت کافی بہتر ہے ۔اعلی تعلیم کے کئی بڑے ادارے قائم ہوئے ہیں ۔اور کئی پاکستانیوں نے کیمبرج اور دیگر اداروں میں اعلی کارگردگی کے بے مثال ریکارڈ بنادئیے ۔لیکن افسوسناک اطلاع یہ ہے کہ اب تعلیمی اداروں میں بھی سیاست کا ناسور داخل ہوچکا ہے ۔اور یہ پرامن سیاست نہیں بلکہ گولی اور لاٹھی والی سیاست ہے جس سے نئی نسل شدید خطرے سے دوچار ہے ۔وہ سٹوڈنٹ جو کتابی کیڑے سمجھے جاتے تھے اب وہ زندہ باد اور مردہ باد جیسے کھوکھلے نعروں کے کیسٹ بنے ہوۓ ہیں ۔

آپ جامعہ کراچی کا جائزہ لیں یا جامعہ پنجاب لاہور کا، اب دونوں سیاسی نرسریاں بن گئی ہیں۔ کسی زمانہ میں وہاں علمی مکالمے اور مباحثیں ہوتی تھیں ۔اب سیاسی جھگڑےاور جلسے ہوتے ہیں ۔اور ہر لیڈر ان طلباء و طالبات کو استعمال کرتے ہیں۔اور پھر یہی لیڈر ان نوجوانوں کو ملک سے بغاوت کا سبق پڑھاتے ہیں یا کرپشن کے نئے راستے دکھاتے ہیں ،یا فرقہ وارانہ فسادات میں بطور اندھن کے استعمال کرتے ہیں۔

سیاسی کلچر تعلیمی اداروں کے لئے ناسور اور نوجوان نسل کے لئے کینسر ہے ۔اب وقت آگیا ہے کہ ہم سیاست کو تعلیمی اداروں سے دور کریں۔ اور نئی نسل کو پرامن تعلیمی ماحول فراہم کریں ۔تاکہ نئی نسل پڑھ کر ملک کو ترقی کی راہ پہ گامزن کرے ۔اور تعلیم یافتہ معاشرہ وجود میں آجائے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *