اکتائے ہوئے رہنا۔۔۔مرزا مدثر نواز

وہ انجنیئر ہے اور ایک ادارے میں بہت ہی اچھی اجرت کے ساتھ اعلیٰ پوسٹ پر ملازمت کر رہا ہے‘ شادی ہوئی تو ہمسفر بھی ڈاکٹر ملی‘ والد صاحب اکیسویں گریڈ سے ریٹائرڈ ہیں‘ بہن اور بھائی بھی ڈاکٹر ہیں‘ مہنگی ترین گاڑی بھی پاس ہے‘ رہائش اور اس کا مقام بھی اعلیٰ ترین ہے‘ لیکن ان تمام نعمتوں اور آ سائش و آرام کی زیادتی کے باوجود اگر کسی چیز کا فقدان ہے تو وہ ہے کلمۂ شکر‘ اکثر و بیشتر اس کی گفتگو میں اکتاہٹ‘ گلہ زاری اور احساس کمتری کا عنصر نمایاں نظر آتا ہے اور اس کی وجہ شاید ہمیشہ خود سے اوپر کی طرف دیکھنا ہے‘
؂عادت ہی بنا لی ہے تم نے تو منیر اپنی
جس شہر میں بھی رہنا‘ اکتائے ہوئے رہنا
شکر کے اصلی معانی یہ ہیں کہ ’’ جانور میں تھوڑے سے چارہ ملنے پر بھی تروتازگی پوری ہو اور دودھ زیادہ دے‘‘۔ اس سے انسانوں کے محاورہ میں یہ معانی پیدا ہوئے کہ کوئی کسی کا تھوڑا سابھی کام کر دے تو دوسرا اس کی پوری قدر کرے‘ یہ قدر شناسی تین طریقوں سے ہو سکتی ہے‘ دل سے‘ زبان سے اور ہاتھ پاؤں سے‘ یعنی دل میں اس کی قدر شناسی کا جذبہ ہو‘ زبان سے اس کے کاموں کا اقرار ہو اور ہاتھ پاؤں سے اس کے ان کاموں کے جواب میں ایسے افعال صادر ہوں جو کام کرنے والے کی بڑائی کو ظاہر کریں۔ شکر کا الٹ کفر ہے۔ اس کے لغوی معانی چھپانے کے ہیں اور محاورہ میں کسی کے کام یا احسان پر پردہ ڈالنے اور زبان و دل سے اس کے اقرار اور عمل سے اس کے اظہار نہ کرنے کے ہیں‘ اسی سے ہماری زبان میں ’’کفران نعمت‘‘ کا لفظ استعمال میں ہے۔ یہی کفر وہ لفظ ہے جس سے زیادہ کوئی برا لفظ اسلام کی لغت میں نہیں ‘ اللہ پاک کے احسانوں اور نعمتوں کو بھلا کر دل سے اس کا احسان مند نہ بننا‘ زبان سے ان کا اقرار اور عمل سے اپنی اطاعت شعاری اور فرمانبرداری ظاہر نہ کرنا کفر ہے۔
پروردگار اپنے بندوں سے صرف دو باتیں چاہتا ہے‘ شکر اور ایمان‘ ایمان کی حقیقت تو معلوم ہے اب رہا شکر تو شریعت میں جو کچھ ہے وہ شکر کے دائرہ میں داخل ہے۔ ساری عبادتیں شکر ہیں‘ بندوں کے ساتھ حسن سلوک اور نیک برتاؤ کی حقیقت بھی شکر ہی ہے۔ دولت مند اگر اپنی دولت کا کچھ حصہ اللہ کی راہ میں دیتا ہے تو یہ دولت کا شکر ہے۔ صاحب علم اپنے علم سے بندگان الہیٰ کو فائدہ پہنچاتا ہے تو یہ علم کی نعمت کا شکر ہے طاقتور کمزوروں کی امداد و اعانت کرتا ہے تو یہ بھی قوت و طاقت کی نعمت کا شکرانہ ہے۔آپﷺ کے سنن اور شمائل میں ہر وقت اور ہر موقع کی اس کثرت سے جو دعائیں ہیں مثلاََ کھانا کھانے کی‘ نئے کپڑے پہننے کی ‘ سونے کی‘ سو کر جاگنے کی‘ نئے پھل کھانے کی‘ مسجد میں جانے کی وغیرہ وغیرہ ان سب کا منشاء اللہ تعٰلٰی کی ان نعمتوں کی حمد اور زبان سے اس کا شکریہ ادا کرنا ہے لیکن زبان کا یہ شکریہ دل کا ترجمان اور قلبی کیفیت کا بیان ہونا چاہیے۔
ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے زبان سے الحمد اللہ پڑھ دیا تو مالک کا شکر ادا ہو گیا۔ حالانکہ یہ صحیح نہیں ہے شکر دراصل دل کے اس لطیف احساس کا نام ہے جس کے سبب سے ہم اپنے محسن سے محبت رکھتے ہیں‘ ہر موقع پر اس کے احسان کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کے لیے سراپا سپاس بنتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ ہم اس کو خوش رکھ سکیں اور اس کی فرمائشوں کو پورا کرتے رہیں‘ اگر ہم صرف زبان سے شکر کا لفظ ادا کریں لیکن دل میں احسان مندی اور منت پذیری کا کوئی اثر اور کیف نہ ہو‘ اور اس اثر کے مطابق ہمارا عمل نہ ہو تو ہم اس محسن کی احسان مندی کے اظہار میں جھوٹے ہیں اور وہ شکر معبود کی بارگاہ میں قبول نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر انسان کے دل میں ایک شکر ہی کا جذبہ پیدا ہو جائے تو دین و دنیا میں بھلائی کے لیے اس کو کسی اور تنبیہ کی ضرورت نہ ہو ‘ وہ اللہ کی نعمتوں کی قدر جان کر اس کو مانے گا اور اس کے حکموں پر چلے گا اور اسی کے بندوں کے ساتھ شکرانہ میں بھلائی کرے گا اور خود بندوں کے احسانات کے جواب میں بھی ان کے ساتھ نیکی اور خیر خواہی کرے گا۔ بلکہ آپﷺ نے خود آپس میں ایک انسان کی دوسرے انسان کے ساتھ شکر گذاری کے جذبہ کو خالق کے احسانات کی شکر گذاری کا معیار مقرر فرمایا ہے‘ ارشاد ہوا ’’ یعنی جو انسانوں کا شکر ادا نہ کرے گا وہ اللہ تعٰلٰی کا بھی شکر ادا نہ کرے گا‘‘

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *