دلِ زار کی حالت۔۔۔کامریڈ فاروق بلوچ

میرے دادا مرحوم نے اپنے عہد کے بڑے استادوں کو پڑھا اور سنا تھا اِس لیے اُن کے استدلال میں معروضی تنقید بدرجہ اتم موجود تھی۔ مجھے وہ ایک مرتبہ سیکھا رہے تھے کہ کوئی بھی کام کرنے سے قبل اُس کا ایک خیالی ڈھانچہ تیار کر کے اُس پہ عمل کرنا چاہیے تاکہ کہیں کوئی بھول چوک نہ رہ جائے۔ دادا نے کہا “مثال کے طور پر  آپ نے کل بارہ بجے ملتان پہنچنا ہے تو آپ کو آج ہی ٹکٹ کنفرم کروا لینی چاہیے کیونکہ ہمارے ہاں انہونی غیرمعمولی نہیں ہے۔ اِس کے علاوہ کنفرم ٹکٹ کے باوجود آپ کو پہلے اور بعد کے ٹائموں کے ساتھ ساتھ دیگر بس اڈوں کی معلومات بھی ہونی چاہئیں تاکہ عین وقت پہ مسئلہ کھڑا نہ ہو جائے۔ کب نکلنا ہے، کب پہنچنا ہے، متعلقہ مقام کا مکمل پتہ، وہاں تک پہنچنے کا طریقہ، وہاں کیا کرنا ہے، کیسے کرنا، اُس کی حدود و قیود کیا ہیں، وہاں کتنا وقت گزارنا ہے، واپس کیسے اور کب آنا ہے، سفر کے دوران پیسوں کی بچت کو کوئی معتبر طریقہ، سمیت بہت سی چیزوں پہ غور کرنا تاکہ آگے جاکر مشکل پیش نہ آئے۔ ایک بات یاد رکھنا جنگ وہی فوج جیت سکتی ہے جو زمانہ امن میں جنگ کی تیاری کر لے۔

سیاسی اور انقلابی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں۔ کامیاب اور اہل سیاستدان کسی بھی نظام، ادارے یا بندوبست کے خاتمے کے طریق کار کے ساتھ ساتھ اُس بعد کے یعنی متبادل نظام، ادارے یا بندوبست کی منصوبہ بندی کرتے تھے  تاکہ دشمن کی شکست کے بعد جب معاملات ہمارے ہاتھ میں ہوں گے تو ہم اُن کو کیسے اور کن بنیادوں پہ چلائیں گے۔ جب کوئی بھی پارٹی میدانِ سیاست و سیادت میں اترتی ہے تو سیاسی مہم کے ساتھ ساتھ الیکشن جیتنے اور ہارنے کے بعد کا منظرنامہ ترتیب دیکر دونوں صورتوں میں اپنا لائحہ عمل پہلے ہی تیار کر لیتی ہے جس کے اوپر عملدرآمد بعد میں کیا جاتا ہے۔

جب عمران خان ٹرک کی بتیاں اور پھوتیوں کی مانند بڑی بڑی چھوڑ رہا تھا تب بھی میرا یہی کہنا تھا کہ بھئی کیسے؟ عمران خان  نے کہا وہ اتنے لاکھ گھر بنائے گا، یار لوگ پوسٹوں پہ پوسٹیں ٹھوک رہے تھے کہ یہ تو انقلابی قدم ہے۔ عمران خان عوام کی تقدیر بدل رہا ہے، میں نے تب بھی کہا تھا کہ اتنے لاکھ گھر کم ہیں، پاکستان میں پندرہ جدید منصوبہ بند شہر آباد ہونے چاہئیں، لیکن عمران خان اتنے گھر کیسے بنائے گا؟ کیونکہ اُس نے کوئی ہوم ورک کوئی پلاننگ نہیں کی ہوئی، وہ بس وقت گزاری کے لیے انقلابی نعرے لگائے جا رہا ہے۔ کیا عمران خان نے الیکشن مہم کے دوران بتایا تھا کہ مہنگائی کے خاتمے کے لیے مہنگائی کرنی پڑے گی؟ یہ تو ایسا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لیے کرپشن کرنی پڑے گی یا پھر یوں بھی بعید نہیں کہ نواز شریف کے خاتمے کے لیے نوازشریف بننا ہو گا؟ مجھے وہ ڈائیلاگ یاد آ رہا ہے جس میں نشے کے خاتمے کے لیے نشہ پی پی کر ختم کرنے کا پلان بتایا جاتا ہے۔

ماحولیات، تفریح، سیاحت، ڈیم، اربوں درخت سمیت کے پی کے میں نجانے کیسے کیسے خواب نہ دکھائے گئے، وہاں مٹی تے سواہ تبدیلی نہیں آئی۔ کبھی چین کو کھوتے بیچنے کے منصوبے سامنے آئے.،کبھی سستی ترین ٹرانسپورٹ کا نعرہ سامنے آتا تھا۔ اسد عمر کی آنکھوں میں موجود ذہانت اور لیاقت اُس کی عینک میں بھی نہیں چھپتی تھی، عمران خان کے وژن اور نان کرپٹ ٹیم کی کارکردگی تو چَوک میں ننگی ہو رہی ہے۔

خان صاحب کی نجی زندگی اور اُن کے عزیزوں کے سکینڈل پھٹنے کو تیار ہیں۔ آنجناب کے تمام حالیہ فیصلے اُن کی جھنجھلاہٹ اور بیچارگی کا اعلان کر رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے پاکستان میں کسی عرب آمر کی حکومت آ گئی ہے  سوشل میڈیا پہ حکمران ٹولے پہ مذاق بنانے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے۔ اُن سوشل میڈیا یوزرز کو گرفتار کر لیا جنہوں نے سعودی شہزادے کی آمد پہ سیاسی تنقید کی تھی۔ ملک میں قاتل وکٹری کا نشان بنا کر آتے جاتے ہیں جبکہ عوام شاہرات پہ اپنے ہی ٹیکس پہ پلنے والے حکومتی غنڈوں کا شکار بن جاتی ہے۔

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور بچوں کی ادویات میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں غربت مٹاؤ پروگرام شروع کیا گیاہے.۔یہ ایسے ہی ہے  کہ کسی کو چوک میں شلوار اتارنے کے بعد کہا جائے کہ ہم اِس کی عزت کرتے ہیں۔ اسد عمر دنیا کا پہلا وزیر ہو گا جو عوام کو چیخیں نکلوانے والی مہنگائی کرنے کی باتیں کر رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد اربوں روپے کی کرپشن کا خاتمہ ہو چکا، عوام کو روزانہ چوری ہونے والا پیسہ بھی اب چوری نہیں ہو رہا پھر بھی مہنگائی بڑھ رہی ہے، اِس صورتحال کی کس کو سمجھ نہیں آ رہی؟ اچھا موجودہ حکومت کی نااہلی ملاحظہ فرمائیں کہ میٹرو بس کے منصوبے میں سیوریج کا نظام ڈالنا ہی بھول گئے اور تنگ ظرفی ملاحظہ کیجیے کہ صوبہ بھر کے لیکچرار چیئرنگ کراس پہ ہفتے سے احتجاج میں دھرنا دئیے بیٹھے ہیں جبکہ ممبران صوبائی اسمبلی و کیبنٹ کی تنخواہوں و آلاؤنسز میں ہوشربا اضافہ کیا گیا ہے۔ مولانا مسعود اظہر کو خالہ کا بیٹا بنا رکھا ہے جبکہ مشال خان کا باپ عدالتوں کے چکر کاٹ رہا ہے۔ کبھی کوئی ذہنی مریض کسی استاد کو چھریوں سے کاٹ ڈالتا ہے تو کبھی کوئی بَس سکول کی بچیوں کو لتاڑ دیتی ہے۔

مجھے اپنا ایک رشتہ دار یاد آ رہا ہے جو تبلیغی جماعت میں شامل ہوا تو اللہ کے بندوں کو جہنم سے بچانے کے پہلے یہ ثابت کرتا کہ اللہ کے بندو تم جہنم کے قابل ہو لہذا جہنم سے بچو۔۔۔ حتی کہ رشتہ دار اور احباب اُس سے گریزاں ہو گئے۔ تحریک انصاف کے لوگ بھی اپنے سوا ہر بندے کو کرپٹ اور ملک دشمن سمجھتے ہیں۔ مخصوص فاشسٹ رویہ کہ اپنے سیاسی مخالفین کو لتاڑ کے رکھ دینا ہے۔ پارٹی سربراہ سے لیکر عام سپورٹر تک غلیظ القابات اور گندی گالیوں پہ لگے ہوئے ہیں۔

ملک کی کوئی اقتصادی پالیسی بھی ہے؟ کیا کوئی صنعتی پالیسی بھی ہے کہ خطے میں لگتے ہوئے پیداواری انباروں کے مقابل کیسے کھڑا ہونا ہے؟ کیا پیداوار کرنی ہے، کتنی اور کب کرنی ہے، اُس کی کھپت کہاں ہو گی اور اُس میں اضافہ کیونکر ہو گا؟ کوئی تعلیمی، ادارہ جاتی یا کوئی زرعی پالیسی؟ جواب؟ ۔۔۔بس اللہ پہ بھروسہ کریں اور عمران خان کے وژن پہ عمل ہوتا دیکھیں۔ حالت تو یہ ہے کہ پارلیمانی امور سنبھالنے والی وزارت پہ ریٹائرڈ برگیڈیر لگا ہوا ہے۔

فاروق بلوچ
فاروق بلوچ
مارکسی کیمونسٹ، سوشلسٹ انقلاب کا داعی اور سیاسی کارکن. پیشہ کے اعتبار سے کاشتکار.

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *