امید باقی رہے۔۔۔۔ہارون وزیر

 اس سال فروری میں اسلام آباد دھرنے کے بعد سے زور پکڑنے والی تحریک پشتون تحفظ موومنٹ کو اب تک دس ماہ ہوگئے ہیں شروع میں ان کے چار مطالبات سامنے آئے جن میں سے کچھ پر اسی وقت کام شروع کر دیا گیا. شروع میں جتنا کچھ حاصل کیا سو کیا اس کے بعد سے پی ٹی ایم کی کوئی خاص اچیومنٹ نظر نہیں آ رہی ہے. پشتون تحفظ موومنٹ کے لشکر کی پیش قدمی اس وقت رکی ہوئی ہے. اگر اچانک کوئی بہت بڑی تبدیلی وقوع پذیر ہو جاتی ہے جس سے یکایک حالات مکمل طور پر تبدیل ہو جائیں تو الگ بات ہے ورنہ آثار سے تو یہی لگ رہا ہے کہ اس قافلے کے آگے بڑھنے کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ معدوم ہوتے جا رہے ہیں.

اس سے پہلے کہ دشت امکاں کو وصل جاناں کی  امید  نہ رہے (شاعر سے معذرت کہ آرزو کو امید سے بدل دیا) اس سے پہلے کہ امیدیں مایوسی کے اندھیرے میں کھو کر دم توڑ جائیں کیوں نہ سٹریٹجی چینج کی جائے. کیوں نہ منزل کے حصول کیلئے موجودہ طریقہ کار میں تھوڑی سی تبدیلی کرلی جائے. آخر پی ٹی ایم کا الٹیمیٹ ابجیکٹیو یہی ہے نا کہ قبائلی علاقوں میں پچھلے سولہ سالوں کی جنگ اور آپریشن کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کا حل نکالا جائے. لیکن اس وقت حالات یہ ہیں کہ اداروں اور پی ٹی ایم کی لڑائی میں قبائلی عوام پس رہی ہے. شروع میں جتنا کچھ ملا سو ملا موجودہ حالات میں مزید کسی benefit کا امکان نہیں. اگر پی ٹی ایم اپنا اثر کھو دیتی ہے تو ایسا نہ ہو کہ قبائلی عوام کے گلے میں پھندا مزید ٹائٹ ہو جائے.

یہ بات بالکل درست ہے کہ کہ شمالی و جنوبی وزیرستان کے لوگ پہلے دن سے جس طرح پی ٹی ایم کے ساتھ کھڑے ہیں آج بھی ویسے ہی کھڑے ہیں. لیکن اس بات کا آپ کو بھی ادراک کرنا پڑے گا کہ کے پی کے پینتیس میں سے بتیس اضلاع میں پی ٹی ایم کی جو آٹے میں نمک برابر سپورٹ تھی وہ بھی آج لر او بر یو افغان کے نعروں کی وجہ سے ختم ہو گئی ہے. ان بتیس اضلاع میں پی ٹی ایم کے جو اکا دکا سپورٹرز ہیں ان کے خلاف انتظامیہ نے جس دن ڈنڈا اٹھا لیا اس دن یہ اکا دکا بھی تحریک لبیک کے کارکنان کی طرح اخبارات میں اشتہار دے کر پی ٹی ایم سے اپنی برات کا اظہار کرتے پھر رہے ہوں گے.

پھر آپ تصور کریں کہ اکیلی شمالی و جنوبی وزیرستان کی عوام کب تک مزاحمت کر سکے گی. اپنے آپ کو اور علاقے کے لوگوں کو آئیسولیشن سے بچائیں. ایسا نہ ہو کہ پورا ملک ایک طرف کھڑا ہو اور پی ٹی ایم دوسری طرف. ایسی صورت حال یقیناً بہت نقصان دہ ہوگی. آپ نے کشمیر اور فلسطین کا نام تو سنا ہوگا. ان پر مظالم کی داستانیں معلوم و معروف ہیں. ان کی کتنی نسلیں برباد ہوگئیں. دنیا کو سب کچھ نظر آ رہا ہے. لیکن پھر بھی انڈیا اور اسرائیل کا آج تک کوئی کچھ بھی نہیں بگاڑ سکا. اگر سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر احتجاج سے کچھ ہونا ہوتا تو آج کشمیر اور فلسطین آزاد ہو چکے ہوتے.

اس لئے میری آپ سے درخواست ہے کہ اپنے دماغ کی بتی روشن کریں. اپنی تحریک پر نظرثانی کریں. میں ہرگز، ہرگز یہ نہیں کہتا کہ آپ اپنی تحریک ختم کر دیں بلکہ صرف اتنا کہہ رہا ہوں کہ اپنی ٹیم کمبی نیشن اور سٹریٹجی پر غور کریں. اپنے مطالبات rephrase کریں. جب کوئی ٹیم جیت نہیں رہی ہوتی تو کپتان بہترین نتائج کیلئے ٹیم کمبی نیشن چینج کر دیتا ہے. کچھ کھلاڑیوں کو نکال کر دوسرے کھلاڑیوں کو ان کرتا ہے. اسی لئے آپ اپنے کچھ متنازعہ کھلاڑیوں کو غیر فعال کردیں. کچھ ایسے نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کرلیں جن پر پی ٹی ایم کے علاوہ پاکستان کے باقی لوگ بھی آنکھیں بند کرکے اعتماد کر سکیں. جو غیر متنازعہ ہوں. جو منظور پشتین اور اداروں کے درمیان پل کا کام کرسکیں. جو منظور پشتین اور اداروں کو صحیح مشورے دے سکیں. وہ مشورے ایسے ہوں جن سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ فائدے حاصل کئے جا سکیں. ایسے نہ ہوں جو آپ کو ایک جگہ پر stuck کردے. اگر سامنے کوئی رکاوٹ نظر آ رہی ہو تو ضروری نہیں کہ آپ اس کے ساتھ ٹکرائیں بلکہ متبادل راستہ اختیار کریں.

اب بھی وقت ہے ڈیڈ لاک سے نکلیں. علاقے کی ترقی، نقصانات کے ازالے، روزگار اور تعلیم و صحت کے سہولیات کی فراہمی اور قانون کی عملداری کو بھی اپنے مطالبات میں شامل کرلیں. نقیب محسود کیس پر پی ٹی ایم نے بہت مایوس کیا. انہوں نے اس کیس کو صحیح طور سے فالو ہی نہیں کیا. نقیب محسود کے نام سے احتجاج پر تو زبردست توجہ دی، کیس پر نہیں. اس کیس کے لئے بہترین وکلاء کی ایک ٹیم بنائیں جو اس کیس پراپر طور پر فالو کرے. لینڈ مائینز اور چیک پوسٹوں پر نامناسب رویوں کے مطالبات پر عمل ہو چکا ہے. اگر تھوڑی بہت کمی ہو بھی تو وہ پوری کی جا سکتی ہے. مسنگ پرسنز کا معاملہ کچھ پیچیدہ ہے. اس کو نہایت باریک بینی سے دیکھنے کی ضرورت ہے. پی ٹی ایم کو چاہیے کہ اپنے مسنگ پرسنز کی ایک لسٹ مرتب کرے لیکن خیال رہے کہ یہ مسنگ پرسنز ایسے نہ ہوں جو کسی بھی صورت میں ٹی ٹی پی کا حصہ رہے ہوں بلکہ ایسے ہوں جن کے بارے میں سب گواہی دے سکے کہ یہ واقعی بے گناہ ہیں. اور اداروں کے پاس ہیں. پھر اس لسٹ کو پبلک کردیں.

اس صورت میں انشاءاللہ مسنگ پرسنز کا معاملہ بھی حل ہو سکتا ہے. معاملات کو الجھانے کی بجائے سلجھانے کی پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے. بلیم گیم سے کچھ حاصل نہیں ہوگا. پی ٹی ایم کے لئے میری آخری تجویز یہ ہوگی کہ اپنی جنگ اس ملک کی سرحدوں کے اندر لڑیں. افغانستان، برطانیہ اور جرمنی سے ملنے والی کمک نے آپ کو فائدے کی بجائے نقصان پہنچایا ہے. سب کچھ آپ کا داؤ پر لگا ہے. ان کا کچھ نہیں جائے گا. وہ ویسے کے ویسے ہی رہیں گے. اس لئے منظور پشتین کو مداخلت کرکے سرحد پار سے ملنے والی ہر طرح کی کمک کو روکنا ہوگا. خواہ وہ اخلاقی ہی کیوں نہ ہو. میری ان تجاویز پر ٹھنڈے دماغ سے غور کریں. میری اس تحریر کی وجہ منظور پشتین اور عارف خٹک کے درمیان ہونے والی ملاقات ہے. میں چاہتا ہوں کہ اس ملاقات سے فائدہ اٹھا کر تحریک کو نیا رخ دیا جا سکے. اللہ ہم سب کی مشکلیں آسان فرمائے. آمین ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *