قتل سے بڑا المیہ قاتل کا اطمینان ہے۔۔۔۔علی اختر

نیلی شرٹ میں ملبوس وہ دبلا پتلا نو عمر سا لڑکاہے۔ ہاتھوں  پرپٹیاں بندھی ہیں ۔ چہرے پر سکون جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ بظاہر بے ضرر سا نظر آنے والا یہ نو جوان تھوڑی دیر پہلے اپنی ہی یونیورسٹی کے ایک استاد کو چاقو کے وار کر کے زخمی کر چکا ہے ۔

اطلاع دینے والا کہتا ہے “تمہیں پتا ہے وہ مر چکا “۔

نو جوان کے چہرے پر چمک پیدا ہوتی ہے ۔ “اچھی بات ہے “۔

“کیوں مارا اسے ” سوال پوچھا جاتا ہے ۔

” وہ اسلام کے خلاف بولتا تھا۔ بہت توہین کرتا تھا ۔ روز توہین کرتا تھا ” پورے سکون سے جواب ملتا ہے ۔

“اگر تمہیں کوئی  مسئلہ تھا تو ادارے موجود ہیں ۔ قانون موجود ہے ۔ تم شکایت کر سکتے تھے ”

“وہ قانون جو گستاخوں کو رہا کر رہا ہے ؟ ” اس بار جواب خود ایک سوال ہے۔

“مطمئن ہو جو کیا اس سے ؟”

”  ہاں  میں بالکل مطمئن ہوں۔ خدا کا شکر ہے ”

اضطراب و سکون دونوں ذہنی کیفیات ہیں ۔ انسان دماغ کے ذریعے مضطرب ہوتا ہے لیکن اثر چہرے اور جسم سے عیاں ہو جاتا ہے ۔ لیکن اس کیس میں ایک نوعمر لڑکا نہایت اطمینان سے ریاست کے سب سے بڑے جرائم میں سے ایک کرکے بیٹھا ہے ۔

زبان میں لڑکھڑاہٹ ہے نہ ہاتھوں میں کپکپی۔ معذرت چاہوں گا لیکن قاتل سے زیادہ گھاتک اسکے لہجے کا اطمینان ہے ۔

بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ  یہ قاتل بے قصور ہے اور اس اطمینان کے پیدا کردہ عناصر اصل ناسور ہیں۔

قاتل کے لیئے محض مقتول کااسکی دانست میں گستاخ ہونا کافی ہے ۔اور بس ۔

یہی تو اسے سکھایا گیا ہے۔ خطیبوں کو یہی کہتے سنا ہے اس نے اور عمل کرنے والوں کے حق میں لاکھوں کا مجمع بھی دیکھا ہے۔

گستاخ کا سر تن سے جدا کرنا فرض عین اور مذہب کا بنیادی تقاضا  ہے ۔ ایک مسلمان کے نزدیک اسلام سب سے پہلے ہے اور جو کچھ اس نے کیا اسکے نزدیک وہی اسلام ہے ۔

نو جوان اپنا فرض پورا کر گیا ۔ مطمئن ہے ۔ جانتا ہے کہ  وہ پہلا نہیں  اور یہ بھی کہ  وہ آخری نہیں ہوگا ۔

میرے الفاظ سے ہر گز یہ مت سمجھا جائے کہ میں اس نوجوان کی حمایت کررہا ہوں ،بلکہ میں چاہتا ہوں کہ اسے سخت سے سخت سزا دی جائے،تاکہ آئندہ کوئی اپنے محسن  پر وار کرنا تو دور کی بات ایسا سوچ بھی نہ سکے، میں اس واقعے  کے پسِ پردہ حقائق پر بات کررہا ہوں ،کہ جس بات کا ڈر تھا وہ آج ہوگیا ہے،چند انتہا پسند اور متشدد ذہنوں نے جو بے سکونی معصوم اور ننھے دماغوں میں منتقل کی تھی وہ آج سامنے آرہی ہے۔۔۔اس اطمینان کی فصل کو ہم سب نے مل کر بہت محنت سے سینچا ہے،وہ اطمینان جو اس نوجوان کے چہرے اور الفاظ میں ہے، بہت سے قابل لوگوں نے آبیاری کی ہے ۔ نظریات و اگلے جہاں میں کامیابی کی نویدوں کی کھاد دے کر اسے تیار کیا ہے ۔

فصل پک چکی۔ جو کچھ بویا وہی حاصل ہوگا ۔ اور کیا کچھ بویا ہم اچھی طرح واقف ہیں ۔

علی اختر
علی اختر
جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *