کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔۔محمد ذیشان بٹ

آج کل شاید ہی کوئی شخص ہو جو اس کرونا سے متاثر نہ ہوا ہو۔ ہر ایک اس کے زیر اثر ہے۔ ذرائع ابلاغ ہمارا چونکہ لبرل طبقہ کے  زیرِ تسلط ہے اسی لے وہاں یہ اشتہارات عام ہیں ، کہ کرونا سے ڈرنا نہیں لڑنا ہے۔ جو کہ اس بات کو صاف ظاہر کرتی ہے کہ ان لوگوں نے اس سے کچھ نہیں سیکھا۔ اگر آپ کا معمولی سا بھی دین دار طبقے سے تعلق ہے کسی مسجد مدرسے میں آتے جاتے رہے ہیں۔ اہل علم کی صحبت رہی ہے تو آپ اس بات سے متفق ہونگے کہ کرونا سے لڑ تو آپ سکتے نہیں ہیں، ہاں جو آپ کو اشتہارات میں نہ ڈرنے کا کہہ رہے ہیں۔ان کی حالت یہ  ہے کہ ماں جائے بھی ایک دوسرے سے ملنا گوارا نہیں کر رہے۔ جو جتنا امیر ہے اور جو جتنا دنیا داری میں زیادہ پڑھا لکھا ہے وہ اتنا ہی ڈرا ہوا ہے۔ اب آپ کہیں گے کہ نہ ڈرنا ہے نہ لڑنا ہے  تو پھر کرنا کیا ہے۔ ؟

سب سے پہلے تو یہ سوچنا ہے جتنا ہم کرونا سے ڈر رہے ہیں اس کا ایک فیصد بھی کرونا کے خالق سے ڈرتے تو یہ نوبت ہی نہ آتی ہے۔ بہر حال اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے اس میں ایک اور فائدہ بھی ہے کہ لڑنا بھی نہیں پڑے گا۔ اب کالے انگریز کہیں گے کہ احتیاطی تدابیر کا کیا ہو گا ۔ تو اسلام سے زیادہ کسی نے احتیاط نہیں بتائی۔ پانچ وقت نماز پڑھیں ۔مسنون ازکار کو معمول بنالیں۔ خصوصاً استغفار درود شریف اور بارگاہ خالق و مالک میں گڑ گڑا کردعا ،اپنے سابقہ گناہوں پر معافی ،آئندہ زندگی نبی پاک صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق گزارنے کا عہد، انشااللہ آپ اللہ پاک کی حفاظت میں رہیں گے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *