جانا چین کو!۔۔۔ امجد خلیل

ہم چین آئے ہوئے ہیں-یہاں چین کے شہر شنگهائی میں واقع ایلیویٹرز(لفٹ)کی فیکٹری کا وزٹ پریشپمنٹ انسپکشن کرنے کی وجہ سے کرنا ہے- پری شپمنٹ وہی ہوتی ہے جو گوگل بابا آپ کو بتائے گا- لیکن بدقسمتی سے ہمارے پاکستانی تناظر میں عملی طور پہ ایسا ہوتا نہیں-اک رسم ہوتی ہے جو ادا کرتی جاتی ہے-اچهی ائیرلائن کے سفر کا مزا لیا جاتا ہے،فضائی میزبانوں کو کہنیاں مارتے ہوئے اچهی ائیرلائنز کے سفر کا مزا لیاجاتا ہے،کهانے کهائے جاتے ہیں،ٹورا پهیرا لگایاجاتا ہے اور الاونسز سمیٹ کر گهر واپسی ہوجاتی ہے-
بہرحال یہ ایک الگ کہانی ہے کہ پرائیوٹ سیکٹر میں کهانچے کیسے لگائے جاتے ہیں-
ابهی دکهڑا صرف اتنا رونا مقصود ہے کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈر نامی ایک ملٹی بلین ڈالر پراجیکٹ پاکستان میں لگنے جارہا ہے- ٹماٹر،ناشپاتی،شرٹ جوتے اور جراب تک ضرورت کی چیزیں پاکستان میں چائنہ سے آرہی ہیں-پورا ٹیلی کام سیکٹر کهڑا ہوا اور تمام پرزہ جات چائنہ سے چینی کمپنیوں نے امپورٹ کیے اور چینی انجنئیرز نے آکر انسٹال کیے-اگرچہ پاکستانی انجنئیرز کی معاونت بهی شامل رہی لیکن کسی بهی چینی کمپنی میں کام کرتے انجنئیر سے پوچها جاسکتا ہے کہ ہمارا اس سب میں ٹیکنیکلی کتنا کردارتها- یہ بهی وضاحت ہوجائے کہ چند ایک یورپی کمپنیاں بهی ٹیلی کام سیکٹر کے انفراسٹرکچر کو کهڑا کرنے میں مقابلے میں تهیں-لیکن ان کا مارکیٹ شئیرز دن بدن سکڑتا چلا گیا- اندازہ کیجئے کہ اسلام آباد بلیو ایریا کی ایک ہائی رائز بلڈنگ کے آٹهہ فلورز چینی کمپنی نے کرایہ پر لیے ہوئے ہیں- عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جہاں دو بندوں کی سیٹنگ کی گنجائش ہوتی ہے وہاں چینی چهے بندوں کو بهی گهسانے سے باز نہیں آتے اور دن کے چوبیس گهنٹوں میں سے ایسا شاید ہی کوئی لمحہ آتا ہو جب چینی دفتر میں کام کرنے کی غرض سے موجود نہ ہوں- جبکہ اسی بلڈنگ کا محض ایک ہی فلور برطانوی کمپنی کے پاس ہے-

 


ہونا یہ چاہیے تها کہ ہم چین سے ٹیکنالوجی خریدتے یا اس طرح کا معاہدہ کیا جاتا کہ ٹیلی کام سیکٹر یا کسی بهی دوسرے سیکٹر میں اگر چائنہ انوسٹمنٹ کرنا چاہتا تو چینی دوستوں کو پابند بنایا جاتا کہ انفراسٹرکچر کهڑا کرنا ہو یا پراجیکٹ کی او اینڈ ایم(آپریشن اینڈ مینٹیننس) کے لیے جتنے بهی پرزہ جات چاہیے ہوں ان کا کم از کم پچاس فیصد پاکستان میں پاکستانی انجنئیرز سے تیار کرایا جائے-اس طرح نہ صرف ٹیکنالوجی کا سافٹ ٹرانسفر ہوتا بلکہ ہماری انڈسٹری بهی فرعون کی ممی کا روپ نہ دهارتی-
دوستو! میں پوری ذمہ داری اور محدود سے تجربہ کی بنیاد پہ عرض کرتا ہوں کہ ہمارے انجنئیرز دنیا کے دوسرے انجنئیرز سے نظریاتی علم میں کسی بهی طرح کم نہیں- اور ہمارے انجنئیرنگ ٹیکنالوجسٹس جو عملی کام کرتے ہیں کی ایک بڑی کهیپ باہر ایکسپورٹ ہوتی ہے- اگرپاکستانی انجنئیرز،انجنئیر ٹیکنالوجسٹس اور چائنہ سے ٹیکنالوجی کے ٹرانسفر کو ملا کر تکون بنائی جائے تو یہ ایک بہترین پاکستانی فری میسنری تکون بن سکتی ہے-
افسوس ایسا کچهہ نہیں ہوا اور ہرگزرتے دن کیساتهہ ہم چائینز پراڈکٹس کی منڈی بنتے چلے جارہے ہیں- کیا ہم نہیں سمجهہ سکتے کہ محض منڈی بننا غربت،تعیش پسندی تفلج اور طفلیہ پن کی طرف لیکر جاتی ہے جبکہ کارخانے داری کا کلچر،نئے آئیڈیاز کی حقیقی شکل دینا سوسائٹی اور ملک کو دنیا کی غلامی سے نکالنے،خودمختار بنانے،محتاجی ختم کرنے کا واحد وظیفہ ہے-ہمارا یہ دکهڑا بهی سن لیجئے کہ چین کی اتنے بڑے سکیل کی منڈی بن جانے، اور بےشمار امپورٹرز کے متعدد بار چائنہ کا سفر اختیار کرنے کے باوجود پاکستان سے چائنہ کا فضائی سفر ایک تلخ تجربہ ہوتا ہے- میری معلومات کے مطابق کوئی ایک بهی ڈائیریکٹ فلائٹ پاکستان سے چائنہ کے شہروں بیجنگ یا شنگهائی وغیرہ نہیں جاتی- کنیکٹنگ فلائٹ پکڑکر پہلے آپ کو ابوظہبی یا کسی اور ملک جانا پڑتا ہے وہاں کچهہ گهنٹے برباد کرنے کے بعد دوبارہ پاکستان کے اوپر سے ہی گزر کر بیجنگ یا شنگهائی جانا پڑتا ہے-
سوچتا ہوں کہ چائنہ سےپیار کی پینگیں گهاٹے کا سودا ہے یا خسارہ ہے نرا- ٹرمپ کی سنجیدہ دهمکیوں کے جواب میں چائنہ کا ہماری مدد میں آواز اٹهانے کو میں یہ سمجهتا ہوں کہ کوئی بهی سمجهدار آدمی اپنی منڈی کو بدمعاشوں کے ہاتهوں اجڑتے نہیں دیکهہ سکتا-جہاز کا سسٹم بتارہا ہے کہ اس وقت ہم جے پور،نئی دلی کے اوپر سینتیس ہزار فٹ کی بلندی پہ پانچ سو پچهتر ایم پی ایچ کی گراونڈ سپیڈ سے اس بوئنگ طیارے میں ان گنت چینیوں کے بیچ موجود دعاگو ہیں کہ اللہ ہمیں ماوزے تنگ کی روحانی اولادوں کا محتاج نہ بنائے اور ہم دنیا کو نئی چیزیں،نئی آئیڈیاز دینے والی قوم بنیں-

Avatar
امجد خلیل عابد
ایک نالائق آدمی اپنا تعارف کیا لکھ سکتا ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *