مچھلی سے گدھے تک۔۔۔۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی/پہلی قسط

یہ ساٹھ کی دہائی کا اختتام تھا، رنگ پور گاؤں کے پانچ سو کے قریب گھرانے مقامی دریا کے کنارے آباد ،بلکہ شاد تھے۔ یہاں کی بہترین آب وہوا کا متبادل دنیا میں کہیں اور نہ تھا، مقامی افراد کا گزر بسر عموماً کھیتی باڑی پر تھا، اگرچہ کچھ افراد نوکری یا چھوٹے درجے کی تجارت کے حامل بھی دکھائی دیتے تھے، گاؤں کے عین وسط میں ایک مسجد ، عبادات کے علاوہ مقامی پنچایت و دیگر اکٹھ کا بھی مرکز تصور کی جاتی تھی، اسی مسجد کے ایک حصّے کو مدرسہ کا نام دیا گیا تھا، جہاں زیادہ تر ناظرہ قرآن کی تعلیم کی مشق ایک مقامی ملّا، حناب مولانا ابراہیم صاحب انجام دیتے تھے، اہلِ علاقہ کی اکثریت سُنی مسلک سے تعلق رکھتی تھی، اگرچہ چند ایک اہلِ تشیع کے گھرانے بھی تھے، مگر مختلف مسلکی تہوار ہمیشہ مل جل کے منائے جاتے تھے۔ رنگ پور میں ایک ہی سکول تھا، جو کہ مڈل تھا، اسی گاؤں کے رہنے والے عبدالرشید واصف صاحب سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے، عربی، فارسی، انگریزی زبانوں کے علاوہ مختلف علوم پر مہارت و تجربہ رکھنے والے ہیڈ ماسٹر صاحب کہنہ مشق ہونے کے ساتھ ساتھ بچوں و نوجوانوں کی نفسیات سے خوب واقف تھے، اسی لیے اس سکول کے نتائج پورے ضلع میں حیران کن ہوا کرتے تھے۔ اگرچہ یہاں کی متوازن غذا، بہترین آب وہوا، اچھے اخلاق و تربیت کی بدولت گاؤں میں ایک جنت کا سا سماں تھا، اس کے علاوہ فطرت کا قرب، متقی و عاقل بزرگ، بہادر نوجوان و نیک سیرت خواتین اس گاؤں کی پہچان تھے، گویا کہ فرانسیسی فلسفی ، روسو، نے اپنا فلسفۂ زندگی رنگ پور والوں کی زندگی سے کشید کیا تھا، مگر اس کے باوجود گاؤں میں کچھ شرارتی بچے، شوخ چنچل نوجوان، فقرہ باز بزرگ اور اپنے حسن کی قیمت جاننے، بلکہ بھاؤ بڑھانے کے فن سے آگاہ ، صنفِ نازک بھی پائی جاتی تھیں، گاؤں کا رہائشی ایک مسیح خاندان، کسی عید و خوشی کے موقع پر، مذکورہ افراد کے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا سامان بھی مہیا کر دیا کرتا تھا، جس کی بدولت معاشرتی پابندیوں سے متنفر افراد اپنی شاموں کے بوجھل پن سے نجات پایا کرتے تھے۔

رنگ پور میں دریا کے مغربی کنارے پر بسوں کا ایک اڈہ تھا، جو قریبی شہر کی آمدورفت کا  واحد راستہ یا ذریعہ تھا، اڈے کی پچھلی طرف عین دریا کے کنارے ایک بہت بڑا بورڈ نصب تھا، جس پر ایوب خان کی تصویر بڑی مہارت سے بنائی گئی تھی، جس کے نیچے مصرعہ، تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد، لکھا ہوا تھا، اس بورڈ کے دائیں طرف گاؤں کا واحد ہوٹل، منٹھار ہوٹل، تھا، اس ہوٹل کی مقامی دریائی مچھلی گردونواح کے تمام علاقوں میں اپنی شہرت رکھتی تھی، گاؤں کے افراد باہر سے آنے والے مہمانوں کی سیوا و بھگت کے لوازمات میں منٹھار ہوٹل کی مچھلی کو جزوِ لازم گردانتے تھے۔ زندگی کیلئے میسّر آسائیشوں اور صحتمند ذہن رکھنے کے باوجود گاؤں والوں کی نظر دنیا کے علم وفن میں اٹھتی تبدیلیوں سے ناواقف رہی، اسی طرح آبادی میں روزمرہ اضافے اور پلاسٹک بیگ کے بڑھتے استعمال کی طرف کوئی سنجیدہ توجہ نہ دی گئی۔

اگلے چند سالوں میں قومی سطح پر کچھ اہم واقعات رونما ہوئے، جن میں بنگلہ دیش کا قیام، پاکستان کا آئین، اور ذوالفقار علی بھٹو کی قیادت میں عوام کو ” سیاسی شعور ” سے آگاہی اہم ترین ہیں، پاکستان کی عوام کے ساتھ ساتھ رنگ پور کے باسیوں نے بھی پہلی دفعہ اپنے اندر ایک جذبۂ قومی کے احساس کو موجود پایا، مگر یہ سب کچھ اتنا سطحی اور کھوکھلا تھا کہ باسیوں کی اکثریت یہ سمجھنے میں ناکام رہی کہ درحقیقت یہ ان کا جذبۂ انسانی تھا جو سُکڑ کر اب جذبۂ قومی میں بدل چکا ہے، اسی طرح “سیاسی شعور ” نے عوام کو باقی ماندہ تمام اہم شعبہ جات کو پسِ پشت ڈالنے پر مجبور کیا، اور اب ہر عمر و جنس کے افراد کا دلچسپ مشغلہ سیاست پر بحث مباحثہ تھا، اسی ” سیاسی شعور ” کو ہی عقل و دانش کی علامت تصور کیا جانے لگا، دنیا میں پروان چڑھتے سائنسی علوم کا مقامی ماہرین کی نگاہ تعاقب نہ کر پائی، اور نظامِ تعلیم دورِ جدید کے تقاضوں سے ایک قدم پیچھے چلا گیا، آبادی اور پلاسٹک بیگز کے استعمال میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا، منٹھار ہوٹل میں مچھلی کی فروخت بدستور جاری تھی۔

جنرل ضیاءالحق کے اقتدار سنبھالتے ہی مسلمانوں کو “پکا مومن ” بنانے کا بیڑا اٹھایا گیا، نماز روزہ و دوسرے فرائض کو ہر حال میں پورا کرنے پر زور دیا جانے لگا، رنگپور میں اب اہل تشیع کی امام بارگاہ کے علاوہ، ایک بریلوی اور ایک اہلِ حدیث مسلک کی مساجد کی تعمیر عمل میں لائی جا چکی تھی، فرقہ پرستی اور دوسرے کے عقیدے پر انگلی اٹھانے کا دور شروع ہوا، گاؤں میں موجود مسیح خاندان کو زدوکوب کیا گیا کہ خاص مشروب پر اب پابندی لگ چکی تھی، نتیجتاً دکھاوے کی عبادات اور منافقت کے پردے میں لپٹی روحانیت سامنے آئی، عام فرد اپنی جمالیتی حِس کو تازیانوں کے سپرد کرنے پر مجبور ہوا، باغی ذہن کے افراد اپنی تسلئ طبیعت کیلئے گھٹیا قسم کے مشروب پر آمادہ دکھائی دئیے، افغان مہاجرین نے ملک کے کونے کونے میں اپنے پراؤ ڈالے، افغانستان کی جنگ میں رنگ پور کے تین چار نوجوان بھی شامل ہوئے، جن کی آج تک کوئی خبر نہ مل سکی، رنگ پور کی آبادی میں اضافے سے نئی تعمیرات سامنے آئیں، پلاسٹک بیگز کی بھرمار نے زمین کی زرخیزی پر اثر ڈالنا شروع کیا، اب اناج کم اور پیٹ زیادہ تھے، بےروزگاری نے اپنے پر پھیلانے شروع کئے، افغانستان کے باشندے منشیات اور اسلحہ اپنے ساتھ لائے تھے، اب جمالی رخ نے جلالی سمت میں سرکنا شروع کیا، منٹھار ہوٹل کے سامنے، شاندار ہوٹل کے نام سے اب ایک اور ہوٹل کھل چکا تھا، جہاں مچھلی کی بجائے دنبے اور بکرے کے گوشت کی کڑھائی بِکا کرتی تھی، قریبی بورڈ پر اب ایوب خان کی بجائے، مردِ مومن مردِ حق، برا جمان تھے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *