خوشی اور اس کا وجود۔۔۔۔حمزہ حنیف مُسائد

SHOPPING
SHOPPING

زندگی بہتر اور پُرسکون ہوتی ہے جب ہم خوش ہوتے ہیں لیکن زندگی بہترین تب ہوتی ہے جب دوسرے ہماری وجہ سے خوش ہوں یہ مثالیں اب تو عام سی ہوگئی ہیں لیکن یہ پتہ نہیں کہ ہم کب اتنی آسان اور عام سی باتیں سمجھیں گے۔
ہیلن کیلر نے کہا تھا ’’ہمیشہ مثبت پہلو پر نظر رکھیں اور منفی سوچوں کو یکسر بدل ڈالیں۔‘‘ ایک جملے کے کئی مطالب لیے جا سکتے ہیں۔ ہم اپنی سوچ سے کسی جملے کو معنی پہناتے ہیں اور اسے کوئی زاویہ دیتے ہیں۔ اگر ہم اس کو مثبت پہلو کی طرف لے جاتے ہیں تو ہمیں چیزیں خوب صورت اور حسین نظر آئیں گی۔ اسی طرح اگر ہم اس کا مطلب منفی پہلو کی طرف لے جائیں گے چیزیں کلی یا جزوی طور پر بری لگیں گی۔ منفی طرز فکر سے حسد، جلن، بغض، نفرت و حقارت جیسے جذبات پیدا ہوں گے۔

پاک کلام میں محبت کی تشریح بڑی خوب‌ صورت انداز میں کی گئی ہے۔‏ اِس میں لکھا ہے:‏ ”‏محبت صبر کرتی ہے اور مہربان ہے۔‏ محبت حسد نہیں کرتی،‏ شیخی نہیں مارتی،‏ غرور نہیں کرتی،‏ بدتمیزی نہیں کرتی،‏ مطلبی نہیں ہوتی،‏ غصے میں بھڑک نہیں اُٹھتی اور غلطیوں کا حساب نہیں رکھتی۔‏ محبت بُرائی سے خوش نہیں ہوتی بلکہ سچائی سے خوش ہوتی ہے۔‏ محبت سب کچھ برداشت کرتی ہے،‏ سب چیزوں کی اُمید رکھتی ہے اور ہر حال میں ثابت‌ قدم رہتی ہے۔‏

ایسی محبت ’‏کبھی ختم نہیں ہوتی‘‏ یعنی ہمیشہ قائم رہتی ہے۔‏ یہ وقت کے ساتھ ساتھ بڑھ سکتی ہے۔‏ چونکہ یہ صبر کرتی ہے،‏ مہربان ہے اور معاف کر دیتی ہے اِس لیے ”‏یہ ایک ایسا بندھن ہے جو لوگوں کو پوری طرح متحد کرتا ہے۔‏“‏
لہٰذا جن رشتوں کی بنیاد ایسی محبت ہوتی ہے،‏ اُن میں غلطیوں اور کوتاہیوں کے باوجود خوشیاں ہوتی ہیں اور وہ ہمیشہ قائم رہتے ہیں۔‏
خوش باش، زندگی سے بھرپور، ہنستے مسکراتے اور جینے کا لطف اٹھانے والے لوگوں کو دیکھ کر ہمیں بھی خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ انسان مثبت توانائی کی طرف زیادہ شدّت سے متوجہ ہوتا ہے۔ مثبت توانائی کی کشسش زیادہ ہوتی ہے۔ اکثر اوقات راہ چلتے، خریداری کرتے ہوئے، ڈرائیو کرتے ہوئے انٹر سیکشن پر اچانک کسی خوش باش چہرے پر نظر پڑ جاتی ہے اور اچانک ہم بھی غیر محسوس طور پر خوشی محسوس کرنے لگتے ہیں ہم بھی اس خوشی کی مقناطیسی فیلڈ میں داخل ہو جاتے ہیں۔ یوں ایک نا معلوم انجان شخص ہمیں خوشی جیسی بیش قیمت چیز دے کر آگے بڑھ جاتا ہے۔

ہمارے قرب و جوار میں، ہمارے آس پاس اور ہمارے ارد گرد خوش لوگوں کی موجودگی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ چاہے ہم خود خوش ہوں یا ہمارے آ س پاس خوش لوگوں کی اکثریت ہو، خوشی کی یہ موجودگی ہماری ذاتی نشو و نما کے لئے از حد ضروری ہے۔ ہمارا ارتقا کا سفر اس خوشی کی عدم موجودگی میں ادھورا رہ جاتا ہے۔ ہمیں اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے جس توانائی کی ضرورت ہوتی ہے، خوشی اسے ایندھن فراہم کرتی ہے۔

بذات خود خوش رہنا اور خوش لوگوں کے ساتھ رہنا بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر آپ اداس ہیں، خود رحمی کا شکار ہیں یا زندگی سے بیزار ہیں فوری طور پر ایسے دوستوں کے ساتھ وقت گزارنا شروع کر دیں جو بے سروپا باتیں کرتے ہوں، جن کی باتوں کا نہ سر ہو نہ پیر، جو بے مقصد باتوں پر آپ کے ساتھ مل کر اتنا ہنسیں کہ آپ کا ہنس ہنس کر منہ تھک جائے، آپ کی پسلیوں میں ہنس ہنس کر درد ہو جائے اور آپ روزمرہ کام کرتے ہوئے ان باتوں کو یاد کر کے بلا وجہ مسکرانے لگیں۔ یقین مانیں آپ کو کسی ماہر طبیب کی ضرورت باقی نہیں رہے گی، زندگی پھر سے مسکرانے لگے گی، پھولوں کے رنگ پھر سے نظر آنے لگیں گے اور پرندوں کی چہچہا ہٹ پھر سے سنائی دینے لگے گی۔

خوشی وبا کی طرح ایک انسان سے دوسرے انسان کو منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ دوسروں کو مسکراتا دیکھ کر ہم بھی غیر شعوری طور پر مسکرانے لگتے ہیں۔ مسکراہٹ کی یہ زبان تمام انسان بخوبی سمجھ لیتے ہیں۔ یہ وہ کرنسی ہے جو ہر جگہ چلتی ہے۔ کسی کی مسکراہٹ کے جواب میں مسکرا دینے سے بھی ہمارے جسم میں خوشی کے ہارمونز انڈورفینز، ڈو پا مین اور سیروٹونین خارج ہونے لگتے ہیں۔

انسان کی فطرت ہے کہ خوشی کے ماحول میں پھلتا پھولتا ہے اور اور اس کی غیر موجودگی میں مرجھا جاتا ہے۔ زندگی میں کامیابی کا احساس اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم آزادی سے اپنا اظہار کر سکیں، انسانیت کے ناطے ایک دوسرے کی بلا روک ٹوک مدد کر سکیں۔ خوشی کو الفاظ میں شاید بیان کرنا نا ممکن ہو لیکن دوسروں کو زندگی سے لطف اندوز ہوتے دیکھ کر ہمارے اندر بھی یہی جذبہ پھلنے پھولنے لگتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ محبت اور خوشی لینے سے نہیں دینے سے حاصل ہوتی ہے۔ کچھ لوگ بہت حساس ہوتے ہے زندگی گزارنے کے لئے ڈھیٹ ہونا پڑتا ہے۔ پریشانیاں، مشکلات اور رکاوٹیں ہر شخص کی زندگی میں آتی ہیں ان سے نمٹنے کا طریقہ ہمیں ایک دوسرے سے مختلف بناتا ہے۔ خوشی کا تعلق دولت اور مالی خوش حالی سے جوڑنا بھی غلط ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمیں کسی غریب کے چہرے پر مسکراہٹ نظر نہیں آتی۔

ہم اپنی زندگی میں بہت سی چیزوں کی چاہ رکھتے ہیں، بڑا گھر، مہنگی گاڑی، من چاہا شریک حیات، زیادہ پیسے کمانے والا روزگار ہمارے لئے خوشی تک پہنچنے کے راستے ہیں۔ یہ سب چیزیں حاصل ہو گئیں تو خوش ورنہ نا خوش۔ اگر ایک لمحہ تھم کر یہ سوچیں کہ کیا پھول کی خوبصورتی محسوس کرنے کے لئے ضروری ہے کہ لازمی اسے توڑ کر اپنے گھر لا کر اپنے کھانے کی میز کے بیچوں بیچ گلدان میں لگایا جائے گا تو ہی ہمیں اصل خوشی حاصل ہو گی۔ یہ بھی تو ہو سکتا ہے کہ پھول اپنے ماحول میں دوسرے پھولوں کے ساتھ لہلہاتا رہے اور ہم اسے دیکھ کر خوش ہو لیں۔ کیا ہماری خوشی کی تکمیل ملکیت کا ٹھپہ لگا کر ہی ممکن ہے۔ کیا اپنی ملکیت میں لائے بغیر خوشی کا حصول ممکن ہے؟

کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن سے ہمارا کوئی رشتہ کوئی واسطہ نہیں ہوتا پھر بھی انھیں دیکھ کے خوشی کا احساس ہوتا ہے۔ اگر زندگی میں خوشی چاہیے تو ایسے لوگوں کو تلاش کریں۔
زندگی کا کاروبار تو چلتا رہے گا۔ ہم مشینیں نہیں انسان ہیں۔ مشینیں نہیں مسکراتیں، انسان مسکراتے ہیں۔

زندگی میں اچھی چیزوں کے بارے میں بات کرنے سے اور شکر گزار ہونے سے خوشی میں اضافہ ہوتا ہے۔ قابل اعتماد دوستوں سے بات کرنا، اپنی زندگی کی نا ہمواریوں کا ذکر کر کے ہنسنا روزمرہ مشکلات کا سامنا کرنے میں سود مند ثابت ہوتا ہے۔ ایک کمیونٹی سے تعلق کا احساس ہماری صحت، موٹیویشن اور خوشی پر اچھا اثر ڈالتا ہے۔

مختلف لوگوں سے ان کی خوشی کی تعریف پوچھی گئی تو انہوں نے بڑے دلچسپ جواب دیے جو کچھ یوں ہیں۔
اپنی فکروں کو رفع کر دینا خوشی ہے۔
بچپن کے دوستوں کے ساتھ گھومنا پھرنا خوشی ہے۔
ونیلا آئس کریم پر میپل سیرپ ڈال کر کھانا خوشی ہے۔
چاہنا اور چاہے جانا خوشی ہے۔
امتحانات کا ختم ہونا خوشی ہے۔

اپنی خوشی کا اختیار خود حاصل کر لینا خوشی ہے۔
دوستوں سے بے سروپا باتیں کرنا خوشی ہے۔
اپنے بچے کو گلے لگانا خوشی ہے۔
اپنی مرضی کا کام کرنا خوشی ہے۔

SHOPPING

ذہنی سکون خوشی ہے۔
اچھی بات چیت کرنا خو شی ہے۔
سر درد کا اچانک غائب ہو جانا خوشی ہے۔
اور یہ فہرست نہ ختم ہونے والی ہے۔ ہر شخص کی خوشی دوسرے سے مختلف ہے۔ خوشی کی تعریف کرنا جتنا مشکل ہے اسے تلاش کرنا اتنا مشکل نہیں بس آپ جان پائیں کہ تلاش کہاں کرنا ہے۔

SHOPPING
SALE OFFER

Avatar
حمزہ حنیف مُساعد
میرا نام حمزہ حنیف ہے میں اندرونی سندھ سے تعلق رکھتا ہوں اور میرا شوق ہے کہ میں بھی لکھاری بنو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *