کیا عورت مرد سے کمتر ہے؟ ایک مغالطہ۔۔۔عامر کاکازئی

بچے کی پیدائش کے عمل کی شروعات میں ہمیشہ ایکس کروموسوم ہی نشوونما پاتا ہے اور پہلے پانچ سے چھ ہفتے ہر بچہ عورت ہی کی طرح بنتا ہے اور پھر پینتیس سے چالیس دن کے بعد وائے کروموسوم ایکٹو ہوتا ہے، یوں زنانہ آرگنز کی تخلیق رک جاتی ہے اور مردانہ آرگنز کی تخلیق شروع ہوتی ہے

اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ

ہر انسان شروع میں ایک عورت ہوتی ہے،  ایک عورت ہی اسے  تخلیق کے مشکل مرحلے سے گزر کر اسےجنم دیتی  ہےاور  ایک عورت ہی اس کی نسل کو  آگے بڑھاتی ہے۔

مگر۔۔۔۔

پھر بھی ہم اس کو اپنے اپ سے حقیر اور آدھا سمجھتے ہیں۔ سب سے زیادہ ظلم اسی پر کرتے ہیں۔ خود ہر پردے، پابندی، اور نظم و ضبط سے آزاد مگر اس کو ہرحالت میں سات پردوں میں رکھنا، اور اس سے ہر ضابطے کی پابندی کروانا۔ خود ہر قسم کی آوارہ گردی کرنا ، مگر اسے مذہب کی غلط تشرع کرکے صرف الزام، جی ہاں صرف الزام لگاکر اسے نہ صرف مارنا پیٹنا بلکہ جب دل چاہے تین حرف بول کر سر  عام بازار میں نیلام کر دینا۔ اگر تب بھی دل نہ بھرے تو غیرت کے نام پر مار کر دبا  دینا۔  اور اگر پھر سے اس سے دل لگانے کا دل چاہے تو حلالہ   کروا کر اس کو اپنا لینا۔

اس صدی میں بھی یہ سوچنا کہ عورت کو کسی ضابطہ کےبغیر اپنانا اور بغیر کسی ضابطہ کے اس کو فارغ کرنا۔  اور ظلم یہ کہ  اس کو مذہب کے نام پر درست بھی قرار دینا۔

اب بات ہوتی ہے کیا مرد اور عورت برابر ہیں؟

یہ بات  بھی ہمیں سائنس سمجھاتی ہے، وہ اس طرح کہ

ہمارے نیوکلیئس کے اندر 46 کروموسومز ہوتے ہیں اور ایک مردانہ سپرم میں 23 کروموسومز ہوتے ہیں جبکہ ایک زنانہ بیضے میں بھی 23 کروموسومز ہوتے ہیں اور تخلیق کے عمل میں کروموسومز کے یہی23 جوڑے حصہ ڈالتے ہیں، ہر جوڑا مختلف خصوصیات کا حامل ہوتا ہے،

اوپر دی ہوئی  سائنسی وضاحت کے بعد کچھ اور برابری پر لکھنا بےسود ہے کہ جب خدا نے برابر کر دیا تو ہم کون ہوتے ہیں اسے کمتر سمجھنے والے؟

یہ تحریر  ہم ٹی وی  کے ایک پروگرم میں  طارق عزیز کی کہی ہوئی  اس بات پر ختم کرتے ہیں کہ اگر مرد اپنی شریکِ حیات کو قانونی طور پر بغیر کسی مُُُُُُلّا  کی راۓلیے ہوئےاپنا سب کچھ  دے کر اسے تحفظ کا احساس دلا دے تو شاید مرد کبھی بھی احساسِ  برتری کا شکار نہ ہو۔

عورتوں کے عالمی دن پر لکھی گئی ایک تحریر۔۔

سائنسی ریفرینس حافظ محمد عزیر سالار کی   آئی بی سی اردو کی ایک تحریر سے لیا گیا ہے۔

عامر کاکازئی
عامر کاکازئی
پشاور پختونخواہ سے تعلق ۔ پڑھنے کا جنون کی حد تک شوق اور تحقیق کی بنیاد پر متنازعہ موضوعات پر تحاریر لکھنی پسند ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *