میں کہاں کہاں سے گزر گیا۔۔۔۔ ظفر الاسلام سیفی/قسط 4

مجھے کرکٹ کھیلنی نہیں آتی تھی،جب کبھی بیٹنگ کا موقع ملتا تو میں عموماً  گیند کے پہنچنے سے پہلے ہی بلا پھیر دیتا جسکا نتیجہ یہ نکلتا کہ گیند کبھی منہ پر لگتی تو کبھی ٹانگوں،رانوں اور پیٹ پر،اکثر دوتین گیندوں کے بعد ہی ”بال“ کو مجھ پر ترس آجاتا اور وہ کمال شفقت سے مجھے چھوئے بغیر ہی وکٹ کو جالگتی،میرے نزدیک باعزت آوٹ ہونے کا مطلب سینچری بناکر پویلین لوٹنا نہیں تھا بلکہ منہ سر بچا کر آوٹ ہونا ہی اصل باعزت آوٹ ہونا تھا،مارکیٹ میں جب چمڑے سے بنی گیندمتعارف ہوئی تو کرکٹ میں مہارت حاصل کر سکنے کی امید کا ہمارا ٹمٹماتا چراغ بھی بجھنے بجھنے سا لگا،میں مگر پھر بھی امید سے تھا۔

ایک دن گاؤں  کے اس  پار  ہمارے سکول فیلوز یا محلہ فیلوز کا کرکٹ ٹاکرا دوسرے گاؤں والوں سے طے پایا،کرکٹ میں ہار جانا اور وہ بھی پرائے محلے والوں سے ہمارے نزدیک بھلا اس سے بڑی بے عزتی بھی کوئی ہوسکتی تھی جو ہوتی،یوں توہر پرایا محلہ عموما ً کسی پڑوسی ملک کے ہی مثل لگتا مگر اس سے کرکٹ مقابلہ طے ہونے کے بعد اسے بھارت سمجھنا اور اس سے اپنی حد تک سماجی بائیکاٹ رکھنا گویا ”بچوں کا اخلاقی فرض“ سمجھا جاتا تھا،ہر دوطرف ایسے ”بال ٹھاکرے “ بہت سے موجود ہوتے تھے جو بچوں کی ”سماجی حرکیات“ پر کڑی نظر رکھتے اور بے اعتدالی کے مرتکب افراد (بچوں)کو پل بھر میں ”واچپائی ونواز شریف“ بنا کر رکھ دیتے۔کرکٹ سے ہٹ کر اگر ہم جنگوں کی بات کریں تو آپ ”سنتالیس،پینسٹھ،اکہتر اور کارگل “ کو بھول جائیں،ہماری جنگوں کی تاریخ ” اٹھاسی سے ستانوے “ تک کے ایک طویل دورانیے پر مشتمل ہے،ہر سال جنگ ہوتی اور جماکرہوتی اگرچہ اسکا دورانیہ دس سے پندرہ منٹ ہوتا مگر اس سے ہونے والی تباہی (ہار کی صورت میں شرمندگی وہلکے پھلکے زخم اور بصورت دیگر چند خراشیں) پورے سال اثر انداز رہتی،اس باب میں خیر کی کسی کو سمجھ ہوتی تو وہ ہوتی رہی۔۔۔۔ شر تو اسکے ہونے کے لیے سمجھنا ضروری ہوتا تھا نہ ہم سمجھتے،البتہ اس قدر خوشی کی بات ضرور تھی کہ چند بڑے طلباء بہرحال ایسے ہوتے تھے جو ”اقوام متحدہ“ کا کردار ادا کرتے اور جنگ کے بھڑکتے شعلے (ہلکے پھلکے لات مکے ) بجھانے کی اپنی سی کوشش کرتے۔

ماموں جان کی شادی کے موقع پر شام کی وہ پہر مجھے کبھی نہ بھولے گی جسمیں ہم کچھ دوست گاوں میں دور کے نکڑ پر ”مطالعاتی دورہ“ کے لیے نکلے ہوئے تھے،پچھلے صفحات پر بکھرے ہمارے ”شریفانہ کردار“ سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ دورہ کتنا ہوا ہوگا اور مطالعاتی کتنا؟راستے میں ملنے والے ایک لڑکے سے ہم چار پانچ یاکم وبیش ساتھیوں نے نجانے کیا شرارت کردی کہ اس نے باری باری ہم سب کی خوب درگت بنائی،اچھی طرح سے چھترول کروانے کے بعد شادی کے اگلے دن نے ظاہر سی بات ہے کہ پرسکون ہی گذرنا تھا جو کہ گزرا۔
” باہمی خلفشارانہ ماحول “ کے اس تناظر میں اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارا کسی سے میچ پڑنا کتنا سنگین ہوسکتا تھا جو کہ ہوتا،کئی دنوں پر مشتمل تیاری کے بعد ” بلے نما پٹھیاں“ ا ٹھائے پڑوسی محلے کی سمت عالم شوق وخوف ومتفاخرانہ انداز میں اس طرح جانا مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے جیسے ”مجاہدین اسلام “ کی ایک ” مقدس جماعت “ کسی بڑے محاذ کو سرکرنے جارہی ہواور کامرانی کی صورت میں جنت میں حوروملائک انکے استقبال کے لیے بے چین ہوں مگر موہوم سے اس احساس کی ساتھ کہ شکست کی صورت میں گویا ”ازلی رسوائی“ مقدر ہوگی۔

یہ کسی ٹورنامنٹ کا فائنل میچ تھا،مجھے یہ تو معلوم نہیں کہ میں کس نمبر پر کھیلنے آیا مگر یہ اچھی طرح معلوم ہے کہ بیٹنگ کا موقع مجھے بھی ملا،باولراتنا ہی تجربہ کار تھا جتنا میں اناڑی،ظاہر ہے کہ پہلی بال پہ ہی وکٹ نے اڑنا تھا جو کہ اڑی،آوٹ ہونے کی حد تک تو ٹھیک تھا کہ وہ تو ہم روزانہ ہر بار پہلی پہ ہی ہوتے تھے مگر مسئلہ تب ہوا جب مخالف ٹیم کے کسی کھلاڑی نے ہمیں طعنہ دے مارا،اصولی طور پر طعنہ تو بنتا تھا کہ ”بلا“ چلانا نہیں آتا اور چلے آئے ”جاوید میانداد“ بننے اور وہ بھی ٹورنامنٹ میں مگر مجھے اچھا نہ لگا،دماغ کے بڑے تو خیر اب بھی نہ ہوسکے اسوقت کیا خاک ہونا تھا کہ سوچتے کہ یہ بھی کوئی بات ہے جسے محسوس کیا جائے مگر فی الواقع ہم نے اسے محسوس کیا اور بے حد کیا۔

دل میں طے کیا کہ کرکٹ اگر کھیلنی ہے تو پھر اچھے سے کھیلنی ہے،نہیں تو یہ تکلف کرنا ہے نہ اسکی ضرورت ہے،اچھے سے کھیلنے کے لیے ایک’’ ٹریننگ فارمولہ “ ہماری فکر رسا نے نکالا اور خوب نکالا،سکول واپسی کے بعد بکریاں چرانے سے قبل کا دورانیہ ہم نے اپنی کرکٹ ٹریننگ کے لیے وقف کرلیا،اب ہوتا یوں تھا کہ روز سہ پہر تپتی دھوپ میں ہم اپنی ”بلانما پھٹی “ لے کر چھت پہ چڑھ جاتے،ہمارے تجزیے کے مطابق کرکٹ کی دوغلطیاں ایسی تھیں جو ہمیں پہلی بال پر آوٹ کی ”رسوائی“ سے دوچار کررہی تھیں،ایک یارکر اور دوسرا وقت سے پہلے بلا گھمانا،ایک کنکری ہم فضا میں اچھالتے اور جب وہ گرتے ہوئے پاوں کے قریب پہنچتی اور یارکر کی سی کیفیت بنتی تو ہم اپنا ”بلا “ زور سے گھماتے،بہت کم ایسا ہوتا کہ گیندنما یہ کنکری باونڈری سے پیچھے رہتی،مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ”سند جے سوریا “ کی اڑتالیس گیند پر اور ”شاہد آفریدی“ کی سینتیس گیند پر سینچری کا ریکارڈ ہم نے اپنی چھت پر کئی بار توڑابلکہ ایک مرتبہ تو ہم نے سترہ گیند پر سینچری کا ناقابل شکست ریکارڈ بھی بنا ڈالا تھا مزید یہ کہ اس ریکارڈ کو کسی بھی امکانی شکست سے بچانے کے لیے ہم نے سترہ میں سے ایک گیند ”نوبال“ بھی فرض کرلی تھی تاکہ کوئی ”مائی کا لال“ اسے توڑنے کا تصور بھی نہ کرسکے۔
یہ پریکٹس حیران کن حدتک کامیاب رہی،ہم سچ میں وقت پر بلا گھمانے،گیند کو باونڈری کے اس پار گرانے اور چھکے چوکے مارنے کے قابل ہوگئے،پھر چشم فلک نے وہ نظارا بھی دیکھا کہ گیارویں نمبر پر بھیجا جانے والا کھلاڑی اکثر اوپنر آنے لگا اگر چہ اس سفر کو طے کرنے میں وقت کافی لگا مگر یہ سفر بہرحال طے ہوا،مدرسہ طالب علمی کا دورانیہ میری اس کرکٹ معراج کا وقت تھا ۔
میری ایجاد کردہ اس مضحکہ خیز پریکٹس نے جہاں مجھے ”کریز“ پر کھڑا ہونے کا حوصلہ دیا وہیں میرے لاشعورمیں اس سبق کو جاگزیں کر دیا کہ کہ کوئی بھی کام ہومحنت وکوشش سے بہرحال کیا جاسکتا ہے خواہ وہ دکھنے میں بظاہر ناممکن ہی کیوں نہ ہو۔

آپ اگر اب بھی سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچپن شرافت ہی سے گذارا ہے تو لیجیے اسے پڑھیے اور اپنی خوش گمانی کو ” داد “ دیجیے ۔۔۔۔
راولپنڈی تا آزادکشمیر روڈ ہمارے گاؤں سے ہی گذرتی تھی،بارہا ایسا ہوتا کہ ہم سورج کے مغرب کی سمت سرکنے کے بعد بازار سے منہ موڑے  رو  پر آکر بیٹھ جاتے،جس جگہ ہم بیٹھتے وہ اترائی ہوتی، ہیوی ٹرانسپورٹ مثلا ٹرک یابس وغیرہ وہاں سے گذرتے ہوئے حدرفتار صفر سے بھی نیچے لے آتی ،موڑ کاٹنے کے ساتھ ہی ہم اپنے مخصوص انداز میں ٹرک کے پیچھے لپک جاتے،ٹرک کے ساتھ لپکنا ایرے غیرے کا کام نہیں تھا اور ہم تھوڑا ہی ایرے غیرے تھے جو یہ کام نہ کرسکتے،پل جھپکتے ہی ایک جست بھرتے اور اگلے ہی لمحے ٹرک کو کسی محبوب ومعشوق کی طرح اپنے گلے سے لگالیتے،ٹرک بھی ہمیں اپنے سینے سے یوں چپکا لیتا جیسے کوئی ”آوارہ آدمی “ چوری کا بچہ اپنے دامن میں چھپائے ہو اور اسے خطرہ ہو کہ وہ گیا کہ گیا۔۔۔ایک موڑ کے بعد آنے والا موڑ ہماری منزل ہوتی،اس موڑ پر پھر سے ایک جست بھرتے اور دیکھتے ہی دیکھتے کسی ”معزز شہری “ کی طرح روڈ کنارے چہل قدمی کررہے ہوتے،کپڑے تو ہر مرتبہ ہی سیاہ ہوجاتے مگر کبھی کبھی ٹرک ہمارے چہرے پر بھی ” سیاہ پپی “ دے جایا کرتا تھا جو ہماری شرافت کی عموما چغلی کھایا کرتی،ہماری یہ جست وخیز،قلانچیں مارنا اور طرارے بھرنا سب اتنا محیر العقول تھا کہ آج بھی اسکے تصور سے کلیجہ منہ کو آنے لگتا اور دل خفقان سا ہونے لگتا ہے۔

جاری ہے

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *