یکطرفہ جنگ, عالمی قوانین اور واضح برتری — بلال شوکت آزاد

سیدھی   بات کروں گا نا کہ جنیوا یا ویانا کنوینشن کا ذکر چھیڑ کر آپ کو مزید بور کروں گا۔پہلے میں نے سوچا تھا کہ دوسو کلومیٹر لمبی تفصیلی تحریر لکھوں پر اس دوران بہت سے دوست احباب نے بہت کچھ لکھ کر پہنچا دیا۔اب میں مختصراً وہ چند باتیں رکھ رہا ہوں نکات کی صورت جو آپ کو مزید سب کچھ سمجھنے میں مدد دینگے۔

٭چار دن تک بھارتی میڈیا اور بھارتی حکومت کے واویلے کو لفٹ نا کرانا اور چار دن بعد مختصر جواب دیکر بھارت کے کورٹ میں گیند ڈالنا پہلا باؤنسر تھا۔

٭پلوامہ حملے پر پاکستانی حکومت کا دوٹوک موقف اور تحقیقات میں مدد کی آفر دوسرا باؤنسر تھا۔

٭کسی بھی بھارتی جارحیت پر بغیر سوچے شدید جواب دینے کی یقین دہانی کروانا تیسرا باؤنسر تھا۔

٭سفارتی سطح پر بھارتی جنگی جنون کے خلاف مشنز مرتب کرکے ہرکارے دوڑانا اور رائے عامہ ہموار کرنا چوتھا باؤنسر تھا۔

٭بالا کوٹ سیکٹر والے مس ہیپ پر حکومت, ریاست اور قوم کا مشترکہ ردعمل پانچواں باؤنسر تھا۔

٭دوسرے دن بھمبھر, آزاد کشمیر میں دو طیاروں کو ہٹ کرنا اور ایک پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کو زندہ گرفتار کرنا چھٹا اور اہم باؤنسر تھا۔

٭ابھینندن کو عسکری اور اسلامی اخلاقیات کے تحت ڈیل کرنا اور بھارتیوں کو نفسیاتی طور پر کنفیوز کرنا ساتواں باؤنسر تھا۔

٭جذبہ خیر سگالی اور امن و امان کی خاطر ابھینندن کی اخلاقی بنیادوں پر غیر مشروط رہائی آٹھواں اور اہم باؤنسر ہے۔

اب باقی سب واقعات تو گزر گئے اور وہ ماضی کا حصہ بن چکے لیکن ہم اس وقت ایک نکاتی ایجنڈے پر بات کرتے ہیں کہ آخر ابھینندن کو رہا کرنے اور وہ بھی اتنی عجلت میں رہا کرنے کا مقصد کیا ہے اور اس کا ہمیں نقصان ہوگا کہ فائدہ یہ بات واضح کرلی گئی ہے کہ نہیں؟

ایک تو اس سارے قصے مطلب پلوامہ فالس فلیگ آپریشن سے لیکر آج ابھینندن کی رہائی کے فیصلے تک چند چیزیں بھارت کو ننگا اور پاکستان کو صاف کرگئیں ہیں۔چودہ فروری سے اٹھائیس فروری تک دودھ کا دودھ اور پانی کا ہوچکا اقوام عالم میں کہ خطے میں اصل دہشتگرد, مذہبی جنونی اور اصل خطرہ کون ہے؟

پاکستان یا بھارت؟

آئیے دیکھتے ہیں کہ ان دنوں میں بھارت کیسے بے نقاب ہوا اور پاکستان کس طرح صاف؟

٭بھارت جنگی جنون میں مبتلا ہے اور پاکستان امن کا خواہاں۔

٭بھارت کا مذہبی جنون اور تعصب اس کی عسکری اور سیاسی قیادت پر حاوی ہے جبکہ پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت میں نہ تو مذہبی جنونیت ہے اور نہ ہی کوئی ایسا تعصب جو ملکوں اور قوموں کے لیئے نقصان دہ ثابت ہو۔

٭بھارتی قوم ایک مکمل بدتمیز اور اتاولی اور جھوٹی قوم ہے جو کسی بھی حد پر جاکر پاکستان کے لیئے نفرت کا اظہار کرنے سے نہیں چوکتی جبکہ پاکستانی قوم اپنی غیرت و حمیت اور عزت پر حملہ کرنے والے کو ہی جواب دیتی ہے۔

٭بھارت کو عالمی قوانین اور سفارتی آداب کی رتی بھر پرواہ نہیں جبکہ پاکستان اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والا ایک با اصول ملک ہے۔

٭بھارت نے عالمی سرحد کی بے جا اور بار بار خلاف ورزی کی اور جھوٹ کو سچ منوانے کی سعی کی جبکہ پاکستان نے اپنے دفاع کا ہی حق استعمال کیا لیکن بھارت کو سنبھلنے اور بیک فٹ پر جانے کا موقع دیکر دوسری کوشش پر جواب دیا۔

٭بھارت نے اپنے طیاروں کی تباہی کے بعد اپنے پائلٹ ونگ کمانڈر ابھینندن کی جنیوا کنوینشن رولز کے تحت طلبی سے باضابطہ تسلیم کرلیا کہ بھارت نے جنگ کا آغاز کیا, پاکستان کو اکسانے کی کوشش کی, خطے کے امن کو داؤ پر لگایا اور یہ کہ یہ جنگ یکطرفہ نفرت و تعصب کی جیتی جاگتی تصویر تھی جس کو شروع کرنے کا مقصد صرف سیاسی پوائنٹ سکورنگ تھی۔

اب آتا ہوں اصل مدعے پر کہ عمران خان یا دراصل پاکستان نے ابھینندن کی رہائی پر آمادگی کیوں دکھائی اور اگر رہا ہی کرنا تھا تو اتنی عجلت کیا تھی؟

پاکستان کا ابھینندن کو رہا کرنے میں سفارتی, سیاسی اور عسکری فائدہ موجود ہے۔

مودی کو اس سارے ایڈونچر سے الیکشن جیتنا مقصود تھا جو اب اس رہائی والی چال کے بعد کھٹائی میں پڑ گئی ہے کہ جیسا چہرہ وہ پاکستان اور پاک فوج کا اپنی قوم کو بتاکر ووٹ لینا چاہ رہا تھا وہ ممکن نہیں رہا بلکہ کانگریس کے پاس اب اس سارے ایڈونچر کو کیش کروانے کا بہت اہم موقع ہے۔

سب سے اہم مقصد اس رہائی سے یہی جڑا تھا کہ بھارت جو کہ کسی بھی سطح پر اپنے جنگی جنون اور سرحدی خلاف ورزیوں کو تسلیم نہیں کررہا تھا اور نہ کرتا لیکن اول طیاروں کا گرنا پھر اس کے پائلٹ کی باقاعدہ گرفتاری اور پھر بھارتی حکومت کا اس کی رہائی کی درخواست وہ بھی جنیوا کنونش رولز کے تحت اس کو اب اس بند گلی میں لے آئی ہے جہاں پاکستان لانا چاہتا تھا مطلب بھارت صرف جذبہ خیرسگالی کے تحت رہائی کا کہتا اور ہم رہا کردیتے تو یقیناً یہ بہت بڑی بیوقوفی ہوتی اور اس پر میرا موقف بھی شدید ہوتا لیکن چونکہ بھارت کے پاس ایسا کوئی اخلاقی جواز اور سرا ہاتھ میں نہیں تھا دوم وہ بلیک میلنگ کا سہارہ لے رہا ہے عالمی قوانین کا تو یہ ہمارے لیئے باعث شرمندگی نہیں بلکہ باعث فخر بات ہے کہ جب ابھینندن واپس بھارت کی سرزمین پر اترے گا تو یہ بھارتی جنگی اور سفارتی بدترین ہار کے تابوت میں آخری کیل ہوگا کہ بھارت نے یکطرفہ جنگ شروع کی, سرحدی خلاف ورزی کی, خطے کے امن کو داؤ پر لگایا اور بڑی ڈھٹائی سے پھر یہ تسلیم بھی کررہا ہے اپنے جنگی قیدی ابھینندن کو جنیوا کنونشن کے تحت رہا کرواکر کہ ہاں ہم ہی امن نہیں چاہتے جبکہ پاکستان جنیوا کنونش رولز کو تسلیم کرکے قیدی کو چھوڑ کر یہ واضح پیغام چھوڑ رہا ہے کہ پاکستان عالمی قوانین کا احترام کرنے والا پر امن ملک ہے جو امن کی خاطر ہر قیمت چکانے کو تیار ہے۔

اس کے علاوہ  اس رہائی کا ایک عسکری اور نفسیاتی پہلو بھی ہے جو اپنے مقررہ وقت پر عیاں ہوجائے گا تو قوم کو شدید اطمنان مل جائے گا کہ فلحال اس کا تذکرہ کرنا بیوقوفی ہوگی۔

بھارت کو اس گرفتاری و رہائی کی وجہ سے بہت ہزیمت اٹھانی پڑے گی کم سے کم اگلے دس تک ہر سفارتی ایونٹ اور ہر یو این ایکٹیویٹی کے موقع پر۔

اس رہائی کے بدلے پاکستان شرائط نافذ نہیں کرسکتا تھا کہ یہ رہائی خالص جنیوا کنونشن رولز کے تحت عمل میں آرہی ہے جو کہ آج نہ آتی کل آجاتی یا پرسوں پر جب بھی عمل میں آتی تب صرف جنیوا کنوشن کے تحت ہی عمل میں آتی جس میں ہم شرط تب رکھتے کہ ہمارا کوئی حاضر سروس فوجی دوران جنگ بھارت میں گرفتار ہوتا لیکن کیونکہ ہم نے تو جنگ کی ہی نہیں اور نہ ہی ہماری فورسز نے سرحدی خلاف ورزی کرکے بھارت میں قدم رکھا تو ہم کس کی واپسی کی شرط عائد کریں اور کریں بھی تو کیا ہم یہ تسلیم کرلیں کہ ہم بھی جنگ میں شامل تھے اور یہ کہ ہمارا اور بھارت کا مقصد مشترکہ تھا یعنی جنگ؟ جبکہ ایسا تو نہیں تھا کیونکہ ہم نے تو اول دن سے امن کو ترجیح دی جنگ کا تو نام ہی نہیں لیا۔

اب آتے ہیں کرنل ریٹائرڈ حبیب صاحب کی تو ایک بات سمجھ لیں کہ وہ ریٹائرڈ پرسونل تھے جن کو حکومت نے کسی عسکری یا غیر عسکری مشن پر روانہ نہیں کیا, نہ ہی ان کی گمشدگی کا معاملہ سفارتی سطح پر ابھی تک زیر بحث ہے اور نہ ہی وہ جنیوا کنونشن رولز میں کور ہوتے ہیں اور ایک بہت ہی اہم نکتہ جو مجھے بھی پریشان کیئے ہوئے ہے کہ آیا واقعی وہ لاپتہ ہیں اور ان کی گمشدگی میں بھارت کا ہاتھ ہے یا وہ نمبرون کے کسی آف دی ریکارڈ ایڈونچر پر ہیں جس کو صیغہ راز میں رکھ کر بل را پر پھاڑا گیا ہے؟

اس سب کے علاوہ  غور طلب بات یہ بھی ہے کہ قیدیوں کے تبادلے کا مطالبہ محض شک شبہات کی بنیاد پر نہیں ہوتا بلکہ میوچل انڈرسٹینڈنگ بہت ضروری ہے جیسے ابھینندن کا کیس دیکھ لیں کہ پاکستان نے گرفتار کرکے اس کی گرفتاری شو کروادی اور دوسری طرف بھارت نے ابھینندن کو اپنا شہری اور فوجی تسلیم کرلیا لہذا ادھر عالمی قانون کا اطلاق ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ رہائی ہورہی ہے جبکہ کرنل حبیب کی مبینہ گمشدگی کو ہم بھارت پر ڈال بھی دیں تب بھی کسی قانون کی مدد سے ہم اس کو مجبور نہیں کرسکتے کہ بھارت نے اس بابت تسلیم کرنا تو دور اشارتاً ذکر بھی نہیں کیا بلکہ ناں بھی نہیں کی اس الزام کے جواب میں تو ہمارا سفارتی اور عالمی قانونی حق ہی ایکٹو نہیں اس کیس میں۔

رہائی کا مقصد تو سمجھ گئے ہونگے اب عجلت کو بھی سمجھ لیں کہ جنگ شروع کرنے کی عجلت بھارت کو تھی لیکن امن کی عجلت اور ضرورت ہمیں کہ ہمارا بگڑا ہوا سفارتی چہرا درست کرنا ہمارا پرائم موٹیو ہے تاکہ جلد از جلد پاکستان دنیا میں بطور پر امن اور محفوظ ملک نمایاں ہو اور پاکستان کی عوام کو نفرت کے بجائے محبت اور احترام سے دیکھا جائے لہذا اس وقت ایسے ایکشن اور اتنی جلدی بغیر لیت و لعل ایکشن سے ہم جتنی جلدی اپنا چہرہ صاف کرسکیں گے شاید اگلے پانچ سال کی محنت کے بعد بھی نہ ہو جبکہ ہم تو کسی پر کوئی احسان نہیں کررہے سوائے عالمی قوانین کی پیروی کرنےکے جو کہ ایک اچھی روایت کی جانب ہمارا پہلا قدم ہوگا۔

دوسرا اہم مقصد اس عجلت سے پاکستان کی معاشی اور اقتصادی ترقی کو پر لگانا ہے۔

ابھینندن کی رہائی سے جہاں آپ کے سینے چھلنی ہیں غصے سے وہیں آپ کو دور اندیشی اور صبر سے کام لینا ہوگا۔

جیسے اندرا گاندھی ہمارے مشرقی پاکستان کے عسکری و غیر عسکری قیدیوں کی رہائی کے وقت بھٹو سے بلیک میل ہوئی اور ذلیل ہوئی انہیں نہ چھوڑنے کا اٹل فیصلہ کرنے کے بعد چھوڑ کر, ہم اس طرح ذلیل ہونے کا رسک نہیں لے سکتے تھے اس وقت جب ہمیں سفارتی جیت کی اشد ضرورت ہے۔

دو دن یا دو ہفتے بعد ہی سہی, ہماری ہٹ دھرمی کہ ہم ابھینندن کو نہیں چھوڑتے تب جب بھارت اس کی باضابطہ طلبی کر کے تسلیم کرچکا یکطرف جنگ کو تو ہم پر شدید سفارتی دباؤ آتا اور ہم دو سال اور پیچھے چلے جاتے جبکہ ہمارے اب کے فیصلے سے پاکستان پانچ سال آگے چلا گیا ہے سفارتی محاذ پر اور یہ آپ کو کشمیر سمیت ہر برننگ کیس میں بہت مددگار ثابت ہونے والا ہے آنے والے دنوں میں۔

یکطرفہ جنگ, عالمی قوانین اور واضح برتری کی اس تکونی کھیل میں چت بھی ہماری ہے اور پٹ بھی۔

یقین کریں آپ نے ان بارہ دنوں میں جو حاصل کرلیا ہے وہ پاکستان کو بارہ سالوں تک مسلسل فائدہ دینے والا ہے۔

نوٹ: تحریک آزادی کشمیر کو اب اس فیصلے سے براہ راست یہ فائدہ ہوگا اگر ہم جلنے کڑھنے کے بجائے کیمپین چلائیں حکومتی, ریاستی اور قومی سطح پر کہ ہم نے پرامن ہونے اور ٹیبل ٹاک کو ترجیح دینے کا قولی فعلی ثبوت بارہا دیا پر اب تو حد کردی لہذا اقوام عالم بھارت کو مجبور کرے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کو من وعن تسلیم کرکے کشمیریوں کو جمہوری حق استصواب رائے دے تاکہ مسئلہ کشمیر بھی حل ہو سکے اور عالمی قوانین کا بول بالا ہو جس طرح ہم نے کیا۔

بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد
بلال شوکت آزاد نام ہے۔ آزاد تخلص اور آزادیات قلمی عنوان ہے۔ شاعری, نثر, مزاحیات, تحقیق, کالم نگاری اور بلاگنگ کی اصناف پر عبور حاصل ہے ۔ ایک فوجی, تعلیمی اور سلجھے ہوئے خاندان سے تعلق ہے۔ مطالعہ کتب اور دوست بنانے کا شوق ہے۔ سیاحت سے بہت شغف ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *