لوبان۔۔۔۔ثنا اللہ خان احسن

چوغہ نما لباس، بے ترتیب ڈاڑھی اور سر کے بال ، ایک ہاتھ میں سرسوں کا تیل پلائ موٹی لاٹھی، سر پر سندھی رلی نما کپڑے کے ٹکڑوں کی بنی گول ٹوپی، گلے میں سیپیوں اور منکوں کی مالائیں، ھاتھوں میں کڑے، انگلیوں میں بے شمار بھاری انگوٹھیاں، دوسرے ہاتھ میں ایک صلیب نما لکڑی پر دو یا تین کوئلوں کی آگ سے سیاہ اسٹیل کی کٹوریاں یا پیالے کیلوں کی مدد سے ٹھوکے ہوئے اور ان سے اٹھتا دھواں- وہ بازار میں گھومتا ہر دکان کے سامنے جا کر تین بار اپنی لاٹھی زمین پر ٹھوکتا اور پھر دو چٹکی سفوف کٹوریوں میں دھکتے انگاروں پر ڈالتا تو ایک عجیب سی خوشبو کا دھویں کا مرغولہ اٹھتا جسے وہ وہ دکان کے اندر ہاتھ گھماتے ہوئے دھونی دیتا اور دکاندار اس کے ہاتھ میں چند پیسے رکھ دیتے- مجھے اپنے بچپن کا وہ ملنگ یاد ہے جس کو دیکھ کر میں سوچا کرتا تھا کہ یہ کیوں دھواں لئے گھومتا ہے اور لوگ کیوں اس دھویں کی دھونی اپنی دکانوں میں دلواتے ہیں؟

ذرا بڑے ہونے پر پتہ چلا کہ جو سفوف وہ کوئلوں پر چھڑکتا ہے وہ لوبان ہوتا ہے جس کی دھونی باعث برکت و دافع بلا و شیطان سمجھی جاتی ہے-

لوبان ایک درخت کا گوند ہے جو آگ پر رکھنے سے خوشبو دیتا ہے۔یہ ایک درخت سے حاصل ہونے والا “ریزن” گوند ہے۔ جو کہ ‘انسینس” بخور اور ‘پرفیومز” بنانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ جب اس کو جلا کر خوشبودار دھوا پیدا کیا جائے گا تو “ریزن” انسینس کہلائے گا اور جب ریزن کو کسی محلل یعنی سالونٹ کے اندر حل کرکے مائع حالت میں استعمال کیا جائے گا تو یہ اس کو یعنی ریزن کو پرفیوم کہیں گے۔ انگریزی لفظ دو فرانسیی الفاظ کا مرکب ہے۔”فرینک” اور “اینسینس” یعنی “بہت اعلیِ درجے کا “انسینس”۔ لوبان کی تجارت پچھلے 5000 سال سے جاری ہے۔

انگریزی میں لوبان کو البانم اور عربی میں اس کو “اللبان” یعنی جس کو دھویا یعنی دودھ نکالا گیا ہو۔ چونکہ یہ ریزن دھودیا ہوتا ہے اور درخت کو زخم لگا کر حاصل کیا جاتا ہے اس لئے اس کو “اللبان” کہتے ہیں۔

دنیا بھر میں کئی درختوں کو “انسینس” کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاْبرصغیر پاک و ہند میں صندل کی لکڑی مشہور ہے۔ اس کا پاؤڈر اس مقصد کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

برصغیر میں بانس کی چھوٹی چھوٹی ڈنڈیوں کے سرے پر انسینس کو لگا کر “اگربتی” بنایا جاتا ہے۔ پاکستان میں درباروں اور مسجدوں اور مذہبی تقریبات میں ان کو جلایا جاتا ہے۔ ان کو “جاس اسٹک” کہتے ہیں۔

لوبان کا درخت:

یہ کانٹے دار بڑا درخت ہے۔جس کی شکل لگ بھگ بلوط کے درخت کی طرح ہوتی ہے۔اس کے کانٹے اور پتے جب پک جاتے ہیں تو سرخ ہوجاتے ہیں ۔بعض اطباء کے نزدیک یہ درخت املی کے برابر ہوتاہے۔اس کا تناموٹا ہوتاہے۔اورپتے بھی املی کے پتوں کی طرح ہوتے ہیں ۔اس کی لکڑی ہلکی اورجلد ٹوٹنے والی ہوتی ہے۔اس کا پھل گول اور سرخ رنگ کو ہوتاہے۔اس درخت کو ضرو کہتے ہیں ۔اس کی رال دار گوند کو لوبان کہتے ہیں ۔یہ درخت ضرو کی چھال میں شگاف دینے سے حاصل ہوتی ہے۔اور ہوا لگنے سے جم جاتی ہے۔یا ان درختوں کے عصارے سے بھی حاصل کی جاتی ہے۔

اس کے دانے اشکی ہوتے ہیں ۔جو باہم مل کر ڈلیاں سے آپس میں چسپاں ہوجاتے ہیں ۔اس کا رنگ باہر سے بھورا سرخی مائل یا زرد اور اندرسے دودھ کی طرح سفیدہوتاہے۔ایک اور قسم کے لوہان کا رنگ سفید اور سرخی مائل بھورا داغ داریا چتکبرا ہوتاہے ۔یہ آپس میں مل کر ڈلے بن جاتے ہیں ۔اس کو لوہان کوڑیاکہاجاتاہے۔اطباء اس کو اعلیٰ لوبان کہتے ہیں ۔اس کی بو ونیلا کیطرح ہوتی ہے

مقام پیدائش۔

جاوا سماٹرا سیام اورملایاسے آتاہے۔

مزاج۔

گرم و خشک ۔۔۔درجہ اول

عربی لوبان قبل مسیح کے وقت سے معروف ہے۔ قدیم تہذیبوں نے اس پر انحصار کیا جن میں حضرت موت کی مملکت کے علاوہ معین، ثمودیوں اور انباط کی مملکتیں شامل ہیں۔ لوبان اپنے طبّی فوائد کے ساتھ مذہبی اہمیت کا بھی حامل ہے۔ قدیم طب علاج کے مختلف نسخوں میں اس کا استعمال کیا کرتی تھی۔ ان میں بعض نسخوں میں یہ استعمال ابھی تک جاری ہے۔

سلطنتِ عُمان کے صوبے ظفار میں واقع پہاڑی سلسلہ زمین پر لوبان حاصل کرنے کا ایک اہم ترین ذریعہ شمار کیا جاتا ہے۔ لوبان کا درخت مخصوص مقامات پر پایا جاتا ہے۔

کنگ سعود یونی ورسٹی میں آثاریات کے شبعے کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر احمد العبودی کے مطابق جزیرہ عرب کے سرزمین کے ہر حصّے میں خوشبوؤں کو بہت زیادہ اہمیت حاصل رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عجائب خانے ہر شکل اور ہر رنگ کے دُھونی دانوں سے بھرے ہوئے ہیں۔ یہ دُھونی دان پتھر، مٹی اور معدنیات کے بنے ہوئے ہیں۔ گھروں میں دُھونیاں عرب ثقافت کا ایک اہم ترین جُزو ہے۔ ہر جگہ کی تہذیب نے دُھونیوں کو مذہبی یا طبّی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔

لوبان اور دیگر دُھونیوں کی تجارت کے لیے استعمال میں آنے والے خشکی کے مشکل راستوں پر آمد و رفت کا سلسلہ موقوف ہو گیا۔ ان میں بہت سے راستے تو ظہور اسلام سے قبل ہی ماند پڑ چکے تھے۔ اس کے نتیجے میں عربوں کو ایک بڑے اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا۔

قرآن کریم میں بھی ان میں سے ایک مشہور راستے کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ راستہ “ایلاف” کا تھا جس کے ذریعے قریش نے تجارت کی تھی اور یہ اسلام کے ظہور سے قبل قریش اور مکہ والوں کی ثروت کا اہم سبب تھا۔ یہ راستہ مکہ کو شام سے جوڑتا تھا جو موسم گرما کا سفر ہوتا تھا اور مکہ کو یمن سے بھی جوڑتا تھا اور یہ موسم سرما کا سفر ہوتا تھا۔ جیسا کہ قرآن کریم میں آیا ہے کہ : “لإيلاف قريش إيلافهم رحلة الشتاء والصيف”.

سلطنت عُمان میں اعلی تعلیم، سائنسی تحقیق اور خارجہ تعلقات کے شعبے کے سربراہ ڈاکٹر احمد بن سلیمان الحراصی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں واضح کیا کہ لوبان کی 19 اقسام ہیں جن میں اس کے درخت کی 7 نادر اقسام بھی ہیں۔ یہ اقسام یمن، جزیرہ سماٹرا، عُمان کے جنوب میں واقع علاقے ظفار،

ایتھوپیا، سوڈان، صومالیہ، جزیرہ مڈگاسکر اور ہدوستان میں پائی جاتی ہیں۔

الحراصی کے مطابق کو قدیم زمانے سے عالمی سطح پر توجہ اور پذیرائی حاصل رہی ہے۔ آج کے دور میں جرمنی، فرانس، اطالیہ اور امریکا میں لوبان کے حوالے سے تحقیق جاری ہے۔

الحراصی نے باور کرایا کہ لوبان میں قدرتی کارٹیزون پایا جاتا ہے۔ اس وجہ سے یہ ٹینشن، دمہ اور کھانسی کے حوالے سے بہترین اینٹی بائیوٹک ہے۔ اس سے مختلف دواؤں کے کیپسول بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔

لوبان کے طبی فوائد:

دافع تعفن ہونے کے باعث مرہموں میں شامل کیاجاتاہے۔اور یہ زخموں کے لئے مستعمل ہے۔جلد یا بدن کو صاف کرنے اور خوشبو دار بنانے کے علاوہ دیگر ادویہ کے ہمراہ ابٹن بناکر مالش کیاجاتاہے۔مناسب روغن میں ملاکر کان میں ٹپکانے سے درد گوش بارد کو تسکین دیتاہے۔لوبان کو سونگھنے سے چھینکیں آتی ہیں ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ بخارات اڑ کر بلغمی جھلی میں محرک تاثیر ہوکر بلغم اور پانی زیادہ رسنے لگتاہے۔

لوبان کو مرہموں میں اس لئے بھی شامل کیاجاتاہے۔تاکہ عرصہ تک رکھنے کے بعد خراب نہ ہوں کیونکہ یہ دافع تعفن ہے اس کی لکڑی کی چٹکی خون بہنے کو مفیدہے۔اس سے تیار کردہ تیل پٹھوں کو قوت دیتاہے۔اوجاع باردہ کے علاوہ لقوہ فالج اور وجع المفاصل میں تیل پٹھوں کو قوت دیتاہے۔اوجاع باردہ کے علاوہ لقوہ فالج اور وجع المفاصل میں اس کا ضماد مفیدہے۔اس کی دھونی دافع تعفن ہے کیڑوں کو بھگاتی ہے اس لئے بیمار کے کمرے میں جلاتے ہیں لوہان کو اکثر اطباشربتوں میں بھی استعمال کرتے ہیں اس کا فائدہ یہ ہوتاہے کہ شربت کو دیر تک خراب ہونے سے بچانے کے علاوہ خوشبودار بناتاہے۔

طب نبویﷺ اورلوبان۔

حضرت عبداللہ بن جعفرؓروایت کرتے ہیں آپﷺ نے فرمایا اپنے گھروں کو لوبان اور صعتر کی دھونی دیتے رہاکرو۔

استعمال اندرونی۔

لوبان کا استعمال کرنے سے سانس کے راستے تیزاب لوبان یا جوہر لوبان مقامی جھلی پر محرک اثر کرکے گندی و غلیظ بلغم کورقیق کرکے خارج کرتاہے۔اسی وجہ سے پرانی کھانسی اور سل میں جب تھوڑا تھوڑا متعفن بلغم خارج ہوتو بلغم آسانی سے خارج ہوتی اور تعفن میں کمی ہوجاتی ہے۔گلے کی خرابی حنجرہ کی سوزش قصبہ الریہ کی سوزش میں اس کے بخارات سنگھانے سے فائدہ حاصل ہوتاہے نزلہ زکام کو سکون حاصل ہوتاہے۔مدربول ہونے کے باعث گردہ و ورم مثانہ اور قرحہ گردہ و مثانہ میں مفید ہے۔اس کے استعمال سے خراش کم ہوکر فائدہ ہوتاہے۔دافع امراض بلغمی ہونے کی وجہ سے لقوہ فالج نقرس اور وجع المفاصل میں کھلاتے ہیں ۔لوبان کاسفوف بناکر کھلانے سے بخار زائل ہوجاتاہے۔مقوی باہ ہونے کی وجہ سے تقویت باہ میں سفوفاًمستعمل ہے۔

جوہر لوبان۔

اس کا جوہر حاصل کرکے بھی استعمال کیاجاتاہے۔جوکہ لوبان سے زیادہ قوی الاثرہوتاہے۔جوہر لوبان ضیق النفس اور تقویت باہ کیلئے مستعمل ہے۔بادام جوزبوااور جوہر لوبان ملاکر کھانادماغ کو قوت دیتاہے۔اور جاڑوں میں سردی کے نقصانات سے بچاتاہے۔

سفو ف لوبان ایک گرام جوہر لوہان ایک رتی یعنی سو ملی گرام۔

احادیث نبوی ﷺ میں لوبان کا ذکر:

حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:اپنے گھروں میں لوبان اور شیح کی دھونی دیتےرہا کرو‘ ایک دوسری روایت میں ارشاد ہوا: اپنے گھروں میں لوبان اور صعتر کی دھونی دیتےرہا کرو۔ محدثین نے ان احادیث کی تفسیر میں لوبان کو کندر کے ساتھ خلط ملط کردیا ہے۔ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ نے لوبان کو کندر قرار دیتے ہوئے دونوں کے فوائد ملادئیے ہیں۔ دوسری طرف بھارتی ماہرین نے اگرچہ کندر کومختلف چیز قرار دیا ہےمگر ایک دوسری گوند بوسویلا سیررٹا کو بھی لوبان ہی لکھا ہے جبکہ یہ گوند اپنے اثرات اور شکل و صورت کے لحاظ کندر کے زیادہ قریب ہے۔ لیکن یہ یاد رکھئے کہ لوبان اور کندر دو مختلف چیزیں ہیں-

بائبل اور تورات میں لوبان کا ذکر:

بائبل میں عبادت گاہ میں جلانے والی خوشبو ’’بخور‘‘ بنانے کی ترکیب آگے چل کر یوں بتائی گئی،

’’ اور خداوند نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ تو خوشبو دار مصالح ، مُرّ اور مصطکی اور لَون اور خوشبودار مصالح کے ساتھ خالص لُبان وزن میں برابر لینااور نمک ملا کر اُن سے گندھی کی حکمت کے مطابق خوشبودار روغن کی طرح صاف اور پاک بخور بنانا ۔۔۔۔۔۔اور جو بخور تو بنائے اُس کی ترکیب کے مطابق تم اپنے لیے کچھ نہ بنانا ۔۔۔۔۔۔ جو کوئی سونگھنے کے لیے بھی اُس کی طرح کچھ بنائے وہ اپنی قوم میں سے کاٹ ڈالا جائے۔‘‘ *۴۴

یعنی اس کی ترکیب یوں ہوگی بحصہ برابر؛

=1= Stacts drops ….. Storax مُر ۔۔۔ بحصہ برابر

=2= Onycha ….. onyx مصطکی ۔۔۔ بحصہ برابر

=3= Galbanum …..=galbanum لَون ۔۔۔ بحصہ برابر

=4=Frankincense…..=Purencens لُبان۔۔۔ بحصہ برابر

بائبل کا اگر مجموعی جائزہ لیا جائے تو ۱۲ مختلف اقسام کی خوشبوؤں کا ذکر کیا گیا ہے-

محدثین کے مشاہدات:

لوبان قبض کشا ہے۔ اس میں فائدے زیادہ ہیں اور نقصان بہت کم۔ معدہ کی درد کو دور کرتا ہے۔ اسہال میں مفید ہے۔ کھانےکو ہضم کرتا ہے۔ آنکھوں کے زخم مندمل کرتا ہے۔معدہ کو تقویت دیتا ہے۔بلغم نکالنے کے بعد اس کی پیدائش کو کم کرتا ہے۔اگر لوبان یا اس کے ساتھ صعتر ملا کر غرارے کئے جائیں تو گلے کی سوزش میں مفید ہے۔ زبان کے زخم بھر جاتے ہیں۔ حافظہ کو بہتر کرتا ہے۔ گلے ہوئے زخموں پر لوبان کا استعمال سوزش کو دور کرنے کے ساتھ صحت مند گوشت لگانے کا باعث ہوتا ہے۔ اس کی دھونی گھر کو خوشبودار بنانے کے علاوہ وبائی امراض کو ختم کرتی ہے۔

اطبائے قدیم کے مشاہدات: آریو ویدک کتابوں میں لوبان کا ذکر نہیں ملتا۔ یورپ میں بھی اس سے واقفیت 1399ء کے بعد سے شروع ہوتی ہے جب ابن بطوطہ اپنی سیاحت کے بعد اسے لےکر یورپ گیا۔ عمدہ قسم کےلوبان کے سفید دانے ہیں ورنہ بھوری رنگت کا ہوتا ہے۔ یہ معدہ‘ دل اور باہ کو قوت دیتا ہے‘ بھوک بڑھاتا ہے۔ ریاح کو تحلیل کرتا ہے۔ سردی کی کھانسی کومفید ہے‘ بلغم نکالتا ہے‘ کھانے یا لگانے سے دانتوں کا درد جاتا رہتا ہے۔نزلہ مفید ہے۔ ویدوں نے اسے مفرح قرار دینےکے علاوہ پسینہ کو خوشبودار کرنیوالا بیان کیا ہے۔ اس کو کھانے کے بعد کھانے سے مثانے کی سوزش دور ہوجاتی ہے دق اور سل میں نافع ہے۔ لوبان کا لیپ نزلوں کو روکتا ہے‘ روغن کنجدیا زیتون میں ملا کر اگر کان میں ڈالا جائے توکان کا درد جاتا رہتا ہے۔ اس کی دھونی کیڑوں مکوڑوں کو بھگا دیتی ہے۔ لوبان کو نیم کوب کرکے ہانڈی میں گل حکمت کرکے ڈال کر ایک نلکی بخارات کے اخراج کیلئے لگادیتے ہیں۔ اس ہانڈی کو آگ دینے کے بعد لوبان کے جو بخارات نلکی کے ذریعہ باہر آتے ہیں ان کو شیشی میں جمع کرلیں۔ یہ لوبان کا چوا کہلاتا ہے۔ اس سیال کو پٹھوں کی کمزوری کے علاوہ داد قوبا اور ایگزیما کیلئے مفید بتایا جاتا ہے۔

جدید تحقیقات:

دافع تعفن‘ حابس خون ہونے کی وجہ سے زخموں کے علاج میں اہمیت رکھتا ہے۔ جراثیم کش ہونے کی وجہ سے سانس کی نالیوں کی سوزشوں‘ گردہ کی سوزش اور پتھری کے علاوہ پیشاب اور اثر کی وجہ سے مقبول ہے۔ جب پیشاب میں فاسفیٹ زیادہ مقدار میں ہوں تو لوبان کے مرکبات ان کو تحلیل کرکے باہر نکالتے ہیں۔ دوسرے پیشاب آور نمکیات کیساتھ لوبان کے اپنے نمک از قسم SOD BENZOIN پیشاب آور ہونے کے علاوہ دافع تعفن اور پیشاب کے ذریعے بیماری نکالتے ہیں۔ جوڑوں کے درد میں مفید ہیں۔ تپ دق‘ سل‘ پرانی کھانسی میں اس کا استعمال بہت سی دوسری ادویہ سے بہتر ہے۔ پرانی ادویہ میں سے وہ ادویہ جو طب جدید میں اب بھی استعمال ہوتی ہیں ان میں لوبان کا ٹنکچر اہم ہے۔ کھولتے پانی میںنمک اور یہ ٹنکچر ملا کر کھانسی اور گلے کی سوزش کے مریضوں کو اس کی بھاپ دی جاتی ہے دن میں دو تین بار بھاپ لینے سے جمی ہوئی بلغم باہر آنے لگتی ہے اور وہ مریض جسے سانس لینا بھی دو بھر تھا سہولت محسوس کرنے لگتا ہے۔ زخموں کے علاج میں ٹنکچر کو روئی پر لگا کر زخم پر لگائیں تو یہ چپ جاتی ہیں۔ زخم سے عفونت کو دور کرنے کےعلاوہ اسے مندمل کرتی ہے۔ اس کو لگانے سے بار بار پٹی کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ سوڈیم بینزویٹ اکثر مرہموں کا اہم جزو ہے۔ خاص طور پھپھوندی سے پیدا ہونیوالی سوزشوں‘ داد‘ چنبل اور پرانےایگزیما میں تنہا یا سیلی سلک ایسڈ کے ساتھ ایک مقبول دوائی ہے۔

ادویات اور شربتوں کو تادیر استعمال کرنے اور جراثیم و پھپوند سے بچانے کے لئے ان میں لوبان سے تیار کردہ ایسڈ بینزوئک لازمی ملایا جاتا ہے-

گھروں میں لوبان کی دھونی دافع عفونت ہے-

بخور بنانے کی ترکیب:

لوبان- گوگل- حرمل- صندل-اگر- عود

ان سب کو ملا کر بطور بخور دھونی دینے سے گھر سے جراثیم مچھر عفونت کا صفایا ہوجاتا ہے- روحانیات کے عاملین کے مطابق گھر میں روزانہ عصر و مغرب کے درمیان اس بخور کی دھونی سے جنات اور بداثرات دفع ہوجاتے ہیں- واللہ اعلم!

اپنی کتاب “ روحانی علاج” میں خواجہ شمس الدین عظیمی نے دماغ ماؤف ہونے کا مندرجہ ذیل علاج تحریر کیا ہے-

ذہن کا ماؤف ہونا

کتاب : روحانی علاج

مستقل ذہنی دباؤ، اعصابی کشاکش یا اور کسی وجہ سے اگر ذہن ماؤ ف رہتا ہو یعنی کوئی بات سمجھ میں نہ آتی ہو، دماغی یا جسمانی کام کرتے وقت ذہن ساتھ نہ دیتا ہو ، ایسی صورت میں کالی روشنائی سے لوبان کے بہت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر نو۹ کے ہندسے لکھے جائیں اور لوبان کے ٹکڑوں کو دہکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال کر دھونی کی طرح سلگائیں۔

یہ عمل ایسی جگہ کرنا چاہئیے جہاں مریض کے علاوہ کوئی اور شخص نہ ہو۔ اس کے لئے رات کا وقت نہایت موزوں ہے۔ دھونی لینے کے بعد مراقبہ کریں یعنی آنکھیں بند کرکے اپنے دل کے اندر دیکھیں۔ مراقبہ پندرہ منٹ سے آدھے گھنٹۃ تک کیا جائے۔ اس عمل سے ذہن میں ایسی روشنیاں منتقل ہونے لگتی ہیں جن سے مسائل کا حل آسانی سے سمجھ میں آجاتا ہے اور ذہن کے اندر حالات و مسائل کا مقابلہ کرنےکی طاقت پیدا ہو جاتی ہے۔

( اس مضمون کی تیاری میں العربیہ ڈاٹ نیٹ، عبقری، مفردات حکیمی، بائبل اور کچھ دیگر ویب سائٹس سے مدد لی گئ ہے)-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *