• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • حکومت ریاستی آمدن بڑھانے کے لیے کیا کر رہی ہے ؟۔۔۔طارق احمد

حکومت ریاستی آمدن بڑھانے کے لیے کیا کر رہی ہے ؟۔۔۔طارق احمد

سوال یہ نہیں حج سبسڈی کی شرعی،فلاحی یا معاشرتی حیثیت کیا ھے۔ حقیقت یہ ھے۔ حکومت کے پاس ان سبسڈیز کے لیے پیسہ ھی نہیں ھے۔ خزانہ خالی ھے۔ اور آئی  ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج لینے کے لیے آئی ایم ایف کے جو مطالبات ھیں ۔ ان میں سبسڈیز ختم کرنا۔ ٹیکس کی شرح بڑھانا، نج کاری کرنا، روپے کی قیمت گرانا ، ڈیوٹیز برھانا ، سیلز ٹیکس برھانا ، اور درآمدات کم کرنا اور برآمدات بڑھانا شامل ھے۔ اس وقت اسٹیٹ بنک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر سات ارب سے کم رہ گئے ھیں۔ ان میں بھی تین ارب سعودی عرب اور تین ارب یو اے ای کے شامل ھیں ۔ جبکہ دو ارب ڈالر چین سے آنے ھیں۔ لیکن یہ تمام مانگے کے آٹھ ارب ڈالر حکومت خرچ نہیں کر سکتی۔ جبکہ ان پر سود دے گی۔ تکنیکی طور پر عمران حکومت ڈی فالٹ کر چکی ھے۔ آئی  ایم ایف کی شرائط نہ مانے تو اور کیا کرے۔ اس وقت ملکی بیلنس آف پیمنٹ یعنی ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ تیرا ارب ڈالر کے قریب ھے۔ اس سال ھم نے کچھ مزید ادائیگیاں کرنی ھے۔ جس کے نتیجے میں ھمارا ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ تیس ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا۔ ھمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس وقت بیس ارب ڈالر کے قریب ھے۔ جبکہ تجارتی خسارہ چالیس ارب ڈالر کی حد کو چھو رھا ھے۔ تارکین وطن کے ترسیلات زر میں کمی ھو رھی ھے۔ پچھلی حکومت میں افراط زر کی شرح اڑھائی فیصد سے بڑھ کر چھ فیصد تک جا رھی ھے۔ معاشی ترقی کی نمو 5.85 فیصد سے کم ھو کر 4.5 فیصد تک گر گئی ھے۔ پیسے کی قیمت ان پانچ ماہ میں پہلے ھی 25 سے 30 فیصد گر چکی ھے۔ جس سے سرمایہ کاری اور بچتوں کے نظام اور قوت خریداری کو بہت بری ضرب لگی ھے۔ افراط زر بڑھنے سے مہنگائ تو بڑھی ھے۔ بے روزگاری میں بھی اضافہ ھوا ھے۔ اور اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تمام صنتعتی ، تجارتی اور مالی سرگرمیاں منفی رحجان میں چل رھی ھیں۔ اور پیسے کی حرکت رک چکی ھے۔ جبکہ ڈالر کی بیرون ملک پرواز جاری ھے۔ اور سیٹھوں اور تجارتی افراد کا اعتماد زیرو کو چھو رھا ھے۔ ترقیاتی بجٹ میں تقریبا ستر سے اسی فیصد کٹوتی لگ چکی ھے۔ اور تمام ترقیاتی منصوبے رکے پڑے ہیں جس سے ترقیاتی بجٹ کے آٹھ کھرب روپوں کی بذریعہ ترقیاتی پروجیکٹس عوام اور سرکاری اور پرائیویٹ کمپنیوں کو ترسیل رک چکی ھے۔ اور نئ نوکریاں نکلنے کے امکانات معدوم ھو چکے ھیں۔ گردشی قرضہ ایک ھزار ارب سے بڑھ کر 1400 ارب تک جا پہنچا ھے۔ جبکہ حکومت ان پانچ ماہ میں تقریبا 40 کھرب کا مزید قرض لے چکی ھے۔ جبکہ روپے کی گراوٹ سے پہلے سے موجود قرضوں میں اضافہ ھو رھا ھے۔ لیکن اس تمام تر معاشی دگرگوں صورتحال کے باوجود عمران حکومت ریاست کی آمدن برھانے اور مالی خسارہ کم کرنے کے لیے کوئ سنجیدہ کوشش کرتی نظر نہیں آتی ۔ آ جا کر ادھار، قرض اور مانے تانگے کی رقم سے ملک چلانے کی کوشش کی جا رھی ھے۔ یا یہ خوشخبری سنا دی جاتی ھے۔ کہ عنقریب سعودی عرب اور یو اے ای سے بھاری سرمایہ کاری آ رھی ھے۔ اللہ کرے ایسا ھو جائے لیکن یہاں سوال یہ ھے۔ اگر امریکی لابی کے یہ دو ملک کوئی  ایسی سرمایہ کاری لا رھے ھیں۔ تو جواب میں ھم سے کیا وصول کریں گے۔ اس لیے کہ ملکوں کے باھمی تعلقات میں کوئی  لنچ فری نہیں ھوتا۔ افواہ یہ ھے۔ کہ اس کا اثر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر پڑے گا۔ امریکی اثر بڑھے گا۔ سی پیک متاثر ھو سکتا ھے۔ یمن کا محاز گرم ھو سکتا ھے۔ طالبان اور امریکی مجوزہ معاھدے کا تعلق بھی اس امداد سے جوڑا جا رھا ھے۔ بہرحال یہ حکومت کا فرض ھے۔ وہ اپنی معاشی پالیسیوں کی وضاحت کرے۔ قرض اور امداد کی پالیسی کو صاف شفاف بنائے ۔ سی پیک پر قوم کو اعتماد میں لے اور خارجہ پالیسی کو کھل کر بیان کرے۔ اور خاص طور پر یہ کہ حکومت ریاست کی امدن بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کر رھی ھے۔ خاص طور پر عمران حکومت نے ریاستی آمدن بڑھانے کا جو آٹھ نکاتی پلان دیا تھا۔ وہ نہ صرف مکمل طور پر ناکام ھو چکا ھے۔ بلکہ قرض اور امداد لے کر ملک چلانے کی پالیسی بھی بری طرع فلاپ ثابت ھو رھی ھے۔ وہ آتھ نکاتی ایجنڈا یہ تھا۔ 1۔ سادگی 2۔ بچت3۔ کرپشن پر قابو 3۔ منی لانڈرنگ پر قابو 4۔ لوٹی ھوئی دولت کی واپسی 5۔ سوئزر لینڈ کے بنکوں میں رکھی دولت کی واپسی 6۔ تارکین وطن کے ترسیلات زر میں اضافہ 7۔ برآمدات میں اضافہ 8۔ سرمایہ کاری
لیکن ان آٹھ ترجیحات کی بجائے ساری مالی و معاشی سرگرمی قرضے اور امداد کے حصول پر رک گئی ھے۔ اور اسے ھی کامیابی سمجھا جا رھا ھے۔ اور ستم ظریفی یہ ھے کہ یہ پالیسی بھی ناکام جا رھی ھے۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *