اسی تے آپنی نوکری کرنی اے۔۔۔۔ عرفان صادق

میں جس سکول میں بطور مدرّس تعینات ہوں وہ میرے گھر سے لگ بھگ 75 کلومیٹر دور ہے۔ میری اس سکول میں تعیناتی سے ہی میری گورنمنٹ سروس کا آغاز ہوا۔ میں نے یہاں آتے ہی اپنے آپ سے ایک کمٹمنٹ کی کہ “عرفان اپنی ساری صلاحیتیں لگا دو” اور پھر ایسا ہی ہوا۔ میں نے ہر ممکن طریق سے سکول اور طلبہ کی بہتری کیلئے کام کرنا شروع کر دیا۔ مجھے کچھ نئے کام کرنے پڑے۔ کچھ ایسے آئیڈیاز استعمال کرنے پڑے جو پرائیویٹ سکولوں میں استعمال کیے جاتے ہیں۔میں ہر دم کچھ ایسا نیا مگر تعمیری و تخلیقی کرنے کے درپے رہا جو طلبہ کی تعلیمی صلاحیتوں کو بڑھانے اور ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکالنے اور پھر نکھارنے میں میرا ممد ثابت ہو۔ سو آج الحمد للہ ہمارا سکول اپنے علاقے کے بہترین سکولوں میں سے ایک ہے۔
اس کے علاوہ سوشل میڈیا کے اس دور میں ،میں نے اساتذہ کی رہنمائی کیلئے باقاعدہ سوشل میڈیا ایکٹوزم بھی شروع کر دیا حتی کہ اساتذہ کی محرومیوں کے ازالے کیلئے قلم اٹھایا اور اخبارات میں کالم لکھنے شروع کر دیے۔
جو بات میں یہاں ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ میں نے جب بھی اپنے سکول یا ڈیپارٹمنٹ کیلئے کچھ نیا کرنے کی کوشش کی تو جہاں ایک بڑے طبقے نے مجھے بشمول میری کاوشوں کے سراہا وہاں ایک مخصوص طبقے کے الفاظ یہ تھے ” کیوں ان جھنجھٹوں میں پڑتے ہو۔۔ چپ کر کے اپنی نوکری کرو۔” یہی طبقہ آج میرا موضوع ٹھہرے گا۔
آپ پاکستان کے کسی بھی ادارے میں چلے جائیں وہاں 99 فیصد لوگ ایک ہی سوچ پہ سر جھکائے گھن چکر کاٹتے نظر آئیں گے کہ “اسی تے آپنی نوکری کرنی اے” آپ ان کو ان کی جاب سے ذرا بڑھ کر کام کرنے کا کہیں یا اپنے حقوق کی آواز اٹھانے کا۔۔۔آپ انہیں کسی فلاحی مقصد کی طرف بلائیں یا کسی تعمیری مگر نئے کام کی طرف بلائیں تو ایک ہی بزدلانہ جملہ آپ کی سماعتوں سے ٹکرائے گا کہ ہم نے تو اپنی نوکری کرنی ہے جی ہم ان جھنجھٹوں میں نہیں پڑتے۔
آئیں دیکھتے ہیں یہ نظریہ کس قدر موزوں ہے۔ میں کسی اور کی مثال نہیں دوں گا میں سرورِکونین کی زندگی سے ایک حقیقت آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔> قرآن کریم نے کئی ایک آیات میں رسولوں کی ذمہ داری کو تبلیغ (پہنچانے) کی حد تک محدود قرار دیا ہے۔ مثلاً درج ذیل آیات میں:> مَا عَلَی الرَّسُوْلِ اِلَّا الْبَلَاغُ○
رسول اللہ(ص) کی ذمہ داری بس حکم پہنچا دینا ہے۔
اَنَّمَا عَلَی رَسُوْلِنَا الْبَلَاغُ الْمُبِينُ○
ہماری رسول کی ذمہ داری تو بس واضح طور پر حکم پہنچا دینا ہے۔
فَهلْ عَلَی الرُسُلِ اِلَّا الْبَلَاغُ الْمُبِين○
کیا رسولوں پر واضح انداز میں تبلیغ کے سوا کوئی اور ذمہ داری ہے؟
اسی طرح خاص طور سے خاتم الرسل کی ذمہ داری کو بھی تبلیغ کے دائرے میں محدود کرتے ہوئے فرمایا ہے:
فَاِنَّمَا عَلَيکَ الْبَلَاغُ○
آپ کی ذمہ داری تو صرف پیغام پہنچا دینا ہے۔
اب ذرا محسنِ انسانیت کی ذمہ داری کو ذہن میں رکھ کر ان کی سیرت پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالیں۔
طائف میں لہو لہاں بدن سے لے کر اپنے گھر کو چھوڑنے تک اور پھر احد میں دندان مبارک شہید کروانے سے لے کر احزاب میں پیٹ پر پتھر باندھنے تک لازوال قربانیوں کی اور اپنی ذمہ داری سے کئی گنا آگے بڑھ کام کرنے کی ایسی داستاں ہے کہ ایک انگریز مفکر کو بھی دنیا کی عظیم شخصیتوں میں اوّل نمبر سرورِ کائنات کو دینا پڑا۔ اور اپنے کام میں جانفشانی اور خود سوزی کا یہ عالم تھا کہ برخلاف دنیاوی روایت کے معبودِ تعالی کو اپنے اپنے عبدِ معظم پہ ترس آگیا اور کہہ دیا۔
لعلک باخع نفسک علی ان لا یکونوا مومنین○
ان لوگوں کے ایمان نہ لانے پہ شاید آپ اپنے آپ کو ہلاک ہی نہ کر دیں۔
لہذا تھوڑا ٹھہر ٹھہر کر اپنی جان کو مشقت میں ڈالے بغیر دعوتی سلسلے کو آگے بڑھائیں۔
یہ تو دعوت و تبلیغ کا معاملہ تھا اور عبادات میں پوری پوری رات کے پاؤں میں ورم ڈال دینے والے لمبے قیام دیکھ کر بھی مالک کو اپنے اپنے مملوک پر ترس آیا تو جبریلِ امین کو پیغام دے بھیجا کہ
یا ایھا المزمل○ قم اللیل الا قلیلا○ نصفه او انقص منه قلیلا○
اے چادر اوڑھنے والے (رسولِ پاک) رات کو تھوڑا ہی قیام کیا کریں آدھی رات یا اس سے بھی کم۔
یہ صرف دو قرآنی حوالے ہیں اس کے علاوہ رحمة للعالمین کی مکمل سیرت اپنی طاقت و ذمہ داری سے بہت زیادہ کام کرنے کی آئینہ دار ہے۔
سوچیں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ کہتے کہ میں نے تو صرف اپنی ڈیوٹی کرنی ہے تو دین کی یہ رمق و تازگی دیکھنے کو ملتی جو ہمیں آج نظر آتی ہے؟؟
چلیں اس سے آگے بڑھیں کچھ عقل کو ہاتھ مارتے ہیں۔
اگر آپ کسی بھی جاندار کی زندگی کا بغور مشاہدہ کریں تو آپ کو بغیر کسی تکلّف کے جلد ہی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہر ذی روح مکمل فرض شناسی سے اپنا کام کر رہا ہے۔ لیکن حضرتِ انسان کی انسانیت کی تکمیل تب ہوتی ہے جب وہ اپنی ذمہ داری سے کچھ بڑھ کراور کچھ ہٹ کر کرے۔ اور یقین مانئے ایسا کرنے والا انسان زمان ومکاں کی قیود سے آزاد ہو جاتا ہے اور ہر دم کچھ نیا کرنے کی جستجو اس کی سوچوں میں طلاطم برپا کیے رکھتی ہے۔ اور یہی وہ مقام ہے جب انسان اپنے آپ کو باقی مخلوقات سے اشرف کرتا ہے۔
آپ دنیا کی تمام عظیم شخصیتوں کی زندگیاں نکال کر پڑھ لیں وہ سب ہی روٹین سے ہٹ کر اور ذمہ داریوں سے بڑھ کر کچھ کرنے والے لوگ تھے۔
آپ علامہ اقبال کا نظریہ شاہین یا نظریہ مرد کامل پڑھیں تو آپ بڑی جلدی اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اقبال کا مرد کامل بھی پورب و پچھم کی قیود سے آزاد بیکرانہ آسماں کا مسافر اور پہاڑوں کی چٹانوں پہ اپنا آشیانہ تلاش کرنے والا شاہین ہے۔
لیکن حیف صد حیف کہ ہماری من حیث القوم حالت یہ ہو چکی ہے کہ اپنی ڈیوٹی سے بڑھ کر کچھ کرنا تو کجا اپنی ڈیوٹی پوری کرنا بھی اپنی جان پہ عذاب خیال کرتے ہوئے اپنے فرائض کی بجا آوری سے روگرداں ہیں۔ ہمارا مزاج یہ بن چکا ہے سرکاری نوکری تو کام نہ کرنے کیلئے ہے۔ کام تو پرائیویٹ اداروں میں کرنے کی چیز ہے۔ اس نظریے پہ کارفرما ہم اور ہمارے احباب پھر کام کرنے کے پیسے لیتے ہیں اور نا صرف اپنے ملک و دین کا نام بدنام کرتے ہیں بلکہ اپنے ہاتھوں سے اخلاقیات کا جنازہ بھی نکال دیتے ہیں۔
آخر میں میں ان تمام لوگوں کو میں کہنا چاہوں گا جو ہر دم کچھ نیا کرنے کا شوق و ولولہ رکھتے ہیں کہ میرے عزیز دوستو۔۔۔ تم ہی اس دھرتی کا فخر ہو۔ تم نے کبھی ہمت نہیں ہارنی۔ الفاظ کے نشتروں سے اپنے آپ کو زخمی نہیں ہونے دینا۔ حوصلہ شکنی کرنے والے افراد اور ان کے افعال سے کنارہ کش ہو کر آگے بڑھو۔تنقید،طنز اور فقرے بازی سے حوصلہ مت ہارو۔ اور ذاتیات کا دفاع کرنا چھوڑ دو تمہارا رب تمہیں سرخرو کرے گا۔ شور ہمیشہ تماشائی کرتے ہیں کھلاڑی نہیں اور تم اس میدان کے کھلاڑی ہو میرے دوستو۔۔ کبھی جو آستین کے سانپ تمہیں ڈس لیں اور تم اپنے مقصد سے پیچھے ہٹنے لگو تو اکیلے میں بیٹھ کر سوچنا کہ یہ تم نے شروع کیوں کیا تھا۔۔ اور جو وقت اور دماغ تم نے کم ظرفوں کے اعتراضات کے جواب میں لگانا ہے وہ کچھ نیا اور بڑا کرنے میں استعمال کر دو۔ کیونکہ تمہارے پاس وقت بہت کم ہے اور تمہارے لیے کام بہت زیادہ ہیں۔۔ شاد رہو۔۔۔ آباد رہو۔۔۔
نوا پیرا ہو اے بلبل کہ ہو تیرے ترنم سے۔۔
کبوتر کے تن نازک میں شاہیں کا جگر پیدا۔۔۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *