ایک سوالیہ نشان۔۔۔۔ایم۔اے۔صبور ملک

میاں ثاقب نثار رخصت ہوئے،پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کا ایک اور باب بند ہوا،ثاقب نثار کافیصلہ تاریخ کرے گی،اور یقیناًکرے گی،اپنے دو سالہ دور میں جس جوڈیشل ایکٹوازم کی بنیاد اور طرح ثاقب نثار ڈال گئے،وہ ہماری ملکی تاریخ کا ایک نیا باب ہے،جنرل ضیاء الحق کے بعد شروع ہونے والے جوڈیشل ایکٹو ازم کو ثاقب نثار نے ایک نئی طرز دی ،ہر وہ کام جو عدلیہ خصوصاچیف جسٹس اور عدالت عظمی کے کرنے کا نہیں تھا،وہ کام سرانجام دینے میں اپنی پوری توانائی خرچ کرنے میں ثاقب نثار تاحال پہلے نمبر پر آتے ہیں ،ثاقب نثار کا نام تاریخ میں ایک ایسے سابق چیف جسٹس کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ،جو عدالتی اصلاحات کے بجائے ہسپتالوں کے دورے اور ڈیموں کی سیاسست میں ملوث رہے،اگر موصوف اپنی توانائی عدالتی اصلاحات پر خرچ کرتے تو ڈی جی آئی ایس پی آر کو یہ نہ کہنا پڑتا کہ فوجی عدالتیں خواہش نہیں بلکہ قومی ضرورت ہے،کیا ملک کا فوجداری نظام اب موثر ہوگیا ہے؟یہ ایک فقرہ جو افواج پاکستان کے ترجمان کی جانب سے کہا گیا ،افواج پاکستان کی ترجمانی کرتا ہے،اور ہماری عدالتی نظام کے منہ پر ایک زبردست تھپڑ سے کی مانند ہے،ایک ایسا ملک جو بلٹ کے بجائے بیلٹ کی بنیاد پر وجود میں آیا ہو ،جہاں پارلیمان اور دیگر آئینی ادارے موجود اور فنکشنل ہوں،جہاں ماتحت عدالتوں سے لے کر عدالت عظمی کام کر رہی ہو ،وہاں محکمہ دفاع کے ایک ماتحت ادارے کی جانب سے پور ے عدالتی اور آئینی نظام پر کھلم کھلا تنقید اور فوجی عدالتوں کو جائز قرار دینا بذات خود آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے جس میں کسی فوجی عدالت کے وجود کا سراغ نہیں ملتا،ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے فوجہ عدالتوں کی بات کرنا ہمارے عدالتی نظام کی اہلیت پر بھی ایک سوالیہ نشان ہے اور ہماری پارلیمان کے تقدس پر بھی ۔اگر ہماری عدالتیں مقدمات کے فیصلے ،یکساں مگر انصاف کے ساتھ کررہی ہوتیں ،اگر ہماری پارلیمان اور دیگر آئینی ادارے اپناکردار آئین پاکستان میں درج مینڈیٹ کے مطابق ادا کرہے ہوتے تو کیا ہی بات تھی ،غلطی کسی ایک کی نہیں ،درست اور بجا کہا نئے چیف جسٹس نے کہ صدر چارٹر آف گورننس پر ایک اجلاس بلائیں،اور عدالتی ،پارلیمانی ،انتظامی قیادت بشمول افوا ج پاکستان ریاستی اُمور چلانے کے عملی پالیسی فریم ورک بنائیں،ڈی جی آئی ایس پی آر کے فوجی عدالتوں والے بیان اور چیف جسٹس کے بیان سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ موجودہ عدالتی نظا م کے حوالے سے دونوں اداروں عدلیہ اور افواج پاکستان میں تشویش پائی جاتی ہے،ایک کا فوجداری نظام کے غیر موثر ہونیکا بیانیہ اور دوسری جانب چیف جسٹس کا عدالتی نظام دوبارہ ترتیب دینے کا عندیہ،نیز عدالت عظمی کا صر ف قانونی نکتے پر ہی اپیل سننے کی بات کرنا،سوموٹو کے اختیار کو کم کرنے ،ایک عدالتی نظام اور تما م خصوصی عدالتیں ختم کرنے کی بات ،علاوہ ازیں فوجی عدالتیں جاری رکھنے کی صورت میں اپیل کا حق دینے اور سب سے بڑھ کر فوج کا سویلین معاملات میں دخل ختم کرنے جیسی باتیں کرکے چیف جسٹس نے مستقبل کی عدالتی پالیسی کا نقشہ پیش کردیا ہے،اس میں کا فی حد تک کرنے کا کام پارلیمان کا ہے ،خا ص طور پرفوج کے سول معاملات میں دخل اندازی ،داخلہ و خارجہ اُمور اور معیشت پر بیان بازی پر پارلیمان کو قانون سازی کرنا ہو گئی،دنیاکے کسی مہذب اور جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا ،ہمارے ہاں چونکہ فوجی ڈکٹیڑ ز برسر اقتدار رہے لہذا فوج کو سول معاملات میں دخل اندازی کی عادت سی پڑ گئی،جو اب ختم ہونی چاہئے،وزارت دفاع کے ایک ذیلی ادارے کو آئین پاکستان میں درج اپنے آئینی مینڈ یٹ کے مطابق اپنا کردار ادا رکر نا چاہئے،اگر سب کچھ فوج نے ہی کرنا ہے تو پھر اس غریب قوم کے اربوں روپے جمہوری تماشے پر لگانیکا کیا فائدہ ؟جب اسمبلی میں کٹھ پتلیاں ہی بٹھانی ہیں تو خدارا اس بات کا تعین کرلیں کہ ہمیں کون سا نظام چلانا ہے؟فوجی یا سویلین؟میرا مقصد کسی پر بے جا تنقید کرنا ہر گز نہیں ،ملک کے تما م ادارے بشمول افواج پاکستان ہمارے لئے قابل احترا م ہیں،مسئلہ تب پیدا ہو تا ہے جب کوئی ادارہ اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرے،جس کی وجہ سے پورے نظام کی بنیادیں ہل جاتی ہیں ،ضمناً یہاں ذکر سانحہ ساہیوال کا،جس پر ہر جانب سے مختلف آراء سننے کو مل رہی ہیں،حکومتی وزراء کو پورا زور مقتولین خصوصاًڈرائیور ذیشان کو داعش کا دہشت گرد قرار دینا،وقوع کے بعد پنجاب پولیس کا بیانیہ اور مختلف ٹی و ی چینلز پر بھی مقتولین کی ہلاکت کو دہشت گردو ں کی ہلاکت قرار دینا ،اور وفاقی وزیر اطلاعات کا بھی مرنے والے چاروں کو ہارڈ کور دہشت گرد کہنا،جن کی ہاں میں وزیر اطلاعات پنجاب نے بھی ملائی ،بعد میں دونوں کے بیانات میں ترمیم ،جانے والے اپنی جان سے چلے گئے یہاں جتنے منہ اُتنی باتیں ،بفرض مال یہ لوگ دہشت گرد یا دہشت گردوں کے ساتھی ہی تھی تو کیا اس طرح بے رحمی سے قتل عام کی اجازت دی جاسکتی ہے ؟اگر سی ٹی ڈی کوئی شک تھا تو گاڑی کھڑا کرکے تلاشی بھی لی جاسکتی تھی اس سے پہلے ایسے کسی اندوہناک واقعے پر کون سے ایکشن ہوا ہے جو اب ہو گا،بس چار دن کی کہانی ہے پھر قوم کو نیا موضوع مل جائے گا،کچھ عرصہ قبل کوئٹہ میں چیچنیا سے آنے والی خواتین کی ہلاکت کا سانحہ اخروٹ آباد ،نقیب اللہ کیس ،سرفراز قتل کیس ،اور آئے دن پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والی فورسز کے ہاتھوں بے گناہ شہریوں کا قتل عام ایک معمول کی بات بن چکی ہے،ہر واقعہ کے بعد بس چار دن ہاہا کار مچتی ہے پھر خاموشی اور کسی کو یہ خبر ہی نہیں ہوتی کہ اس کا شکار ہونے والوں پر کیا گزری؟ اور ایسا ظلم کرنے والے کا انجام کیا ہوا؟اس سارے معاملے کا تعلق براہ راست ہمارے عدالتی نظام سے ہے جس کے غیر موثر ہونے اور انصاف کی فراہمی میں تاخیر جیسے اُمور کی وجہ سے ایک جمہوری ملک میں فوجی عدالتوں کی ضرورت پیش آتی ہے ،وقت آگیا ہے کہ چیف جسٹس اس گلے سڑے بوسیدہ عدالتی نظام کو تبدیل کریں تاکہ ہمارے نسل در نسل چلتے مقدمات کا کوئی انت ہو اور کسی معصوم کے سامنے اُسکی جنت نہ اجڑے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *