ساڑھے تین سو ڈیم اور نیشنل گرڈ سسٹم، ایک تجزیہ ۔۔۔ راشد جلیل

چند دن قبل سوشل میڈیا کے توسط سے معلوم ہوا کہ خیبرپختونخوا میں قریب 350 مائیکرو ہائیڈل پاور جنریشن یونٹس میں سے بیشتر مکمل ہو کر پیداوار دے رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ ایک خوشی کی بات ہے۔ تاہم ساتھ میں تحریک انصاف کے بھائیوں کی جانب سے ایک شکایت یہ ملی کہ وفاق کے تحت چلنے والا ادارہ نیشنل ٹرانسمشن ڈسپیچ کنٹرول (این ٹی ڈی سی) اس بجلی کو نیشنل گرڈ سسٹم میں شامل نہیں کر رہا۔ یوں تحریک انصاف کے نزدیک یہاں خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ راقم کا تعلق چونکہ اسی شعبے سے ہے لہذا بطور پراجیکٹ انجینئیر نیشنل گرڈ سعودی الیکٹریک میں نے اس موضوع پر قلم کشائی کا فیصلہ کیا۔ آئیے، سب سے پہلے مائیکرو ہائیڈل پاور جنریشن سسٹم اور نیشنل گرڈ سسٹم کے بارے بنیادی باتیں واضح کرتے ہیں تاکہ پورا معاملہ سمجھنے میں آسانی رہے۔ 

مائیکرو ہائیڈل پاور جنریشن یونٹس پاکستان میں سن 2000 کے بعد بننے شروع ہوئے۔ یونٹس عموماً پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے پہاڑی خطوں میں بنائے جاتے ہیں۔ یہاں یہ پراجیکٹس ایبڈو کے نام سے شروع ہوئے۔ میں نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں اس پراجیکٹ کے کئی رننگ یونٹس دیکھے ہیں۔ یہ 2012 کی بات تھی۔ لہذا یہ بات تو طے ہے کہ نہ ہی یہ یونٹس انہونی تھے اور نہ ہی 2013 کے بعد آنی والی حکومت پہلی انتظامیہ تھی جس نے یہ منصوبے شروع کیے۔ 

دوسری بات یہ ہے کہ ان یونٹس کی پیداواری صلاحیت بہت ہی کم ہوتی ہے اور یہ صرف مقامی آبادی کے لئے کارآمد ہوتے ہیں۔ اکثر اوقات یہ چھوٹے یونٹ زیادہ سے زیادہ 100-150 گھروں کو بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔ یہاں یہ حقیقت بھی مدنظر رکھیے کہ یہ وہ گھر ہوتے ہیں جہاں ہوم اپلائنسز شہری گھروں کی نسبت کم پیچیدہ اور کم تعداد میں ہوتی ہیں۔ نتیجتاً لوڈ ڈیمانڈ فی گھر اتنی نہیں ہوتی جتنی شہری علاقوں میں ہوا کرتی ہے۔ یہ یونٹس گرمیوں میں اپنی زیادہ سے زیادہ آؤٹ پٹ دیتے ہیں کیونکہ پہاڑوں پر برف پگھلنے کی وجہ سے پانی کا بہاؤ زیادہ ہوتا ہے جس کا ان کی پیداوار پہ مثبت اثر ہوتا ہے۔سردیوں میں برف پڑنے کی وجہ سے پانی کا بہاؤ کم ہوتا ہے اور یوں ان کی پیداواری صلاحیت کم ہوجاتی ہے۔ گلگت کے مقامی افراد کے مطابق شہر کے مضافات میں واقع چھوٹے دیہات میں ان میں ان یونٹس کی وجہ سے گرمیوں میں لوڈشیڈنگ صفر جبکہ سردیوں میں بہت زیادہ لوڈشیڈنگ ہوتی ہے۔ وجہ وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی۔ یہاں تک ہمیں یہ معلوم ہوا کہ مائیکرو ہائیڈل پاور جنریشن یونٹس صرف مقامی آبادی کے لیے مفید ہیں۔ مزید یہ کہ ان کی پیداواری صلاحیت بھی کافی کم ہوتی ہے (عام بور پر تقریباً ایک کلو واٹ تک)۔ 

اب کچھ وضاحت نیشنل گرڈ سسٹم کی ہوجائے۔ پاکستان میں NTDC کے نام سے ادارہ نیشنل گرڈ سسٹم کا ذمہ دار ہے۔ اس کے پاس کم از کم 220 کے وی اور زیادہ سے زیادہ 500 کے وی کا گرڈ سسٹم موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نیشنل گرڈ سسٹم میں شامل کرنے کے لئے آپکو کم سے کم بھی 220 کے وی کی ٹرانسمشن لائین اور اسی تناسب سے بجلی کی پیداوار بھی درکار ہے۔ اگر ٹرانسمشن لائین کے وولٹیج 220 کے وی سے کم ہیں تو یہ NTDC کی نہیں بلکہ مقامی ڈسٹریبیوشن کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔ مقامی ڈسٹریبیوشن کمپنیوں میں لیسکو، پیسکو، ائیسکو وغیرہ شامل ہیں۔

اب نیشنل گرڈ سسٹم چونکہ بہت ہی ہائی وولٹیج پر مشتمل ہے (انجینئرنگ کی زبان میں یہ ایکسٹرا ہائی وولٹیج کہلاتے ہیں) اس لئے اس سسٹم میں شمولیت کے لیے پیداوار بھی بہت زیادہ مطلوب ہوتی ہے جو کہ مائیکرو ہائیڈل پاور جنریشن یونٹس سے ممکن ہی نہیں۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ بڑے پاور پلانٹس کو بھی نیشنل گرڈ سے متصل ہونے کے لیے ایک گرڈ اسٹیشن بنانا ہوتا ہے تاکہ مرکزی لوڈ سینٹر تک مقامی بجلی کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ مرکزی لوڈ سینٹر سے پھر آگے اس ترسیل کو تقسیم یا ڈسٹری بیوٹ کیا جاتا ہے۔

نیشنل گرڈ کا کم از کم 220 کے وی کا گرڈ بنانے کے لیے اربوں روپے درکار ہوتے ہیں۔ اس گرڈ سٹیشن کو شروع کرنے کی لاگت اور وہاں سے ٹرانسمیشن لائن کی ابتدائی قیمت (CAPEX) اور پھر اس کی آپریشنل قیمت (OPEX) اس پر مزید خرچہ ہے۔

اب آپ نے مائیکرو ہائیڈل پاور کو اگر نیشنل گرڈ سسٹم میں لازمی شامل کرنا ہے تو جناب لوڈ سینٹر تک پہنچانے کی قیمت اتنی آجانی ہے کہ یہ بجلی تیل سے چلنے والے پیداواری یونٹس سے بھی بہت مہنگی پڑے گی۔ وجہ وہی ہے جو اوپر بیان کی گئی ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت کلو واٹس میں ہوتی ہے جبکہ نیشنل گرڈ سسٹم میں شمولیت کے لئے میگاواٹ میں بجلی کی پیداوار چاہیے۔ پنجاب میں 50 میگاواٹ جوہر آباد پلانٹ کو بھی 132 کے وی سے جوڑا گیا ہے نہ کہ 220کے وی لائین سے مگر کیا کیجیے احباب مصر ہیں کہ ہمارے مختلف مقامات  پر قائم کردہ مائیکرو ہائیڈل یونٹس، جن کا درمیانی فاصلہ کلومیٹرز پر محیط ہے، اور جن سے کل ملا کر 74 میگاواٹ بجلی آتی ہے وہ بھی فقط گرمیوں کے پیک واٹر فلو میں، اسے نیشنل گرڈ میں شامل کیا جائے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند؟

مائیکرو ہائیڈل پاور یونٹس کا نظام نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں کبھی بھی نیشنل گرڈ سسٹم کے لئے نہیں رہا۔ ایسے یونٹس صرف مقامی آبادی کے لئے ہی بنائے جاتے ہیں۔ مائیکرو ہائیڈل پاور جنریشن یونٹس ضرور لگنے چاہیے مگر ان کا مقصد واضح اور غیر سیاسی ہونا چاہیے تاکہ یہ صرف مقامی آبادی کو بجلی کی سہولت فراہم کریں۔ آپ ان مائیکرو ہائیڈل پاور پلانٹ کو مقامی آبادی کی بجائے قریبی شہروں تک بھی لے آئیں تو بات وہی سوئی گیس والی بن جانی ہے کہ سوئی کی مقامی آبادی لکڑیاں استعمال کر رہی ہے اور باقی پاکستان گیس استعمال کر رہا ہے۔ 

لب لباب یہ کہ سیاسی پہلو کو ایک طرف رکھ کر مقامی آبادی کو ترجیحی بنیادوں پر مستفید کیا جانا چاہئے کیونکہ وہاں کے پہاڑوں سے نیچے کی طرف آنے والے پانی پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔ سیاسی خواب اور غیر فطرتی خواہشات پر البتہ نہ پہلے ہمیں اعتراض تھا نہ اب ہے بشرطیکہ یہ خواب خواہشات تک رہیں اور ملکی وسائل پہ غیر ضروری بوجھ کا باعث نہ بنیں۔ 

Avatar
راشد جلیل
تعارف کے لیے کچھ خاص نہیں سوائے اس کے کہ حجاز کی مقدس سرزمین پر بطور انجینئر کام کر رہا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *