• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • الہی وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

الہی وہ نہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے میری بات ۔۔۔۔عامر عثمان عادل

اپنے دانشور دوستوں کے نام
آپ کے فرمودات عالیہ اور خیالات زریں لگاتار سماعتوں میں رس گھولنے کے ساتھ ساتھ بصارتوں کو بھی خیرہ کئے جا ریے ہیں ایک سیدھی سی بات میں آپ کو بغض و عناد اور جانبداری یوں دکھائ دی کہ آپ اپنے غم و غصے پر قابو نہیں رکھ پائے
حضور جان کی امان پاؤں تو بندہ ناچیز کچھ کہنے سے پہلے اپنی کم علمی و تنگی داماں کا اعتراف کر لے کہ آپ کے سامنے لب کشائ گستاخی نہ بن جائے حضور ہمیں کھلا اعتراف ہے کہ آپ کے علم و فضل دانش وفہم تجربے اور مشاہدے کے سامنے ہم قوت گویائی سے محروم دکھائ دیتے ہیں بحث مقصود نہیں صرف کچھ معروضات آپ کے سامنے رکھنا ضروری سمجھا
حکومت وقت کے جاری کردہ کسی بھی حکم نامے کی حکم عدولی مراد نہیں مقصود طرہقہ کار سے جرات اختلاف ہے اکثر رات گئے ایسا کوی بھی اعلان کر دیا جاتا ہے جس کی اطلاع بر وقت نہیں ہو پاتی تصدیق تردید کے عمل میں کنفیوژن پیدا ہوتا ہے اور والدین میں اضطراب اب سوچئے جو بچے سکول پہنچ جاتے ہیں انہیں وہیں سے واپس کرنا ان معصوموں کی جان کو خطرے میں ڈالنا ہوتا ہے
گزشتہ سال گوجرانوالہ میں ایسا ہی واقعہ پیش آیا پولیس نے ایک سکول کو زبردستی بند کرنے کو کہا پرنسپل نے درخواست کی کہ ان بچوں کو لینے کیلئے سکول کی گاڑیاں یا والدین آ جائیں تو بھیج دیں گے اتنی سی مہلت دے دیجئے مگر ایس ایچ او نے سکول خالی کروا لیا بچے سڑک پر کھڑے رہے
حکومت خود دو عملی کا شکار ہوتی ہے گرما ہو یا سرما تعطیلات کا نوٹیفیکیشن کئ بار تبدیل کیا جاتا یے
حکومت نے ہر سال موسم گرما کی تعطیلات کے دوران سمر کیمپ لگانے کی مشروط اجازت دی کہ ٹھنڈےپانی جنریٹر اور سیکیورٹی کی سہولیات فراہم کرنے کی شرط پوری کرنے والے ادارے سمر کیمپ لگا سکتے ہیں
پھر حکم صادر ہوا کہ صرف بورڈ کے امتحانات کی تیاری کی خاطر کلاسز کیلئے سمر کیمپ کا انعقاد کیا جا سکتا ہے
اب یوں ہوا کہ ہر سال سختی سے حکم جاری ہوتا ہے کہ تعطیلات کے دوران سکول کھولنے کی اجازت نہیں
چلیے آپ کا ہی استدلال مانتے ہوئے عرض ہے کہ ہم بھی تو یہی کہتے ہیں کہ موسمیاتی تغیر وتبدل کو مد نظر رکھتے ہوئے ضروری ہے کہ تعطیلات کا شیڈول اب ری شیڈول کر لیا جائے
عمومی طور پر مئئ جون کے آغاز ہی میں تعطیلات کر دی جاتی ہیں جبکہ ان دنوں ابھی گرمی کی اتنی شدت نہیں ہوتی اس کے برعکس اگست میں سکول کھل جاتے ہیں جب شدید حبس اور بارشوں کے باعث بچوں کیلئے سکول آنا ایک امتحان سے کم نہیں ہوتا
اسی طرح لگی بندھی روٹین اور آپ کے بقول فرنگی کے دئیے ہوئے قاعدے کلئیے پر عمل پیرا ہوتے ہوے دسمبر کے آخری ہفتے میں چھٹیاں کر دی جاتی ہیں جب موسم خوشگوار ہوتا ہے اور دھوپ نکھری نکھری جونہی بچوں کے سکول کھلتے ہیں شدید دھند کہر میں لپٹی صبحین ان کی منتظر ہوتی ہیں
گستاخی معاف آپ ہی کا فرمانا ہے ناں کہ موسمی تبدیلیوں کے مطابق چھٹیوں کا شیڈول طے کر لینے سے کوئ قیامت نہیں آ جاتی تو ہم بھی تو یہی چاہتے ہیں کہ اب کرہ ارض پر وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے سکولوں میں تعطیلات کا فیصلہ کیا جائے تاکہ طلبہ طالبات کا کم سے کم تعلیمی ضیاع ہو
ہر ضلع اور ڈویژن میں آب و ہوا ایک جیسی نہیں نہ ہی موسمی حالات یکساں اکثر دوران سفر دیکھنے میں آیا ہے کہ گجرات شدید دھند میں لپٹا ہوتا ہے لیکن جونہی آپ گوجر خان سے آگے نکلتے ہیں تو چمکتی دھوپ اور روشن آسمان آپ کا استقبال کرتا ہے اسی طرح نہری علاقوں میں دھند کا راج ہوتا ہے لیکن بارانی علاقے اس سے محفوظ جیسے آجکل لاہور اور نواحی علاقے دھند آلود جبکہ گجرات میں موسم بہتر
تو میرے دانشور دوست رہنمائ فرمائیں گے کہ کیا کسی ایک مخصوص علاقے میں جاری موسمی حالات کو بنیاد بنا کر تمام صوبے میں ایک ہی شیڈول نافذ کرنا مناسب ہے؟
موجودہ صورتحال میں سکول مزید ایک ہفتہ کیلئے بند کئے جانے پر ہمیں اعتراض صرف اتنا سا ہے کہ کم از کم ضلع گجرات میں موسم ایسا شدید خراب نہیں تھا جو چھٹیوں میں اضافے کا باعث بنتا
بچے سکول آتے ہیں تو اس میں ہمارا کوی ذاتی مفاد ہے نہ کسی تمغے کی آرزو عزیز ہے تو طلبہ و طالبات کا مستقبل جن کے سالانہ امتحانات سر پہ ہیں جنوری ہی وہ مہینہ ہے جس میں کورس کی تکمیل اور اس کا اعادہ کیا جانا ضروری سمجھا جاتا ہے کہ فروری میں پنجم اور ہشتم کے پیک امتحانات جبکہ مارچ کے آغاز ہی سے میٹرک کے امتحان کا آغاز ہو جاتا ہے
حکومت کی حکم عدولی ہمارا مطلوب ہے نہ ہی ہم اپنی ڈھائ اینٹ کی مسجد الگ سے کھڑی کرنے کے خواہشمند عرض ہے تو بس اتنی کہ فیصلہ سازی میں مشاورت شامل ہو جائے تو معاملات کو خوش اسلوبی سے حل کیا جا سکتا ہے
اور حاکم وقت سے گزارش بس اتنی سی یے کہ حضور نوٹیفیکیشن ہی جاری کرنا ہو تو بروقت فرما دیا کیجئے یوں نصف شب عین وقت زوال فرمان شاہی جاری کرنا کچھ اچھا شگون نہیں!

عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل
عامر عثمان عادل ،کھاریاں سے سابق ایم پی اے رہ چکے ہیں تین پشتوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں لکھنے پڑھنے سے خاص شغف ہے استاد کالم نگار تجزیہ کار اینکر پرسن سوشل ایکٹوسٹ رائٹرز کلب کھاریاں کے صدر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *