ایک مختصر ترین کالم ۔۔۔۔طارق احمد

جرنیلوں کی ایک کھیپ قومی مفاد میں ایک پالیسی بناتی ہے۔ جیسے کولڈ وار ، جیسے کشمیر جنگیں، جیسے کارگل، جیسے مشرقی پاکستان، جیسے افغان وار، جیسے مجاہدین جیسے طالبان، جیسے سپاہ صحابہ، جیسے لشکر جھنگوی جیسے جیش محمد، جیسے جماعت دعوی، جیسے لشکر طیبہ ، جیسے متحدہ جیسے تحریک لبیک ۔ جہاد شروع کرتی ہے۔ پراکسی وارز لڑتی ہے۔ سیاست کرتی ہے  اور قوم اور فوج مل کر اس قومی مفاد میں کئی  دہائیاں قربانیاں دیتی ہے۔ قوم خود بھوکے رہ کر دفاع پر پیسہ خرچ کرتی ہے۔ صاف پانی ، تعلیم ، صحت اور ہاؤسنگ جیسی نعمتوں سے محروم رہتی ہے۔ فوج کے کڑیل جوان اور بہادر افسر اور عام شہری اس پالیسی کی نذر  اپنی زندگیاں گنواتے ہیں ۔ اور ہم ان کی تصاویر اس کیپشن کے ساتھ میڈیا پر لگاتے ہیں ۔۔ یہ وہ بہادر تھے  جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کر دیا۔ یہ جاگتے ہیں  تاکہ ہم سو سکیں ۔ پھر جرنیلوں کی ایک اور کھیپ آتی ہے۔ وہ ان پالیسیوں کو قومی مفاد میں تبدیل یا الٹ دیتی ہے۔ جہاد فساد بن جاتا ہے۔ ڈبل گیم شروع ہو جاتی ہے۔ اپنے ہی پالے ہوئے اثاثوں کے خلاف دہشت  گردی کی جنگ شروع ہوتی ہے۔ اب فوج اور قوم اس تبدیل شدہ قومی مفاد میں پھر قربانیاں دیتی ہے۔ خود بھوکے رہ کر دفاع پر پیسہ خرچ کرتی ہے۔ صاف پانی ، تعلیم ، صحت اور ہاؤسنگ جیسی نعمتوں سے محروم رہتی ہے۔ فوج کے کڑیل جوان اور بہادر افسر اور عام شہری اس پالیسی کی نذر اپنی زندگیاں کرتے ہیں اور ہم میڈیا پر ان شہداء کی تصاویر اس کیپشن کے ساتھ لگاتے ہیں ۔ یہ وہ بہادر تھے۔ جنہوں نے اپنا آج ہمارے کل پر قربان کر دیا ۔ یہ راتوں کو سرحدوں پر جاگتے ہیں تاکہ آپ آرام کی نیند سو سکیں ۔ دیکھتے ہیں اب لبیک والوں کی کب باری آتی  ہے ۔ جرنیلوں کی ایک نئی کھیپ کا انتظار ہے۔

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *