ثقافتی گھٹن اور روایات شکن اِزم آزمان۔۔۔۔صادق صبا

پدّرسری اور آمرانہ سوچ کے حامل معاشروں میں فنون لطیفہ، زندگی کی جمالیات اور حسن و لطائف کو پھیلانا یا محض ان کی ترویج کے حق میں بات کرنا بھی بغاوت، گناہِ کبیرہ اور روایات کی پامالی گردانا جاتا ہے۔

تاریک قوتیں مذہب اور آبائی اقدار کے نام پہ اس طرح کی ہر سرگرمی کو مذہب دشمن گردانتی ہیں اور اپنی قدامت پرست روایات کو عمدہ قرار دے کر اس کے برخلاف کو باغی و مرتد قرار دینے میں لمحہ بھر کو نہیں چوکتے۔ دوسروں لفظوں میں آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ہر آواز جو ماضی کی ثنا نہیں کر سکتی، وہ مذکورہ معاشرے میں نامنظور ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم بھی اسی طرح کے معاشرے میں رہتے ہیں۔ جہاں پرانے اقدار سے چپکے رہنے اور جدید روایات سے دشمنی کو ہم فخر سمجھتے ہیں۔

نتیجاً معاشرہ شدید گھٹن کا شکار ہے۔ شدید روایات سے گھائل نوجوان جب ہوش و حواس میں خوشی نہیں پاتے تو انھیں مجبوراً باغرضِ تجسس نشہ کی طرف لپکنا پڑتا ہے جو انہیں چند لمحوں کی خوشی عطا کرتا ہے۔ ہوش میں آنے کے بعد سماجی اقدار کی وہی زنجیریں انہیں مزید گھائل کرتی ہیں اور وہ ندامت محسوس کرتے ہیں، کیوں کہ اِن معاشروں میں زندگی ہی دراصل ندامت ہے۔

ہمارے معاشرے میں ہر نوجوان جینا چاہتا ہے، گانا چاہتا ہے، زندگی کی اٹھان کی ترنگ پہ جھولنا چاہتا ہے مگر افسوس کہ ان تمام جبلی عادات و فطری ضروریات کا گلہ کہنہ روایات اور گناہ کا خوف دے کر دبا دیا جاتا ہے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ معاشرے، حالات و واقعات کے ساتھ بدلتے ہیں یا بدل دیے جاتے ہیں۔

اسی طرح کے گھٹن زدہ ماحول کو بدلنے میں پسنی کی فعال تنظیم ازم آزمان پسنی نے ایک عہد ساز قدم اٹھایا ہے، کہ قرنوں سے دل میں گھٹتے قہقوں کو چہروں پہ بکھیر دیا جائے، نسلوں سے نئی آوازوں کے پیاسے کانوں میں حسین نغموں کا روح پرور سروُر جاگزیں کیا جائے۔ سماجی و ثقافتی گھٹن کی دھند کو کم کیا جائے۔

پچھلی تین سالوں میں ازِم آزمان پسنی اور اس کی نوجوان ٹیم نے ہر تنقید، ہر غرض اور خطرے سے بالا ہو کر خوشیاں بانٹنا، پہچان فراہم کرنا شروع کیا ہے۔ جس پہ نوجوانوں کی یہ ٹیم داد و تحسین کی مستحق ہے، مگر زہے نصیب کہ مسرت دشمن سماج میں داد و تحسین پانا کوہِ قاف سے آبِ حیات پانے کے مترادف ہے۔ کیونکہ صدیوں کی منجمد روایات، سماج کو بانجھ بنا ڈالتی ہیں، جہاں بانجھ دماغ اور بانجھ افکار ہی جنم لیتے ہیں، جن کو عقل و خرد سے علاقہ ہی نہیں بلکہ ان کے بنجر دماغ سے پیدا ہونے والے کنکر کبھی گلشن تو کبھی خیالات کے خوبصورت شیش محلوں ہی کا نصیب ہوتے ہیں۔

یہی حال ازم آزمان کا بھی ہے جو متعدد متعصب و بانجھ دماغ افراد کی تنقید کی زد میں ہے۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ اِزم آزمان سے پہلے وہ کیا تخلیق کر رہے تھے جو عوام کو فائدہ پہنچا رہا تھا؟۔ کیا آپ ڈزنی ورلڈ تخلیق کر رہے تھے؟۔ دراصل بات عقل سے عاری ان مفسدوں کی ہے جو نہ کچھ کرتے ہیں اور نہ کرنے دیتے ہیں۔

تنقید ہر فرد کا حق ہے مگر جائز ہو، کئی چیزیں ہیں جہاں میں اختلاف رکھ سکتا ہوں مگر لازم نہیں میرے اختلافات یا اعتراضات صحیح ہوں اور میں انھیں حرفِ آخر سمجھ کر قبول کروں اور ہر انسان کے دماغ میں مختلف چیزوں ہوں گی۔ یہ ہر میدان، ہر دور میں ہوگا۔ دو تہائی دنیا اللہ کے آخری پیغمبر محمدﷺ سے آج بھی اختلاف رکھتی ہے۔

اِزم آزمان ایک ایسے معاشرے میں کام کر رہا ہے جہاں آپ کو سانس لینے کے لیے بھی کئی مرتبہ سوچنا پڑتا ہے۔ تو ایسے معاشرے میں ہمیں سہارا بننا چاہیے ایک دوسرے کی خوشیوں کا، ان ہاتھوں کا جو بے لوث خدمت کے جذبے سے اپنی عیدیں قربان کرتے ہیں۔ ہاں البتہ ازم آزمان کی ٹیم کو بھی بہتر فارمیٹ کے ساتھ آنا چاہیے، مزید ٹیلنٹ کو ان کی قابلیت کی بنیاد پر آگے لانا چاہیے، بجائے دوستی اور جان پہچان کے۔

مقامی میونسپل کمیٹی کے ساتھ مل بیٹھ کر ایک لائحہ عمل طے کريں اور شہر کی ماؤں بیٹیوں کو بھی عزت سے موقع دیں کہ وہ بھی ان قہقہوں میں شریک ہوں، تاکہ صدیوں سے منجمد ذہنوں کی زنجیروں میں مبحوس عورت بھی زندگی کو کچھ پَل کے لیے زندہ دلی سے جئیں لیکن یہ سب ممکن ہوگا ہماری سپورٹ اور سہارے سے، کیکڑے پن سے نہیں۔

ازم آزمان اعلانِ اجتہاد ہے ان سیکڑوں بند ذہنوں کے لیے جو لاکھوں دِلوں کی خوشیوں کو روایات کی زنجیروں میں گانٹھ دیتے ہیں۔ اِزم آزمان پسنی کا ایک نیا عہد ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ازم آزمان کے عہد ساز روایت شکن کرداروں کو مزید جُراتِ “کن” عطا کرے۔

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *