• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سوشل میڈیا پر احمدی  مخالف مہم: عام آدمی کے جاننے کی باتیں۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

سوشل میڈیا پر احمدی  مخالف مہم: عام آدمی کے جاننے کی باتیں۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

SHOPPING
SALE OFFER
SHOPPING

نوٹ۔نوٹ:مکالمہ مسلکی حوالے سے لکھے گئے مضامین شائع کرنے سے احتراز برتتا ہے،تاہم یہ مضمون آزادیِ اظہارِ رائے کے تحت شائع کیا جارہا ہے، تاکہ سوشل میڈیا پر چلنے والے قادیانی مخالف ٹرینڈز کے پسِ پردہ حقائق کو سمجھنے میں آسانی ہواور اس معاملے سے جُڑی غط فہمیوں کا ازالہ ہوسکے۔ یہ مضمون مستقبل کے راستے تلاش کرنے کی ایک کوشش ہے۔ مکالمہ کی جانب سے ہر دوسرے فریق کو اپنی رائے پیش کرنے کی آزادی کی یاددہانی کروائی جاتی ہے اور جوابی تحریر کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

آغاز کیسے ہوا؟

‏انگریزوں کے قبضے سے پہلے ہندوستان کے مسلمان دو قسم کے تھے: شیعہ اور سنی۔ سنی فلسفہ اور منطق پر زور دینے والے دارالعلوم فرنگی محل اور صوفیہ کے پیرو تھے۔ 1857 کے بعد اہلِ سنت میں پانچ جدید فرقے پیدا ہوئے، بریلوی، دیوبندی، اہلِ حدیث، احمدی اور اہلِ قرآن؛ پرانا عقلیت پسند دارالعلوم فرنگی محل کا معتدل مسلک آہستہ آہستہ فراموش ہوگیا لیکن اہلِ تصوف باقی رہے۔ نئے مدارس کے نصاب میں سے فلسفے کو نکال دیا گیا اور تاریخ کو صرف احادیث تک محدود کر دیا گیا۔ شیعوں میں مجتہدین پیدا ہونے ختم ہوئے اور خطبا منظر عام پر آئے۔ عزاداری میں نت نئے رواج پیدا ہوئے۔ اہلِ سنت میں محفل میلاد پر گھمسان کا رن پڑا۔ یہ گروہ بندی انگریزوں کی سازش نہ تھی بلکہ ان کے قبضے سے پیدا ہونے والی شکست خوردگی اور غربت کے ملاپ کا فطری نتیجہ تھی۔ مذہب میں پناہ ڈھونڈنے والا معاشرہ مذہبی رہنماؤں کے لیے معاشی شکار گاہ تھا، اور شیروں میں شکار گاہوں کی سرحدیں متعین کرنے پر جھگڑے تو ہوتے ہیں۔

مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے زمانے (1857-1910) میں مذہبی قیادت کا دارومدار عوامی چندے پر تھا۔ راجے مہاراجوں کا دور ختم ہوگیا تھا اور دربار سے مدد معاش کا سلسلہ رک گیا تھا۔ اس وقت مذہبی پیشواؤں نے ایسے دعوے کیے جن سے عوام میں تقدس حاصل ہوتا اور اس کے نتیجے میں چندہ ملتا تھا۔ 1857 میں ہندوستانی معاشرے کو بہت بری طرح مارا گیا تھا۔ کیا مسلمان، کیا ہندو، کیا سکھ، سبھی حقیقی دنیا میں انگریزوں کے ہاتھوں ہر لحاظ سے شکست کھاکر روحانیت میں پناہ لے رہے تھے۔ ایسے میں خود کو عالمِ غیب سے جوڑ کر عام انسانوں سے بلند ظاہر کرنے والے ہر شخص کو وافر پیروکار مل جاتے تھے۔ دیوبند کے مولانا قاسم نانوتوی نے خواب دیکھا کہ ان کا اور رسول اللہ صلی الہہ علیہ وسلم کا جسم ایک ہوگئے۔ شیعہ اور سنی مذہبی پیشواؤں میں من گھڑت معجزے رونما ہونے لگے جن کا عقیدت بھرا تذکرہ اب بھی محفلوں میں ہوتا ہے۔ ہر طرف کشف و الہام کا شور تھا۔ مظلوم مسلمان عوام جو صدیوں سے کسی غیبی مدد، کسی مافوق الفطرت منجی کے ظہور کی امید پر حالات سے سمجھوتہ کیا کرتی تھی، اب یہ مانگ اور بڑھ چکی تھی۔

اس دور میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی نے دعویٰ کیا کہ وہی امام مہدی ہیں۔ انھوں نے آگے بڑھ کر کہا کہ رسول الله پہلی کے اور میں چودھویں کا چاند ہوں۔ تاریخ میں مہدویت کے دعوے کئی مرتبہ، بالخصوص سیاسی و معاشی زوال کے دنوں میں، کیے گئے ہیں۔ برِصغیر میں دہلی سلطنت کے زوال کے دنوں میں جون پور کے سید محمد نے مہدی ہونے کا اعلان کیا تھا۔ مرزا صاحب کے برعکس ان کا تعلق بھی خاندان رسالت سے تھا۔ مغل دور میں ان کے پیروکاروں کا جنوبی ہندوستان میں کافی اثر و رسوخ بھی رہا۔ اس کے علاوہ بھی سیکڑوں مثالیں موجود ہیں۔

‏1857 کے بعد کے زمانے میں عیسائی، ملحد، ہندو اور مسلمانوں کے بیچ مذہبی مناظرے بھی عام تھے۔ حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد پر کافی بحث ہوتی: ابنِ مریم مرگیا یا زندہ و جاوید ہے؟ آنے والے سے مسیح ناصری مقصود ہے، یا مجدد،جس میں ہوں فرزندِ مریم کے صفات؟

سر سید نے قرآن کے روایتی معنی کے بجائے جدید دور کے نظریات کو دائرہ اسلام میں داخل کرنے کے لیے متعدد کتب لکھیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ حضرت عیسیٰ وفات پاچکے۔ یہی بات مرزا صاحب نے کی۔ البتہ انھوں نے خود کو عیسیٰ کہہ دیا۔ ‏سر سید کا مقصد یہ تھا کہ لوگ فضول مذہبی بحثوں میں وقت تلف کرنے کے بجائے جدید علم حاصل کریں لیکن ان کی تفسیر خود ایک نیا فتنہ بن گئی جس کو نیچری اور پھر منکرینِ حدیث (اہلِ قران) کہا گیا۔ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ (مرزا صاحب کے فرزند بشیر الدین محمود) نے بھی اسی طرز پر قرآن کی تفسیر لکھی۔‏

قادیانی/احمدی مرزا صاحب کو مہدی، مسیح اور ظلی نبی مانتے ہیں، اور ان کے علاوہ یہ دعویٰ کرنے والے کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ فقہی معاملات میں وہ فقہ حنفی کی وہابی تشریح کی پیروی کرتے ہیں۔ جس زمانے میں مرزا صاحب تھے اس وقت پیروں اور مولویوں میں یہ عام بات تھی کہ وہ اشارے کنائے میں خود کو رسول اللہ کا عکس کہتے تھے جب کہ مرزا صاحب نے کھل کر یہ کہہ دیا۔ 1930 تک اس بات کو ایشو نہیں بنایا گیا۔‏ ہمیں اس بات کو صحیح طرح سے سمجھنا ہے۔ جدید دنیا میں یہ کوئی مسئلہ نہیں۔ امریکہ میں بھی مورمن ایک ایسا فرقہ ہے جو مسیحیت کے احیا کا دعویٰ کرنے والے اپنے پیشوا کو آخری نبی مانتے ہیں۔ کیا انھوں نے بھی ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا؟ یا کیا مورمن ازم امریکا کے لیے کوئی خطرہ بنا؟ ہم اس مثال سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔

تکفیر اور نفرت کی معیشت

1900 کے آس پاس کے زمانے میں شیعہ سنی مناظرے اور خوب ہلڑ بازی ہوتی تھی۔ مولانا عبدالشکور لکھنوی بمقابلہ مولانا مقبول دہلوی مناظرے عام تھے۔ مرزا صاحب اور ان کے بیٹے نے بھی دوسرے فرقوں کے خلاف بے دریغ کفر کے فتوے دیے۔ شیعوں کے بارے میں مرزا صاحب نے کہا کہ وہ اسلام کے دامن میں پڑا پاخانہ ہیں۔ یہ چونکہ حنفی وہابی پس منظر سے تھے اس لیے عزاداری کو شرک سے نسبت دی۔ وہابی سوچ انسان کی اجتماعی سرگرمی کے خلاف ہے۔ وہ اس کو تنہا کر دیتی ہے۔ بس نماز روزہ جیسے انفرادی اعمال تک زندگی کو محدود کرتی ہے۔ زیادہ ہوگیا تو جلسہ کرلیا مگر اس میں بھی شرکاء کا حصہ ہمہ تن گوش ہوکر مذہبی پیشوا کی تقریر سننا ہوتا ہے۔ عزاداری ایک تو اجتماعی سرگرمی ہے، دوسرے سید احمد بریلوی کے پیروکار ان دنوں اس کو شیعوں تک محدود کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

منکرینِ حدیث کا بھی شیعوں کے بارے میں ایسا ہی خیال تھا۔ خود کو زیادہ پکا سنی ظاہر کرنے کے لیے شیعوں کو بڑھ چڑھ کر برا کہنا اس وقت کے جدید فرقوں کی ضرورت تھی۔‏ امام احمد رضا خان بریلوی بھی تکفیر کی دکان کھولے ہوئے تھے۔ اس سلسلے کو باقاعدہ تصادم کی شکل 1930 کی دہائی میں ملی۔ ‏1929 میں مجلسِ احرار کے نام سے ایک دیوبندی جماعت بنی۔ یہ ہندوستان کی جدید مذہبی سیاست میں سپاہ صحابہ فیکٹر کا آغاز تھا۔ یہ جماعت تحریک خلافت اور افغانستان کی طرف ہجرت کی ناکامی کے بعد بنی۔ چونکہ عوام علما کی حماقت سے تنگ تھے اور مسلم لیگ میں جا رہے تھے تو علما نے چندہ جاری رکھنے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کرائے۔ ‏اس جماعت نے عوام سے چندہ لینے کے لیے قادیانیوں کو اسلام کے لیے خطرہ بتایا۔ شیعوں اور بریلویوں پر حملے کیے۔ 1930 کی دہائی سے شیعہ کشی کا عمل شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اس کا بانی ضیاءالحق نہیں، مولانا حسین احمد مدنی ہیں۔ اس سلسلے میں معروف تاریخ دان وینکٹ دہلی پالا کا مقالہ (Rallying the Qaum: The Muslim League in the United Provinces, 1937–1939) کافی چشم کشا ہے۔

تحریکِ پاکستان کے آخری سالوں میں عوام مذہبی جماعتوں سے دور ہوگئے تھے لہٰذا پاکستان بننے کے بعد جوں ہی تحریکِ آزادی کی دھول بیٹھی اور قائدِ اعظم کا انتقال ہوا، پاکستان میں احمدی مخالف فسادات ہشروع کرا دیے گئے۔ دوسری طرف شیعہ کشی کا عمل بھی تنظیم اہلِ سنت نامی جماعت کے ڈھانچے سے آہستہ آہستہ دوبارہ شروع ہوگیا جو آج تک جاری ہے اور جس میں وقفہ صرف اسی وقت آیا جب سوشلزم کی لہر نے عوام کو علما سے دور کیا۔

‏1974 میں ربوہ میں ٹرین سٹیشن پر ایک جھگڑا ہوا۔ سنی لڑکوں نے احمدی لڑکیوں کے بارے میں گھٹیا زبان استعمال کی تو احمدیوں نے ان پر تشدد کیا۔ دونوں طرف سے بے وقوفی تھی۔ شیعوں، ہندوؤں، مسیحیوں وغیرہ کو بھی طوائف وغیرہ کہا جاتا ہے لیکن اس کا جواب تشدد نہیں۔ شیعہ یا پنجابی طوائف کا مسلک یا قومیت نمایاں کی جاتی ہے لیکن سنی یا پختون طوائف کا مسلک یا قومیت چھپا دی جاتی ہے۔ سچ یہ ہے ہر اچھے برے شعبے میں آبادی کے تناسب کے اعتبار سے ہر مسلک و قومیت کے افراد کی نمائندگی پائی جاتی ہے۔ ہمارے جیسے فسطائی معاشروں میں کمزوروں کی عورتوں کی توہین عام ہوتی ہے۔ خیر، اس کی وجہ سے دوسرے احمدی مخالف فسادات شروع ہوئے۔ مسئلہ قومی اسمبلی میں چلا گیا۔ ‏قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ زیرِ بحث آیا تو احمدیوں کی نمائندگی ان کی مذہبی قیادت نے کی جسے عام قادیانیوں سے زیادہ اپنے مفاد عزیز تھے۔ (یہ ایسا ہی ہے جیسے شیعہ علما مولانا فضل الرحمن کے ساتھ بیٹھ کر اپنے لیے عہدے حاصل کرتے ہیں مگر شیعہ عوام کے انسانی حقوق کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ مذہبی پیشوائیت کے مفادات کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ یہ عوام کی سیاسی نمائندگی کا حق ادا نہیں کرسکتی۔) قومی اسمبلی میں مذہبی جرح کے دوران مرزا ناصر احمد شیعوں کے عقائد بھی زیرِ بحث لائے اور ان کو کفر کے نزدیک تر بتایا، جس کے جواب میں ایک شیعہ ایم این اے سید عباس حسین گردیزی نے دس صفحات پر مشتمل شیعہ موقف پیش کیا۔ شیعوں نے قادیانی تکفیریت اور دیوبندی تکفیریت میں سے دیوبندی تکفیریت کا ساتھ دیا۔ قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کے دونوں فرقوں (احمدی اور لاہوری) کو کافر قرار دے دیا۔

ریاست نے کسی گروہ کے خلاف مذہب کی تلوار پہلی دفعہ نہیں چلائی تھی۔ اس سے پہلے یہ تلوار قائدِ اعظم کی وفات کے بعد قراردادِ مقاصد کی شکل میں ہندوؤں، مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف چل چکی تھی۔ ستم ظریفی یہ کہ اس وقت احمدیوں نے اس عمل کی حمایت کی تھی۔ قراردادِ مقاصد کے بعد ہندوؤں کے خلاف غیر علانیہ طور پر امتیازی سلوک روا رکھا جانے لگا تھا۔ قائدِ اعظم کے دلت وزیرِ قانون جوگندر ناتھ منڈل (امبیڈکر کے ساتھی) احتجاجی طور پر مستعفی ہوگئے تھے۔ ان کا استعفیٰ پڑھنے لائق ہے۔ ہندوؤں کے ساتھ امتیازی سلوک قائدِ اعظم کی وفات کے بعد ہی شروع ہوگیا تھا۔

معاملہ محض مذہبی ہے یا انسانی؟

قومی اسمبلی نے مذہبی بحث کے بعد احمدیوں کو کافر قرار دیا۔ قومی اسمبلی نے مسئلے کو انسانی حقوق اور سیکولر اقدار کی روشنی میں نہیں دیکھا اور نہ ہی احمدیوں میں سے کوئی سیکولر قیادت سامنے آئی جو جدید دور کے سماجی علوم کے مطابق بحث کرتی۔ یہ مسئلہ مذہبی کم اور انسانی زیادہ تھا۔ ‏اب ریاست نے ان کو کافر کہا تو بات یہاں ختم نہ ہوئی۔ ضیاء الحق کے زمانے میں مولانا سمیع الحق اور مفتی تقی عثمانی وغیرہ نے ایسے قوانین بنوائے کہ ان سے نماز پڑھنے، قرآن پڑھنے، غرض مسلمانوں والا کوئی کام کرنے کا حق چھن گیا۔ دیوبندی علما تو ان پر زندیق کا حکم لگاکر عام پھانسیاں دلواتے لیکن ضیاء الحق اتنا بے رحم نہیں تھا۔ اب ان کی شخصی زندگی میں خلیفہ کے ساتھ ساتھ تھانیدار بھی مداخلت کرنے لگا۔ اس طرح جب احمدیوں کے خلاف تشدد میں اضافہ ہوا، ان کی زندگی اجیرن بنائی گئی، تو بے بسی کے عالم میں اپنے دل کو بہلانے کے لیے مذہب کی طرف رجوع کیا۔

جب کوئی گروہ مادی لحاظ سے شکست سے دوچار ہوتا ہے تو وہ اپنی مذہبی پیشوائیت کے اور زیادہ قریب ہوجاتا ہے۔ مذہب سے وابستگی عقل و فکر کا معاملہ نہیں، مزاحمت کا استعارہ بن جاتی ہے۔ اس طرح ان کا دوہرا استحصال ہوتا ہے: ان کی مذہبی اسٹیبلشمنٹ بھی ان کی کمزوری و لاوارث ہونے سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ اس کی مثال مغربی ممالک میں ہجرت کرکے جانے والے پاکستانیوں کی ہے۔ جوں جوں وہ اسلامو فوبیا کا شکار ہوتے ہیں یا خود کو معاشرے میں اجنبی محسوس کرتے ہیں توں توں وہ مذہبی تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشرے میں رہتے ہوئے بھی حلالہ سنٹر آباد ہوتے جا رہے ہیں، جن نکالنے والے بابوں کا کام چل پڑا ہے اور نوجوان لڑکیاں اکیلے سفر کرکے حلقہ بگوش داعش ہوئی ہیں۔ مدارس کو اتنا چندہ پاکستان سے نہیں ملتا جتنا بیرون ملک مقیم پاکستانی بھیجتے ہیں۔ یہی معاملہ پاکستان میں رہنے والے شیعوں کے ساتھ بھی ہے۔ جہاں ان کو دیوبندی لشکروں کی طرف سے قتل و غارت کا سامنا ہے وہیں ان کے اپنے مذہبی رہنما ان لٹے پٹے متاثرین کے نام پر چندہ کھاتے اور بے کس بیواؤں سے نکاح کرتے ہیں۔

اس دوہرے استحصال کی ذمہ داری بہرحال ریاست پاکستان پر ہے جس نے مذہبی پہلو سے جڑے ہوئے انسانی پہلو کو نظر انداز کیا ہے اور اپنے ان شہریوں کو لاوارث بنا دیا ہے۔

کیا احمدی غدار ہیں؟

اب آتے ہیں اس الزام کی طرف کہ احمدی وطن دشمن ہیں۔ ‏احمدیوں کو پاکستان کے لیے خطرہ اور بہت طاقتور مافیا کی شکل میں پیش کرنے کا مقصد ہے کہ لوگ ان کو اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھیں۔ یہی کام یورپ میں یہودیوں کے خلاف کیا گیا اور اسی جہالت سے ہٹلر کی پیدائش ہوئی۔ یورپ میں بھی یہ جاہلانہ بات عام تھی اور اب بھی کسی حد تک ہے کہ “فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یہود میں ہے”۔ حالانکہ اسرائیل کا جرمنی اور فرانس اور انگلینڈ سے کیا مقابلہ، وہ تو اپنے سے نصف آبادی والے ڈنمارک، فن لینڈ اور ناروے سے بھی بہت پیچھے ہے۔ بہرحال، “پاکستان کی رگِ جاں پنجۂ قادیان میں ہے” طرز کا جھوٹ بولنے والے سفاک علما سمجھتے ہیں کہ “اسلام کو خطرہ” کا نعرہ کافی نہیں۔ جب تک لوگوں کے معاشی مفاد کے خطرے میں ہونے کی افواہ نہیں پھیلائیں گے تب تک نسل کشی میں تیزی لانا ممکن نہیں۔ یہی طریقۂ واردات شیعوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اقلیت کو نشانہ بنانے کا یہ حربہ پرانا ہے۔ فاشزم عوام سے یہی کہتا ہے کہ مخالفین سب کچھ کنٹرول کر رہے ہیں، یہ تمھارا اصل مسئلہ ہیں۔ بدقسمتی سے اقلیت کے مذہبی رہنما اس پروپیگنڈے کو سن کر خوش ہوتے ہیں کیونکہ ان کو اپنا دائرہ اثر بڑھتا محسوس ہوتا ہے۔ نیز وہ اس جھوٹ کو اپنی حقانیت کی دلیل سمجھتے ہیں کہ ان کے مذہب و مسلک کے پیروکار معاشرے کے سرکردہ افراد ہیں، حالانکہ اقلیت کبھی کسی ملک کو کنٹرول نہیں کیا کرتی۔

احمدیوں پر یہ الزام بھی پرانا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی نہرو کے نام خط میں احمدیوں پر یہی بے بنیاد الزام لگایا تھا۔ 1930 کی دہائی میں چونکہ انگریزوں کے خلاف آزادی کی تحریک چل پڑی تھی اس لیے گرم توے پر علما نے بھی اپنی روٹیاں پکانے کے لیے مخالف فرقوں کو انگریزوں کے ایجنٹ اور غدار وغیرہ کہا۔ کبھی سوچیے گا کہ کیوں سراج الدولہ کے شیعہ ہونے کو چھپا لیا جاتا ہے اور میر جعفر کے شیعہ ہونے کو نمایاں کیا جاتا ہے۔ اسی طرح نظام حیدر آباد اور روہیلہ کے کردار کو کبھی ان کے سنی ہونے کا نتیجہ قرار نہ دیا گیا۔ احمدیوں پر یہ وطن دشمن اور غدار ہونے کا الزام اب تک چلا آرہا ہے حالانکہ سب فرقوں کے مذہبی پیشوا 1857 کے بعد انگریزوں کی دہشت کے سامنے سربسجود ہوئے، جہاد کو سکھوں ہندوؤں تک محدود یا سرے سے منسوخ کیا اور ان کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی۔ آزادی کی تحریک اور پاکستان کے قیام میں احمدیوں کا بھی اتنا ہی حصہ ہے جتنا دوسروں کا۔

کیا احمدیوں سے اسلام کو خطرہ ہے؟

قادیانیوں یا شیعوں کے خلاف اتنی نفرت پھیلانے کے پیچھے اصل راز کیا ہے؟ ‏اصل میں مذہبی پیشواؤں کا طبقہ خود اپنے مذہب پر اتنا پکا یقین نہیں رکھتا جتنا ان کے پیروکار رکھتے ہیں۔ اس لیے وہ سمجھتا ہے کہ دوسرے لوگوں کو کافر اور پھر کافر کہنے کے بعد آزادی سلب نہ کی اور جینا حرام نہ کیا تو اس کے اپنے جال میں پھنسی مچھلیاں دوسرے فرقے کے جال میں چلی جائیں گی۔ اس کو پتہ نہیں ہوتا کہ لوگ اس کی توقع سے زیادہ بے وقوف ہیں اور وہ اتنی جلدی اس کا جال نہیں چھوڑیں گے۔ یہ رویہ انسان کے ارتقا کے مشکل مراحل میں بقا کی جدوجہد کی وراثت ہے: جنگل کی مشکلات کا سامنا کرنے کے لیے جو انسان مشترکہ جہاں بینی کی بنیاد پر تعاون کا رجحان رکھتے تھے، وہی باقی رہے۔ ہمارے معاشرے میں اگرچہ تعلیم یافتہ امرا جنگل کی مشکلات اور جہالت سے نکل آئے ہیں لیکن غربا کو ہنوز جنگل کے حالات کا سامنا ہے۔ اسی لیے اگرچہ امرا نشہ دولت میں مذہبی رہنماوں سے غافل رہتے ہیں لیکن غریب ترکھانوں کا منڈا ان سے بازی لے جایا کرتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ‏قادیانیوں سے اسلام کو کوئی خطرہ نہیں، اور نہ کسی اور سے ہے۔ قادیانی تحریک بھی کٹر پن کی تحریک ہے، وہابی تحریک کی طرح، اور اکثر لوگ کٹر پن کی تنگ زندگی پسند نہیں کرتے۔ (کٹر پن کا اندازہ اس سے لگا لیں کہ قائدِ اعظم کے شیعہ اثنا عشری ہونے کی وجہ سے پاکستان کے پہلے احمدی وزیرِ خارجہ سر ظفراللہ خان نے نہ ان کی پہلی نمازِ جنازہ میں شرکت کی جو ان کے اپنے مسلک کے مطابق گورنر ہاؤس میں ہوئی اور نہ دوسری عوامی نمازِ جنازہ میں شرکت کی)۔ پھر ان میں امریکی مورمن فرقے کی طرح خلیفہ اور جماعت کے عہدیدار ذاتی آزادی کا احترام نہیں کرتے۔ اسی طرح احمدیوں کے لیے اپنی آمدنی کا ایک حصہ چندے کے عنوان سے مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو لازمی دینا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے احمدی سوشل میڈیا انسانی حقوق کے سیکولر عنوان سے بحث کرنے کے بجائے ہمیشہ مذہبی بحث کرتا ہے جس میں اپنے حق پر ہونے اور دوسروں کے باطل ہونے پر زور ہوتا ہے۔ یہ لوگ سب سے علما کی مذمت کا مطالبہ کرتے ہیں اور ان کو بدترین مخلوق قرار دیتے ہیں، لیکن خود مرزا صاحب یا ان کے فرزند کی تکفیریت کی مذمت نہیں کرتے، الٹا اپنی تکفیریت کی وکالت کرتے ہیں۔ سیدھی سی بات ہے کہ مذہبی اسٹیبلشمنٹ کو پیروکاروں کے انسانی حقوق سے زیادہ ان کے حق پر ہونے کی فکر ہوتی ہے کیونکہ حق اور ابدی کامیابی کا احساس ہی انسان کی جیب سے دنیاوی دولت نکلوا سکتا ہے۔

ایسی جماعت کبھی عوامی مقبولیت حاصل نہیں کرتی۔ امریکہ کے مورمن فرقے کی دو سو سالہ تاریخ دیکھ لیں۔

کیا احمدی جہاد کے منکر ہیں؟

اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ احمدی جہاد کے منکر ہیں۔ اس سلسلے میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے انگریزوں کے خلاف جہاد کو غلط کہنے کو بطور ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا صاحب جن حالات میں پیدا ہوئے تھے ان حالات میں مولانا جعفر تھانیسری اور سر سید احمد خان نے سید احمد بریلوی کی نسبت سے یہ دعویٰ کیا تھا کہ انگریزوں کے خلاف لڑنا ناجائز ہے۔ رنجیت سنگھ کے بعد ہندوستان میں انگریزوں کے سامنے کوئی عسکری مزاحمت باقی نہ رہی تھی۔ 1857 کے بعد دس سال میں ایک اندازے کے مطابق ہزاروں ہندوستانیوں کو سزائے موت دی گئی تھی۔ پچاس سال تک ہندوستان پر طویل خاموشی چھائی رہی۔ جنگِ عظیم اول کے دوران انگریز راج کمزور پڑتا دکھائی دیا تو کانگریس اور مسلم لیگ نے آہستہ آہستہ انگریزوں کی مخالفت شروع کی۔ علما بھی ان کے خلاف بولنے کی ہمت تبھی پیدا کرسکے، اگرچہ انھیں ہندوستانیوں کے معاشی اور سیاسی حقوق کے تحفظ سے زیادہ جدید علوم و تہذیب کی مخالفت کی فکر تھی کہ جس نے ان کو بے روزگار کر دیا تھا۔ اب علما دوبارہ افغانستان سے کسی لشکر کے حملے (تحریکِ ریشمی رومال) یا ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کی بحالی (تحریکِ خلافت) کی فکر میں تھے کہ شاید اس طرح پسماندہ تہذیب دوبارہ ہندوستان پر مسلط ہوجائے۔ جدید علوم و تہذیب سے اپنی معاشی شکار گاہ کو بچانے کے لیے علما اتنے بے چین تھے کہ مسلمانوں کے افغانستان کی طرف ہجرت کرنے کا فتویٰ دے دیا کیونکہ افغانستان میں اس وقت تک قرونِ وسطیٰ کا پسماندہ بادشاہی نظام قائم تھا جسے یہ اپنی معاش کے لیے دارالاسلام سمجھتے تھے۔ یہی ان کا کل جہاد تھا۔

لہٰذا اپنے زمانے کے حالات میں مرزا صاحب کا جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان اچنبھے کی بات نہیں۔ البتہ بعد میں احمدی خلیفہ نے فرقان فورس نامی جہادی تنظیم بنائی اور پاکستان بننے کے فوراً بعد کشمیر کی جنگ میں اس تنظیم نے حصہ بھی لیا۔ قبائلی علاقوں اور پنجاب سے جانے والے مجاہدین نے کشمیر جاکر وہاں کی ہندو آبادی کے ساتھ کیا کیا، وہ ایک الگ داستان ہے۔

کیا احمدی پاکستان کے آئین کو نہیں مانتے؟

مسیحیوں کی بستیاں جلانے اور ہندوؤں کو بھارت کی طرف ہجرت پر مجبور کرنے والے کہتے ہیں کہ چونکہ احمدی خود کو کافر نہیں کہتے اس لیے ہم ان کی زندگی کو اجیرن بناتے ہیں ورنہ تو ان کی زندگی پاکستانی مسیحیوں اور ہندوؤں کی طرح پھولوں کی سیج ہوتی۔ وہ یہ الزام لگاتے ہیں کہ احمدی پاکستان کے آئین کے باغی ہیں۔ ہر نسل کش مہم اپنے لیے اس قسم کے منافقانہ جواز گھڑا کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ احمدی پاکستان کے آئین کو مانتے ہیں البتہ وہ دوسری ترمیم کو اپنے باطن میں نہیں مانتے جس میں ان کو کافر قرار دیا گیا ہے، مگر وہ اس کی رعایت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلًا اپنی عبادت گاہ کو مسجد کے بجائے دارالذکر کہتے ہیں۔ آئین کا تعلق انسان کی سماجی زندگی سے ہوتا ہے، اس کی باطنی زندگی سے نہیں۔ آئین کو اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی ویرات کوہلی کی بلے بازی کو پسند کرتا ہے یا جھانوی کپور سے خواب میں نکاح فرما چکا ہے۔ اسی طرح احمدی اگر خود کو مسلمان سمجھتے ہیں تو یہ آئین کی مخالفت نہیں ہے۔ یا اگر ہندو، مسیحی اور دوسرے غیر مسلم پاکستانی قراردادِ مقاصد کو پسند نہیں کرتے تو وہ ریاست کے باغی نہیں ہوجاتے۔ البتہ لال مسجد کے مولانا عزیز پاکستان کے آئین کے کھلم کھلا منکر ہیں ۔ دیوبندی مفتی شامزئی صاحب نے تو پاکستان کے خلاف ہر قسم کے ذرائع استعمال کرنے کا فتوی دے رکھا ہے جس کو آج بھی طالبان اپنے خودکش دھماکوں کا شرعی جواز قرار دیتے ہیں۔ آئین سے بغاوت ا س عملی جنگ کو کہتے ہیں۔

مستقبل کا راستہ کیا ہے؟

اب ہمارا کیا کام ہے؟ ہمیں چاہیے کہ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد بے روزگار ہونے والے مذہبی لیڈران کے پیدا کردہ مسائل کی حقیقت کو سمجھیں، ان سے باہر نکلیں اور اصلی مسائل کی طرف توجہ دیں۔ اب 1947 کے بعد ہم آزاد ہیں۔ ہمیں ترقی کرنا ہے۔ امن اور خوش حالی کی کوشش کرنا ہے۔ برداشت پیدا کرنا ہے اور ایک دوسرے سے ڈرنا چھوڑ کر اعتماد کرنا سیکھنا ہے۔ اس مقصد کے لیے نیا سیکولر آئین بنانا ضروری ہے جو موجودہ آئین کے برعکس پاکستان کے شہریوں کے مذہب سے سروکار نہ رکھتا ہو۔ بیانیے کے محاذ پر نفرت کا مقابلہ حقائق کو آسان زبان میں بیان کرکے کیا جاسکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں پچھلے دو سو سال کی تاریخ کے بارے میں علما کے پھیلائے ہوئے جھوٹ سے نکلنا پڑے گا۔ ہمیں علما کو یہ پیغام دینا ہے کہ ہم احمدیوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک میں ان کے آلہ کار نہیں بنیں گے۔ ہمیں اپنا وقت اور سرمایہ مثبت سرگرمیوں میں خرچ کرنا ہے۔

تیسری بات:

مذہبی اقلیتوں کو اپنی سیاسی نمائندگی کے لیے جدید قانون اور عصری سماجی علوم میں مہارت رکھنے والی سیکولر قیادت کو سامنے لانا ہے۔ مذہبی اقلیتیں جب تک اپنی سیاسی نمائندگی کو مذہبی پیشوائیت سے الگ نہیں کرتیں، کسی بھلائی کی امید نہ رکھیں۔ یہی معاملہ ہندوستان میں بسنے والے مسلمانوں کا ہے: انھیں سیاسی نمائندگی کے لیے مذہبی پیشواؤں کے بجائے محمد علی جناح جیسی سیکولر قیادت چاہیے۔ ان کے مذہبی رہنما ان کی نمائندگی کا نہ شعور رکھتے ہیں نہ ان کے مفادات عام مسلمانوں کے مفادات سے ملتے ہیں۔ وہ کانگریس کے کٹھ پتلی تھے اور رہیں گے۔ بقول اقبال:

میں جانتا ہوں جماعت کا حال کیا ہوگا

مسائلِ نظری میں الجھ گیا ہے خطیب

سیاست میں مسائل نظری سے تعلق رکھنے والے مذہبی پیشواؤں کا کیا کام؟

انقلاب آیا تو کیا ہوگا؟

آخر میں ایک اہم غلط فہمی کا ازالہ ضروری ہے۔ جب کبھی شیعوں یا دوسری مذہبی اقلیتوں کی آہستہ رو نسل کشی کی بات کی جائے تو کچھ لوگ اس کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا معاشرہ اتنا ظالم نہیں۔ وہ کم وقت میں لاکھوں لاشیں دیکھے بغیر اس مظہر کی موجودگی کو ماننے سے انکاری ہیں۔

کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ

ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا

انھیں یہ جاننا چاہیے کہ مارنے والوں کا ارادہ مکمل صفایا کرنے کا نہیں ہے کیونکہ اگر یہ ختم ہوگئے تو معاش کا سلسلہ کیسے چلے گا۔ متاثرین کو منصوبہ بندی سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ ان کی سماجی حیثیت کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ مذہبی اقلیتیں پاکستان سے ہجرت پر مجبور ہیں۔ رہی کم وقت میں لاکھوں لاشیں گرنے کی بات تو اسی سرزمین پر 1947 میں ہزارہا ہندو اور سکھ ذبح کیے گئے اور ان کی عورتوں کی عزتیں لوٹی گئیں۔ یہ ہمارے ہی دادا پردادا تھے جو صدیوں سے ساتھ رہنے والے اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کے مال اور ناموس پر ٹوٹ پڑے۔ ہمارے مذہبی پیشوا بجرنگ دل اور راشٹریہ سیوک سنگ سے کم نہیں۔ 1947 میں انقلابی ماحول بنتے ہی مساجد سے جہاد کے اعلان ہونے لگے اور سلسلہ تب رکا جب نئی حکومت کی رٹ بحال ہوئی۔ ہر شہر میں سیکڑوں ایسے لوگ ہیں جن کے آبا و اجداد اس سال جان اور ناموس کے خوف سے مسلمان ہوئے۔ اس نسل کشی کی تفصیل اشتیاق احمد نے اپنی کتاب (The Punjab Bloodied) میں دی ہے۔ اگرچہ جرمنی میں ہولوکاسٹ کی وکالت کرنے والے ڈھونڈے سے نہیں ملتے لیکن ہمارا معاشرہ ایسے لوگوں سے بھرا ہوا ہے جو 1947 کے ہندو سکھ قتلِ عام کی توجیہات بیان کرتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں وحشت کی صلاحیت بہت ہے، بس کسی انقلاب کے دوران موقع ملنے کی دیر ہے۔

جو شیعہ اتحاد بین المسلمین کے پرچم تلے سیکولر ازم کی مخالفت میں اسلامی انقلاب کے نعرے لگاتے ہیں انھیں رونڈا کے قتلِ عام (Rwandan Genocide) پر ایک اچھی سی ڈاکومنٹری دیکھ لینی چاہیے۔ اتحاد بین المسلمین علما کے من گھڑت اسلامی نظام میں ممکن نہیں، صرف شہنشاہ اکبر کا ایجاد کردہ سیکولر ازم ہی مختلف مذاہب و مسالک کے لوگوں کے ایک ساتھ رہنے کا انتظام کرسکتا ہے۔ اگر کوئی ایران نواز عالم آپ کو بلیک میل کرے تو اسے کہیں کہ پاکستان میں سیکولر ازم کی مخالفت سے پہلے اپنے ایرانی رہنما سے شام میں سیکولر ازم کی مخالفت اور اخوان المسلمون کے آگے ہتھیار پھینکنے کا مطالبہ کرے۔

SHOPPING

جو وہاں پیو تو حلال ہے، جو یہاں پیو تو حرام ہے؟

SHOPPING

حمزہ ابراہیم
حمزہ ابراہیم
باقی مضامین پڑھنے کیلئے حمزہ ابراہیم کے نام پر کلک کریں-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 6 تبصرے برائے تحریر ”سوشل میڈیا پر احمدی  مخالف مہم: عام آدمی کے جاننے کی باتیں۔۔۔۔حمزہ ابراہیم

  1. حمزہ صاحب سب کچھ پڑھا دیا ذرا الفضل کے سابقہ شمارے اور مرزا کے اپنے ارشادات کا ذکر بھی کر دیتے معروضیت کا لبادہ کئی جگہوں سے سرک کر بین السطور خواہش کو اجاگر کر رہا ہے قرارداد مقاصد پر تنقید سے پہلے جمہوریت کے اصول بھی پیش نظر رکھ لیتے اکبر کے سیکولرازم کی ضرورت ہے تو دو قومہ نظرئے کو طلاق دینا پڑے گی ایسا کر بھی لیا تو آپ کے اصول ہائےموضوعہ ہی آپ کی جان کو آ جائیں گے احمدی اگر مسلمان ہیں تو ان کے مطابق تمام غیر احمدی غیر مسلم ہو جائیں گے اور یہ بات کو عام عالم نہیں اس منہج کا نام نہاد نبی کہ رہا ہے .

  2. کاش میرے پاس تفصیلی جواب مضمون لکھنے کا وقت ہوتا۔ میرے نزدیک احمدیوں کی وکالت کے حوالے سے بھی اور اس سے ہٹ کر بھی موصوف کا سب سے بڑا مقدمہ مولویوں کے خلاف مالی لالچ کے لئے مذہب کے استعمال کا ہے۔ احمدیت پر تو فی الحال میں کوئی بات نہیں کررہا، پورا پاکستان لگا ہؤا ہے، البتہ مجھے کم از کم ذیل کے دعووں کے ثبوت کیلئے مصنف کو ضرور زحمت دینی ہے:
    “مذہب میں پناہ ڈھونڈنے والا معاشرہ مذہبی رہنماؤں کے لیے معاشی شکار گاہ تھا”۔ (کون سے معاشی فوائد حاصل کئے گئے؟)
    “مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے زمانے (1857-1910) میں مذہبی قیادت کا دارومدار عوامی چندے پر تھا۔ راجے مہاراجوں کا دور ختم ہوگیا تھا اور دربار سے مدد معاش کا سلسلہ رک گیا تھا۔ اس وقت مذہبی پیشواؤں نے ایسے دعوے کیے جن سے عوام میں تقدس حاصل ہوتا اور اس کے نتیجے میں چندہ ملتا تھا”۔ (کون سے معاشی فوائد حاصل کئے گئے؟)
    “عوام علما کی حماقت سے تنگ تھے اور مسلم لیگ میں جا رہے تھے تو علما نے چندہ جاری رکھنے کے لیے فرقہ وارانہ فسادات کرائے۔ ‏اس جماعت نے عوام سے چندہ لینے کے لیے قادیانیوں کو اسلام کے لیے خطرہ بتایا۔ شیعوں اور بریلویوں پر حملے کیے۔” (کون سے معاشی فوائد حاصل کئے گئے؟)
    “پاکستان کی رگِ جاں پنجۂ قادیان میں ہے” طرز کا جھوٹ بولنے والے سفاک علما سمجھتے ہیں کہ “اسلام کو خطرہ”کا نعرہ کافی نہیں۔ جب تک لوگوں کے معاشی مفاد کے خطرے میں ہونے کی افواہ نہیں پھیلائیں گے تب تک نسل کشی میں تیزی لانا ممکن نہیں۔ یہی طریقۂ واردات شیعوں کے خلاف بھی استعمال کیا جاتا ہے۔” (کون سے معاشی خطرات بتائے گئے اور کیا فوائد حاصل کئے گئے؟)
    “جدید علوم و تہذیب سے اپنی معاشی شکار گاہ کو بچانے کے لیے علما اتنے بے چین تھے کہ مسلمانوں کے افغانستان کی طرف ہجرت کرنے کا فتویٰ دے دیا کیونکہ افغانستان میں اس وقت تک قرونِ وسطیٰ کا پسماندہ بادشاہی نظام قائم تھا جسے یہ اپنی معاش کے لیے دارالاسلام سمجھتے تھے۔” (کون سے معاشی فوائد حاصل کئے گئے؟)
    اب ہمارا کیا کام ہے؟ ہمیں چاہیے کہ 1857 کی جنگِ آزادی کے بعد بے روزگار ہونے والے مذہبی لیڈران کے پیدا کردہ مسائل کی حقیقت کو سمجھیں۔ (کون سے معاشی فوائد ان کے پیش نظر دکھائی دیتے ہیں ؟)
    یہ ہمارے ہی دادا پردادا تھے جو صدیوں سے ساتھ رہنے والے اپنے غیر مسلم پڑوسیوں کے مال اور ناموس پر ٹوٹ پڑے۔ ہمارے مذہبی پیشوا بجرنگ دل اور راشٹریہ سیوک سنگ سے کم نہیں۔ (حوالہ دادا پردادا کے لوٹنے کا دے کر، مذہبی پیشوا کو بدنام کر رہے ہیں، بتانا چاہیے کہ لٹیروں میں کتنے اور کون کون سے مولوی تھے؟)
    ہمارے مولویوں کے خیالات، اعمال اور رویوں پر ہمیں شدید ترین اعتراضات ہیں؛ لیکن جو الزام آپ لگا رہے ہیں، یہ تو آج کے مین سٹریم مولویوں پر لگانا بھی آسان نہیں، کجا پچھلی دو صدیوں کے بوریا نشینوں پر۔

  3. چہ خوش گفتی سعدی در زلیخا
    کہ عشق آساں نمود اول واے افتاد مشکلہا
    پاپوش میں لگا دی کرن آفتاب کی
    جس رنگ ریزی سے یہ مکالمہ تحریر ہوا ہے اسی کے سدباب کے لیے سوشل میڈیا پر تحریک چلائی جا رہی ہے
    یہاں پیپسی کولا کا ٹریڈ مارک کوئی ایرا غیرا نتھو خیرا استعمال کر لے تو 420 میں اندر ہوتا ہے تو خاتم النبین کی ختم نبوت اور اسلام کو اتنا لا وارث سمجھ لیا گیا کہ جو مرضی اس میں نقب لگاتا پھرے اور مصنف مکالمہ کے زعم باطل کے مطابق 1930 تک کوئی اس کو جواب ہی نہ دے
    تاریخ تو طول طویل ہے صرف 1900 میں مرزا قادیان پیر مہر علی شاہ کو دعوت مبارزت دے کر راہ فرار کا حوالہ ہی کافی ہے

  4. قارئین سے گذارس ہے لہ مذمون کو ٹھنڈے دل سے پڑھیں، اختصار کے پیش نظر سب سوالوں کا جواب ممکن نہیں۔ اس مضمون کے علاوہ جو مضامین پیش کئے گئے ہیں، ان میں بھی آپکے سوالات کے جوابات موجود ہیں۔ مثلا اکبر اعظم کے بارے میں غلط فہمیوں کا جواب مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کے بارے میں پیش کئے گئے مضامین میں موجود ہے۔ ان مضامین کو پڑھنے کیلئے میرے نام پر کلک کریں۔
    پاکستان میں فرقہ واریت کے تاریخی جائزے کیلئے اس مضمون کا مطالعہ کریں، اس لنک کو کاپی کر کے “۔” کی جگہ نقطہ لگا کر پھر براوزر میں سرچ کریں:-
    https://www.mukaalma.com/50585/

  5. معاشی مفاد سے مراد چندہ شریف ہے۔ فیس بک سے بھی بہت سوالات آئے ہیں۔ بہت سے سوالات کا جواب تو ٹھنڈے دل سے سوچنے پر آپکو خود ہی مل جائے گا۔ اس مضمون کا مقصد جذباتی بحث نہیں ہے۔ اس مضمون کے علاوہ جو مضامین پیش کئے گئے ہیں، ان میں بھی آپکے بعض سوالات کے جوابات موجود ہیں۔ مثلا مسلمان سیکولر بادشاہ اکبر اعظم کے بارے میں دین الہی والے پروپیگنڈے اور دیگر غلط فہمیوں کا جواب مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ کے بارے میں پیش کئے گئے مضامین میں موجود ہے۔ ان مضامین کو پڑھنے کیلئے میرے نام پر کلک کریں۔
    پاکستان میں فرقہ واریت کے مفصل تاریخی جائزے کیلئے اس مضمون کا مطالعہ کریں۔ اس کے آخر میں حوالہ جات بھی موجود ہیں :-
    https://www.mukaalma.com/50585/

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *