کیونکہ میں جالب کی بیٹی ہوں۔۔۔ طاہرہ حبیب جالب

SHOPPING
SHOPPING

میں انتہائی مصروف رہتی ہوں آپ سب دوستوں کو میرا ذریعہ معاش ، اوبر ٹیکسی، تو معلوم ہی ہے اس وقت جب میں ڈیوٹی پر ہوتی ہوں اکثر دوست احباب مجھے فون کرتے ہیں میرے لیے اپنی فکر اور جو عزت و محبت کا اظہار جالب صاحب کے حوالے سے میرے لیے کرتے ہیں میں اس کیلئے سب کی انتہائی مشکور ہوں اکثریت یہ سوال کیا کرتی ہے کہ کن وجوہات کی بنا پر مجھے یہ کام کرنا پڑتا ہے سو آج سوچا کہ اپنی پوسٹ کے ذریعہ سے ہی آپ کو ”وجہ” بتا دوں
جب جالب صاحب کا انتقال ہوا میں جو چار بہن بھائیوں سے چھوٹی تھی پانچویں نمبر پر میٹرک کی سٹوڈنٹ تھی عمر کا اندازہ آپ لگا سکتے ہیں کہ کیا ہوگی اس وقت۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بہرحال دستار کے وارثوں کے ناروا سلوک کے باعث مجھے اپنی تعلیم کا سلسلہ منقطع کرنا پڑا اور گھر والوں کے لیے جن میں بیوہ ماں اور تین چھوٹے بہن بھائی ایک بڑی بہن شامل تھیں ان کی ذمہ داری قبول کرلی۔شروع میں ایک پی سی او پر کام کرنا شروع جس کی تنخواہ پندرہ سو روپے تھی جس سے گزرا کرنا آسان نہیں تھا پھر ایک ڈرائیونگ سینٹر پر نوکری شروع کی ایک سٹوڈنٹ کا کورس مکمل کروانے کے عوض دو سو روپے ملا کرتے یہ کورس دس دن کا ہوا کرتا تھا اور مہینے میں تقریبا دس سے پندرہ سٹوڈنٹ کو سکھایا کرتی تھی اور اپنا روزگار کماتی رہی اور گھر سنبھالتی رہی بہرحال یہ ایک مشکل وقت تھا لیکن موروثی اور خاندانی وراثت تھی ہمت نہیں ہارنا۔ ۔ ۔ ۔ سو نہیں ہاری ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ 🙂
آج تک اب تک نہیں ہاری نہ ہی ہاروں گی
جالب صاحب کی وفات سے لے کر آج تک چھبیس سال کے عرصہ میں کسی اپنے کو کوئی خیال نہیں آیا جب کوئی مجھ سے یہ سوال پوچھتا ہے کہ بھائی کہاں ہیں دل پر ایک زوردار گھونسہ پڑتا ہے اور تمام حالات جاننے کے بعد جب لوگ پوچھتے ہیں کہ جالب صاحب کی کتنی شادیاں تھیں سر پیٹنے کو دل چاہتا ہے کہ جالب کے چاہنے والو اتنا جان رکھو کہ جالب صاحب کی ایک ہی شادی تھی اور میری والدہ ممتاز بیگم واحد بیوی تھیں جن سے ہم آٹھ بہن بھائی پیدا ہوئے حالات کی اور اپنوں کی ستم ظریفی نے نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ لوگ اس حد تک غلط فہمی کا شکار ہوئے جاتے ہیں خدارا ایسا نہیں ہے۔
یہ حالات و وجوہات ہیں جن کی بناء پر میں آج کھلنڈری ”تارا” سے طاہرہ حبیب جالب ہوں اور مطمئن اور خوش ہوں کہ اپنے باپ کے نظریات کے متضاد نہیں۔
طاہرہ حبیب جالب

SHOPPING

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *