• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور ان کا تدارک۔۔۔۔سحر شاہ/مقابلہ مضمون نویسی

پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور ان کا تدارک۔۔۔۔سحر شاہ/مقابلہ مضمون نویسی

عدم برداشت و شدت پسندی کی تعریف:

عدم برداشت و شدت پسندی سے مراد انسان کی وہ ذہنی کیفیت ہے جس میں وہ کسی دوسرے شخص یا مکتب فکر کی رائے کو قطعاً برداشت نہیں کرتا اور اس کی مخالفت میں جائز و ناجائز کی پروا کیے بغیر ہر ممکنہ اقدام یہاں تک کہ قتل کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتا۔

اس رویے کا حامل شخص صرف اپنے یا اپنے مکتب فکر کے زاویہ نظر سے دیکھنے کا اتنا عادی ہو جاتا ہے کہ وہ حقائق کیطرف دیکھنے یا غیرجانبدارانہ رویہ اپنانے سے گریز کرتا ہے۔

عدم برداشت و شدت پسندی کے چند بڑے نقصانات:
➖ معاشرے میں عدم تحفظ اور بدامنی
➖ لاقانونیت
➖ کرپشن
➖ دہشتگردی
➖ انتہا پسندی
➖ فرقہ واریت
➖ خودکش حملے
➖ قتل و غارتگری
➖ عسکریت پسندی
➖ معاشرتی استحصال

پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات

پاکستانی معاشرے کی بنیاد مذہبی ہے۔ 1980 کی دہائی تک یہاں کے لوگ پرامن اور بقائے باہمی کے تحت زندگی گزارتے رہے۔ اس کے بعد افغان جہاد کا آغاز ہوا تو مذہب میں سیاست ملوث ہو گئی۔ بڑی طاقتوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے دینی مدارس میں باقاعدہ فنڈنگ کا آغاز کیا۔ کچھ مدارس کے طلباء کو عسکری تربیت اور اسلحہ فراہم کیا گیا۔ چند ہزار طلباء کی تعداد رکھنے والے مدارس میں غیر ملکی امداد کی بدولت صرف ایک ہی عشرے میں طلباء کی تعداد تقریباً 40 ہزار تک پہنچ گئی۔
پاکستان میں عدم برداشت و شدت پسندی کی سب سے بڑی وجہ مذہب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جانا ہے۔ پاکستان میں شدت پسند تحریکیں ہوں یا بیرونی طاقتیں، ہمیشہ مذہب کی آڑ میں اپنے مقاصد اور اہداف حاصل کرتی آئی ہیں۔
➖ جب سیاست میں مذہب کا استعمال کرتے ہوئے غیر ملکی طاقتوں نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے دینی مدارس میں بے پناہ فنڈنگ کا آغاز کیا تو مافیا وجود میں آیا جن کے پیش نظر محض اپنے مفادات کا حصول تھا۔
➖ مدارس میں انتہا پسندی کا درس دیا گیا۔ پاکستان میں موجود تمام مدارس کسی نہ کسی مکتب فکر کی نمائندگی کرتے ہیں جیسے دیوبندی، اہلحدیث، بریلوی، شیعہ وغیرہ۔ اور ان میں سے ہر فرقہ خود کو راہ راست پہ اور دوسروں کو ٹھیک نہیں سمجھتا۔ غیرملکی فنڈنگ سے جب ان مدارس کی تعداد بڑھی تو معاشرے میں ان مکاتب فکر کی بدولت عدم برداشت کے مسلسل رجحان نے معاشرے میں شدت پسندی کو فروغ دیا۔
➖ عرب سے تکفیری سوچ ہمارے یہاں آئی جو کہ عدم برداشت کا باعث بنی۔
➖ غیر ملکی فنڈنگ سے بڑی بڑی تنظیمیں وجود میں آئیں جن کے پاس اسلحے کے ساتھ ساتھ سرمایے کی بھی کمی نہ تھی۔ ان تنظیموں کو نہ صرف بیرونی طاقتوں نے اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لیے استعمال کیا بلکہ ریاست کے مقتدر ادارے بھی ان کو سپورٹ کرنے اور ان سے کام لینے میں پیچھے نہ رہے۔
➖ پاکستان دوسری قوتوں کا پراکسی میدان بن گیا۔ جیسا کہ سعودی عرب و ایران کے باہمی مسئلہ کی پراکسی وار یہاں لڑی گئی جس میں سعودیہ نے اہلحدیث جبکہ ایران نے شیعہ تنظیموں کو سپورٹ کیا۔
➖ افغانستان میں مسلسل ہونیوالی جنگوں کی بدولت وہاں امن و امان کی صورتحال دیکھنے کو نہیں ملی۔
ان جنگوں نے پاکستان کو بھی بہت زیادہ متاثر کیا۔ نیز افغانستان میں جہاد کے تناظر میں فاٹا اور قبائلی علاقوں میں شدت پسند علماء نے اپنے نظریات کو فروغ دیا۔ جس سے انتہا پسندی اپنے عروج کو پہنچ گئی۔
➖ انڈیا و پاکستان کے باہمی تعلقات ہمیشہ سے کشیدگی کا شکار رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انڈیا نے افغانستان میں فنڈنگ اور اپنے ایجنٹوں کی مدد سے پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جبکہ پاکستان کی طرف سے کشمیر میں جہادی تنظیموں کی پشت پناہی کی گئی۔

عدم برداشت و شدت پسندی کے تدارک کے لیے چند اہم اقدامات:

➖ سیاست میں مذہب کے استعمال کو غیر یقینی بنانے کے لیے مدارس میں چھوٹے بچوں کی ذہن سازی کو روکا جائے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان ناپختہ ذہنوں کی تعلیم کا آغاز مدارس سے کرنے کے بجائے پہلے 12 سالہ عمومی تعلیم کو لازم قرار دیا جائے جس کے بعد مذہب عالم بننے کے شوقین نوجوان طلباء کو مذہبی اعلیٰ تعلیم فراہم کرنے کے لیے انہی مدارس کو یونیورسٹیز کا درجہ دے دیا جائے جہاں وہ مذہب میں اسپیشلائزیشن کر سکیں۔

➖ نیشنل ایکشن پلان میں درج اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔

➖ حکومت یا ریاست یہ طے کر کے کہ وہ نہ صرف غیر ملکی فنڈنگ کا راستہ روکے گی بلکہ خود بھی سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے مذہب یا مذہبی تنظیموں کا استعمال یا شدت پسند تنظیموں کی پشت پناہی نہیں کرے گی۔

➖ خطے میں امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے افغانستان میں بلاجبر صرف عوام کی مرضی کے مطابق حکومت قائم کی جائے تاکہ افغانستان میں جنگوں کا سلسلہ ختم ہو اور نام نہاد جہاد کی آڑ میں پاکستان میں شدت پسندی کی سوچ کا خاتمہ ہو۔
➖ اس سلسلے میں سب سے اہم کام یہ ہے کہ اسلام کی اصل دعوت ایمان و اخلاق کا پیغام لوگوں تک پہنچایا جائے۔ حقیقی اسلام پہ عمل درآمد سے فرقہ بندی، انتہا پسندی و عدم برداشت جیسے رویوں کا خاتمہ ہوگا کیونکہ اسلام ایک پرامن اور رواداری کا درس دینے والا مذہب ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی و عدم برداشت کی تاریخی وجوہات اور ان کا تدارک۔۔۔۔سحر شاہ/مقابلہ مضمون نویسی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *