• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • چائے چاہیے۔۔کون سی جناب؟چائے سے جڑی کچھ قیمتی یادیں۔۔۔ثنا اللہ خان احسن

چائے چاہیے۔۔کون سی جناب؟چائے سے جڑی کچھ قیمتی یادیں۔۔۔ثنا اللہ خان احسن

SHOPPING

دم کی ہوئی  چائے اور ٹی کوزی سے ڈھکا ٹی پاٹ!
چائے کی ابتدا کہاں سے ہوئی ؟
انگریزوں نے کس طرح برصغیر کے لوگوں کو چائے کا موالی بنایا؟
جب سے پاکستان میں سیلون اور دارجلنگ کی چائے آنا بند ہوئی  چائے کا لطف ہی غارت ہوگیا!
جیسمین چائے صحت بخش و سکون بخش!

چائے کی اہمیت سے بھلا کس کو انکار ہو سکتا ہے؟ ہمارے ملک میں تقریباً  ہر شخص کی صبح کا آغاز چائے سے ہوتا ہے۔ اگر صبح چائے نہ ملے تو سارا دن طبیعت سست اور سر میں درد رہتاہے۔ یوں تو پاکستان میں بے شمار برانڈز کی چائے دستیاب ہےلیکن لپٹن اور بروک بانڈ نسلوں سے معیاری برانڈ سمجھےجاتےہیں ۔خاص طور پر برصغیر میں تو چائے ایک روایت یا معاشرت کا حصہ بن چکی ہے۔

ایک زمانہ تھا کہ چائے انتہائی  سلیقے اور ذوق کے ساتھ پیش کی جاتی تھی۔ باقاعدہ ٹی سیٹ جو کہ ٹی پاٹ، شگر پاٹ اور ملک پاٹ پر مشتمل ہوتا تھا۔ ساتھ میں چھ نفیس کپ اور طشتریاں۔ چھوٹی سی نقرئی چھاننی ۔ مہمانوں کی آمد پر گرم کھولتے ہوئے پانی کو ٹی پاٹ میں انڈیل کر اس میں چائے کی پتی ڈال کر ڈھک دیا جاتا تھا۔ پھر اس کو سلیقے سے شکر دان اور دودھ دان کے ساتھ ٹرے میں رکھ کر ٹی پاٹ کے اوپر ایک خوبصورت ٹی کوزی ڈھک دی جاتی تھی تاکہ چائے خوب گرم رہے۔

مجھے یاد ہے کہ ہماری والدہ صاحبہ بہت اچھی اور خوبصورت ٹی کوزیاں لایا کرتی تھیںِ جنہیں کبھی کبھی ہم سر پر اوڑھ کر ترک سلطان بننے کی ایکٹنگ کیا کرتے تھے۔ ان ٹی کوزیوں پر کشیدہ کاری کے بہترین نمونے دیکھنے کو ملتے تھے۔ مہمانوں کے سامنے چائے پیش کرنے سے پہلے چائے دانی میں ایک چمچہ شکر ڈال کر چائے دانی کو پھر سے ڈھک دیا جاتا اور پانچ منٹ انتظار کیا جاتا تھا۔ اس عمل سے چائے کا ذائقہ اور رنگ پانی میں اچھی طرح رچ بس جاتا تھا۔ اس چائے کو مزید خوشبودار اور ذائقہ دار بنانے کے لئے لونگ اور سبز الائچی کے دانے ہم وزن بالکل باریک سفوف بنا کر ایک بوتل میں محفوظ رکھے جاتے تھے اور پتی کے ساتھ اس سفوف کی آدھی چمچی بھی چائے میں شامل کردی جاتی تھی ۔ یہ چائے ذائقے اور خوشبو سے پینے والوں کے دل موہ لیتی تھی۔ٹی کوزی ہٹتے ہی چائے دانی کی ٹونٹی سے خوشبودار چائے کی بھاپ کی مہک پورے کمرے میں پھیل جاتی۔ اس کے بعد پیالیوں پر چھاننی رکھ کر اس میں بھاپ اڑاتی مہکتی ارغوانی چائے انڈیل کر اس میں دودھ اور چینی مہمان سے پوچھ کر اس کے حسب ذوق شامل کی جاتی اور پھر طشتری میں ایک چائے کا چمچہ کپ کے ساتھ رکھ کر مہمان کو پیش کیا جاتا۔ مہمان خود اپنی پیالی میں چینی چمچے کی مدد سے حل کرتا۔ اس سارے عمل کے دوران ایک نفاست اور ترتیب کا خیال رکھا جاتا۔ پیالیوں کی ہلکی کھنک اور کپ میں چمچہ چلانے کی چھنک۔ واقعی لگتا تھا کہ چائے پی جارہی ہے۔

آجکل کی طرح نہیں کہ دودھ پتی اور چینی کا ملغوبہ پیالیوں میں ڈال کر ڈائریکٹ متھے مارا جاتا ہے۔ خستہ اور گرم سموسہ یا پیٹیز ٹماٹو کیچپ کے ساتھ تناول کرنے کے بعد ہلکی ہلکی مرچوں سے سوزش شدہ زبان پر اس چائے کا پہلا گھونٹ ایسا محسوس ہوتا کہ گویا راز حیات پالیا ہے۔اس کے بعد تھرمل فلاسکس نے کیتلی اور ٹی کوزی کی جگہ لے لی۔ لیکن نازک طبع اور نفیس ذوق رکھنے والوں کو بھی بھی فلاسک میں رکھی چائے پسند نہیں آتی کیونکہ فلاسک ی چائے میں تھرمس کے ربڑ اور پلاسٹک کے ڈھکنے کی بو آ جاتی ہے۔ گھروں میں روز مرہ کے استعمال کے لئے یقینا” فلاسک ایک کارامد شے ہے لیکن چائے کی دعوت اور مہمانوں کے لئے نہیں۔ کسی بھی معزز گھرانے کی خواتین کی گرھستی اور سلیقہ چائے پیش کرنے کےانداز سے ہی پتہ چل جاتا تھا۔اکثر رشتہ دیکھنے کے لئے چائے پر ہی مدعو کیا جاتا تھا اور چائے پیش کرنا لڑکی کا کام ہوتا تھا۔ لڑکی کے چائے پیش کرنے کے طریقے سے ہی پتہ چل جاتا تھا کہ موصوفہ کتنی سگھڑ اور سلیقہ مند ہیں۔ ‘سر پر دوپٹہ رکھیے شرمائی لجائی  لڑکی جب جھکی جھکی نظروں سے دھیمے لہجے میں لڑکے سے مخاطب ہو کر پوچھتی کہ چینی کتنی لیجئے گا تو لڑکا تو وہیں ریشہ خطمی ہو کر دل میں سوچتا کہ بھلا شکر کی کیا ضرورت ۔ بس  آپ اپنی انگلی ڈبو دیجئے۔ پورے جیون میں مٹھاس بھر جائے گی۔ لیجئے بات ہو رہی تھی لپٹن چائے کی اور ہم لپٹن دی چاہ تک پہنچ گئے۔ وہ لطیفہ تو آپ نے سنا ہی ہوگا کہ صبح سویرے ایک خاتون ایک سردار جی کی دکان پر پہنچی اور پوچھا کہ گرو جی لپٹن دی چا ہے؟ جس پر سردار جی دانت نکال کر بانہیں وا کرتے ہوئے بولے کہ جی مینوں تے نئیں ہے جے تانوں چاہ ہے تے بے شک لپٹ جاؤ۔

آپ نے لپٹن چائے کا وہ مشہور و معروف اشتہار تو دیکھا ہوگا جس میں ماضی کے مشہور مزاحیہ اداکار نرالا کلفٹن کے ساحل پر اونٹ پر سوار چائے کا سوال کرتے نظر آتے ہیں جواب میں ایک ٹیڈی خاتون ان کو لپٹن چائے پینے کا مشورہ دیتی ہیں۔
چائے چاہیے،
کونسی جناب ؟
لپٹن عمدہ ہے!
لپٹن لیجئے۔
لپٹن پیجئے!
یہ اشتہار عام طور پر سن ساٹھ اور ستر کی دھائی  میں سینماؤں میں فلم شروع ہونے سے پہلے دکھائے جاتے تھے۔
بعد میں جب پاکستان میں ٹیلیویژن پر اشتہار چلنا شروع ہوئے تو اس اشتہار کا دوسرا ورژن بھی نرالا پر ہی بنایا گیا جو ایک جنرل اسٹور میں خاتون کو لپٹن چائے کا پیکٹ پیش کر رہے ہیں۔اس اشتہار کا لنک مندرجہ ذیل ہے۔
https://youtu.be/as1tOE2mxI8

چائے کی دریافت کے متعلق عجیب عجیب قصے کہانیاں مشہور ہیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ چائے کی ابتدا چین سے ہوئی  جہاں یہ خودرو پودا تھا- کہا جاتا ہے کہ ایک چرواہا اپنی بکریاں لے کر جنگل گیا تو اسے چائے کا سرسبز پودا نظر آیا جو اس کے لئے ایک بالکل نیا پودا تھا-اس نے اس کی پتیاں چبا کر دیکھیں تو ذائقہ اچھا لگا اور وہ یہ پتیاں توڑ کر اپنے گاؤں لے گیا جہاں اسے اپنے یار دوستوں میں تقسیم کیا اور یوں چائے پورے چین میں مقبول ہوگئی – ایک قصہ یہ بھی سنایا جاتا ہے کہ چین کا ایک شہنشاہ شینانگ ہمیشہ پانی ابال کرپیتا تھا ایک دفعہ وہ شکار کیلئے جنگل میں گیا۔ وہاں اس کا خادم پانی ابال رہا تھا۔ قریب ہی سوکھی ٹہنیوں کی آگ جل رہی تھی کہ سوکھی ٹہنی کے چند خشک پتے پانی کی کیتلی میں گر گئے۔پتوں کی وجہ سے پانی کارنگ قدرے رنگین ہو گیا۔ جلدی میں پانی شہنشا نے پی لیا۔ شہنشاہ کوپانی کا ذائقہ پسند آیا۔ چنانچہ شہنشاہ شینانگ نیان جھاڑیوں کے بیج جمع کرنے کاحکم دے دیا۔ یہ دنیا میں چائے کا پہلا گھونٹ تھا جوشہنشاہ شینانگ نے پیا۔جلد ہی چائے چین کی ثقافت بن گئی- چین سے چائے جاپان پہنچی جہاں زین بدھوں نے اسے ذہنی ارتکاذ میں مددگار قرار دیا اور چائے ان کی مذہبی رسومات کا حصہ بن گئی – بدھ عقیدے کے مطابق مہاتما بدھ جب پانچ سال کے مراقبے کے بعد جاگے تو انہوں نے چائے کی پتیاں چبائی  تھیں- 1560ء میں جب پرتگالی مشنریوں نے چین سے تجارت شروع کی تو چائے یورپ پہنچ گئی –

چین کے لوگ بغیر بلینڈ کی ہوئی  سبز چائے استعمال کرتے ہیں جسے ہمارے یہاں گرین ٹی کہا جاتا ہے- چین کی جیسمین گرین ٹی ذائقے اور خوشبو میں بے مثال ہے جبکہ اس میں شامل چنبیلی کے پھول کی پتیاں اس کی افادیت میں مزید اضافہ کردیتی ہیں- چین نے چنبیلی کی چائے پر بہت تحقیق کی ہے۔کئی اطبا اور ماہرین نباتات سے اسکی افادیت پر بات ہوئی ہے ۔ عام لوگوں کے مشاہدات و تجربات بھی سن رکھے ہیں کہ چنبیلی کا قہوہ پینے سے ان کا وزن گھٹ گیا جبکہ دل کی شریانیں کھولنے کے لئے اس سے بہترین قہوہ کوئی اور نہیں۔یہ قہوہ خوشبودار ہوتا ہے لہذا دماغی اعصاب کو پرسکون کرتا ہے۔کینسر سے بچاؤ کے لئے بھی اسکا قہوہ تجویز کیا جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق جو لوگ جیسمین ٹی استعمال کرتے ہیں انہیں شوگر نہیں ہوپاتی ،شوگر کا مرض ہوتو اسکی شدت کم کرتی ہے۔امیون سسٹم بہتر ہوتا اور ہڈیوں کے جوڑوں میں درد سے نجات ملتی ہے ۔گویا اس بات میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ چنبیلی کا پھول صرف سونگھنے سے راحت و سکون نہیں دیتا بلکہ اسکی چائے بنا کر پی جائے تو ان گنت فوائد حاصل ہوتے ہیں۔آپ اپنی گرین ٹی کے ڈبے میں خشک شدہ چنبیلی کے پھولوں کی پتیاں شامل کر کے جیسمین ٹی کے فوائد حاصل کرسکتے ہیں-

1652ء میں چائے پہلی دفعہ انگلینڈ کے کافی خانوں کو فروخت کی گئی۔ جلد ہی یہ برطانیہ کاقومی مشروب بن گیا۔ 1700ء تک برطانیہ دو لاکھ 40ہزار پاؤنڈ چائے برآمد کر رہا تھا۔ چائے کی وجہ سے انگریزوں کی روز مرہ زندگی میں ایک خوشگوارتبدیلی آئی اورسہ پہر کی چائے کا رواج عام ہوا۔برطانوی تجارتی کمپنیاں چائے کی برآمد کے لئے سارے یورپ میں مشہور ہوئیں۔ ان میں لپٹن اور بروک بانڈ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی چائے کی برآمد میں اہم کردار ادا کیا برصغیر پاک و ہند میں چائے کی کاشت 1823ء میں شروع ہوئی۔

جو چائے ہم پیتے ہیں، اُسے بلیک TEA کہا جاتا ہے۔ انگریز نے اس کے پودے کو آسام کے شہر دار جلنگ میں کاشت کیا اور کامیابی حاصل کی ۔ گوروں نے اس کالی چائے کو پراسس کرنے کا طریقہ ایجاد کر لیا۔ اس کے بعد تھا مرحلہ اس کالی پتّی کو دیسی ہندوستانیوں میں بطور مشروب کے متعارف کروانا۔ 1838 میں دارجلنگ میں چائے کے 10 سے زیادہ باغات لگ چکے تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کا مکمل کنٹرول ابھی تک صرف بنگال اور مدراس پر تھا۔ دیسی معززین کو انگریز ’’ بہادر لوک‘‘ (لوگ نہیں بلکہ لوک) کے نام سے پکارتے تھے ۔ گورے حاکم اِن بہادر لوکوں کو اپنی شاہی رہائش گاہوں کے باغیچوں میں مدعو کرتے تھے۔ کالی چائے کے اُبلتے پانی کی Bone China کی نازک پیالیوں میں ڈال کر ، دودھ اور شکر کی آمیزش کر کے، اُن دیسی معززین کی توا ضع کرتے تھے۔ آہستہ آہستہ چائے دیسی اشرافیہ کا محبوب مشروب بن گئی تو ہندوستان ٹی بورڈ کے نام سے ایک اِدارہ بنا دیا گیا جس کا ایک کام چائے کے مشروب کو ہندوستانی عوام میں مقبول بنانا تھا۔

اُس زمانے میں پبلسٹی کا طریقہ پوسٹروں اور اخباری اِشتہاروں کی شکل میں تھا۔ لیکن ایک طریقہ ڈائریکٹ پبلسٹی کا بھی تھا۔ بڑی شاہراہوں اور سڑکوں پر میز لگا کر چائے کو تیار کرنا اور راہ گیروں کو چائے کا مشروب مفت پیش کرنا۔ اِنسان کی جبلّت ہے کہ اُسے کوئی چیز بِلاقیمت یا تحفتہً پیش کی جائے تو عام طور پر وہ اسے قبول کر لے گا۔ آج کے جدید دور میں بھی یہ طریقہ نہایت کارآمد اور مقبول ہے۔ امریکہ اور یورپ کی بڑی بڑی مالز پر کیک ، بسکٹ، آئس کریم ، مختلف چٹنیاں اور وائن کو چکھنے کے لئے مفت پیش کیا جاتا ہے اور بڑے معتبر لوگ تھینکس کہہ کر پیش کردہ چیز کو منہ میں ڈال کر آگے گذر جاتے ہیں۔

چائے کی پبلسٹی کا ڈائریکٹ طریقہ کامیاب ہونا شروع ہو گیا۔ ذراسوچئے کہ ہندوستانی قوم جو اس کسیلے ذائقے کے مشروب کو جانتی تک نہ تھی کس طرح آہستہ آہستہ اس کی دیوانی ہوتی گئی۔ ہم تو دودھ اور دہی کی لسی پینے والے لوگ تھے۔ ہم اپنے مہمانوں کی تواضع گرمیوں میں سردائی سے، ستوؤں سے، لیموں پانی سے ، تخم ملنگاں اور قلفی یا شربت سے کرتے تھے۔ امیروں کے ہاں شربت کی بہت سی اقسام ہوتی تھیں۔ پھول اور پھلوں سے نکالا ہوا شربت، صندل، بادام اور کیوڑے کا شربت ، گنے کا رس، آم ،تربوز اور اَنار کا رس۔ سردیوں کے ہندوستانی مشروب گرم دودھ یا یخنی کی مختلف اقسام کی شکل میں ہوتے تھے۔ انگریز نے اپنے تجارتی مقاصد کو پورا کرنے کے لئے چائے کی مقبولیت کے نِت نئے طریقے نِکالے۔ رنگ برنگے جہازی اشتہاروں میں بمبئی کے امیر پارسی کو یا کلکتہ کے پڑھے لکھے ’’بابو شائے‘‘کو اپنے خوبصورت بنگلے کے سرسبز لان پر رنگ برنگے پھولوں کی کیاریوں کے نزدیک بید کی لکڑی کی بنی ہوئی خوبصورت کرسی اور میز پر چائے کی چُسکیاں لیتے دکھایا جاتا تھا۔

یہ اشتہار حسیات کو لبھانے والے ہوتے تھے۔ چائے کی پیالی سے اُبھرتی بھاپ، رنگ برنگے پھولوں کی کیاری کے قریب بیٹھا ہوا دیسی گھرانہ، آسودگی کی علامت ہوتا تھا۔ غریب دیسی ہندوستانی ایسے دِل لبھانے و الے اِشتہاروں سے چائے کی طرف مائل ہونا شروع ہو گیا۔ بنگال ، مدراس اور بمبئی کے عام لوگوں کو بھی انگریزی کی تھوڑی بہت سُوجھ بُوجھ تھی۔ ایک اشتہار انگریزی میں شائع کیا گیا
اLassi Breeds Lassitude یعنی لسّی سے کا ہلی اور سست الوجودی پیدا ہوتی ہے۔( انگریزی زبان میں Lassitude مطلب کاہلی ہے) یعنی ہمارے مرغوب دیسی اور ہندوستان گیر مشروب لسّی (Lassi)کو بُرا کہا گیا تھا۔ یہ سلوگن تو مَیں نے بھی اپنے بچپن میں اخباروں میں پڑھا ’’گرم چائے گرمیوں میں ٹھنڈک پہنچاتی ہے‘‘۔ لپٹن اور بُروک بونڈ کمپنی نے تمام ہندوستان میں چائے کے چھوٹے پیکٹ ایک پیسے کے ایک درجن کے حساب سے سالہاسال فروخت کئے بلکہ یہ سمجھ لیں کہ مفت دیئے۔ریلوے اسٹیشنوں کے پلیٹ فارموں پر اور سمندری مسافر جہازوں کے Docks پر چائے کے مفت سٹال لگائے جاتے رہے۔

انگریز نے ماہرانہ اور ہمہ گیر طریقوں سے چائے کی اُس وقت تشہیر کی جب نہ ٹیلی ویژن تھا اور نہ ہی ریڈیو یا بائسکوپ تھا۔ صرف پرنٹ میڈیا تھا یا ڈائریکٹ پبلسٹی تھی۔ (جو ابھی بھی مغرب میں موثر طریقہ ہے کھانے پینے کی چیزوں کی تشہر کا)۔دیہاتوں میں عوامی قسم کی نوٹنکیاں کروا کر ہجوم اکٹھا کیا جاتا تھا اور پھر سٹیج پر گورا سیلز مین اپنی کھڑی اُردو یا مقامی زبان میں چائے کے گُن گنواتا تھا اور پھر نوٹنکی کے گنوار قسم کے ایکٹر اور آرٹسٹ چائے کی تعریف میں گیت گاتے تھے۔ شائقین کو مفت چائے پلائی جاتی تھی۔ دنیا میں ایک شے کی جتنی پبلسٹی ہوئی ہے اور جو ابھی تک ہو رہی ہے وہ چائے ہے ، اِتنی پبلسٹی کسی دوسری مصنوعات یا کھانے پینے کی چیز کی نہیں ہوئی۔ 20ویں صدی کے اوائل میں چائے کو دانشوروں، شاعروں اور ادیبوں کا مشروب بنا دیا گیا۔ کمیونزم تیسری دنیا میں نیا آیا تھا۔سینما بھی آچکا تھا۔ فلموں میں چائے اور سگریٹ نوشی کو بڑے رومانوی انداز میں پیش کیا جاتا تھا۔ کالج کے نوجوان لڑکے فلمی ہیرو کو سگر یٹ کے دھویں کے مرغولے بناتے ہوئے اور چائے کی چسکیاں لیتے ہوئے دیکھتے تو خود بھی ایسا ہی حلیہ دھار لیتے تھے۔

آج کے برِصغیر کو برطانوی سامراج نے 1947 میں جب آزاد کیا تو چائے یہاں کے عوام کا مقبول ترین مشروب بن چکی تھی۔ چائے کو فروخت کرنے والی زیادہ مشہور کمپنیاں برٹش ہیں مثلاً لپٹن، ٹیونگز(Twinning) ، بروک بونڈ، ٹیٹلے(Tetley) لیکن یہ طے ہے کہ جتنی بھی چائے فروخت کرنے والی کمپنیاں ہیں وہ چائے کی پتّی کینیا، سیلون (سری لنکا)دارجلنگ، ارجنٹائنا اور چین سے ہی تھوک کے بھاؤ خریدتی ہیں۔

لپٹن چائے کی ابتدا کیسے ہوئی  ؟ آئیے اس بارے میں مختصرا” جانتے ہیں۔
انگریز تاجر سر تھامس لپٹن نے سن 1871 میں گلاسگو میں لپٹن گروسری اسٹور کا آغاز کیا تھا۔ اس اسٹور میں مقامی مصنوعاعت کے علاوہ بہترین درامد شدہ مصنوعاعت بھی دستیاب تھیں جن میں چائے بھی شامل تھی۔
سن 1890 میں گلاسگو کے اس امیر تاجر نے چائے کا بزنس بڑھانے کے لئے سری لنکا میں ساڑھے پانچ ہزار ایکڑ پر مشتمل چائے کے باغات خریدے۔
جب چائے کی بیس ہزار پیٹیوں کی پہلی کھیپ سیلون سے گلاسگو پہنچی تو سر تھامس نے باقاعدہ مکمل براس بینڈ اور فل پریڈ کے ساتھ اس کا استقبال کیا۔ سن 1893 میں انہوں نے بالقاعدہ ( the Thomas J Lipton Co.®) کے نام سے چائے پیک کرنے کی کمپنی کی بنیاد ڈالی۔ یہ کمپنی نیوجرسی میں قائم کی گئی۔ اس زمانے میں چائے امرا و شرفا کا مشروب تھا۔ سر تھامس کا خیال تھا کہ چائے ہر ایک کی دسترس میں ہونی چاہیے۔ اس کے لئے انہوں نے مختلف طریقوں سے چائے کی پیکنگ اور شپنگ وغیرہ پر آنے والے اخراجات کم کر کے چائے کی قیمت کو کم کیا تاکہ متوسط طبقے کے افراد بھی چائے خرید سکیں۔ چائے کی مختلف ورائٹیز بھی متعارف کروائی  گئیں۔

ٹی بیگس کی ابتدا:
ٹی بیگس کی شروعات بس سمجھئے محض ایک اتفاق تھا۔ ہوا یوں کہ چائے کے ایک امریکی تاجر تھامس سلائیون نے اپنے گاھکوں کو چائے کے سیمپلز بھیجنے کے لئے چائے کہ پتی کو چھوٹے چھوٹے ریشمی تھیلیوں میں نفاست سے پیک کر کے بھیجتے تھے۔ اب کسٹمرز یہ سمجھے کہ شاید چائے کو ان تھیلیوں سمیت ابالنا چاہئے اور اس طرح ٹی بیگس کی شروعات ہوئ۔ سر تھامس لپٹن نے بھی چائے کو بیگس میں فراہم کرنا شروع کردیا ۔ لپٹن وہ پہلی کمپنی تھی جس نے ٹی بیگس پر باقاعدہ چائے کو ابالنے اور بنانے کی ترکیب بھی درج کرنا شروع کی تھی۔
آج لپٹن دنیا کی سب سۓ بڑی چائے کمپنی ہے جس کی نت نئی  اختراعات اور ذائقے و معیار نے پوری دنیا کے چائے کے شائقینوں کو اپنا گرویدہ بنایا ہوا ہے۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ جب سے پاکستان میں سیلون اور دارجلنگ کی چائے کی جگہ کینیا کی چائے آنا شروع ہوئی  ہے چائے کی وہ مہک اور لطف نہیں رہا-

SHOPPING

نوٹ: چائے کی تاریخ سے متعلق اس مضمون کے کچھ مندرجات مختلف کالمز اور بلاگز سے نقل شدہ ہیں

SHOPPING

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *