خاتون آخر کا انٹرویو اوّل ۔۔۔ معاذ بن محمود

 

ذیل انٹرویو حال ہی میں بھوٹان کے معروف بے زبان اینکر مدیم نلک نے بھوٹان کی خاتون آخر جناب صغراں بی بی سے لیا۔ انٹرویو جس قدر بندگی و بے بسی سے لیا گیا اس سے محسوس یہ ہوتا کہ انٹرویو لیا نہیں، دیا گیا ہے۔ بہرحال بھوٹان کے وزیراعظم چنگیز جان کی اہلیہ اور خاتون آخر کا انٹرویو پیش خدمت ہے۔ 

مدیم نلک: خاتون اوّل بننے کے بعد آپ نے کیا تبدیلی محسوس کی؟

خاتون آخر: دیکھیے پہلی بات تو یہ ہے کہ میں خاتون اوّل نہیں۔ وہ اللہ کی الگ ہی بندی تھی جو خاتون اوّل تھی۔ میں تو خاتون اوّل ہرگز نہیں۔ مجھے خاتون آخر کہیے۔ اور ایک مہربانی یہ کریں کہ میرے سامنے خاتون اوّل کی باتیں نہ کریں۔ مجھے جلال آسکتا ہے۔ پھر آپ کو ملال ہوگا۔ باقی جہاں تک آپ کے سوال کی بات ہے تو وہ مجھے سمجھ نہیں آئی۔ کیا پوچھا آپ نے؟

مدیم نلک: نہیں صغراں بی بی میرا مطلب ہے پہلے آپ کی ایک مذہبی روحانی زندگی ہوا کرتی تھی۔ اب کیسے حالات ہیں؟

خاتون آخر: دیکھیں جی فرق کیا پڑنا۔ پہلے لوگ جہازگیر ترین کے ذریعے جان صاحب کے پاس آیا کرتے تھے، اب وہ باجوہ صاحب کے ذریعے جان صاحب کے قریب آتے ہیں۔ جان صاحب کو قربت ہی قربت محبت ہی محبت مہیا ہے۔ لوگ ان سے پیار کرتے ہیں۔ میرا سیاست سے کوئی لینا دینا نہیں۔ میں وہی رات گئے عبادت کرتی ہوں اور ظہر کے وقت سو کر اٹھتی ہوں۔ تب تک جان صاحب ہیلی کاپٹر میں دن شروع کر چکے ہوتے ہیں۔ مجھے ناں خدا کی قسم بڑی خوشی ہوتی ہے۔ جان صاحب اتنی خوشی سے تالیاں بجاتے ہیں ناں کہ میں آپ کو کیا بتاؤں۔ 

مدیم نلک: لوگ جب باجوہ صاحب کے ذریعے جان صاحب تک پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ دوغلا پن نہیں ہوتا؟

خاتون آخر: آپ کو ڈر نہیں لگتا؟ دیواروں کے بھی کان ہوتے ہیں۔ کیوں اپنے ساتھ ساتھ میری زندگی خراب کرنے پر بھی تلے ہوئے ہیں۔ کسی نے اٹھا لیا تو علی سجاد شاہ بنا کر واپس چھوڑیں گے۔ 

مدیم نلک: اچھا یہ بتائیے کہ ہم جان صاحب کو بحیثیت گلی ڈنڈا کھلاڑی تو بہت پہلے سے جانتے ہیں لیکن آپ ان کے بارے میں بحیثیت انسان کیا سمجھتی ہیں؟

خاتون آخر: وہ میں نے بتانا شروع کیا تو آپ کا پروگرام بہت لمبا ہوجائے گا۔ چند مثالیں دے دیتی ہوں۔ جان صاحب صبح جلدی اٹھ جاتے ہیں کبھی کبھار اور پھر مجھے سونے نہیں دیتے۔ ایسے حالات میں میں ان سے یہی کہتی ہوں “اوئے انسان بن ناں”۔ صبح اٹھ کر وہ ناشتہ کر لیتے ہیں میں نہ اٹھوں تو، سو مجھے کہنا پڑتا ہے “یارا اے کی انسانیت اے؟” پھر مجھے شاپنگ پہ جانا ہو اپنے نئے چٹے عبائے خریدنے تو جان صاحب کہتے ہیں کیا کرو گی نئے عبائے خرید کر پتہ تو چلتا نہیں سب ایک جیسے سفید ہی تو ہوتے ہیں، تو میں پھٹی آنکھوں سے پوچھتی ہوں “سیدھی انسانیت سے لے کر دینے ہیں یا لکھوں کتاب؟”  بس پھر جان صاحب فوری انسانیت کی معراج پر پہنچ جاتے ہیں۔ 

مدیم نلک: کوئی ایسی عادت جو جان صاحب سے آپ نے سیکھی ہو؟

خاتون آخر: جی مجھے وزیروں سے سخت نفرت تھی۔ پھر ایک دن میں جائے نماز پر بیٹھی تھی کہ فواد چوہدری ہاتھ ہلاتا ہوا میرے قریب آیا۔ مجھے ڈر لگا کہ فواد چوہدری کہیں جائے نماز کو نہ چھو جائے، تو میں نے ناں ایسے غصے سے ہاتھ ہلایا تو فواد چوہدری وہاں صوفے کے پیچھے جاکر بیٹھ گیا۔ پھر میں نے صوفے کے پیچھے جا کر دیکھا ناں تو فواد چوہدری کی آنکھیں گیلی ہوئی وی تھیں جیسے آنسو نکل رہے ہوں۔ اس دن مجھے احساس ہوا کہ وزیروں کے بھی جذبات ہوتے ہیں۔ اب میں جہاں جاتی ہوں فواد چوہدری میرے ساتھ ساتھ یا پیچھے پیچھے دم میرا مطلب ہے ہاتھ ہلاتے پھرتے رہتے ہیں۔ جان صاحب کی انسانیت دوستی ایک جانب وہ ایک ایسے شخص ہیں جنہوں نے مجھے انسانوں کے علاوہ وزیروں سے بھی انسیت سکھا ڈالی۔ میں اسے معجزہ ہی مانوں گی۔ 

مدیم نلک: کوئی ایسا واقعہ جس کے بعد آپ کو جان صاحب سے ہمدردی محسوس ہوئی ہو؟

خاتون آخر: جی۔ ایک دن میں لان میں گئی میں نے دیکھا جان صاحب بڑی تکلیف میں ہیں۔ میں نے پوچھا جان صاحب کیا ہوا؟ کیوں تکلیف میں ہیں؟ جان صاحب عجیب سی شکل بنا کر بولے، تمیں کیا ملوم بشری، میں بہت مجبور ہوں”۔ یقین کریں مجھے بہت افسوس ہوا اور جان صاحب سے صغرٰی محسوس ہوئی لیکن کی کراں، میں وی نماز روزیاں آلی ماسی آں۔ 

مدیم نلک: اچھا جان صاحب سنا ہے لباس کے معاملے میں بہت شوقین ہیں، کپڑے کیسے پہنتے ہیں؟

خاتون آخر: جان صاحب؟ شوقین؟ اور لباس کے؟ نہیں شوقین وہ اپنی جگہ ہیں مگر لباس کے معاملے میں نہیں۔ لباس کے معاملے میں جان صاحب بہت ہی سادہ ہیں۔ اتنے سادہ کہ میں کہتی ہوں مجھے پتے پہننے والے قدیم انسان یاد آجاتے ہیں۔ ایک دفعہ ناں جان صاحب لنڈن جارہے تھے۔ تو میں نے کہا آئیں ناں میں آپ کی پیکنگ کر دوں۔ خان صاحب جیسے ڈر سے گئے ہوں۔ کہنے لگے ارے نہیں میری چھوڑیں بس کپڑوں کی پیکنگ کر دیں۔ پھر وہ بڑبڑاتے ہوئے دوسرے کمرے میں چلے گئے کہ میری پیکنگ کا ایک باب بھی نہ ڈال دے کتاب میں۔ میں دوسرے کمرے میں پہنچی تو دیکھا جان صاحب نے جس سوٹ کی پینٹ پیک کی اس کا کوٹ نہیں ڈالا۔ جس کا کوٹ پیک کیا اس کی پینٹ چھوڑ دی۔ ایک سوٹ پورے کا پورا رکھا۔ پوچھا جان صاحب اے کی چکر است؟ کہنے لگے تمیں کیا ملوم صغرٰی سادگی کیا ہے۔ یہ پورے سوٹ میں موریاں کافی ہیں، کنڈم ہی ہوگیا ہے سو رکھ لیا۔ کیا معلوم کب کوئی تصویر کھینچ لے؟ باقی ضروری تو نہیں ناں کہ میں ہمیشہ کوٹ پینٹ میں پھروں؟ کبھی کوٹ میں پھر لوں گا تو کبھی پینٹ میں۔ سادگی صغراں سادگی۔ وہ اب بھی اکثر سردیوں میں گرمی کے کپڑے پہنتے ہیں۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں جان صاحب؟ کہنے لگے تمہارے آنے کے بعد زندگی میں بس نماز روزہ ہی بچا ہے۔ گرمی کے کپڑے جان کے پہنتا ہوں تاکہ گرمی کا احساس باقی رہے۔ بڑے سادہ ہیں میرے جان صاحب جی۔ 

مدیم نلک: اچھا کھانے کے بارے میں کیا پسند ہے جان صاحب کو؟

خاتون آخر: دیکھیں جی وہ بڑے سادہ ہیں۔ بہت ہی سمپل۔ انہیں گوشت پسند ہے لیکن بالکل سمپل۔ وہ دیسی ککڑ کھا لیتے ہیں، خانیوال کے دیسی بکرے یا پشاور کے دنبے لیکن بالکل سمپل۔ اس کے علاوہ وہ ہرن کے گوشت کے بہت شوقین ہیں لیکن بالکل سمپل۔ انہیں ٹیکساس سے امپورٹ شدہ اینگس بھی بہت پسند ہے لیکن بالکل سمپل۔ وہ بھنی ہوئی مرغابیوں کو ایسے ڈکارتے ہیں کہ نہ پوچھیے، لیکن بالکل سمپل۔ کئی دوست بارلے ممالک سے انہیں فرانسیسی بطخ کا گوشت بھی بھیجتے ہیں جن پہ وہ آسٹریلوی مکھن چپڑ کر خود بھی کھاتے ہیں مجھے بھی کھلاتے ہیں لیکن وہ بھی بالکل سمپل۔ مچھلی کے تو بہت ہی شوقین ہیں۔ ٹراؤٹ کھاتے ہیں کوئلے پر پکا کر لیکن بالکل سمپل۔ کالا رہو انہیں خوب پسند کے لیکن شرط یہ ہے کہ تازہ ہو اور ہو بالکل سمپل۔ سبزیاں بالکل نہیں چکھتے۔ کہتے ہیں ٹماٹر اتنا مہنگا ہے میری عوام نہیں کھا سکتی پھر میں کیسے کھاؤں؟ بس جی جان صاحب بہت سادے ہیں۔ بالکل سمپل۔ 

مدیم نلک: پاکستان کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا کہتی ہیں؟

خاتون آخر: دیکھیں جب اوپر والا کسی کو نیست و نابود کرنے کی ٹھان لے تو اسے ایک ایسا لیڈر عطا کرتا ہے جو عطائی کی طرح خود کو ڈاکٹر سمجھتا ہے اور مریض کو چیر پھاڑنے کے بعد سوچتا ہے یہ بند کیسے ہوگا۔ پاکستان کا مستقبل انتہائی خاک ناک ہے۔ آپ کے پاس لیڈر ہے۔ سیاستدان سب پرانے ہوگئے ہیں۔ ہمیں اب لیڈر چاہئے تھا۔ لوگ کہتے ہیں یہ لیڈر تو بس ادھر سے ادھر درختوں پر چھلانگیں مار رہا ہے کر کچھ نہیں رہا۔ میں کہتی ہوں تے ہور اسی کی کرییں؟ جان صاحب کے پاس کوئی جادو کا سونٹا تو نہیں ہے ناں؟ وہ تو جرنل صاحب کے پاس ہے۔ ہمیں جس دن مل گیا ہم بھی حالات ٹھیک کر دیں گے۔ 

مدیم نلک: جان صاحب ایک مذہبی آدمی نہیں ہیں۔ آپ کیا کہتی ہیں؟

خاتون اوّل: بکواس بند کریں۔ ان کے پیٹ میں داڑھی ہے۔ 

مدیم نلک: آخری سوال، یہ بتائیے آپ کا آئیندہ کا روڈ میپ کیا ہے؟

خاتون آخر: دیکھیں جی مجھے یتیموں مسکینوں اور بے سہارا لوگوں کی مدد کرنی ہے۔ جس گھر میں میری رہائش ہے وہاں بس دو ہی بے سہارا مخلوقات ہیں۔ ایک شیرو اور دوسرا جان صاحب۔ میں روز صبح اٹھتی ہوں اور ہر روز ایک نئی زندگی کی طرح ان کی خدمت کرتی ہوں۔ جان صاحب بہت سادہ ہیں۔ انہیں کچھ سمجھ نہیں۔ میں ہر صبح انہیں یاد دلاتی ہوں کہ جرنل صاحب کی بات نہ مانی تو آپ کا حشر وہی ہوسکتا ہے جو پنجابی ٹوٹے والی انگریزی فلموں کے ساتھ کرتے ہیں۔ جان صاحب آبدیدہ آنکھوں کے ساتھ میری بات سمجھ جاتے ہیں۔ میں بس ایسے ہی دُکھی انسانیت کی خدمت کرنا چاہتی ہوں۔ میری سادگی دیکھ میں کیا چاہتی ہوں!

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *