احساس …!

احساس یہ لفظ جتنا گزشتہ دس سالوں میں ہمارے معاشرے میں پروان چڑھا ہے اتنا احساس لوگوں میں جاگا نہیں ہے وجہ کیا ہے ایسا کیونکر ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم بہت سی بڑی بڑی باتوں کا احساس کرکے سمجھتے ہیں ہم حساس ہیں اور احساس کرنا جان گئے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم ان بڑی باتوں پر احساس دکھلادیتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت سے فلاحی اداروں میں ایک طرف کہا جاتا ہے کہ ان کام کرنے والوں میں احساس ہوتا ہے مگر ان ہی لوگوں کا برتاؤ اپنے ہی لوگوں سے بے حس طرز کا ہوتا ہے ۔یہی حال معاشرے کے تمام تر انسانوں کا ہے ایک طرف حکومت کو گالیاں دے کر لوگ احساس دلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر خود اپنے رویوں اور لفظوں اور لہجوں پر غور نہیں کرتے کیا آپ کسی کو گالی دے کر احساس دلاسکتے ہیں ؟ یہ آپ اُس کی تذلیل کریں گے یا اس کو کچھ سمجھائیں گے ؟ کیا غصے کی حالت میں انسان سمجھ سکتا ہے ؟کیا ضروری ہے فقط دوسروں کو احساس دلایا جائے اور اپنا احساس نہیں دیکھا جائے جس طرح دوسروں سے مخاطب ہوتے کیا آپ سے اس طرح کوئی مخاطب ہو تو آپ کو اچھا لگے گا ؟ دوستی میں یہ سب چلتا ہے کیوں دوست بے حس ہوتے ہیں؟ گھر میں سب کہتے ہیں ہمارے بڑے کہتے تھے ایسے کیوں آپ بے حس تھے آپ میں عزت نفس نہیں تھی ؟ یہ کس قسم کا احساس معاشرے میں پھیلایا جارہے ؟ کیا اس سے معاشرے کو لوگ ایک دوسرے سے قریب ہوں گے یا دور ۔۔

دوسری جانب ہم اپنے اردگرد جڑے لوگوں کے درمیان بے حس ہوکر ان سے مذاق کررہے ہوتے ہیں اور وہ لوگ آپ کو عزت دیتے ہیں یا آپ کے کسی دکھ کی وجہ سے وہ اُس بات کا جواب نہیں دیتے کہیں آپ کو ٹھیس نہ پہنچے تو کبھی چپ اس لئے ہوتے ہیں کہ آپ تنہا ہیں آپ کی فیملی ماں باپ دور ہیں اس وجہ سے یا بہت سی دیگر وجوہات کی بنیاد پر وہ آپ کی خوشی کی خاطر چپ رہتے ہیں جبکہ وہ آپ کے بعض مذاق کو اپنی تذلیل سمجھتے ہیں بعض مجھ جیسے لوگوں کے لئے میری طرح فضول سوال یا فضول بات یا بکواس بند کرو اس طرز کے الفاظ ان کو گراں گزرتے ہیں چاہے آپ اُن سے علیحدگی میں کہیں یا دس لوگوں کے سامنے مگر وہ اس کو تذلیل سمجھتے ہیں . جس کی وہ آنکھوں سے شکایت تو کرتے ہیں مگر زبان سے کہنے سے قاصر ہوتے ہیں ،یہی وہ احساس ہے جو ہمارے معاشرے کے لوگ نہیں سمجھتے اسی طرح ایک پہلو یہ بھی ہے جس دوست کے پاس پیسے نہیں آپ ایکدم کہہ دیں پیسے یہ دوست دے گا ۔۔۔وہ بیچارہ شرمندہ ہوجاتا ہے آپ کو احساس بھی نہیں ہوتا کتنی بے عزتی محسوس ہوتی ہوگی اندازہ ہی نہیں کیونکہ آپ کا مذاق ہوگیا اور اس کے جذبات مجروح مگر ہم لوگوں کو احساس نہیں ہوتا. آپ یا تو ایسے شخص کے ساتھ کم بیٹھیں یا دوستی نہ رکھیں کم سے کم وہ روز آپ کے ہاتھوں بے عزت تو نہیں ہوگا بس اتنا احساس کرلیں چھوٹی چھوٹی باتوں کا اپنے رویوں کا تو معاشرے میں بہتری آسکتی ہے ورنہ فقط احساس کریں ، احساس کریں کہنے سے تو احساس پیدا نہیں ہوتا۔

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *