دھوئیں کا بم

”وزیر اعظم کی بدعنوانیوں کی رپورٹیں حاضر ہیں سر۔“
میں نے فائل ڈی جی کے سامنے رکھ دی۔
ڈی جی نے رپورٹوں کو الٹ پلٹ کر دیکھا
پھر ایک رپورٹ فائل سے علیحدہ کر کے بڑھائی،
”اسے پھاڑ دو … جلا دو۔ “
”لیکن یہ رقم یہاں سے پانامہ بھیجی گئی تھی …
بیٹے کے نام سے۔“ میں نے احتجاج کیا۔
”بھئی اس اکاؤنٹ سے رقم اسامہ کو دی گئی تھی ۔۔
ہماری ہدایت پر … تفتیش ہوئی تو ہمارا نام بھی آئے گا۔“
پھر ڈی جی نے دوسری رپورٹ فائل سے نکالی،
”اسے بھی ہٹا دو … جلا دو۔“
”لیکن یہ تو اس پیسے کا ثبوت ہے جو ٹیکس ریٹرن ۔۔۔
عدم اعتماد کی تحریک کے لیے ہے، جب وہ اپوزیشن میں تھا … کی ہے سر ۔۔۔“
” ہاں لیکن یہ پیسہ ہم نے ہی اسے دیا تھا
عدم اعتماد کی تحریک کیلئے جب وہ اپوزیشن میں تھا …
تفتیش ہوئی تو ہمارا نام آئے گا۔“
میں کچھ نہ بولا۔
لیکن جب ڈی جی نے اسی طرح دس گیارہ رپورٹیں
مسترد کر دیں تو مجھ سےرہا نہ گیا ۔
” لیکن سر اس طرح پھر ہم اسے عدالت سے نااہل کیسے کروائیں گے سر…
بقایا رپورٹوں کے تو مضبوط ثبوت نہیں ہیں ہمارے پاس …
بنچ کے سامنے تو ہماری رپورٹ کی دھجیاں اڑ جائیں گی …
ہم یہ جنگ ہار جائیں گے سر۔“
ڈی جی نے دھندلاچشمہ اتارا
صاف کیا پھر لگایا اور ہنکارا بھر کر کہا:
”جانتے ہو جب جنگ میں کسی محاذ پر
پسپائی ہونے لگے توکیا کرنا چاہیئے…
دھوئیں کا بم پھینک کر نکل جانا چاہیئے ..‘‘

فاروق احمد
فاروق احمد
کالم نگار ، پبلشر ، صنعتکار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *