ضلع حویلی،میری جنت۔۔۔سید ذیشان حیدر بخاری

ضلع حویلی آزاد کشمیر کا دسواں ضلع ہے جس کو 2009 ء میں ضلع کا درجہ دیا گیا. پہلے یہ ضلع باغ کی ایک تحصیل ہوا کرتا تھا. ضلع حویلی ایک ایسا نام ہے جس کو سننے کے بعد ہر شخص کو ایک پڑھے لکھے, ہنرمند اور بااخلاق لوگوں کی سرزمین کا تصور ذہن میں آنے لگتا ہے.  ضلع باغ سے جب آپ ڈھلی روڈ پر نکلتے ہیں تو راستے میں ایک مقام ٹھنڈا پانی آتا ہے.ایک چشمہ جس کا پانی سردیوں میں گرم جبکہ گرمیوں  میں انتہائی یخ ہوتا ہے اکثر اوقات گاڑیاں اور پیدل چلنے والے لوگ بھی یہاں پر رک کر قدر ت کے اس عظیم تحفے سے مستفید ہوتے نظر آتے ہیں.وہاں سے آگے چلا جائیں تو اگلا پڑاؤ لسڈنہ آتا ہے جو کہ سطح سمندر سے تقریباً 12000 فٹ بلندی پر واقع ہے.یہاں پر برفباری کا منظر انتہائی دلکش ہوتا ہے اور تقر یباً 10سے 11فٹ تک برف پڑتی ہے اور تقریباً مئی کے شروع تک رہتی ہے.گرمیوں میں بھی یہ انتہائی صحت افزاء مقام ہے.اکثر اوقات لوگ اس جگہ پر چھٹی والے دن یا اس سے ہٹ کر بھی پکنک مناتے نظر آتے ہیں۔

قارئین کرام!  یہ وہ مقام ہے جہاں سے ضلع حویلی کے لئے دو راستے جاتے ہیں.ایک براستہ محمود گلی جبکہ دوسرا شیروڈھارا اور علی آباد سے ہو کر ضلعی ہیڈکوارٹر کو جاتا ہے.تو جناب اگر آپ تھکے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ  آپ جلد سے جلد ضلعی ہیڈکوارٹر پہنچیں اور کوئی آرام کی جگہ ڈھونڈیں تو اس کے لئے میرا آپ کو مشورہ یہ ہو گا کہ آپ محمود گلی والی سائیڈ  سے سفر جاری رکھیں جس کے لئے آپ کو لسڈنہ سے دائیں ہاتھ سڑک کا انتخاب کرنا ہو گا.رستہ درختوں سے بھرپور قدرتی مناظر کی صورت میں اللہ رب العزت کی کاریگری بیان کرتا نظر آئے گا اور آپ کے منہ سے اچانک ہی واللہ علی کل شئی قدیر جیسے الفاظ نکلنا شروع ہونگے۔محمود گلی ایک ایسا مقام ہے جہاں پر باغ اور عباسپور کی سڑکوں کا میلان ہوتا ہے.  وہاں پر چند ایک ہوٹل نظر آئیں گے.جہاں اکثر اوقات مسافر گاڑیاں رکی ہوئی نظر آئیں گی.لوگ رک کر طعام و آرام کرتے نظر آرہے ہوتے ہیں ،یہاں سے تھوڑا نیچے جانے پر آپ زیارت موڑ, ہاشمی موڑ جیسی جگہوں سے گزرتے ہوئے گگڈار پہنچیں گے…جو کہ ضلع حویلی کی ایک تحصیل ممتازآباد کا حصہ ہے.کوئی پانچ منٹ کی مسافت طے کرنے کے بعد آپ تحصیل ممتاز آباد کے صدر مقام پلنگی میں داخل ہونگے اور وہاں سے کوئی دس کلومیڑ کا فاصلہ طے کرنے کے بعد آپ اپنی منزل مقصود یعنی ضلعی ہیڈکوارٹر فارورڈکہوٹہ پہنچ جائیں گے۔

اب آتے ہیں لسڈنہ سے دوسری طرف.اگر آپ کا انتخاب قدرتی مناظر کی مزید کھوج ہے تو اس کے لئے آپ لسڈنہ سے دائیں ہاتھ سڑک کا نتخاب کریں اور شروڈھارا کی طرف رخت سفر باندھیں۔قارئین کرام شروڈھارا ضلع حویلی کا ایک ایسا مقام ہے جو کہ اپنے آپ میں ہی قدرت کی کاریگری کا مظہر نظر آتا ہے.حسین وجمیل, وسیع وعریض سرسبزوشاداب ہرے گھاس سے بھر پور ایسے میدان جن  میں انسان  جوتا پہن کے جانا ان کی توہین کے برابر سمجھنے لگتا ہے.ان قدرتی مناظر کی کھوج کے بعدانسان کو قدرت کی کاریگری, عظمت اور بڑھائی کا بھر پور ادراک ہوتا ہے.وہاں سے آگے نکلیں تو حاجی پیر پہنچیں گے جہاں ایک زیارت “سید حاجی پیر” کے نام سے موجود ہے.زیارت کا انتظام و انصرام محکمہ اوقاف کے ساتھ ساتھ پاک فوج کے پاس ہے کیونکہ یہ جگہ دفاعی نقطہ نظر کے لحاظ سے انتہائی اہم ہے اور اس کا مکمل طور پر انصرام پاک فوج نے اپنے ذمہ لیا ہوا ہے لیکن عوام کو وہاں حاضری سے بالکل بھی روکا نہیں جاتا بلکہ مکمل تعاون کیا جاتا ہے.وہاں سے آگے   علی آباد کے نام سے ایک جگہ گھنے جنگل, اور چشموں سے مزین آپ کا انتظار کر رہی ہو گی.علی آباد میں رانی باغ نام سے ایک تفریح گاہ بنائی گئی ہے جو کہ ہر خاص وعام کی توجہ کا مرکز رہتی ہے.. یہ جگہ بھی آرمی کے زیر کنٹرول ہے اور یہاں سے نکلیں تو آپ ہالن شمالی اور بساہاں شریف سے ہوتے ہوئے ضلعی ہیڈکوارٹر پہنچ جائیں گے.

قارئین کرام! ضلعی ہیڈکوارٹر  میں آپ کو ہر طرح کے گیسٹ ہاؤسز, ہوٹلز وغیرہ انتہائی مناسب داموں میں دستاب ہونگے.میں دعوے سے یہ بات کہہ  سکتا ہوں کہ  نیلم کے ریٹس سے انتہائی مناسب آپ کو یہاں پر ہر چیز دستیاب ہو گی.  گو کہ علاقہ اتنا ترقی یافتہ نہیں ہے لیکن دو چیزیں یہاں کی آپ کے لئے کسی حوصلہ افزائی سے کم نہیں ہونگی.ایک یہاں کے قدرتی مناظر اور دوسرا یہاں کے لوگوں کا اخلاق.یہاں سے آگے آپ نے اگر واٹر فال کا نظارہ کرنا ہے تو آپ ہلاں کا سفر اختیار کر سکتے ہیں ،تقریباً 2 گھنٹے کی مسافت کے بعد ایک ایسی جگہ جہاں پہنچ کر آپ اس کے سحر سے شائد ہی نکل سکیں. تقریباً سو فٹ سے زائد کی اونچائی سے گرتا پانی اللہ کی قدرت کا منہ بولتا ثبوت اپنے اندر سموئے ہوئے آپ کے سامنے موجود ہو گا… راستے میں چھوٹی چھوٹی آبشاریں اور مناظر بھی آپ کو لطف اندوز کرتی رہیں گی. اس سے علاوہ اگر آپ نے وسیع و عریض, سرسبز وشاداب, حسین وجمیل میدان دیکھنے ہوں تو اس سے بالکل سامنے کا علاقہ جلال آباد (سولی) سے ہوتے ہوئے نیل فری کے مقام کا رخ کریں…. قدرت سبز گھاس کی قالین بچھائے آپ کا استقبال کرتے نظر آئے گی۔

یہاں پر آپ کی راہنمائی کے لئے عرض کرتا چلوں کہ سولی سے اور ایک گاؤں جبی سیداں تک تو پختہ سڑک جاتی ہے اس سے آگے آپ کو کسی جیپ وغیرہ کا انتظام کرنا ہو گا کیونکہ اس سے آگے سڑک کچی اور مشکل ہو گی اور وہ جیپ آپ کو آگے ککڈارا گلی تک لے جائے گی وہاں سے تقریباً آدھے گھنٹے  کی مسافت پر نیل فری واقع ہے.جہاں پہنچ کر آپ رب قادرکی یکتائی قبول کرنے پر  مزید پختہ  ہو جائیں گے ۔ اس کے قادرِمطلق ہونے کا قرار کریں گے.نیل فری میں تھوڑا اوپر جانے کے بعد آپ کو ایک جھیل (سر کے نام سے)ملے گی جو کہ قدرت کا ایک انمول نمونہ ہے. اس جھیل میں نہ تو ظاہری طور پر پانی کے آنے کا کوئی ٹھوس سورس کسی کو پتہ ہے اور نہ ہی اس پانی کے وہاں سےاخراج کا کوئی راستہ.وہاں پر لڑکے پانی میں تیرتے نظر آتے ہیں اور چراگاہ ہونے کی وجہ سے مال مویشی کی بھی کثیر تعداد وہاں پر پانی سے مستفید ہوتی نظر آتی ہے.

تو جناب ! اگر آپ بہت زیادہ تھک گئے ہوں تو ہم یہی سے واپس ہو چلتے ہیں.لیکن اگر آپ کے پاس اپنا کیمپنگ کا انتظام موجود ہے تو آپ مزید سفر کرنے کو تیار ہو جائیں.. یہاں سے کوئی آدھ گھنٹے  کی مسافت پر کیرن ٹاپ آتا ہے جہاں سے آپ کو ایک طرف اوڑی شہر (مقبوضہ انڈیا)نظر آئے گا. نیل فری سر سےکیرن تک کافی مقامات آپ کا دل لبھاتے رہیں گے….جیسے کٹھناڑ وغیرہ.اب کیرن سے ہم ٹاپ بیڈوری کا رخ کرتے ہیں.سطح سمندر سے تقریباً  15000 فٹ سے زائد بلندی پر یہ مقام آزادکشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان ایک بارڈر کا کام دیتا ہے.یہاں پہنچنا بچپن میں ہمارا خواب ہوتا تھا.پھر جوانی میں ہمیں یہ موقع ملا کہ  ہم نے اس جگہ پہنچ کر قدرت کے حسین نظارے اپنی چشم ناتواں سے دیکھے.

جب ہم بیڈوری ٹاپ پر پہنچیں گے تو وہاں پر ہمیں ایک طرف مقبوضہ کشمیر کے مختلف علاقہ جات ،اور  اسلام آباد وغیرہ نظر آئیں گے اور دوسری طرف ہمیں اپنا سارا کشمیر بالخصوص پونچھ ڈویژن مکمل طور پر نظر آئے گی.آپ اگر جون کے مہینے میں بھی بیڈوری پر پہنچیں گے تو وہاں پر آپ برف ضرور پائیں گے. یہاں تک پہنچنے کے دوران بہت سے مناظر انسان کی آنکھ دیکھ ضرور سکتی ہے مگر  زبان ان کی دلکشی و خوبصورتی بیان کرنے سے قاصر رہتی ہے .

ضلع حویلی کی ایک بدقسمتی یہ ہے کہ یہ less developed areasمیں آتا ہے یہاں آپ کو انفراسٹرکچر کسی جگہ پر شاید  ہی  اچھی حالت میں ملنے پائے. سڑکیں اپنی شکستگی کا رونا روتی نظر آئیں گی جس کی وجہ سے راستے کا ایک بڑا حصہ یا تو پیدل یا پھر سپیشل جیپ کرایہ پر حاصل کر کے کرنا پڑتا ہے. بہت کم جگہوں پر آپ کو ریسٹ ہاوسز دستیاب ہونگے جس باعث اکثریت میں لوگوں کو اپنی کیمپنگ کرنا پڑتی ہے.
میری تمام قارئین سے یہ گزارش ہے کہ تمام لوگ اپنی تفریح کی خاطر ضلع حویلی کا رخ ضرور کریں.یہاں کے پرفضا مقامات  سے اپنے دل کو ضرور لبھائیں.فطرت اور قدرت کا انتہائی قریب سے مشاہدہ کریں.آپ لوگ یہاں آئیں گے تو ہی شاید حکومت کو اس کی ترقی کا خیال آئے اور اس کے حوالے سے کوئی حوصلہ افزاء اقدامات کر ے!

سید ذیشان حیدر بخاری ایڈووکیٹ
سید ذیشان حیدر بخاری ایڈووکیٹ
سید ذیشان حیدر بخاری ضلع حویلی کے ایک گاؤں جبی سیداں میں پیدا ہوئے.موصوف نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ ہائرسیکنڈری سکول جلال آباد سے حاصل کی.گریجویشن مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ تک مختلف NGOs میں جاب کرتے رہے.لگ بھگ چھ سال تک کمپیوٹر کی فیلڈ سے بھی جڑے رہے.موصوف کو ملازمت ایک آنکھ نہ بہائی. موصوف اپنی پڑھائی مکمل کرنے کے لئے آزاد جموں وکشمیر یونیورسٹی مظفر آباد کا رخ کیا جہاں سے آپ نے ایل ایل بی کا امتحان امتیازی گریڈ میں پاس کیا.آج کل موصوف سینٹرل بار مظفر آباد میں بطور وکیل اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں..اور ادب کے حوالے سے موصوف نے اپنی پڑھائی کے دوران سہ ماہی سحر, اور چراغ کے نام سے بچوں کے لئے دو رسالہ جات بھی شائع کئے اور اس دوران ایک اخبار صدائے چنار کے ساتھ بھی اپنی خدمات بطور رضاکاررپورٹر وقتاً فوقتاً دیتے رہے... ایک آن لائن میگزین ماہنامہ رنگ برنگ کی ادارتی ٹیم کا حصہ بھی رہے...

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *