نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ۔۔۔۔۔۔محمد شاہ زیب صدیقی/حصہ دوم

مضمون کے سابقہ حصے میں ہمیں معلوم ہواکہ مریخ پر پانی کےوسیع ذخائر دریافت کرلئے گئے ہیں، اس تناظر میں جو اگلا سوال انسانی ذہنوں میں ہلچل پیدا کرتا ہے وہ مریخ پر کسی بھی قسم کی زندگی کے موجود ہونے کا ہے۔ مریخ اپنے اندر عجیب سی کشش لیے بیٹھا ہے، عجیب اس لئے کہ اس پرسرار سیارے پر زندگی کی ضروریات کا سامان موجود ہے مگر حیران کن طور پر زندگی دکھائی نہیں دیتی۔ یہ سیارہ ہمیں اشاروں کناؤں میں یہ بھی بتاتا دکھائی دیتا ہے کہ ماضی میں اس پر زندگی گزارنے کےلئے زمین جیسا ماحول بھی موجود تھا، پھر سوال اٹھتا ہے کہ زندگی گئی کہاں؟ کیا یہ بظاہر بنجر دکھائی دینے والا سیارہ اپنے سینے میں ان گنت یادیں سموئے ہوئے ہے؟

نسلِ انسانی کا اگلا پڑاؤ۔۔۔۔ محمد شاہزیب صدیقی/قسط1

سُرخ سیارے کی سطح پر سائنسدانوں کو کئی جگہوں پہ بہت بڑے، گہرے اور پرسرار سوراخ (holes)بھی ملے، یہ سوراخ اتنے گہرے ہیں کہ روشنی بھی ان کے پیندے(base)کو چھُونہیں سکتی جس وجہ سے ان کی گہرائی کے متعلق اب تک معلوم نہیں ہوپایا، ایک سوراخ کی گہرائی کے متعلق اندازہ لگایا گیا کہ یہ 430 فٹ گہرا ہے۔گمان ہے کہ کبھی انسان مریخ کی سطح پر اترا تو ان سوراخوں میں اتر کر کچھ نیا تلاش کرسکتا ہے۔زمین کی نسبت مریخ کی فضاکافی کمزور ہے ،مریخ کی کمزور atmosphere کے باوجود وہاں امونیا اور میتھین کی موجودگی اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ مریخ کی سطح کے نیچے کسی قسم کی زندگی کا امکان موجود ہےکیونکہ اتنے کمزور atmospheric pressure میں ان دونوں گیسز کو زیادہ دیر مریخ کی فضا میں نہیں رہنا چاہیے، مگر ان گیسز کی مسلسل موجودگی biological process کے بغیر ممکن نہیں ۔

ہمیں معلوم ہے کہ ہماری زمین اپنے محور پر 23.5 ڈگری جھکی ہوئی ہے جس کی وجہ سے یہاں پر گرمی اور سردی کے موسم آتے جاتے رہتے ہیں، بلکہ ایسے ہی یہ سُرخ سیارہ بھی اپنے محور پر 25 ڈگری جھُکا ہواہے جس کے باعث مریخ اور زمین کےموسموں میں حیران کن حد تک مطابقت ہے، گرمیوں میں مریخ کا درجہ حرارت 35ڈگری تک چلا جاتا ہے جبکہ سردیوں میں اس کا درجہ حرارت منفی 150ڈگری تک رہتا ہے،سردیوں میں درجہ حرارت اس حد تک گر جانے کی وجہ مریخ کی کمزور atmosphereہے جس وجہ سے مریخ پر سورج سےآنے والی گرمائش سٹور نہیں ہوپاتی اور خلاء میں واپس چلی جاتی ہے،اس کے علاوہ مریخ چونکہ زمین کے مقابلے میں سورج سے زیادہ دُور ہے اس وجہ سے وہاں پر سورج کی گرمائش بھی زمین کی نسبت آدھی ہے، سورج سے دُوری کے باعث ہی یہاں پر موسموں کی duration بھی زمین کی نسبت دُگنی ہوتی ہے ۔

ہم نے سابقہ حصے میں سمجھا کہ مریخ پر عموماً بہت بڑے طوفان آتے رہتے ہیں جو مریخ کو مکمل طور پر ڈھانپ لیتے ہیں ، یہ طوفان بھی عموماً گرمیوں کے موسم میں ریکارڈ کیے گئے ہیں، چونکہ مریخ کے قطبین پر کاربن ڈائی آکسائیڈ برف کی شکل میں منجمد رہتی ہےیہی کاربن ڈائی آکسائیڈ گرمیوں کے موسم میں برف سےمائع حالت میں تبدیل ہوئے بغیر ہی گیسی شکل اختیار کرلیتی ہے جس وجہ سے مریخ پر ہوائیں چلتی ہیں بعد ازاں یہ ہوائیں شدید طوفان میں تبدیل ہوجاتی ہیں جو کئی ماہ تک مریخ کو ڈھانپے رکھتا ہے اور مریخ کی سطح کا بقیہ کائنات سے تعلق ٹوٹ جاتا ہے۔ دسمبر 2014ء کو ناسا کے اسپیس کرافٹ نے حیران کن طور پر مریخ کی فضا میں auroras دیکھے،auroras ایسے قدرتی مظہر کو کہتے ہیں جب سورج سے آنے والے چارجڈ پارٹیکل کسی سیارے کے گرد موجود مقناطیسی فیلڈز سے ٹکراتے ہیں تو رات کے وقت آسمان پر دلکش رنگ بکھرتے دکھائی دیتے ہیں، یہ عموماًزمین کے قطبین پر موجود علاقوں پر بنتے دِکھائی دیتے ہیں،مریخ پر یہ مظہر دیکھنا حیران کن اس خاطر تھا کیونکہ مریخ پر کوئی مقناطیسی میدان موجود نہیں۔

اسی خاطر سائنسدانوں کا خیال ہےکہ آج سے اربوں سال پہلے زمین کی طرح مریخ پر بھی مقناطیسی فیلڈموجود تھی ،اُس مقناطیسی فیلڈ کی باقیات آج بھی مریخ کے کچھ علاقوں میں موجود ہیں ،جس کے باعث مریخ کے اُن علاقوں میں aurorasدیکھنے کو ملتے ہیں۔مریخ کے اب تک 2 چاند دریافت ہوچکے ہیں، جن کے متعلق سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ آوارہ پتھر تھے جو مریخ کے پاس سے گزرتے ہوئے اس کی کشش ثقل میں جکڑے رہ گئے اور اس کے گرد گھومنا شروع ہوگئے جنہیں ہم آج اس کے چاند کہتے ہیں۔ہمارے چاند کی نسبت یہ بہت چھوٹے ہیں، اس کا اندازہ ایسے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے چاند کا قُطر (diameter) تقریباً 3474 کلومیٹر ہے جبکہ مریخ کے چاند Phobosکا قُطر 22 کلومیٹر اور Deimosکا قُطر 12 کلومیٹر ہے۔ آنے والے وقت میں جب نسل انسانی مریخ پر اپنا پڑاؤ ڈالے گی تو حیران کن مناظر دیکھے گی کیونکہ Phobos دن میں 2 مرتبہ مغرب سے طلوع ہو کر مشرق میں غروب ہوتا ہے جبکہ Deimos 2 دن میں ایک بار مشرق سے طلوع ہوکر مغرب میں غروب ہوتاہے۔

مریخ کے باسیوں کے لئے دیکھنے کے لحاظ سےPhobosکا سائز زمین کے چاند سے آدھا ہوگا، جبکہ دوسرا چاند Deimosمریخ کے آسمان پر کسی ستارے جیسا دکھائی دے گا، چونکہ مریخ کے چاند سائز میں بہت ہی چھوٹے ہیں جس وجہ سے ہماری آنے والی نسلیں اگر وہاں شفٹ ہوئیں تو اُدھر زمین جیسامکمل سورج گرہن کا نظارہ کبھی دیکھنے کو نہیں ملے گا، ہمیشہ جزوی سورج گرہن ہی دیکھا جاسکے گا،اب تک کی کیلکولیشنز کے مطابق Phobosکا مریخ سے فاصلہ گھٹتا جارہاہے اور آئندہ 5 کروڑ سال بعد یہ مریخ کی سطح سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجائے گا۔یقیناً اگلے چند ہزار سالوں میں حضرتِ انسان کو اپنی بقا کے لئے مریخ کی جانب ہجرت کرنا پڑے گی۔۔

لیکن اس سارے scenario میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا وہاں واقعی کوئی خلائی مخلوق موجود ہوسکتی ہے، اب تک کی معلومات کے تحت ہم کہہ سکتے ہیں کہ وہاں انسانوں جیسی کوئی ذہین مخلوق قطعاً موجود نہیں ہے،لیکن چونکہ مریخ پر نمکین پانی کی موجودگی کی تصدیق کی جاچکی ہے اور نمکین پانی زندگی کی نشونما کےلئے بہترین عناصر میں سے ایک ہے، جس وجہ سے کہا جاسکتا ہے کہ مریخ کی سطح کے نیچے زندگی کی کوئی نہ کوئی شکل موجود ہوسکتی ہے،یا پھر مائیکرولیول پر کوئی زندگی موجود ہونے کے بہت زیادہ امکانات موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ ناسا کی مریخ پر 2 خلائی گاڑیاں موجود ہیں، مگر اِن خلائی گاڑیوں کو اُن ممکنہ جگہوں پر نہیں لے جایا جارہا جہاں پر زندگی موجود ہوسکتی ہے، کیونکہ ان گاڑیوں پر وہ جراثیم بہرحال زندہ حالت میں ابھی تک موجودہیں جو زمین سے ان کے ساتھ مریخ پر پہنچے ہیں، اور اگر مریخ پر کوئی جراثیم پہلے سے موجود ہوئے تو ہمارے زمینی جراثیم ان پر اثر انداز ہوجائیں گے جس وجہ سے ہم مریخ پر زندگی کی اصل حالت کیسی تھی اس کا اندازہ شاید کبھی نہ لگا پائیں، اسی شک کے تحت پچھلے سال ناسا نے کیسینی نامی اسپیس کرافٹ زُحل کے ساتھ ٹکرا کر تباہ کردیا تھا، کیونکہ اندازہ یہ کیا جارہا تھا کہ زحل کے چاند انسلادس اور ٹائٹن پر زندگی موجود ہوسکتی ہے۔یاد رہے انسلادس پر گرم پانی کے سمندر جبکہ ٹائٹن پر میتھین کے وسیع ذخائر مل چکے ہیں۔

بہرحال پچھلے سال ہمیں معلوم ہوا ہے کہ زمین پر زندگی 3.48 ارب سال پہلے بہت ہی simple form میں موجود تھی، اور اس کے ثبوت ہمیں مغربی آسٹریلیا کے علاقے سے ملے ہیں جس کے بعد سائنسدانوں کو clueملا ہےکہ اگر مریخ پر زندگی کی تلاش کرنی ہے تو ہمیں ایسے ماحول سے مطابقت رکھنے والی جگہ کو مریخ پر ڈھونڈنا ہوگا۔پچھلے ماہ یعنی جون 2018ء میں ناسا کی خلائی گاڑی Curiosity نے مریخ پر 3 ارب سال پرانی چٹانوں کا معائنہ کیا تو وہاں بھی زندگی کو support کرنے والے minerals کی موجودگی دکھائی دی جس کے باعث دن بدن ہمیں یقین ہوتا جارہا ہے کہ کبھی نہ کبھی مریخ پر زندگی کسی شکل میں ضرور آباد تھی یا شاید آج بھی آباد ہو۔

مزید معلومات کے حصول کے لئے اگلے چند سالوں میں مزید کچھ مشنز مریخ کی جانب لانچ کیے جائیں گے۔SpaceX نامی خلائی کمپنی نے 2024ء تک مریخ پر Tourism پروگرام شروع کرنے کا بھی عندیہ دیے رکھا ہے جس کے تحت عام انسان بھی کرایہ ادا کرکے مریخ کی سیرکرسکے گا۔ امریکی حکومت نے 2030ء تک انسان کے مریخ پر قدم رکھنے کے حوالے سے بھی ایک پروگرام ترتیب دے رکھاہے۔ ناسا اور دیگر خلائی ایجنسیز نے مریخ پر انسانوں کی آبادکاری کےلئے بھی مشنز پلان کرنا شروع کردئیے ہیں، اس کا مقصد انسانوں کو مریخ پر شفٹ کرنا ہوگا، یہ مشنز ون سائیڈڈ ہونگے یعنی اس مشن پرجانے والے انسان کبھی واپس نہیں لوٹیں گے، امید کی جارہی ہے کہ اگلے دس سے پندرہ سالوں میں مریخ پر انسانوں کی آبادکاری کے لئے پہلا گروپ بھیجا جائے گا جس میں ایک پاکستانی بھی شامل ہے۔

انسان مریخ پر کیسے آباد ہوگا؟ وہاں پر اسے کیا کیا مشکلات کا سامنا رہے گا؟ ان مشکلات کا ممکنہ حل کیا تلاش کیا گیاہے؟ کیا انسان کو زمین سے باہر دیگر سیاروں پر آباد کرنے کی یہ کوشش کامیاب ہوسکے گی؟ ان سب سوالات کا جواب ہم اگلے حصے میں تلاش کریں گے، سوال جو بھی ذہن کے دریچوں پر دستک دیں لیکن ایک بات طے ہے کہ انسان مریخ پر آبادکاری کا پُرخطر سفر اگلے چند سالوں میں شروع کرنے والا ہے، مریخ کو مکمل طور انسانوں کے رہنے کے قابل بنانے کے لئےہمیں شاید سینکڑوں سال لگ جائیں مگر اس منزل کی جانب پہلا قدم اگلے چند سالوں میں اُٹھا لیا جائے گا، ان ساری باتوں کے بعد ایک سوال ذہن میں ضرور آتا ہے کہ اگر لاکھوں سال پہلے مریخ پر پانی موجود تھا اور ممکنہ طور پرکوئی زندگی بھی وہاں رہتی ہوگی تو وہ کیسے فنا ہوئی؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ انسان اپنی بقا کی خاطر کبھی ماضی میں مریخ سے زمین پر شفٹ ہوگیا ہو؟سوال بہت سے ہیں مگر ان کا جواب شاید ہمیں مریخ پر پہنچ کر ہی ملے۔
(جاری ہے!)

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *